ترکی دہشت گردی اور تنہائی کا شکار

28جون کو استنبول ائرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ترکی کے اندر خوف وہراس کی لہر پھیل گئی ہے۔ پچھلے سال 20جولائی 2015ء کو سَرج میں امن کے کارکنوں کے ایک اجتماع پرحملے کے بعد ترکی کی نوے سالہ سیاسی تاریخ میں مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے دہشت گردی کی یہ لہر ترکوں کے لیے غیرمتوقع تھی۔

سرج کے بعد پچھلے سال ہی 10اکتوبر کو انقرہ میں امن کے لیے منظم کردہ ایک جلوس میں مذہبی انتہا پسندی کے حملے کے بعد  یہ سوال ترکی میں اٹھنے لگا کہ داعش، ترکی پر کیوں حملہ آور ہو رہی ہے۔ استنبول میں اسی برس 20مارچ کو تاکسیم، 12جنوری کو سلطان احمت، 7جون کو بیازد میں گرینڈ بازار کے سامنے اور اب 28جون کو ترکی کے مصروف ترین ایئرپورٹ پر دہشت گردی کے واقعے سے ترکی کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر انگلیاں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں۔ استنبول کا اتاترک ایئرپورٹ، لندن کے ہیتھرو اور پیرس کے چارلس ڈیگال ایئرپورٹ کے بعد یورپ کا تیسرا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے۔ 2015ء میں صرف اس ایئرپورٹ پر سوا چھے کروڑ مسافروں کی آمدورفت ہوئی۔ ترکی معیشت کا اہم ترین ستون سیاحت ہے۔ اسّی کی دہائی میں سیاحت نے ہی ترک معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے مواقع فراہم کیے۔ 2014ء تک ترکی معیشت میں سیاحت نے 36ارب ڈالر کے ذریعے کثیر حصہ ڈالا۔ 2014ء میں ترکی میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ سیاح ترکی کے ساحلوں اور دیگر مقامات پر تعطیلات گزارنے آئے۔

ترکی کے علاقائی سیاست میں کردار نے اس رحجان میں 2015ء میں خطرناک شکل اختیار کرنا شروع کردی تھی۔ 2015ء میں ترکی نے سیاحت سے 36ارب سے کم ہوکر 31ارب ڈالر کمائے اور سیاحوں کی تعداد میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی۔ ترکی کی سیاحت میں روسی سیاح کم و بیش 6ارب ڈالر حصہ ڈالتے ہیں جبکہ روسی طیارے کے گرائے جانے کے بعد اب اس آمدن کا تصور کرنا خواب ہی بن کر رہ گیا ہے۔ اس سال استنبول میں چھ ماہ میں چار دھماکوں نے ترکی میں سیاحت پر اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے اور سیاحوں کی آمدورفت میں تیزی سے کمی کا رحجان نظر آیا ہے۔ 28جون کو استنبول کے اتاترک ائرپورٹ پر دھماکوں کے بعد صورتِ حال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ہوٹلوں کی بکنگ یک دم 50 فیصد کم اور تمام ساحلی سیاحتی مراکز سنسان ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ میں نے 26جون کو استنبول سے ترکی کے بحیرۂ روم کے ایک ساحلی سیاحتی مقام کے لیے پرواز کی اور جب ہم لوگ یہاں پہنچے تو پہلی ہی نظر میں صورتِ حال 2015ء کے مقابلے میں سیاحوں کی آمد کے حوالے سے حیران کن حد تک مایوس کن تھی۔

ترکی جس کے بارے میں دنیا بھر میں اس کی معاشی ترقی پر حیرانی کا اظہار کیا جا رہا تھا، اب اس کے علاقائی سیاسی کردار اور اندرونی حالات پر خطرناک چہ میگوئیاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ترکی نے جنگ بلقان کے بعد بحیثیت قوم اور ریاست یہ سبق حاصل کیا تھا کہ علاقائی تنازعات میں الجھنا ترک ریاست کے لیے خطرناک ہے۔ اسی لیے ترکی نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ نہیں لیا۔ ترکی کے ہر شہر میں اس کے بانی اتاترک کا ایک قول نمایاں طور پر مختلف پارکوں میں لکھا ہوتا ہے، ’’گھر میں امن، دنیا میں امن۔‘‘

جدید ترک ریاست نے سلطنت عثمانیہ کی پانچ سو سالہ تاریخ کے سبب خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تنازعات ورثے میں لیے ہیں۔ اسی لیے نوے سالہ ترک ریاست بڑی احتیاط سے اسی پالیسی پر گامزن تھی۔ 2002ء میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس پارٹی کے حامی ایک دانشور پروفیسر احمت دعوت اولو کو وزیراعظم اردوآن نے پہلے اپنا مشیر خارجہ اور پھر وزیر خارجہ اس لیے نامزد کیا کہ انہوں نے اپنے مقالوں، کتابوں اور عالمی کانفرنسوں میں خطابات کے ذریعے “تنازعہ کے بغیر پالیسی“  Zero Conflict Policy کا تصور پیش کیا تھا۔ اپنے اُن ہمسایوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کا تصور جن کے ساتھ جدید ترکی کو سلطنت عثمانیہ کے تنازعات ورثے میں ملے تھے، خصوصاً روس، آرمینیا، یونان، بلغاریہ، شام، عراق، ایران اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ ۔  یہ ایک شاندار تھیوری تھی لیکن اہم بات تھی اس تھیوری کی عملی سیاست اور خارجہ پالیسی میں کامیابی۔

ٹیک آف کرتی ہوئی معیشت اور مقبولیت کے فخر سے اس پالیسی پر عمل میں ناکامی کا سامنا ہوا۔ ترکی نے احمت دعوت اولو کی طے کردہ پالیسی کے تحت لیبیا میں فوجی مداخلت کی مکمل حمایت کی۔ اسی طرح مصر، عراق، شام میں ترکی اپنے علاقائی کردار کو وسعت دیتے ہوئے،  درحقیقت نیٹو اور امریکی پالیسیوں کے ماتحت ہراول کردار ادا کرنے لگا۔ احمت دعوت اولو جو Zero Conflict کے دعوے دار تھے، بحیثیت مشیر، وزیرخارجہ اور وزیراعظم، وزیراعظم طیب اردوآن کے دست راست کے طور پر Neo-Ottomanism کے لیے سرگرم ہوئے۔ انہوں نے خطے کے ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی بجائے ان ممالک کے اندر اور مقابلے میں ترک کردار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ترکی کی اس تضادات سے بھرپور خارجہ پالیسی نے ترکی کو علاقائی کردار دلوانے کی بجائے اسے خطے میں تنہا کردیا۔ ابھرتی معیشت اور مقبولیت کے غرور میں ترکی درحقیقت امریکہ کی دوغلی پالیسی کا آلۂ کار بنتا چلا گیا۔

اس دوران ترکی نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ کر ملک کے اندر اور اسلامی دنیا میں مذہبی سیاسی حلقوں اور میڈیا میں حمایت حاصل کی۔ صدر طیب اردوآن نے بحیثیت وزیراعظم، اسرائیل سے تعلقات توڑتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’’میری زندگی میں اب اسرائیل سے تعلقات قائم ہونا ناممکن ہیں۔‘‘ لیکن گزشتہ ہفتے بحیثیت صدر انہوں  اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرلئے ۔  اسی طرح ترکی، روس کا طیارہ مار گرانے کے بعد نیٹو اور اپنے اتحادی امریکہ کی سیاسی شاباش کا شدید متمنی تھا، لیکن امریکہ اور نیٹو کی سردمہری نے تین مدتوں تک وزارتِ عظمیٰ اور اب صدارت پر فائز جناب طیب اردوآن کی فرسٹریشن میں اضافہ کردیا۔ روس اور چین کے شام کے مسئلے پر موقف نے جہاں یک محور (Unipolar) عالمی سیاست کو دھچکا لگایا، وہیں روس کے کردار نے ترکی کے مزید تنہا ہونے میں مدد دی۔ شام میں ترکی کا کردار ترکی کو ایک ایسی دلدل میں داخل کررہا ہے، جس سے ترک ریاست صرف مذہبی دہشت گردی کا نشانہ ہی نہیں بنتی جا رہی بلکہ ترک ریاست کا وجود خطرات کے دو دائروں میں داخل ہورہا ہے، جس میں مذہبی دہشت گردی کا رحجان اور کُرد ریاست کا قیام سرفہرست ہے۔

چند ماہ پہلے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ ISIS کے زخمی ’’اسلامی مجاہدین‘‘ کو اپنے ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم کرتا رہا ہے اور اس کے ساتھ اسرائیلی وزیرخارجہ نے برملا خطے میں ایک کُرد ریاست کا وجود لازمی قرار دیا ہے۔ ایک کُرد ریاست جو جنوب مشرقی ترکی سے لے کر عراق کے کُرد علاقوں تک ہو۔ ترکی کے حزبِ مخالف کے سیاسی اور صحافتی حلقے شروع دن ہی سے ترک حکومت کی ISIS اور دیگر ’’شامی مجاہدین‘‘ کی حمایت کے مکمل مخالف رہے ہیں۔ اپوزیشن، ترک حکومت کو نیٹو اور امریکی پالیسی سازوں کے ہاتھوں کھلونا قرار دیتی ہے کہ وہ ترکی کو اُسی صورتِ حال میں داخل کررہے ہیں جیسے 1979ء میں پاکستان کو کیا گیا تھا۔ چار سال قبل جب مَیں نے بی بی سی کو اس حوالے سے اپنے ایک انٹرویو میں تجزیہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ امریکیوں نے خطے میں شام کی شکل میں ایک افغانستان Battlefield کے طور پر چن لیا ہے اور اب وہ اسی طرح اس خطے میں ترکی کو ایک پاکستان بنانا چاہتا ہے ۔ میرے اس انٹرویو کو ترک اخباروں نے Re-Produce کیا جس میں مَیں نے اسے بحیرۂ روم کی Pakistanization قرار دیا اور یہ کہا تھا کہ امریکہ، ترکی کو ایک طرف اس تنازعہ میں داخل کرکے خطے میں ’’نیا مشرقِ وسطیٰ‘‘ یعنی مشرقِ وسطیٰ میں فرقوں کی بنیاد پر نئی ریاستیں چاہتا ہے اور دوسری طرف ترکی سے ایک کُرد ریاست کے جنم کا خواہاں ہے۔

استنبول ایئرپورٹ پر حملے کے بعد دو روز قبل بی بی سی نے میرا پھر انٹرویو کیا۔ اور اس طرح چند ترک اخبارات کے ایڈیٹرز دوبارہ میرے اس نقطۂ نظر کو سمجھنے کے خواہاں ہیں کہ ترکی کیسے امریکی جال  میں پھنس رہا ہے۔ صدر طیب اردوآن جو آئینی حوالے سے ایگزیکٹو اختیارات نہیں رکھتے ہیں، عملاً وہی حکومت کو چلا رہے ہیں۔ وہ اس خطرناک صورتِ حال میں گھرتے ہوئے یکسر مختلف موقف اختیار کرتے نظر آرہے ہیں۔ وہ جوکُردوں کے ساتھ تعلقات کے خواہاں تھے، اب کُردوں کے خلاف کھلی جنگ ، مذہبی سیاست کے خلاف ملکی موقف، روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے بے چین، اسرائیل کے ساتھ چھ سالوں بعد تعلقات کی بحالی کے لئے 28جون کو معاہدہ کر چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ترکی کے لیے محفوظ راستہ کیا ہے؟ مضبوط جمہوری روایات کے سبب اس بات کے بھر پور امکانات ہیں کہ ترکی اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے اب تیز رفتار کوششیں کرے گا۔ اس دوران وہ قیادت جس نے ترکی کو اس مقام تک پہنچایا، یقیناً سیاسی منظر نامے میں معدوم ہو جائے گی۔ ہمیں اس حوالے سے یاد رکھنا چاہیے کہ فتح اللہ گلین اور ان کے حمایتی ہی تھے جنہوں نے طیب اردوآن کو ترکی کے روایتی مذہبی رجحان رکھنے والے رہنما مرحوم نجم الدین اربکان کے خلاف کھڑا کیا اور وزارتِ عظمیٰ کے دو مدتوں میں گلین تحریک نہ صرف اردوآن حکومت کی لاڈلی تھی بلکہ Beneficiary بھی۔ طاقت کے تصادم میں پہلے وہ فارغ ہوئے، اس کے بعد چہیتے وزیر اعظم احمت دعوت اولو اور اس کے بعد خود  طیب اردوآن اپنی پالیسیوں کے مخالف چلنے لگے ہیں۔ لیکن اب صورتِ حال مختلف ہے۔ ترکی میں مذہبی دہشت گردی نے ترک قوم کو ایک نئے اتحاد کی طرف گامزن کیا ہے۔  پھر یہ سبق بھی حاصل کیا ہے کہ علاقے میں مداخلت اور کردار حاصل کرنے کی بجائے اندرونی استحکام اور ترک قوم کا استحکام اوّل و آخر ہے۔ اور اسی کے ساتھ اُن لوگوں کی بھی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے جو ترکی کو مذہبی انتہاپسندی کی طرف کسی بھی طرح لے جانا چاہتے ہیں۔

ترکی یقیناًا س وقت ایک خطرناک موڑ پر ہے، مگر یہ طے ہے کہ کہ آج بھی اس قوم کی طاقت، ترک قوم پرستی، کمال ازم اور جمہوریت ہے۔ اس سارے منظر نامے میں تبدیلی کے لیے چند ماہ ہی درکار ہیں کہ جہاں ترک قوم نے فیصلہ کرناہے کہ آیا وہ دہشت گردی کا ایک اور مرکز بنے گا اور اس کے بطن سے ایک کُرد ریاست کا ظہور کروایا جائے گا جو اسرائیل ،امریکہ اور مغربی طاقتوں کا پرانا خواب ہے، یا نہیں۔