کشمکش کا شکار تعلیم یافتہ نوجوان
تعلیم ایک ایسی روشنی ہے جس کی مدد سے انسانی زندگی کا سفر آسان ہونا چائیے۔ ہر مرحلہ پر اور ہر موڑ پر تعلیم یافتہ انسان میں بہتر فیصلے کی صلاحیت ہونی چائیے لیکن مجموعی طور پر آج ہمارے معاشرے کے نوجوان تعلیم ہونے کے باوجود قوت فیصلہ سے محروم ہیں ۔ وہ کسی بھی جگہ فیصلہ کن کردار ادا کرتے نظر نہیں آ رہے جو یقیناًبہت بڑا قومی نقصان ہے۔
تعلیم یافتہ نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں لیکن وہ معذور نظر آ رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے اور اس کا حل کیا ہے؟ ماہرین اور معاشرے کی نبض سمجھنے والے اس بارے کوئی رائے ہو گی اور ہوں گے۔ لیکن نوجوانوں کے ساتھ ملک بھر میں ہونے والی وقتا فوقتا ملاقاتوں کی روشنی میں میں نے بھی ایک رائے قائم کی ہے جو میں قارئین کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ میرے نزدیک تعلیمی اداروں، والدین اور سیاستدانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان کشمکش کا شکار ہیں ۔ اس سلسلہ میں اب حقائق اور دلائل کو دیکھتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی مثال آج ایک ایسے جنگلی جانور کی سی ہے جو بالکل آزاد ہے ۔ اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اکثر ممالک کی حکومتیں جب سرکاری سطح پر تعلیمی ضروریات پوری کرنے کی پوززیشن میں نہیں ہوتیں تو وہ نجی تعلیمی اداروں کے قیام کی اجازت دیتی ہیں۔ دوسرا نجی اداروں میں مختلف نصاب پڑھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر مختلف پس منظر رکھنے والے والدین کو اپنی مرضی کے مطابق اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے مواقع ملنے چائیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی اس کا ذکر موجود ہے لیکن ذمہ دار ریاستیں تعلیمی اداروں کو مکمل چھٹی نہیں دے دیتیں۔ انہوں نے اصول و قواعد بنا رکھے ہوتے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہوتا ہے ۔ جبکہ ہمارے ہاں حکومت نجی اداروں سے رجسٹریشن فیس لے کر انہیں آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ادارے کوالٹی Qualityکی بجائے مال بنانے کے چکر میں کوانٹیٹی Quantity پر زور دیتے ہیں۔ غیر ملکی نصاب کاا تنا چرچا کیا جاتا ہے کہ جیسے اس کا مطلب ہی عظیم انسان بننا ہے۔ ایک ایسا انسان جسے اپنے گھر کا پتہ نہیں ہوتا اور وہ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ نجی اداروں کا غیر ملکی نصاب پڑھانے کے لیے ہمارے پاس وہی اساتذہ ہیں جنہوں نے خود رٹا لگا کر غیر ملکی نصابی کتابیں پڑھی ہوتی ہیں۔ ایسے استاد بچوں کے اندر تحقیقی صلاحیتیں پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک سب سے قابل بچہ وہی ہے جو انگلش کی نظمیں زبانی سنا سکتا ہے۔ خواہ وہ ایک لفظ کا بھی مطلب نہ جانتا ہو۔
یہی صورت حال اسلامی اداروں کی ہے جہاں سے قاری اور حافظ تو پیدا ہوتے ہیں مگر قرآن کی ایک آیت بھی مکمل سمجھنے اور سمجھانے والا پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے نسبت سرکاری تعلیمی اداروں کے معلمین کی پیشہ وارانہ تربیت تو بہتر ہوتی ہے لیکن ادبی اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں کے فقدان کی وجہ سے ہمارے سرکاری سکولز مردہ خانے نظر آتے ہیں۔ تقریری مقابلے اگر ہو بھی جائیں تو بچوں کو تقریر اپنی سوچ کے مطابق اپنے الفاظ میں کرنے کا موقع و ماحول دینے کے بجائے لکھ کر دی جاتی ہے جو بچے کو زبانی یاد کر نی پڑتی ہے۔ المختصر کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں فہم و فراست کے مالک انسان نہیں بلکہ طوطے پیدا کیے جاتے ہیں۔ ایسی تعلیم کے بعد جب وہ زندگی کے عملی میدان میں داخل ہوتے ہیں تو وہ بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ انہیں ہر کام کے لیے سفارش اور رشوت کی ضرورت ہوتی ہے۔
والدین کا قصور یہ ہے کہ بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرانے کے بعد ان اداروں سے رابطہ تو درکنار اپنے بچوں کے ساتھ بھی تعلق بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔ ان کی صرف یہ کوشش ہوتی ہے کہ بچہ بڑی سے بڑی تعلیمی سند حاصل کر لے آئے خواہ اس میں صلاحیت ناپید ہو۔ وہ وقت سے پہلے بچوں کو گاڑیاں، موٹر سائیکلز اور موبائل خرید کر دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ ذمہ دار ملکوں میں کم عمر بچوں کو سگریٹ پینے اور بعض فلمیں تک دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے کے بچوں کی سب سے بری ترجیح موبائل ہے۔ یہی اس کا دوست اور یہی اس کی دنیا ہے۔ جب وہ اس سے باہر نکلتا ہے تو اسے حقیقی دنیا عجیب و غریب و اجنبی لگتی ہے۔انٹر نیٹ کا استعمال بھی منفی ہے۔ میں ایک عزیز کو ملنے گیا۔ میرا انٹر نیٹ پیکج ختم ہو چکا تھا تو میں نے اسے گوگل پر جا کر ایک سائٹ کھولنے کی درخواست کی۔ وہ کافی دیر کوشش کرتا رہا۔ ناکامی کے بعد کہنے لگا دراصل میں صرف فیس بک استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں اس نے نیٹ پر موجود دنیا بھر کی معلومات سے استفادہ کرنے کا کبھی سوچا ہی نہیں۔ وہ گیمز کھیلتا اور چند مخصوس دوستوں سے فیس بک پر رابطہ کرتا ہے اور یہ ایک پوسٹ گریجویٹ نوجوان تھا، جس کی سوچ پر مجھے رونا آیا۔ سکولوں اور گھروں میں بچوں کو اپنی سوچ استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان پر فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں۔
نوجوانوں کا اپنا قصور یہ ہے کہ انہوں نے تعلیمی اداروں کے اندر ماضی کی طرح اپنے حقوق کے لیے طلباء یونین بنانے کے بجائے مختلف سیاسی پارٹیوں کی شاخیں قائم کر رکھی ہیں۔ اپنے مشترکہ حقوق کی خاطر جد و جہد کے بجائے ایک دوسرے کی پارٹیوں کے خلاف محاذ قائم کر کے اپنی قوت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں۔ کسی قومی اشو پر ان کی کوئی سوچ ہوتی ہے نہ رائے۔ ان کا ذیادہ تر وقت برادری ازم کے پجاری سیاستدانوں کے جلسوں اور استقبالیوں میں صرف ہوتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ تعلیم سے فارغ ہو کر نوکری کے لیے انہی سیاستدانوں کے پاس جانا پڑے گا۔ لہذا انہی کی خدمت کرو۔ چند دن قبل میرے اپنے گاؤں کجھورلہ کے کچھ نوجوانوں نے الیکشن کے حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس بلایا ۔ میں نے سوچا چونکہ انہوں نے صرف مجھے بلایا ہے اس لیے کچھ نہ کچھ تبدیلی تو ضرور ہے۔ مسئلہ کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان علاقائی تنازعہ میں تبدیل کر کے ، الحاق ہندوستان اور پاکستان تک محدود کر کے ہم پر الحاق کی ایک ایسی شق قائم کر دی گئی ہے جس پر دستخط کیے بغیر کوئی کشمیری الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اس لیے میں نے ان نوجوانوں سے پوچھا کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دینا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا یہی تو سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ وہ ہر ایک کو آزما چکے ہیں۔ سب ایک جیسے ہیں۔ کوئی دو رخا ہے کوئی بے رخا ہے۔ میں نے انہیں کہا اگر آپ کو یہ سمجھ آ گئی ہے تو یہ ایک تبدیلی ہے۔ آپ ایک قوت ہیں۔ خود کو مزید متحد و منظم کریں۔ آپ کو اس کشمکش میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ آپ کس امیدوار کو دعوت دے کر اسے اپنے مسائل بتائیں۔ ووٹوں کی ضرورت آپ کونہیں سیاسی امیدواروں کو ہے۔ ان کا کام ہے کہ وہ آپ کے پاس آئیں ۔ اپنی پالیسی بتائیں اور آپ کے مسائل سنیں ۔ پالیسی کی بنیاد پر اگر ووٹ دیں گے تو کل آپ اپنے نمائندے سے سوال بھی کر سکتے ہیں بصورت دیگر کوئی آپ کے آگے جواب دہ نہیں ہو گا۔
خدا کرے ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اندر اپنی قوت اور ذمہ داریوں کا پیدا ہونے والا احساس مزید بڑھے اور پختہ ہو کیونکہ اسی میں پوری قوم کی بقا ہے۔