پاکستان میں سماجی تباہی کا ایک بڑا سبب
- تحریر
- ہفتہ 02 / جولائی / 2016
- 4825
سالہا سال پہلے ایک امریکی ٹی وی چینل نے ایک ایسی خاتون کا تفصیلی انٹرویو نشر کیا جو اپنے گھر میں ٹیلی وژن رکھنے کی قائل نہیں تھی۔ ٹی وی چینل کی ٹیم نے متعددسوالات کے علاوہ خاتون سے یہ بات بھی تفصیلی سے کہی کہ اس کے گھر میں ٹیلی ویژن نہ ہونے سے وہ اور اس کے بچے ایجوکیشن،معلومات کے اہم ذریعے سے محروم ہیں ۔ٹیم نے خاتون کے سامنے ٹی وی کے ہر طرح کے فوائد بیان کئے لیکن وہ خاتون کو اس بات پر آمادہ نہیں کر سکے کہ وہ اپنے گھر میں ٹیلی ویژن لے آئے۔
گھر کے ’’سٹنگ روم‘‘ میں کتابوں کے’ ریک‘ کے سامنے بیٹھی خاتون نے نہایت اعتماد سے ٹیم کی ہر بات کا دلائل سے جواب دیا۔خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اور اس کے بچے کتابیں پڑھتے ہیں،پارک جاتے ہیں، تفریح کرتے ہیں،بچے سکول جاتے ہیں،اس کے بچے ایجوکیشن اور معلومات میں اپنے ہم عمر بچوں سے کسی طور بھی کم نہیں ہیں۔خاتون نے اپنے گھر میں ٹیلی ویژن نہ رکھنے کی سب سے مضبوط دلیل یہ پیش کی کہ ’’ میں کسی کو اس بات کی اجازت کس طرح دے سکتی ہوں کہ وہ اپنی مرضی سے ہمارے لئے نا پسندیدہ ماحول ہمارے ہی گھر میں ہمارے بچوں کو مہیا کرے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ اپنے بچوں کو ناپسندیدہ افراد سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ان کے خراب ماحول اور ذہنیت سے بچا یا جا سکے،پھر ہم ٹیلی ویژن کے ذریعے اپنے بچوں کو ناپسندیدہ ماحول اپنے ہی گھر میں کس طرح مہیا کر سکتے ہیں؟‘‘ ٹی وی چینل کی ٹیم خاتون کے دلائل سے لاجواب ہو گئی اور خاتون کو گھر میں ٹیلی ویژن رکھنے پر رضامند کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے اورخاتون کی باتوں کے قائل ہوتے ہوئے گھر سے روانہ ہو گئے۔ کئی سال پہلے ہندوستان کے ایک ٹی وی چینل کی ٹیم نے دہلی کی ایک ایسی مسلم بستی کا دورہ کیا جہاں ایک بھی ٹی وی نہیں تھا۔معلوم ہوا کہ وہ ہندوستانی حکومتوں اور ہندوؤں کے مسلم کش روئیے کے تناظر میں ٹی وی کو اپنے گھروں میں رکھنا نہیں چاہتے۔ٹی وی ٹیم نے بستی کے نوجوانوں کو مختلف باتوں سے فلم،ٹی وی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی فلموں ، اداکاروں وغیرہ سے مکمل لاعلمی نے ٹیم کے ارکان کو بار بار شرمندہ ہونے پر مجبو ر کر دیا۔اس بستی کے بڑے بزرگوں نے بھی وہی بات کہی کہ ہم دوسروں کو اس بات کی اجازت کیوں دیں کہ وہ ہمارے بچوں کو اپنے من پسند راستوں پر ڈال دے۔
پسماندہ ،ترقی پذیر معاشروں میں پہلے عام لوگوں کو ’ایجوکیٹ‘ کرنے کے لئے پروجیکٹر وغیرہ کی ذریعے مختلف موضوعات پر فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔سینما فلم اور پھرٹیلی ویژن آنے کے بعد اس ذریعے میں وسعت پیدا ہوئی۔وی سی آر کے بعد اب اس طرح کے تمام مقاصد کی تکمیل کے لئے درجنوں تفریحی نجی ٹی وچینلز سب سے زیادہ اثر انگیز ذریعہ بن چکے ہیں۔اب میڈیا اپنے دائرہ کار کے حوالے سے بہت طاقتور ہو چکا ہے اور پروپیگنڈے کا موثر ترین ذریعہ بن چکا ہے۔اسی تناظر میں حکومتیں،ادارے وغیر لوگوں پر اثر انداز ہونے کے لئے میڈیا کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔بلاشبہ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی وسعت اور اثرات لا محدود ہیں لیکن گھر کے مختلف عمروں کے افراد نجی ٹی وی چینلز کے تفریحی پروگرامز کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ ان کی سوچ اور عمل کو الگ ہی انداز مل جاتا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز کے اکثر اردو ڈرامے ہمارے معاشرے میں زیادہ تر منفی ،مضر رجحانات کو فروغ دینے کے نمایاں محرک کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔بچپن میں سنتے تھے کہ روس میں انسان کی اس طرح سے’ برین واشنگ‘ کر دی جاتی ہے کہ وہ ان کا تابعدار بن کر رہ جاتا ہے ،برین واشنگ کے لئے انسان کودن رات اپنے نظریات کی باتیں دکھائی اور سنائی جاتی ہیں اور اس طرح اس شخص کی’ برین واشنگ‘ ہو جاتی ہے اور وہ ان کے نظریات کا تابعداربرخور دار بن جاتا ہے۔
پاکستان میں معاشرتی قدروں کی تبدیلی کا پروگرام سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں امریکی ایما پر نجی ٹی چینلز کے ذریعے شروع کیا گیا۔مشرف نے کوشش کی کہ نجی ٹی وی چینلز صرف’’ تفریحی‘‘ پروگرام نشر کریں،خبریں تبصرے وغیرہ نہ ہوں لیکن آمر ہونے کے باوجود مشرف کی اس خواہش کا پورا ہونا ممکن نہ تھا۔تقریبا ڈیڑھ عشرے میں نجی ٹی وی چینلز کے تفریحی پروگرامز نے ہمارے معاشرے پر مہلک اثرات مرتب کئے ہیں۔ ڈراموں میں مخصوص موضوعات کے فروغ کے لئے’’فنانسڈ‘‘ ڈرامے بھی شامل ہیں۔ ان کے ذریعے ہمارے معاشرے کی نوعمر بچے ہی نہیں بلکہ پختہ عمر لوگوں پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہی مختلف عوامل سے ہمارے معاشرے کی اچھی روایات تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں اور معاشرہ سماجی حوالوں سے بھی منفیت اور انتشار کا نمونہ بنتا جا رہا ہے۔
جدیدیت اچھی بات ہے خاص طور سے ہماری طرح کے جاہلانہ سوچ و عمل رکھنے والے معاشرے کے لئے ، یہ بے حد ضروری ہے۔ تاہم جدیدیت کے عمل میں اخلاقی قدروں کی منفی اور مضر نتائج والی تبدیلی کی کسی طور بھی حمایت نہیں کی جاسکتی۔خاص طور پر معاشرتی ادب و احترام کے انداز۔اس سے بھی اہم خواتین کے حوالے سے ہمارے رویوں پر غور ضروری ہے۔ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر خواتین کو جائیداد یا ملکیت کی طرح کیوں سمجھا جاتا ہے؟ وہ اس لئے کہ خواتین کو مال مویشی کی طرح ہی ’’ڈیل‘‘ کیا جاتا ہے اور اس کا ایک قابل اصلاح پہلو یہ بھی ہے کہ خواتین کو ’ مال مویشی‘‘ بننے سے بچانے کے لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی بھی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ خواتین سے صدیوں سے روا رکھنے جانے والے ا س انداز اور رویے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں خواتین ذہنی طور پر ’ناپختہ‘ سوچ کا اظہار کرتی ہیں۔ اگر ایسی غیر مستحکم شخصیت کی حامل خواتین منفی راہ کی جانب راغب ہو جائیں تو اس کے ہمارے معاشرے میں تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے سماج میں افراد ، گھرانے، خاندان کی عزت اور ساکھ بھی خواتین کے کردار سے بھی منسلک ہوتی ہے۔
ایک کالم اس اہم موضوع کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس سے نشاندہی ضرور ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے گھروں ،خاندانوں،اپنے معاشرے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے اس بات کی کوشش کریں کہ ہمارے نجی ٹی وی چینلز تفریحی پروگرامز سے معاشرے میں مہلک نتائج کے حامل منفی رجحانات کے فروغ کے بجائے اچھے اور مثبت طرز عمل کی ترویج کریں۔
خواتین کو مختلف حوالوں سے منفیت کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔خواتین معاشرے کے ایک اہل کار آمد رکن کے طور پر معاشرے میں متحرک ہوں ۔ اور انہیں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے خواتین کو معاشرتی اقدار اور رویوں کے بارے میں آگاہی ہونی چاہئے۔