چینی مسلمان اور مقابلہ آرائی!

ہالینڈ کے ذریعہ ابلاغ کی ایک خبر کے مطابق چین کے مسلم اکثریتی صوبے ژنجیانگ میں 45 روزہ دار طالب علموں اور قرآن کی تعلیمات دینے والے ایک استاد (امام) کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ٰخبر کے مطابق نیوز ایجنسی ژینوا نے بتایا ہے کہ ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے کی خاتون سربراہ اور اس کی 36طالبات کو بھی رمضان کے روزے رکھنے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے چھاپے کے دوران قرآن پاک کے مختلف نسخے، اسلامی کتابیں و دیگر اسلامی مواد اور اسلامی تعلیمات پر مبنی کیسٹ بھی ضبط کر لئے ہیں۔ چینی حکام نے اس ساری پکڑ دھکڑ اور گرفتاریوں کو قطعی چین کا ”ذاتی معاملہ“ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب کارروائی ملکی آئین کے عین مطابق ہے۔

ادھر ژنجیانگ صوبے کے جلاوطن مسلمانوں نے اپنی عالمی تنظیم کے پلیٹ فارم سے چینی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہی ہے کہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف مذہبی ظلم و ستم، مداخلت اور مسلم تہذیب و ثقافت کو کچلنے والی چینی حکومت کی اس مہم میں غیر مسلم چینیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا جا رہا ہے۔ جلاوطن ایغور کانگریس نے اے ایف پی ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے مذہبی و سیاسی جبر و تشدد، کلچر و ثقافت پر پابندی، رسم الخط و لسانی بین اور رکاوٹیں، معاشی و تہذیبی استحصال، ماحولیاتی توڑ پھوڑ اور انسانی نسلی امتیاز کی پالیسیوں نے چینی مسلمانوں اور مشرق ترکستان و چینی ترکستان میں ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں چینی ترکستان رفتہ رفتہ ایک ٹائم بم میں تبدیل ہو رہا ہے۔

ترکی بولنے والے لگ بھگ ایک کروڑ مسلمان ایغور نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو چین کے شمالی مشرقی صوبہ سنکیانگ یا ژنجیانگ میں بستے ہیں۔ حالیہ رمضان میں اس اکثریتی مسلم صوبے میں شدید ہنگاموں کی لہر نے چینی مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ پیدا کر دیا۔ گزشتہ فسادات نے 156 افراد کی جان لے لی تھی۔ ان فسادات میں 816 افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ 59 افراد برسرموقع ہی ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ ایغور باشندوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے اور ان کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے جبکہ حکومت چین ان میں سے بیشتر کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔

سرکاری ترجمان نے بتایا ہے کہ ایغور کانگریس نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ رمضان المبارک کے مہینے میں کاروبار کو محدود کر دیں اور اپنا وقت عبادت میں گزاریں اور چینی حکومت کی پالیسی کے خلاف سگریٹ، تمباکو، شراب اور دوسری منشیات کی خرید و فروخت سے ہاتھ کھینچ کر چینی پالیسی کو ناکام بنا دیں۔ ایغور کانگریس کی اس اپیل پر مسلمانوں میں خاطر خواہ اثر ہوا جس کے نتیجہ میں شراب اور سگریٹ کی کھپت میں نمایاں کمی آئی۔ مسلمان دکانداروں نے صارفین کو منشیات اور الکوحل فروخت کرنی بند کر دی ہے۔ مشرقی ترکستان کے ان ایغور باشندوں کے ایک رہنما نے ایجنسی کو بتایا ہے کہ ہم تمام منشیات، شراب و سگریٹ کی مکمل حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ یہ اشیا اور ہر طرح کے نشہ کو اسلام میں ممنوع اور ”گناہ“ قرار دیا گیا ہے بالخصوص رمضان المبارک کے مہینے میں تو کوئی مسلمان ان لغویات کو ہاتھ بھی لگانا نہیں چاہے گا۔

چین کا یہ صوبہ ژنجیانگ جو ماضی میں مشرقی ترکستان کے نام سے ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے جانا جاتا رہا ہے، اب چین کے زیر تسلط ہے۔ چین کی حکمران پارٹی کی زیادتیوں کے نتیجہ میں چین کے خلاف مسلمانوں کے جذبات سارے چین میں شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں ترکی بولنے والے لگ بھگ ایک کروڑ مسلمان بستے ہیں۔ اگرچہ یہ صوبہ 1955 سے داخلی طور پر خودمختار ہے لیکن چینی حکام اس صوبے کی ثقافت و تہذیب اور مذہبی سرگرمیوں کو بار بار اپنی کارروائیوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ یہ ساری کارروائی دہشت گردی کو کچلنے کے نام پر کی جاتی رہی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔ مغربی پریس نے یہ بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ اس صوبے میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے میں پاکستان اور بالخصوص آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل (مرحوم) کا ہاتھ رہا ہے جس کی تاحیات (ریٹائرڈ) جنرل نے تائید یا تردید نہیں کی تھی۔ مغربی پریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان میں چین کی زبردست حامی لابی کے ایک کالم نگار نے لاہور سے شائع ہونے والے ایک اردو اخبار جو اپنی دائیں بازو کی انتہاپسند پالیسیوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے، میں کسی سبط حسن کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں موصوف لکھتے ہیں ”صرف عوامی جمہوریہ چین واحد ملک ہے جس نے چینی ترکستان میں نہ صرف مسلم ثقافت ہی کو زندہ کیا بلکہ وہاں تاجک یا چینی ترکستان بولی جانے والی زبان کے اس سکرپٹ نستعلیق کو جاری رکھا جو ماﺅ کے انقلاب سے پہلے رائج تھا اور جو آج بھی وہاں رائج ہے“۔

یورپی پریس کے مطابق یہ دروغ گوئی کی ایک زندہ اور تازہ مثال ہے جبکہ چین کے سیاسی، سماجی و ثقافتی ماحول اور مقاصد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اخبار آگے چل کر لکھتا ہے کہ چین کے بانی موزے تنگ نے مشرقی یا چینی ترکستان کے عوام سے انہیں حق خود اختیاری اور بھرپور آزادی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن 1955 سے آج تک یہ وعدہ ایفا نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں یہ صوبہ چین کی نوآبادی بن چکا ہے۔ یہ ایک ایسے بم کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ تیل اور گیس کے بہت سے ذخائل پر مشتمل یہ صوبہ استحصال کے خلاف آواز بنا ہوا ہے۔ اس صوبے ژنجیانگ میں مختلف ترک قبائل آباد ہیں اس لئے اسے ترکستان بھی کہا جاتا ہے۔

ترکستان تاریخی طور پر ان علاقوں کو کہا جاتا ہے جو تبت، برصغیر ہندوپاک، افغانستان و ایران کے مابین شمال میں واقع ہے۔ ماضی میں اس کی سرحدیں بحیرہ کیسپئن، منگولیا اور صحرائے گوبی تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس وسیع و عریض علاقے کا مشرقی حصہ چینی ترکستان (اب ژنجیانگ) اور مغربی حصہ روسی ترکستان کہلایا جس میں سابق سوویت یونین کی ریاستیں شامل تھیں جو اب خودمختار ہو چکی ہیں۔ مگر ژنجیانگ ہنوز بدقسمت ہے۔ اس صوبے میں اسلامی اثرات کی ابتدا تاتاریوں کی ایک شاخ ایغور نے اسلام قبول کر کے کی۔ مشہور مورخ ابن الاثیر نے مسلم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم اور چین کے بادشاہ کے درمیان نامہ و پیغام کی ایک تفصیل لکھی ہے اور اس کے بعد چین میں مسلمانوں کی آمد شروع ہوئی۔ چین کے بادشاہ شیوچیونگ کے زمانے میں بہت سے ایغور مسلمانوں نے چین میں مستقل رہائش اختیار کر لی اور مقامی عورتوں سے شادیاں کیں اور اپنے پاﺅں مضبوط کئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نہ صرف مغل بلکہ ابراہیم لودھی کی دادی بھی ہندو تھی۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے جو کسی اور وقت کےلئے اٹھا رکھتے ہیں۔

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
رہنے کو گھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا