مہاراجہ گلاب سنگھ کے نئے جانشین (2)
- تحریر یونس تریابی
- جمعرات 30 / جون / 2016
- 7808
مہاراجہ گلاب سنگھ کے نئے جانشین سامنے کیسے آئے؟ مورخہ21 مارچ2016 کے ایک کشمیری اخبار میں نیاز کشمیری کا ایک مضمون بعنوان ’’معاہدہ امرتسر اور ریاست جموں کشمیر ‘‘ نظر سے گزرا۔ موصوف پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے کچھ کشمیریوں کی طرف سے گلاب سنگھ کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی ایک مہم اور اس کے پس منظر میں کارفرما کانگرسی لیڈروں اور ان کی ڈگڈگی پر ناچنے والے نیشنل کانفرنسیوں کے ایک سیاسی جال سے پردہ اُٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’کچھ عرصہ قبل اکھنور کے مقام پر انڈین نیشنل کانگرس کی جانب سے مہاراجہ گلاب سنگھ کی سالگرہ کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں کانگرسی رہنما کرن سنگھ نے وہاں گلاب سنگھ کا مجسمہ نصب کیا اور تقریب میں انہیں ہیرو قرار دینے کے حق میں تقریر بھی کی ۔ تقریب میں اس وقت کی مخلوط حکومت کے توسط سے نیشنل کانفرنس اور کانگرس کے کئی رہنما شریک ہوئے ۔۔۔
کرن سنگھ اس تقریب کے کچھ عرصہ بعد امریکہ وکنیڈا کے مختصر دورہ پر گئے جہاں ان کی ملاقا ت لائن آف کنٹرول (لائن آف ملٹری آکیوپیشن ۔۔ لومو) کے دوسری جانب کے چند افراد سے ہوئی جس کے بعد وہ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اس مہم کو آگے بڑھانے اور اپنے حلقہ احباب کو اس جانب لانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ اگر اس سارے منظر نامے پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس علاقہ( پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر) میں گلاب سنگھ (کو) ان کے جانشین راجگان کا ہیرو بناکر پیش کئے جانے کے کیا محرکات ہوسکتے ہیں ۔‘‘ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے قوم پرست حلقوں میں چند راجگان کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے گلاب سنگھ کو اپنا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی خبر توایک عرصے سے سنائی دے رہی تھی۔ مگر اس پر قلم اُٹھانے کی کبھی ضرور ت محسوس نہ ہوئی ۔ کچھ دوستوں نے اس سوال پر راقم کی رائے جاننے کی کوشش بھی کی، جس پر اپنی اس رائے کا اظہار کرنا مناسب سمجھاکہ اگرکچھ راجگان کو واقعی اپنی ذات یا قبیلہ سے ایک ہیرو کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو راجہ محمد اکبر خان جنہوں نے 1931/2 میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے جبر وتشدد اور ظلم کے خلاف غریب و بھوکے اور محروم کسانوں کی بغاوت کا علم بلند کیا تھا۔ وہ تاریخ کشمیرمیں ایک ہیرو کے طور پر زندہ ہیں۔
راقم نے کھجورلہ (کھوئی رٹہ) کے عبدالقیوم راجہ کا نام بھی پیش کیا ۔عبدالقیوم راجہ نے جذبہ حب الوطنی کے جرم میں اپنی زندگی کے 22 سال برطانیہ کی جیلوں میں گزارے۔ چونکہ قبیلہ اور ذات پرستی جاگیردارانہ ثقافت کاایک اٹوٹ انگ ہے اور جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ راجہ محمد اکبر خان جیسے کسان راہنما اور عبدالقیوم راجہ جیسے ایک محب الوطن شخص کو اپنا ہیرومان لیں۔ اس لئے راقم نے مہاراجہ گلاب سنگھ کو ہیروبنا کر پیش کرنے کی مہم کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے چند راجگان کی جاگیردارانہ ذہنیت کا ایک مسئلہ خیال کرکے نظر انداز کردیا تھا۔ مگر نیاز کشمیری کے مضمون کے مذکورہ بالا حصے کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوا کہ اصل بات مہاراجہ گلاب سنگھ کوان کے جانشین راجگان کا ہیرو بنا کرپیش کرنے کی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ معاملہ کافی سنگین اور تشویشناک ہے۔ یہ ایک سیاسی مہم ہے جس کے پس منظر میں کانگرسی لیڈروں اور نیشنل کانفرنسیوں کی ایک سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے۔ جوکہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں بھارت کی پراکسی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے ۔
یہ کشمیر کے خلاف بھارت کے حکمرانوں کا تیار کردہ وہ جال ہے جس میں مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے کرن سنگھ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے کشمیریوں کو بھی پھنسانے کی کوشش کررہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت تو شروع سے ہی اس جال میں پھنسی ہوئی ہے جس کا مختصر ذکر آگے چل کر کیا جائے گا ۔ کرن سنگھ کی امریکہ اور کنیڈا میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے کشمیریوں سے ملاقات کرنا کوئی جرم نہیں ہے ۔ کشمیر کے تینوں مقبوضہ زونز جموں سرینگر و گلگت بلتستان اور مظفرآباد میرپور کے کشمیریوں کا ہر ممکن طریقے سے ایک دوسرے زون کے کشمیریوں سے ملاقاتیں کرنا اور بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کے جبری قبضے سے نجات کے مشترکہ راستے تلاش کرنا ایک قومی فریضہ ہے۔ اور حب الوطنی کا تقاضا بھی ۔ لیکن مہاراجہ گلاب سنگھ کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کا راستہ کشمیری عوام کے دھوکے و فراڈ اور طاقت کے ذریعے غصب کئے گئے اقتدار اعلیٰ کے قانونی و آئینی اور قومی حقوق کی بازیابی کی طرف نہیں جاتا۔ بلکہ یہ برصغیر ہندوستان کے تمام ملکوں کے آئندہ ہونے والے بلکہ امریکی سامراج کی مدد سے بنائے جانے والے نئے آقا بھارت کی وفاداری کرنے ، بھارت ماتا کی جے کانعرہ بلند کرنے اور کشمیر پر بھارت کے پنجہ استبداد کو مزید مضبوط بنانے کی طرف جاتا ہے ۔
آج جو لوگ گلاب سنگھ کو اپنا ہیرو بنا کر پیش کررہے ہیں کل یہ مہاراجہ ہری سنگھ کو بھی ہیرو بنانے اورمہاراجہ خاندان کی حکمرانی کے مظالم کے خلاف عوامی بغاوت کے راہنماؤں اورتحریک آزاد کشمیر کے ہزاروں شہداء کو مجرم بنانے کی کوششیں بھی کریں گے۔ محب الوطن کشمیریوں کو اس بھارتی جال سے خبردار رہنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو شخص ہوس اقتدار کی خاطراپنے وطن پر بیرونی قبضے میں آلہ کاری کا کردار ادا کرتا ہے وہ عوام کا نمائندہ اور ہیرو نہیں ہوسکتا ۔ جموں کے ہیرو میاں ڈھیڈو اور دوسرے سرفروش ڈوگرے تھے جنہوں نے پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے بیرونی قبضے اور اس کے آلہ کار گلاب سنگھ اور اس کے والد کے خلاف جدوجہد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ یہ وہ تاریخی واقع ہے جس کا ذکر نیاز کشمیری نے اپنے مضمون میں کیا ہے اور اس کی تفصیل راقم نے کافی عرصہ پہلے غالباً یوسف صراف کی کتاب’’کشمیریز فائٹ فار فریڈم ‘‘میں پڑھی تھی۔ عوام کے ہیروان کے اپنے وہ نمائندے ہوتے ہیں جو اپنے وطن پر بیرونی تسلط اور ملک کے اندر ہرقسم کے جبر وتشدد کے خلاف آواز ابلند کرتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں اور مظلوم عوام کے ساتھ اپنی آخری سانس تک کھڑے رہتے ہیں ۔
مہاراجہ گلاب سنگھ کے کردار میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو اُسے عوام کا ہیروبنائے۔ لیکن بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی جعلی دستاویز کے رچائے گئے ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے، کشمیرکے جموں سرینگر زون پر غیر قانونی اور جبری قبضے کو قانونی اور جائز ظاہر کرنے اور پونچھ بشمول میرپور کی بغاوت کے سہارے قومی سطح پر ابھرنے والی تحریک آزاد کشمیر اور اس کے ہراول دستے آزاد کشمیر فوج کو ڈاکوؤں ، لٹیروں و قاتلوں اور دہشت گردوں کا ایک ٹولہ ثابت کرنے کی خاطرکانگرسی لیڈروں کی یہ ایک سیاسی ضرورت تھی کہ وہ مہاراجہ ہری سنگھ کا ایک وطن پرستانہ کردار تراشیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ کا یہ وطن پرستانہ کردار کیسے تراشا گیا؟ کشمیر کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں نے یہ فقرہ ضرور کسی کتاب میں پڑھا یا عبداللہ پرستوں سے سنا ہوگا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی دستاویز پر بحالت مجبوری دستخط کرکے پاکستان کی مداخلت اور جارحیت سے اس گھر (جدید ریاست کشمیر )کو بچانے کی کوشش کی، جسے اس کے خاندان کے ایک بزرگ مہاراجہ گلاب سنگھ نے بڑی بہادری اور محنت سے تعمیر کیا تھا۔ (جاری ہے )