یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
- تحریر
- جمعہ 01 / جولائی / 2016
- 4447
گذشتہ ہفتے برطانوی عوام کی اکثریت نے یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو میڈیا میں جو زلزلہ آیا سو آیا، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بھونچال آ گیا۔ برطانوی کرنسی پونڈ دھڑام سے اتنی گر ی کہ اکتیس سالہ ریکارڈ توڑ ڈالا۔ پنے ساتھ یورو کو بھی جھٹکا دے ڈالا۔ دنیا بھر کی اسٹاک ( حصص ) مارکیٹیں امریکہ سے لے کر ایشیاء تک سبھی میں افتاد آن پڑی۔ سٹے بازوں نے ڈالر اور سونے میں سرمایہ کاری میں عافیت سمجھی اور یوں دونوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ حساب کتاب جوڑنے والوں نے بتایا کہ اس سارے جھٹکے سے حصص مارکیٹوں کی تین کھرب ڈالر کی دولت ہوا ہو گئی۔ میڈیا کے سارے تبصروں کا رخ ان سر پھرے برطانوی ووٹرز کی طرف رہا جن کی وجہ سے بیٹھے بٹھائے یہ ہنگامہ برپا ہوا ۔
یہ ہنگامہ کیوں برپا ہوا؟ بڑی وجہ یہ ہوئی کہ عالمی ادارے، سیاستدان اور عالمی میڈیا اپنے تئیں یہ حساب جوڑے بیٹھے تھے کہ ریفرنڈم میں یورپی یونین چھوڑنے والوں کو معمولی مارجن سے ہار ہو گی ۔ جبکہ یورپی یونین کے ساتھ رہنے والوں کو برتری حاصل رہے گی۔ عوامی جائزوں کی بھرمار بھی یہی عندیہ دے رہی تھی ۔ ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے اپنے تئیں جو بھی جائزے لیے، اپنے آپ کو فاتح پایا۔ عالمی اداروں اور لیڈروں کو یقین تھا کہ انہوں نے برطانوی ووٹرز کو نیک و بد اچھی طرح سمجھا دیا ہے، اب ان کی سمجھ اتنی گئی گذری بھی نہیں کہ سمجھ نہ پائیں کہ سہاگن وہی جو پیا من بھائے۔ برطانوی عوام کی طرف سے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کا فیصلہ تقریباٌ سبھی نے فرض کر لیا۔ مالیات کی زبان میں حصص مارکیٹوں نے اس متوقع فیصلے کو Factor in کر لیا اور یوں حصص اور کرنسی مارکیٹوں نے اپنے اپنے لیول ایڈجسٹ کر لیے۔ میڈیا، عالمی لیڈرز، حصص اور کرنسی مارکیٹوں نے اسی اطمینان کے ساتھ نتائج سننا شروع کیے لیکن ہر گذرتے لمحے نتیجہ الٹ آیا تو صبح تک ہوش کے طوطے اڑ چکے تھے۔ غیر متوقع نتیجے کے لیے کوئی بھی تیا ر نہ تھا۔ سو لازمی نتیجہ ایک ہڑبونگ کی شکل میں نکلا۔ ہر طرف ایک ہنگا مہ برپا ہو گیا، یوں لگا کہ شاید اب سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔
حصص اور کرنسی مارکیٹوں نے تو اپنا غصہ اور ردِ عمل مارکیٹوں میں شدید مندی کی صورت میں ظاہر کیا۔ یورپی یونین کے لیڈرز نے جمہوریت کے احترام کا راگ تو الاپا لیکن اس فیصلے کو اپنی توہین جانتے ہوئے مشورہ دیا کہ اگر ’ یہ طے ہے کہ پھر نہیں ملنا‘ تو پھر صبح کیا اور شام کیا، اپنا پاندان سنبھالیے اور واپسی کا راستہ ماپئے۔ یوں خلق خدا کو بے یقینی کی سولی نہ چڑھائیں۔ ساتھ ہی یہ چتاونی بھی دے ڈالی کہ جن لیڈرز نے آپ کو یہ پٹی پڑھائی ہے کہ یورپی یونین چھورنے کے باوجود برطانیہ کو یورپی یونین مارکیٹوں میں اس طرح کی رسائی رہے گی، وہ بھول جائیں کہ یہ اعزاز یوں ہی فری میں حاصل نہیں ہو جاتا۔ اب دیکھتے جاؤ کہ کہاں کہاں اور کیسے کیسے پچھتاوے تمہارے حصے میں آتے ہیں۔ اس ہفتے برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز اجلاس ہوا جس میں ایک دوسرے کو خوب طعنے کوسنے بھی دیے گئے۔ یونین کے بڑے ملکوں کے سربراہوں نے بھی یہی کہا اگر کٹّی ہونی ہے تو انتظار کیسا؟
یورپی یونین کی برسلز اور اہم شہروں میں موجود اشرافیہ کو یہ پختہ یقین ہے کہ ان سے بہتر یورپی یونین کے مفادات کو کوئی نہیں سمجھتا ۔ ممکن ہے یہ صحیح بھی ہو لیکن کچھ عرصے سے یورپی یونین کے اتحادمیں کئی مسائل کی وجہ سے دراڑیں پڑ رہی ہیں مگر یہ اشرافیہ مسلسل حالتِ انکار میں ہے۔ یوں تو بیشتر ممبر ممالک میں ایک خاصی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی رہی ہے جو نیشن اسٹیٹس پر ایک اور حکومت کے خلاف رہے ہیں۔ ان کے خیال میں حکومتوں پر یہ حکومت ان کے معاملات میں دھیرے دھیرے بہت زیادہ دخیل ہو رہی ہے۔ اس دوران آہستہ آہستہ ایک مضبوط بیوروکریسی وجود میں آگئی ہے جس کے خلاف عوامی ردِ عمل گذشتہ کئی انتخابات میں انتہائی نیشنسلٹ یا کٹّر دائیں بازوکی مضبوطی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ حال ہی میں آسٹریا کے انتخابات میں کٹّر عناصر نے حیران کن کامیابی حاصل کی۔ فرانس، ہالینڈ، اٹلی، سویڈن سمیت کئی ملکوں میں یورپی یونین گریز عناصر پہلے سے فعال اور سیاسی اعتبار سے مضبوط ہوئے ہیں۔برطانیہ کے ریفرنڈم کے نتائج نے ان قوتوں میں جان ڈال دی ہے۔ اسی فکر سے یورپی لیڈر اور امریکی حکام کی جان نکل رہی ہے کہ کہیں یہ وباء دوسرے ملکوں میں بھی نہ پھیل جائے اور یوں ساٹھ سال کی محنت ریت کی مانند ان کے ہاتھوں سے پھسل جائے۔
دو مسائل نے یورپی یونین کو خصوصیت کے ساتھ بے حال کر رکھا ہے۔ معاشی معاملات ان میں سرِ فہرست ہیں۔ یوروزون ممبرز میں سے کئی ممالک کی معیشت بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بہت کم شرح نمو کا شکار ہے۔ ایک سے معاشی ڈسپلن میں کئی ممالک کو شدید دقّت کا سامنا رہا ہے۔ یونان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ بے روزگاری کی شرح اکثر ممالک میں مسلسل انتہائی زیادہ رہی ہے۔ 2008 کے عالمی معاشی بحران کے نتیجے میں یورپ میں بنکنگ سیکٹر میں پیدا ہونے والے بحران نے یورپی ممالک کی معیشت کو گہرے گھاؤ لگائے۔ یہاں تک کہ یورو زون کے بکھرنے کی پیش گوئیاں مسلسل گردش میں رہیں۔
دوسرا اہم مسئلہ امیگریشن کا رہا ہے۔ یورپی یونین کے ایک بنیادی اصول کے مطابق لیبر کی فری موومنٹ ممبر ممالک کا حق ہے۔ اس کا فائدہ قدرے کمزور معاشی ممبر ممالک کو تو ہوا لیکن دیگر ممبر ممالک میں اس پر عوامی ردِ عمل بہت منفی رہا۔ عوام کی ایک خاصی بڑی تعداد کو یوں لگا کہ وہ اپنے ہی ملک میں اقلیت بنتے جا رہے ہیں یا دوسرے درجے کے شہری۔ گذشتہ دو سال کے دوران مشرق وسطیٰ سے آنے والے پناہ گزینوں کے ریلے نے یورپی یونین کو اچانک آ لیا۔ وہ اتتی بڑی تعداد میں مہاجرین کے لیے تیار نہ تھے۔ بہتر حالات زندگی اور معاش کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد تو مسلسل بڑھ رہی تھی، لیکن شام اور خطّے میں لگی آگ کی وجہ سے صرف گذشتہ سال دس لاکھ سے زائد مہاجرین یورپ پہنچے تو زیادہ تر ممالک میں شدید ردِ عمل سامنے آیا۔ اس ردِ عمل میں کچھ کے ہاں با لخصوص مسلم مہاجرین پر بہت ناگواری کا اظہار کیا گیا۔ برطانوی ریفرنڈم میں بھی سرِ فہرست مسئلہ ممبر ممالک سے نقل مکانی کر کے آنے والی بڑی تعداد کا مقامی آبادی کے لیے روزگار، نیشنل ہیلتھ سروس، اسکولز اور کرائمز میں اضافے جیسے مسائل کو جنم دینے سے متعلق تھا ۔ یوں اس بے چینی نے یورپی یونین سے علیحدگی میں ہی عافیت جانی۔
نتائج توقعات کے برعکس ہونے کے سبب ماہرین کے بقول اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھے۔ اس لیے لیڈر اور حکومتوں کا ردِ عمل بھی شدید تھا۔ حصص اور کرنسی مارکیٹوں کے پنڈت بھی اپنے تئیں برطانوی عوام کے یورپی یونین سے جڑے رہنے کا فیصلہ ہی کئے بیٹھے تھے۔ جب نتیجہ الٹ آیا تو مارکیٹوں میں وقتی بھونچال آیا۔ گزشتہ دو دنوں میں حصص مارکیٹوں میں بہتری آئی ہے ، بلکہ مندے کا نصف نقصان تو پورا بھی ہو چکا۔ یورو کی قدر بھی بہتر ہو چکی ہے۔ حالات سے سمجھوتے کی فضا بن رہی ہے۔ غصہ نکالنے کے بعد نئے حالات سے سمجھوتے نے سٹّے بازوں کی اٹھائی ہوئی قیامت صغریٰ کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ اب یورپی یونین کو اپنی وحدت بچانے کے لیے برطانیہ کے بغیر آگے بڑھنے کی فکر ہے۔ اس کے سربراہان نے اس ہفتے برسلز میں عہد کیا ہے کہ یورپی یونین میں اصلاحات لائی جائیں گی تاکہ یورپ گریز طاقتوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ لیکن جو گھاؤ لگنا تھا ، وہ لگ گیا۔ یورپ گریز قوتوں نے ایک نیا راستہ دیکھ لیا ہے۔ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔
ہم پر اس کا کیا اثر ہو گا؟ سرتاج عزیز فرماتے ہیں کہ اس بحران کا پاکستان پر خاص اثر نہیں پڑے گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن ماضی گواہ ہے کہ عالمی معاملات کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ 2008 کے عالمی معاشی بحران کے بارے میں بھی یہی کہا گیا کہ ہم پر خاص اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ عالمی کساد بازاری نے ہمارے مالیاتی اور تجارتی خسارے کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری بن گیا۔ اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ حالات پر نظر رکھنے اور ممکنہ کساد بازاری کے اثرات سے بچنے کے لیے صرف اس امید پر کی ہم پر تو اثر نہیں ہو گا مناسب فیصلے کرنے میں حیل و حجت نہ کی جائے ۔ یورپی لیڈرز اور عالمی مارکیٹ کے کارندے بھی برطانیہ کے ریفرنڈم سے پہلے انکار کی اسی کیفیت میں رہے تھے۔