مہاراجہ گلاب سنگھ کے نئے جانشین (1)
- تحریر یونس تریابی
- منگل 28 / جون / 2016
- 11326
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے بانی سربراہ کامریڈ قربان علی کا مارکسی ، لیننی اور افکار ماؤزے تنگ کی سماجی سائنس اور دنیا میں عوامی اور قومی انقلابی تحریکوں کا بہت گہرا مطالعہ تھا۔ وہ کشمیری معاشرے کے پسماندہ ثقافتی و سماجی اور معاشی حالات کو کشمیر کی جدوجہد آزادی کی کمزوریوں اور ناکامیوں کے اسباب بیان کرتے اور کہتے کہ ہماری قومی جدوجہد آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے کشمیری معاشرے میں مہاراجہ گلاب سنگھ کے جانشینوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
اس سوال پر مزید وضاحت کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ کشمیر کی تینوں سرینگر و گلگت اور مظفرآباد کی کٹھ پتلی حکومتوں میں شامل ہونے کی شدید ہوس کی تکمیل کےلئے حب الوطنی کی حدود پھلانگنے اور کشمیری عوام کی قومی جدوجہد آزدی کو دبانے والے بے اصول کشمیری سیاستدانوں کی ختم نہ ہونے والی ایک قطار ہمارے سامنے تھی ۔ کشمیر کے جموں سرینگر زون پر بھارت کے جبری قبضے کو مضبوط بنانے میں شیخ محمدعبداللہ کے کردار اور مقبول بٹ شہید کو تختہ دار پر لٹکانے میں اس کے بیٹے فاروق عبداللہ کی ساز باز کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گلاب سنگھ کا کردار بھی کشمیر کے ان کٹھ پتلی سیاستدانوں سے زیادہ مختلف نہ تھا ۔
جموں پر پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے بیرونی قبضے کے خلاف محب الوطن ڈوگروں کی مزاحمت کو کچلنے میں گلاب سنگھ اور اس کے والد کا کردار بہت واضح تھا۔ پنجاب فوج سے گلاب سنگھ کی غداری اور برطانوی سامراج سے وفاداری کے واقعات بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ تھے ۔ کشمیر کے معروف مورخ پریم ناتھ بزاز اپنی شہرہ آفاق تصنیف “تاریخ جدوجہد آزادی کشمیر“ میں لکھتے ہیں کہ ’’1839 میں رنجیت سنگھ انتقال کرگیا تھا۔ پنجاب میں اس کے جانشین ایسے راجے اور مہاراجے بنے جو بے ہمت اور نااہل تھے۔ اُنہوں نے ان انگریزوں سے لڑائی مول لے لی جو سکھ عملداری سے پرے سارے برعظیم ہندوستان کو فتح کرچکے تھے۔ جموں کے راجہ گلاب سنگھ ۔۔۔(کو)پنجاب کا وزیر اعظم بنایا گیاتھا۔ چونکہ وہ بے اصول ہونے کے باوجود کافی زیرک تھا اس لئے اُس کی دور رس نگاہوں نے تاڑ لیا تھا کہ انگریز ہندوستان کے آئندہ ہونے والے آقا ہیں۔ لہذا اُس کا ذاتی فائدہ اسی بات میں تھا کہ وہ اس سفید قوم کے ساتھ یارانہ گانٹھے۔۔۔
نومبر 1845 ء میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی ۔ سادہ لوح سکھ سرداروں نے گلاب سنگھ سے راہنمائی کے لئے استدعا کی ۔۔۔ اگرچہ گلاب سنگھ بظاہر سکھوں کو انگریزوں کے خلاف منظم کررہا تھا مگر وہ اندر ہی اندر(انگریزوں کی مدد سے) اپنے مستقبل کی تعمیراور اپنے لئے ایک الگ سلطنت کی تشکیل کی پخت وپز میں لگا ہوا تھا۔۔۔ سبراؤن کی جنگ لڑی گئی اور سکھوں (پنجاب ) کو شکست ہوئی ۔ ولیم ایڈورڈ کے الفاظ میں’گلاب سنگھ نے فوج پر زور ڈالاکہ اُس وقت تک انگریزوں پر حملہ نہ کیا جائے جب تک میں شامل نہ ہو جاؤں۔ مگر وہ کسی نہ کسی بہانے اپنی شمولیت کو ٹالتا رہا۔ حالانکہ اُس کو اس صورت حال کا پورا علم تھا کہ اس اثناء میں انگریز حملہ کرنے میں پہل کرکے سبراؤن کو چھین لیں گے۔ اسی نوعیت کے طریقوں سے گلاب سنگھ نے برطانوی سیاستدانوں کو اپناممنون احسان بنایا۔۔۔
سبراؤن کی لڑائی کے بعد سکھوں کی خود مختاری ختم ہوگئی اور انگریزوں نے لاہور کی طرف کوچ کرکے اسے بھی فتح کرلیا۔ 9مارچ 1846 ء کو عہدنامہ لاہور کی توثیق ہوئی ۔اس عہد نامے کی شرائط میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ گلاب سنگھ اُن پہاڑی اضلاع اور سرحدات کا خود مختار حکمران تسلیم کیا جائے گا جو اس کے اور حکومت برطانیہ کے درمیان ایک علحیدہ معاہدے کی رو سے حوالے کی جائیں گی‘‘ (ترجمہ عبدالحمید نظامی۔p138/9 ) ۔ حکومت برطانیہ نے 16 مارچ 1846 ء کے جس علحیدہ معاہدے کی رو سے پہاڑی اضلاع اور سرحدات (جدید ریاست کشمیر ) کوگلاب سنگھ کے حوالے کیا ، اسے بیعنامہ امرتسر کہا جاتا ہے ۔
پنجاب کے خلاف برطانیہ کی جنگ میں گلاب سنگھ کامذکورہ عمل ہی اس کے موقع پرستانہ اور غدارانہ کردار کو واضح کردیتا ہے ۔ اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جس طرح گلاب سنگھ کی دوررس نگاہوں نے 1845ء میں یہ تاڑ لیا تھا کہ انگریز ہندوستان کے آئندہ ہونے والے آقا ہیں، اسی طرح نیشنل کانفرنس کی قیادت کی نے بھی1947 میں یہ تاڑ لیا تھا کہ بھارت کے حکمران کم از کم کشمیرکے ایک زون جموں سرینگرکے آئندہ ہونے والے آقا ہیں اور اُنہوں نے بیعنامہ دہلی (دہلی میں تیار ہونیوالی بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی جعلی دستاویز) کی حمایت کرکے کانگرسی لیڈروں کو اپنا ممنون احسان بنایا اور سرینگر کی کٹھ پتلی حکومت میں اپنی جگہ بنالی۔
1949 ء میں مسلم کانفرنس کی قیادت نے بھی یہ تاڑ لیا تھا کہ پاکستان کے حکمران تحریک آزاد کشمیر کے بیس کیمپ آزاد کشمیر کے آئندہ ہونے والے آقا ہیں اور اُنہوں نے بیعنامہ کراچی کے ذریعے نظریہ آزاد کشمیر و تحریک آزاد کشمیر اور اس کے بیس کیمپ آزاد کشمیر سمیت کشمیری عوام کے حق حکمرانی کو پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ فروخت کردیا تھا۔ بیعنامہ دہلی اور بیعنامہ کراچی اصل میں بیعنامہ امرتسر کی دوشاخیں ہیں جن میں صرف الفاظ کی ہیرا پھیری ہے اور نئے چہرے شامل ہیں۔ کشمیر ی عوام کے حق حکمرانی کی خرید وفروخت کے کردار وہی ہیں۔ یہ وطن دشمن کردار یہاں ختم نہیں ہوئے ۔ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے موقع پرست سیاستدانوں کی نظریں بھی کافی تیز ہیں۔ یہ تاڑ لیتے ہیں کہ پاکستان کی کونسی پارٹی آئندہ کشمیر کے گلگت بلتستان اور مظفرآباد میرپور زونز کی ہونے والی آقا ہے۔ یہ کشمیری سیاستدان گلاب سنگھ کے راستے پر چلتے ہوئے بظاہرکشمیر کی آزادی، عوامی حقوق و تعمیر وترقی اور ریاستی تشخص کے نعرے بلند کرتے ہیں مگر اندر ہی اندرکشمیر کے اس حصے پر قابض پاکستان کے حکمران سیاستدانوں کی مدد سے کٹھ پتلی حکومتوں میں اپنی شمولیت کو ممکن بنانے کی پخت وپز میں لگے رہتے ہیں۔
گلاب سنگھ کا ریاست کشمیر پر’’حق حکمرانی ‘‘بظاہر پچھترلاکھ روپے بطور تاوان جنگ ادا کرنے سے قرار پایا تھا جوکہ اصل میں پنجاب کے خلاف جنگ میں برطانوی سامراج سے وفاداری کا ایک ایوارڈ تھا۔ آج جذبہ حب الوطنی سے خالی کشمیری سیاستدان کروڑوں روپے کے عوض کشمیری عوام کا ’’حق نمائندگی‘‘ خرید رہے ہیں ۔ انتخابی ٹکٹوں اور ووٹوں کی خرید وفروخت اور جھرلو ٹھپہ کے ذریعے انتخابی نتائج حاصل کرنے کا منافع بخش کاروبار اصل میں کشمیر کے اس حصے پر پاکستان کے جبری قبضے سے ان کی وفاداری کا ایک تحفہ ہے ۔
3 مارچ 2016 کے ایک کشمیری اخبار میں اسد حسین اپنے ایک مضمون بعنوان ’’گلگت بلتستان کونسل کے انتخابات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’نگر سے دوبڑے سرمایہ داروں اور چلاس سے ایک امیر شخصیت نے ووٹ خریدنے کےلئے تجوریوں کے مُنہ کھول دیئے ہیں اور ایک ووٹ کی قیمت ایک کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ‘‘ کشمیری عوام کے ’’حق نمائندگی ‘‘ کی تجارت میں شریک اس قسم کے سیاستدان ہی ہماری نظر میں گلاب سنگھ کے جانشین تھے، جن کی طرف کامریڈ قربان علی اشارہ کرتے تھے۔ لیکن اب پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر میں گلاب سنگھ کے نئے جانشین ایک نئی شکل میں ہمارے سامنے آگئے ہیں۔(جاری ہے)