چینی چٹائیوں پر یوگا
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 28 / جون / 2016
- 5539
گزشتہ ایک ہفتہ کی بڑی خبر کیرانہ کی نقل مکانی تھی ۔جس کا آغاز و اختتام اُسی ہفتہ ہوگیا تھا۔اس کے باوجود اترپردیش حکومت کی جانب سے تشکیل شدہ سنتوں کی پانچ رکنی ٹیم نے اپنی رپورٹ بائیس جون کو پیش کی تو ایک بار پھر وقتی طور پرمسئلہ کو منفی رخ دینے کی کوشش کی گئی ،لیکن ،کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔سنتوں کی ٹیم نے رپورٹ میں کہا ہے کہ کچھ لوگ وہاں کی فضا خراب کرنا چاہتے تھے۔ کیرانہ جانے والے سنتوں کے وفد میں بھارتی سنت کمیٹی کے قومی صدر پرمود کرشنن سمیت ہندو مہاسبھا کے صدر چکرپانی مہاراج،دیو آنند گری شامل تھے۔
پرمود کرشنن نے وزیر اعلیٰ کو رپورٹ سونپتے ہوئے بتایا کہ کیرانہ تحقیقات کے دوران انہوں نے وہاں پر تمام طبقے کے لوگو ں سے بات چیت کی اور پتہ چلا کہ اتر پردیش کی فضا خراب کرنے کی خطرناک سازش کی گئی تھی۔ اس پر وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔اسسے یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ،کہ کوشش جو کی گئی تھی وہ جھوٹ پر مبنی تھی،اور واقعہ جو بیان کیاگیا تھا وہ حقیقت سے بہت دور تھا۔ اس کے برعکس حالات یکسر مختلف تھے۔ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ تھا،جسے حل کرنا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ جس طرح انہیں اپنی ذمہ داری ادا کرنی تھی وہ ابھی تک ادا نہیں کر رہے ہیں۔ساتھ ہی غربت و افلاس اور معاشی بدحالی کا معاملہ ہے۔ اس حوالے سے بھی کوئی عملی اقدام دکھائی نہیں دیتا۔
ہفتہ کی دوسری اہم اور بڑی خبر عالمی یوگا دن کا منایا جاناہے۔اس دن کو منانے کے لیے حکومت نے اپنی تمام تر طاقت استعمال کی۔ عالمی یوگا دن کے موقع پرتاریخ رقم کرنے کی خواہش لئے ہندوستانی حکومت نے سوا سو کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم صرف اشتہار بازی پر خرچ کی ہے۔ حکومت کی مختلف وزارتوں نے اس دن کو کامیاب بنانے کا جو بجٹ تیار کیا ہے وہ تشہیر کے لیے دیگر منصوبوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق صرف آیوش محکمہ نے 30کروڑ روپے خرچ کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔ جبکہ وزارت خارجہ نے ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر میں واقع ہندوستانی سفارت خانوں کے ذریعہ یوگا دن کو کامیاب بنانے کے لئے تشہیر کی گئی۔ جس کا بجٹ تقریباً سو کروڑ روپے کے لگ بھگ بتایا جا رہا ہے۔ دولت، وسائل، ذرائع، صلاحیتں، وقت کا بھر پور استعمال ہوا ۔ سرکاری وزراتیں،دفاتر،اثر و رسوخ کا استعمال بھی سامنے آیا ۔میڈیا جو کسی بھی چیز کو اہم اور غیر اہم بناتا ہے،اس موقع پر اس کا بھر پور استعمال کیا گیا۔
ملک کے وزیر اعظم نے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ یوگا کوئی مذہبی سرگرمی نہیں ہے،لہذا اس کو زندگی میں اختیار کیا جائے۔اس موقع پر ایک لمحہ کے لیے اُن لوگوں کے بیانات بھی یاد کرلینے چاہیے جنہوں نے موجودہ حکومت کی تشکیل کے وقت ،اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حلف برداری کے وقت کہا تھا کہ ہندوستان کو ایک طویل عرصہ کے بعد ایک ہندو حکمران حاصل ہوا ہے۔اس پس منظر میں جب ہم نریندر مودی کی سرگرمیوں اور ان کی جانب سے کی جانے والی سعی و جہد کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سرگرمیوں کارشتہ کہیں نہ کہیں اس پس منظر سے بھی وابستہ ہے،جس کاتذکرہ کبھی کھل کر تو کبھی ڈھکے چھپے کیا جاتا ہے۔ساتھ ہی ملک کے ہر باشعور شہری کو اس بات پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ جیسا کے کہنے والوں نے ملک کے وزیر اعظم کو "ایک ہندو حکمران "کہا،اور اپنی امیدیں وابستہ کیں، اس پس منظر میں دیکھنا چاہیے کہ ملک کو درحقیقت ہندو راشٹر بنانے میں مصروف عمل اورپابند عہد "ہندو حکمران"کس سرگرمی کو کن مقاصد کے لیے انجام دے رہا ہے؟ ممکن ہے کہنے والے کہیں کہ ملک کے وزیر اعظم کے لیے جو کسی بھی مذہب ، تہذیب اور ثقافت کو فروغ دینے کا ذمہ دار یا پابند عہد نہیں ہوتا ، کے لیے اس طرز پر سوچنا اور اس کی سرگرمیوں کا اس طرح جائزہ لینا مناسب نہیں ہے۔لیکن یہ جائزہ لینے کا عمل ہمارا نہیں بلکہ یہ عمل تو اُن لوگوں کا ہونا چاہیے ،جنہوں نے بڑی مشقتیں اٹھانے کے بعد اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ،نریندر مودی کو پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔
بہرحال ، واقعہ تو یہی ہے کہ یوگا ایک مذہبی عمل ہے اور جو یوگی ،تپسیا اور سادھنا کرتے ہیں یا جن مذہبی پیشواؤں کا ہندو مذہب میں تذکرہ اور عبادت کی جاتی ہے،وہ سب یوگا کے کسی نہ کسی عمل کو جاری رکھتے ہوئے اپنی عبادت انجام دیتے رہے ہیں۔ وہی طریقہ آج بھی جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یوگا کرتے وقت نہ صرف اشلوک (مذہبی آیات)پڑھے جاتے ہیں بلکہ سوریہ نمسکار جیسی سرگرمی بھی انجام دی جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندومذہب نے جس طرح دیگر نظریات و خیالات کو خودمیں ضم کرلینے کا ہنر سیکھا ہے،اسی طرح یوگا میں بھی دیگر صحت عامہ سے متعلق چیزوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔یا یہ کہیے کہ اسے جدید تر بناتے وقت دیگر ورزشوں کو بھی شامل کر لیا ہے۔جس کی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ یوگا کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔
تیسری خبر اگرچہ زیادہ مشتہر نہیں ہوئی لیکن یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ ملک میں برسر اقتدار سیاسی جماعت اور اس کے لیڈر اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے سلسلے میں کیا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں ؟اس کا اندازہ اُن کے بیانات، طرز عمل اور پایسی و پروگرام سے وقتاً فوقتاً خوب اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے۔خصوصاً دلت طبقہ جو صدیوں سے خود کو ہندوستانی تہذیب اور اس کی مضبوط جڑوں سے متاثر محسوس کرتا رہا ہے۔اور جس کے نتیجہ میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیدکر سے لے کر آج تک سیاسی و معاشرتی محاذ عزت و وقار کے لیے جدوجہد ہوتی رہی ہے۔ اس کے باوجود نظریہ ظلم و زیادتی پر مبنی سماج اور اس کی فکر نے اُنہیں اپنے مقام سے اوپر نہیں اٹھنے دیا۔یہی وجہ ہے کہ آج کے "جدید ہندوستان "میں بھی دلتوں کو وقتاً فوقتاً ذلت آمیزی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
فی الوقت جس بیان یا صحیح معنی میں فکر کا ہم تذکرہ کررہے ہیں وہ ریاست مہاراشٹر کے بی جے پی ممبر اسمبلی روندر چوہان کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایک تقریب کے دوران دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ جس طرح ابراہم لنکن نے ایک سوؤر کو نالے سے نکال کر اسے صاف کیا تھا،اسی طرح وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ دینور فڈنویس دلتوں کی ترقی کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔ حزب اختلاف نے اس بیان پر بھر پور تنقید کی ہے۔ دلت تنظیموں نے بیان کو واپس لینے اور معافی مانگنے کی بات کہی۔ این سی پی پارٹی نے مخالفت کرتے ہوئے ایک سوؤرہی کا نام رویندر چوہان رکھ دیا۔ اس کے باوجود نظریہ اور فکر میں تبدیلی کی نہ کوئی کوشش ہوئی اور نہ ہی اس کے امکانات نظر آتے ہیں۔ حقیقت حال کا تذکرہ ایک مختصر واقعہ سے کیا گیا لیکن درحقیقت یہی وہ بدترین صورتحال ہے جو ملک کو اندون خانہ کمزور کیے ہوئے ہے۔ اسی ایک معمولی واقعہ کے پس منظر میں ملک کے برسر اقتدار طبقیاوران مذہبی و معاشرتی راہنماؤں کے افکار اور سوچ کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ایک جانب یہ سیاسی و غیر سیاسی لیڈر اکیسویں صدی میں ہندوستان کو دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے نکال کر ترقی یافتہ فہرست میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن اُن کی فکر اور طرز عمل منووادی دور میں آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ایک ایسا دور جو صدیوں پرانا اوردقیانوسی دور ہے۔
آخری خبر 2002میں ریاست گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اورگلبرگ سوسائٹی پر آنے والا فیصلے کے بارے میں ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے جج صاحب کہہ رہے تھے کہ ہلاک شدہ کانگریس کے سیاسی لیڈر ،احسان جعفری نے اپنی لائسنس والی بندوق سے گولی چلا کر بھیڑ کو بھڑکا دیا تھا، جس کے نتیجہ میں 69 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ افراد اس سے پہلے جرم میں ملوث نہیں تھے۔ لہذا شواہد و ثبوتوں کی روشنی میں بڑی تعداد میں لوگوں کو بری کر دیا گیا۔ہستکشیپ ڈاٹ کام کی خبر کی روشنی میں گودھرا میں بی جے پی نے ٹرین میں آگ لگائی،اس کے بعد ٹرین میں مارے گئے لوگوں کی لاشوں کے ساتھ پوری ریاست میں جلوس نکالے گئے،بی جے پی، آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے رہنماؤں کی نگرانی میں بھیڑ اکٹھی ہوئی اور مسلم بستیوں اور دکانوں پر حملے کئے گئے۔ ان فسادات میں(جبکہ لفظ فساد خود اس واقعہ کے لیے مناسب لفظ نہیں)تقریباً دو ہزار لوگوں کا قتل ہوا۔ اس کے باوجود قاتل اس بات پر فخر کرتے نظر آئے کہ وہ ریاست گجرات کی ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ بھلے ہی چین نے ہندوستان کو این ایس جی کی رکنیت نہیں ملنے دی ، اس کے باوجود ہندو چینی بھائی بھائی کا نعرہ لگاتے ہوئے عالمی یوگا دن پر جو یوگ کیا گیا وہ چین کی بنی چٹائیوں پر ہی تھا۔