مسائل فطرانہ

1۔ ہر وہ شخص جو زکوٰۃ کی ادائیگی کی اہلیت رکھتا ہے یا اس کے پاس گھر کی تمام جائز ضروریات کے پورا کرنے کے اسباب موجود ہیں تو اس پر فطرانہ کی ادائیگی واجب ہے۔ جو شخص زکوٰۃ لینے کا حقدار نہیں وہ فطرانہ کی رقم بھی نہیں لے سکتا یہ حق فقراء غرباء مساکین کا ہے ۔

2۔ فطرانہ کے واجب ہونے کا وقت عید کے روز صبح صادق کے بعد شروع ہوتا ہے اور نماز عید سے پہلے پہلے ادا کر دینا بہتر ہے۔ نہ کر سکے تو بعد میں بھی ادا کر سکتا ہے ۔رمضان المبارک میں بھی پیشگی فطرانہ دے سکتا ہے ۔ جو شخص صبح صادق سے پہلے فوت ہو گیا یا جو بچہ صبح صادق کے بعد پیدا ہوا دونوں پر فطرانہ واجب نہیں ہے ۔ عید کے روز گھر میں جتنے بھی افراد ہوں ، بڑے ہوں یا چھوٹے یا مہمان سب کی طرف سے فطرانہ ادا کرنا واجب ہے ۔

3۔ فطرانہ اگر جنس کی شکل میں دیا جائے تو جو اجناس تمام تر کھائی جا سکتی ہیں مثلا گندم ،چاول، باجرہ، مکئی ،چنا وغیرہ۔ ان کی مقدار دو کلو ہے ۔ مناسب ہے کہ احتیاط کی خاطر سوا دو کلو تک دے دے۔ جن اجناس سے چھلکا اترتا ہے یا گٹھلی نکلتی ہے ان میں فطرانہ کی مقدار دوگنی ہو جائے گی۔ مثلاٌ دھان کھجور چھوہارا خوربانی وغیرہ۔ اگر قیمت دینا چاہیں تو بازاری قیمت ادا کر دیں۔ مثلا آج کل ایک نمبر اعلی قسم آٹا سوا دو کلو تقریباٌ نوے روپے کا آ جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان میں اس سال فطرانہ کی مقدار 90 روپے فی کس ہے ۔
 

4۔ صدقہ فطر ایک ہی مستحق کو دے دے یا بہت سے مستحقین میں تقسیم کر دے دونوں طرح درست ہے ۔ فطرانہ مسجد کو نہیں لگتا۔

5۔ صدقہ فطر کا بہترین مصرف اس وقت دینی مدارس کے مستحق زکوٰۃ ، مسافر طلباء ہیں۔ ان کو دینے کا اضافی ثواب ہے ۔ ایک: یہ دین سیکھنے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں۔ دوئم: ان میں اکثر غرباء مساکین ہو تے ہیں ۔سوئم: ان میں اکثریت غریب الوطن مسافر ہو تے ہیں ۔