نگاہ کرم ہو گئی
- تحریر سید شاہد عباس
- بدھ 29 / جون / 2016
- 6374
کرم کی نگاہ مانگنے والے پہ کرم کی نگاہ ہو گئی۔۔۔ وہ قوال تھا۔۔۔ ایک سنگر تھا۔۔۔ یا موسیقار۔۔۔۔ اس بحث میں الجھے بغیر صرف معروضی حالات کا جائز ہ لیں تو آپ یہ کہنے پہ مجبور ہو جائیں گے کہ "نگاہ کرم ہو گئی"۔ یہ فیصلہ کرنا علماء کا کام ہے کہ حلال و حرام کیا ہے لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ لاکھوں کے سمندر میں کوئی تو نیک بخشش کا وسیلہ بنا ہو گا۔ لاکھوں کے مجمعے میں کوئی ایک تو ایسا ہو گا جس کی دعا گناہوں سے معافی کا سبب بن جائے ۔ دیہاتوں میں بزرگ اکثر کہتے سنے جاتے ہیں جنازے میں شامل کسی ایک نیک انسان کے اٹھے ہاتھوں کے باعث مرنے والے کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ جہاں تعداد کا شمار نہ ہووہاں کیسی بحث۔۔۔
یہ تاریخ کا واحد جنازہ تھا کہ بڑے بڑے لوگ فخر سے سیلفیاں لے رہے تھے۔ یہ ایک حیران کن جنازہ تھا کہ جس کو روشن خیال بھی اپنی کامیابیوں کا زینہ بنا رہے تھے اور قدامت پسند بھی شرکت کی سعادت حاصل کررہے تھے۔ وہ مر کر بھی لوگوں کی کامیابی کی ضمانت بنتا جا رہا ہے۔ کچھ فیس بکی دانشور دبی دبی سی مخالفت کرتے بھی نظر آتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اس کے جنازے ، اس کی شہادت، اس کی لہولہان تصاویر لگا کرلائیکس، شیئر اور رائے خرید رہے ہیں۔ جی ہاں خرید رہے ہیں کیوں کہ عام آدمی امجد صابری کی تصاویر کو اس انداز سے شیئر کر رہا ہے جیسے وہ کوئی بہت بڑا راہنما ہو۔ وہ جیسا تھا ، رب بہتر فیصلہ کرنے والا ہے لیکن جس کی موت پہ نبی صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کی مدحت کے ترانے گونجنا شروع ہوجائیں اس کی بخشش کی دعا نہیں معلوم کرنی بھی چاہیے یا اس کی حمد و ثناء کا واسطہ دے کر اپنی بخشش کا سامان کرنا چاہیے۔
سمجھ نہیں آتا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے۔۔۔ ناچنے گانے والے الگ سوگ منا رہے ہیں فتاویٰ کے مراکز، رشد و ہدایت کے گڑھ، پیرو عالم الگ سے آنسو بہا رہے ہیں۔ کہیں کوئی کھلاڑی کھڑا آنسو ؤں سے خراج پیش کر رہا ہے، کہیں حفاظ آنسوؤں سے تر دعا کے لئے ہاتھ بلند کیے ہوئے ہیں۔ وہ تمام عمر تاجدارِ حرم سے نگاہ کرم مانگتا رہا۔ اور نگاہ بھی ایسی ہوئی کہ کوئی آنکھ ایسی نہ رہی جس میں آنسو نہ ہوں۔ وہ مر کر بھی وہ کام کر گیا جو زندہ صدیوں میں نہیں کر سکتے ۔ وہ بلا تفریق عقیدہ، رنگ و نسل ہر ایک کے لب پہ آقا کی نعتیں جاری کر گیا۔ کوئی تصویر ہو ، کوئی پوسٹ ہو، کوئی خبر ہو، الیکٹرانک میڈیا کی کوئی رپورٹ ہو، کسی کا بھی آغاز اس کی پڑھی گئی نعتوں کے اشعار کے بنا ہو نہیں سکتا۔ ہماری اب کیا اوقات کہ اس کے ٹھیک یا غلط ہونے کی بحث کریں جو سانسوں کی ڈور ختم ہونے کے بعد بھی اپنے نام سے آقا صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کی نعتیں لوگوں کے منہ سے پڑھوا رہا ہے۔ لوگ اس کو خراج بعد میں پیش کر رہے ہیں پہلے نعت پڑھ رہے ہیں۔ جوزندگی کی بازی ہار کے بھی ثناخوانی کر رہا ہو۔ کہاں اس کا رتبہ کہاں ہماری ناقص عقل۔
سیلفیاں اور ویڈیوز بنانے والوں نے اسے کیا صلہ دینا ہے یہ اس کا اور ربِ کریم کا معاملہ ہے ۔ وہ اُس محبوب ہستی کی مدحت کرتا رہا جس کا ذکر خود اللہ عزو جل نے کیا۔ اور میرا رب یہی اس کی بخشش کا وسیلہ بھی بنا دے۔ کیوں کہ ربِ دو جہاں کسی کا احسان نہیں رکھتا۔
اپنے تو اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ وہی شہید ہے یا ہلاک، لیکن اغیار نے اس کو شہید مان لیا(وکی پیڈیا)۔کیا یہ اس کی کامیابی نہیں کہ وہ خود تو چلا گیا لیکن اللہ کے محبوب صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کا ذکر بلند کر گیا۔ جب اُس کی لاش پر تصویریں لینے کے لئے چھینا جھپٹی جاری تھی تو قدرت بھی شاید مسکرا رہی ہو گی کہ عاشق رسول صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم تو ہوتے ہی ایسے ہیں کہ زندگی میں طعنوں سے نوازے جائیں سانس رکے تو لوگ نثار ہونے پر تیار ہوں۔ آقا صلی للہ و علیہ و آلہ وسلم جب اس کی قبر میں آئے ہوں گے تو وہ مسکرایا ہو گا کہ آقا صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم آپ نے مجھ پہ کیا خوب نگاہ کرم کی ہے کہ جو تنقید بھی کر رہے تو میرا ذکر آپ کی نعت کے ساتھ جوڑے بنا بات نہیں کرسکتے ۔