امجد صابری کو کس بات کی سزا دی ظالمو

اس دفعہ جب کراچی پہنچا تو اقبال خورشید نے ایکپریس کے لیے انٹرویو کیا۔ وہ صرف صحافی ہی نہیں ہیں بلکہ خود بھی بہت خوبصورت مختصر کہانیاں لکھتے ہیں۔ انٹرویو کا ان کا اپنا خاص انداز ہے اور باتوں باتوں کے دوران ٹیپ ریکارڈ چلنے لگا اور ساری باتیں گرہ کر لی گئیں اور سوالات محفوظ ہو گئے۔ فیس بک پر ایک منٹ کی کہانی کا سلسلہ جو اقبال خورشید چلاتے ہیں وہ مجھے بہت پسند آیا۔ صحافت اور ادب میں وہ انشاء اللہ بہت ترقی کریں گے ۔ ابھی سے ہی شہرت ان کے قدم چومنے لگی ہے۔

ان کا پورا نام نام اقبال خورشید ہے، پیشہ صحافت، بنیادی وظیفہ انٹرویو نگاری، ایکسپریس کے لیے چھ سوسے زاید انٹرویو کر چکے ہیں۔ ایکسپریس کے لیے ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں، عنوان ہے: نمک کا آدمی۔ اسی اخبار کے لیے مختصر کہانیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ عنوان ہے: آج کی کہانی۔ فکشن نگاری ادبی حوالہ، افسانے پاک و ہند کے مستند جراید میں شایع ہوچکے ہیں۔ سرد خانے کا ملازم نمایندہ افسانہ ہے۔ ایک ناول’ تکون کی چوتھی جہت‘ پرشمس الرحمان فاروقی، مستنصر حسین تارڑ، مشرف عالم ذوقی، ڈاکٹر حسن منظر جیسی شخصیات نے انہیں کافی سراہا۔

دوسرے دن قیام الدین سے لمبی گفتگو رہی۔ قیام الدین بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں دینی اور ادبی کتب میں تحقیق کا بہت تجربہ ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’’شرفا کی نگری ‘‘ یعنی حضرت مخدوم شرف الدین یحیی منیری کی نگری۔ صوبہ بہار میں آپ ایک صاحب تصنیف صوفی تھے۔ جن کا مزار صوبہ بہار میں موجود ہے ۔ قیام الدین اس کتاب کے مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنی پچیس سالہ تحقیق کا نچوڑ اس کتاب میں پیش کیا ہے ۔ ان کے مطابق ہندوستان میں اسلام سب سے پہلے صوبہ بہار کے شہر منیر شریف میں پہنچا۔ کتاب میں مصنف نے صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد صوفیائے کرام کے حالات اور کارنامے بیان کیے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب انوار العلاء، کے علاوہ اپنی ایک تحقیقی کتاب جو کہ بہار کے ایک جید عالم اور شاعر حفیظ عظیم آبادی کے متعلق ہے، عطا کی اور ساتھ ہی اپنے برادر خورد احتشام الدین کی کتاب نیرنگ سیاست دوراں بھی عنایت کی۔قیام الدین صرف تحقیق کرتے ہیں اور اپنی کوششوں کا نچوڑ کتابی صورت میں پیش کر دیتے ہیں۔ ان کا موضوع صوفیائے کرام بہار ہے۔

ان کے چھوٹے بھائی، احتشام الدین امریکہ میں رہتے ہوئے بھی بنگلہ دیش میں محصور کیمپوں میں پڑے پاکستانیوں کی امداد کے سلسلے میں بہت کام کر رہے ہیں۔ وہ ہر سال ساری دنیا سے امداد لے کر وہاں خود جاتے ہیں اور لوگوں کی مدد کر تے ہیں۔ نیرنگ سیاست دوراں ان کی تصنیف ہے۔یہ ان کے اخباری کالموں کا مجموعہ ہے۔

تیسرے دن کراچی کے ممتاز ادیب۔۔۔اور صحافی اور سو لفظوں کی کہانی کے خالق مبشر علی زیدی سے ملاقات رہی۔ مبشر زیدی نمک پارے، شکر پارے، 100 لفظوں کی کہانی، اور الم غلم کے مصنف ہیں۔ یہ سب ان کی کتا بوں کے نام ہیں۔یوں تو ان سے برلن جرمنی میں ملاقات ہو چکی تھی۔ آپ اردو انجمن کی جانب سے جرمنی بلائے گئے تھے۔ ایک بہت نفیس انسان اور معروف کہانی کار ہیں۔ ملنے آئے تو ڈھیر ساری کتابوں کا تحفہ ساتھ لائے۔ میں نے تمام کتابیں سامان سفر میں رکھ لیں مگر شرمندگی رہی کہ میں ان کے لیے کوئی تحفہ نہ لا سکا تھا۔ چونکہ اسلام آباد اور لاہور سے گھومتا، چکر لگا تا میں کراچی وارد ہواتھا اس لیے سفر کی سہولت کی خاطر صرف ایک چھوٹی سی ٹرالی جس میں بہ مشکل تمام ضروری اشیاء سما سکتی تھیں، میرے ساتھ تھی۔۔۔اس دفعہ گھر بھی خالی ہاتھ ہی آیا۔

سب سے آخری ملاقات میرے نویں جماعت سے ساتھ پڑھنے والے دوست اور اب کراچی کے ایک معروف ڈاکٹر اور ماہر نفسیات ظہیر الدین سے رہی۔ ان سے کافی عرصے تک ملاقات نہ رہنے کے بعد،فیس بک ہی کی بدولت گزشتہ کئی سالوں سے ہم پھر مل گئے ہیں۔ دوستی تو ہماری نویں جماعت سے ہی قائم ہے۔ فیس بک بھی کمال کی چیز ہے۔ بمشکل تمام میں تین دن ہی کراچی رکا تھا۔ اور سخت گرم موسم ۔ کراچی اتنا گھوم پھر تو نہ سکا جتنا چاہتا تھا۔ مگر اس دفعہ کراچی کافی مختلف لگا۔

امن امان ہی کراچی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ اس دفعہ کافی سکون تھا۔ معرکہ آرائی اور دشنام طرازی دونوں ہی مفقود تھیں ۔ جو کہ نہایت خوش آئیند بات ہے۔ کراچی اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اس کے انتظامی امور کو خوش اسلوبی سے چلانا ممکن نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب اس کی انتظامی تقسیم کا معاملہ بھی خاصا حساس ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شہر کے حالات کیسے درست کیے جائیں۔ اور کیوں کر سب کو راضی کیا جائے۔ سیاسی پارٹیوں کے تشدد پسند بازو کو کیسے قابو کیا جائے۔ درحقیقت یہ چند جملوں میں بیا ن کر دہ مسائل ، کسی حل کو پیش کر نے کا نام نہیں۔کراچی کے تمام چھوٹے چھوٹے انتظامی اداروں کو مضبوط کر نا ہو گا اور انہیںآزادنہ کام کر نے کے لیے تیار کر نا ہوگا۔ ڈسٹرکٹ کو مزید چھوٹے چھوٹے ذیلی ڈسٹرکٹ میں بانٹ کر ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کو پروان چڑھانا ہوگا جو لوگوں کے مسائل کو فوری حل کرنے کا اہل ہو۔اور اس کے ساتھ ساتھ رشوت اور دیگر جرائم کو قابو کر نا ہوگا۔

ابھی میں نے یہ چند سطریں کراچی کے حالات کی مداحی میں لکھے ہی تھے کہ کراچی سے ایک اندوہناک خبر موصول ہوئی ہے۔ کراچی ایک بار پھر انارکی اور بگڑتے حالات کی طرف گامزن ہے۔ اس بات کا بھی کوئی مداوا ہونا چاہیئے کہ کوئی بھی حادثہ کراچی اس کی پرانی روش کی طرف نہ دھکیل پائے۔ میں نے کراچی میں خود ایسے ایام کا تجربہ کیا ہے کہ لگتا تھا کہ انتظامیہ اور مقننہ کراچی میں تین چار دنوں کے لیے نا پید ہو چکی ہو۔ ایسی صورتحال کا کسی شہر میں برپا ہونا انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔حکومت کی رٹ ہر حال میں قائم رہنا چاہیئے۔

اس خبر کو خبر لکھوں یا جبر جسے سن کر میری زبان گنگ اور میرا قلم خشک ہو چکا ہے۔ میں یہ سوچ سوچ کر الجھ رہا ہوں کہ اس فنکار، قوال اور نوجوان نعت خواں سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔ شاید کو ئی اس کی خوش الحانی سے حسد کر تا ہو۔ شاید اس کا کسی سے سماع کی مذہب میں گنجائش کے سلسلے میں اختلاف ہو۔ شاید اس سے کسی کا کوئی مطالبہ ہو جو وہ پورا نہ کر پا رہا ہو۔ مگر یارو یہ تو جنگل میں بھی نہیں ہوتا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔دن دہاڑے یوں کسی کی جان لینا۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کے بچے یتیم ہو جائیں گے۔ اس کی ماں زندہ درگور ہو جائیگی۔ ابھی وہ جیا ہی کتنا تھا۔ اور ایسی موت۔ وہ لوگ کتنے شقیق القلب ہیں کہ جو یوں دندناتے پھرتے ہیں اور انسانوں کا خون بہاتے ہیں۔ ہم اور ہم جیسے قوالی اور سماع کے دلداہ۔۔۔اس کی معرفت، عرفان الہی میں گم ہو جانے والے ان کے والد غلام فرید صابری اور ان کے چچا مقبول فرید صابری کی طبعی موت کو ہی ایک بہت بڑا نقصان گردانتے تھے۔ اور امجد فرید صابری کی موجودگی اس کی فن سے وابستگی اس کی خو ش الحانی اس کا طرز اس کے نعت رسول کے پیش کر نے کے جداگانہ انداز کو بہت بڑی نعمت جانتے تھے۔ آج پھر سے خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں۔