جمعۃ الوداع

اللہ تبارک و تعالی کی عادت کریمہ ہے کہ اس نے جس مخلوق کو بھی پیدا کیا اس کے افراد میں سے کسی نہ کسی فرد کو بادشاہی اور سرداری عطاء فرما دی زمین کو پیدا کیا تو بیت اللہ شریف کے اندر کی زمین کو پوری زمین پر فضیلت دی ۔ اسی طرح زمین کا وہ حصہ جو جسد مبارک خاتم النبیین ﷺ کو چھو رہا ہے اس حصہ کو روئے زمین پر فضیلت بخش دی ۔

اپنی نوری مخلوق فرشتوں کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل امین کو تمام فرشتوں کا سر براہ بنا دیا۔مٹی سے انسانوں کی تخلیق کی تو حضرات انبیاء کرام صلوۃ اللہ علیھم اجمعین کو دوسرے انسانوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ پوری کائنات کو وجود بخشا تو حضو راکرم ﷺ کو پوری کائنات پر فضیلت بخشی۔ مہینوں کو پیدا کیا تو رمضان المبارک کو دوسرے مہینوں پر فوقیت عطا فرمائی اسی طرح جب دنوں کو پیدا کیا تو جمعۃ المبارک کے دن کو پورے ہفتے کے دنوں کا سردار بنا دیا ۔

فضیلت جمعہ کے بارے میں سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا خَےْرُ ےَوْمِ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ آدَمُ وَ فِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْہَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃَ۔ ( مسلم شریف ) فرمایا اللہ تبارک و تعالی نے وہ تمام دن جن پر سورج طلوع ہوا ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ فضیلت والا دن جمعہ ہے ۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور اسی دن آپ کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن جنت سے اس زمین کی آ بادی کے لیے دنیا میں لائے گئے اور یہ ہی وہ دن ہے جس دن قیامت آئے گی ۔ جمعہ کی فضیلت کے بارے میں حضور اکرمﷺ نے مزید ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آ تی ہے جس میں کوئی بھی انسان اپنے لیے جو بھی خیر اور بھلائی کی دعا مانگ لے قبول کر لی جاتی ہے ۔ اب اس گھڑی کو متعین نہیں کیا گیا اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی کی عادت کریمہ ہے کہ وہ ایک بات کی فضیلت بیان فرما کر اس کی تعیین کو تھوڑے سے ابہام میں رکھ دیتے ہیں تاکہ لوگ اس کی تلاش میں زیادہ سے زیادہ کو شش کریں۔ اور اس تلاش کے عوض میں انعامات باری تعالی سے مالا مال ہو تے رہیں ۔

علما نے لکھا ہے کہ یہ گھڑی ان اوقات میں سے ضرور ایک ہے یا تو جب خطیب خطبہ دینے کے لیے ممبر پر کھڑا ہوتا ہے یا جب دونوں خطبوں کے درمیان میں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ گھڑی جمعہ کے دن عصر کی نماز سے مغرب کی نماز کے درمیان میں آیا کرتی ہے ۔ بحر حال یہ مقدس گھڑی جمعہ کے دن ضرور آ تی ہے اور مقدروالا انسان اسے ضرور پا لیتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص جمعہ کے دن حجامت کرائے ، غسل کرے، صاف کپڑے پہنے، خوشبو لگائے، آذان ہوتے ہی مسجد میں پہنچے، سنن اور نوافل ادا کرے، خاموشی کے ساتھ پورے آداب سے خطبہ سنے اور نماز جمعہ پڑھے۔ تو اس کے پچھلے جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک کیے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔

ایک دوسری حدیث پاک میں حضور اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا جمعہ کے دن اللہ تبارک و تعالی کے پیارے فرشتے مسجد کے دروازے پر نمازیوں کے استقبال کے لیے آ موجود ہو تے ہیں۔ سب سے پہلی جماعت جو آ تی ہے انہیں صرف اسی عمل پر کہ انہوں نے عبادت کے لیے دوسروں پر سبقت حاصل کر لی ہے، ایک اونٹ کی قربانی کا ثواب دے دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر آ نے والی جماعت کو گائے کی قربانی کے برابر ثواب دیا جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر آنے والی جماعت کو بھیڑ بکری کی قربانی کے برابر ثواب ملتا ہے۔ چو تھے نمبر پر آ نے والی جماعت کو مرغی کا صدقہ کرنے کے برابر ثواب ہے۔ اس کے بعد جو لوگ آ تے ہیں ان کو اتنا ہی ثواب پیش کیا جاتا ہے جیسے کہ کسی نے مرغی کا انڈا خیرات کر دیا ہو ۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے جب تک کہ امام صاحب خطبہ دینے کے لیے ممبر پر کھڑے نہیں ہو جا تے۔ اس کے بعد پھر فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور نمازیوں کے سا تھ بیٹھ کر خطبہ جمعہ بھی سنتے ہیں اور نماز جمعہ بھی ادا کرتے ہیں ۔

قراٰن کریم کی سورۃ الجمعہ میں ارشاد باری تعالی ہے فَاِذَا قُضِےَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُ وْ فِیْ ا لْاَرْضِ وَابْتَغُوْ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَالذْکُرُوْ اللّٰہَ کَثِےْرَ لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اور جب تم نماز جمعہ ادا کر لو تو فور ا اللہ تعالی کی زمین میں پھیل جاؤ اور رزق حلال کی تلاش کرو یعنی کاروبار کرو اور روزی کمانے کی فکر کرو اور اس دوران اللہ تبارک و تعالی کا کثرت سے ذکر کرتے رہو۔یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تبارک و تعالی کو یاد رکھو اس میں تمہارے لیے کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ اکابر صلحاء نے لکھا ہے کہ جو شخص آذان جمعہ ہو تے ہی اپنا کاروبار بند کر دے اور نماز جمعہ ادا کرتے ہی پھر شروع کر دے تو اس کے رزق میں بے حساب برکت ہو تی ہے ۔

نماز جمعہ کے کچھ آداب بھی ہیں جن کا خیال رکھنا نہایت ضرری ہے۔ جمعہ کے دونوں خطبات کا پڑھنا امام پرفرض ہے اور مقتدیوں کے لیے سنناضروری ہے ۔اگر کوئی امام بغیر خطبہ پڑھے نماز جمعہ پڑھادے تو کسی کی بھی نماز نہ ہو گی ۔خطبہ کا وقت زوال کے بعد اور نماز جمعہ سے پہلے ہوا کرتا ہے ۔ خطبہ ممبر پر کھڑے ہو کر پڑھنا مسنون ہے اگر ممبر نہ ہو تو عصا کا سہارا لینا چا ہیے۔ خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا مسنون ہے بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے ۔ خطبہ کے وقت خطیب کا چہرہ لوگوں کی طرف ہونا چا ہیے خطبہ سننے والوں کو قبلہ رو ہو کر بیٹھنا چا ہیے ۔ دونوں خطبوں کا عربی زبان میں پڑھنا ضروری ہے ۔عربی خطبہ میں کسی دوسری زبان کے اشعار ملا لینا مکروہ تحریمی ہے ۔ خطبہ میں اللہ تبارک و تعالی کی تعریف اور اس کا شکر حضور اکرم ﷺ کی صداقت کی شہادت حضور اکرم ﷺ پر درد شریف اور واعظ و نصیحت پر مشتمل احادیث کا پڑھنا دوسرے خطبہ میں حضور اکرﷺ کی آل، آپ کے صحابہ کرام، ازواج مطہرات خصوصا خلفائے راشدین اور حضرت حمزہ اور حضرت عباسؓ کا ذکر کرنا مستحب ہے ۔ سامعین کا ہمہ تن گوش ہونا ضروری ہے۔ دوران خطبہ کھانا پینا باتیں کرنا چلنا پھرنا سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا یا تسبیح پڑھنا یا کسی کو شرعی مسئلہ بتانا یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔

اگر سنت موکدہ پڑھ رہا ہو اور خطبہ شروع ہو جائے تو اسے مکمل کر لے اور اگر چارنفل اکٹھے نیت کر کے پڑھ رہا ہو تو دو نفل پر سلام پھیر دے۔ دو خطبوں کے درمیان جب امام بیٹھے تو مقتدی دل دل میں جو چا ہے دعا مانگے دونوں ہا تھوں کو اٹھانا مکروہ تحریمی ہے ۔ دوران خطبہ حضور اکرم ﷺ کا اسم مبارک آ ئے تو درود پاک بھی دل میں پڑھے۔ جوشخص مقیم ہے اس پر جمعہ کی نماز فرض عین ہے۔ اگر کوئی شخص مسافر ہے یعنی گھر سے 72 کلومیٹرکے سفر پر جا رہا ہے تو اس پر نماز جمعہ فرض نہیں ہے۔ اگر پڑھ لے تو بہت بڑا ثواب ہے ۔ دونوں خطبوں کے درمیان حالت تشہد میں بیٹھنا مستحب ہے ۔نماز جمعہ صرف آزاد آدمی پر فرض ہے اگر کوئی شخص خدانخواستہ جیل میں ہے اور جیل میں جمعہ کا اہتمام نہیں ہے تو کسی قیدی پر جمعہ پڑھنا فرض نہیں ہے ۔ایسا بیمار شخص جو مسجد تک نہیں جا سکتا اس پر بھی جمعہ فرض نہیں ہے ۔ ایسے چھوٹے چھوٹے دیہات جن میں نہ ہی کوئی بازار ہے نہ کوئی قاضی مقرر ہے ،صرف چند گھروں پر مشتمل آبادیاں ہیں تو ان کو جمعہ کی بجائے وہاں ظہر کی نماز پڑھنا ہوگی ۔ فوج کے جوان جب مشقیں کرنے کے لیے جنگلوں اور ویرانوں میں چلے جائیں اگرچہ وہاں کتنے بھی خیمے لگے ہوئے ہوں وہاں ظہر کی نماز پڑھیں۔ کوئی نیاقصبہ یا نیاشہر بس رہا ہے اور ابھی مسجد تعمیر نہیں ہوئی تو کھلے آسمان کے نیچے جمعے کی ادائیگی کی جائے گی اور جمعہ کا عام اعلان کیا جائے۔

یوں تو پورے سال کا ہر جمعہ ہی خیرو برکت والا ہوا کرتا ہے مگر رمضان المبارک کے جمعہ کی فضیلت دوسرے مہینوں کے جمعہ کے مقابلے میں ستر گنا بڑھ جا تی ہے ۔ پھر جمعۃ الوداع کی اہمیت اور زیادہ ہو جا تی ہے ۔ اس لیے کہ اگرچہ اجرو ثواب کے لحاظ سے رمضان شریف کے تمام جمعے برابر ہیں مگر جمعۃ الوداع کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس موقع پر اس لحاظ سے بھی خاص کیفیت ہوتی ہے کہ اب یہ ہمارا رمضان شریف کا آخری جمعہ ہے یعنی جمعۃ الوداع ہے۔ اب زندگی میں پھر رمضان نصیب ہوگا یا نہیں۔ اور یہ جمعہ پھر ملے گا یا نہیں۔ تو دل کی یہ ہوک اور جذبات کی یہ تڑپ احساسات کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ خلوص کا ایک سمندر سینے میں موجزن ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالی کے ہاں اسی خلوص اور تقوے کی بناء پر انعامات کے فیصلے ہو تے ہیں۔

جمعہ چونکہ اسلامی شان و شوکت کے اظہار کا بھی دن سمجھا جاتا ہے اس بناء پر آخری جمعہ کی حا ضری اسلامی شان و شوکت کے کما حقہ اظہار کا بہترین مظہر ہے ۔جمعۃ المبارک کی برکات میں ایک برکت یہ بھی ہے کہ اگرچہ انفرادی طور پر مانگی گئی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں مگر اجتماعی دعاؤں کا درجہ بہت بلند ہوتا ہے ۔ کون جانے جمعہ کے اجتماع میں کوئی ایسا بھی شخص مستجاب الدعوات موجود ہو جس کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ و عم نوالہ تمام شرکائے دعا کی التجاؤں کو قبول فرما لیں۔ نماز جمعہ کا ثواب پوری طرح سے اسی وقت ملتا ہے جب پورے آداب کا خیال کیا جائے ۔