فضائل و مسائل عیدین
- تحریر علامہ عبدالحق مجاہد
- اتوار 03 / جولائی / 2016
- 9448
حضور اکرم ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہاں رواج تھا دو دن عید کے منائے جا تے تھے۔ ایک جب سردیاں شروع ہو رہی ہوتی تھیں اور دوسرا جب گرمی کی ابتداء ہو رہی ہوتی تھی۔ اس میں وہ لوگ شہر سے باہر چلے جا تے اور رنگ رلیاں مناتے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے فرمایا کہ مسلمان کا ہر لمحہ خوشی کا ہو یا غمی کا اللہ تبارک و تعالی کے بتائے ہوئے طریقے پر بسر ہونا چا ہیے ۔آپ نے فرمایا میں تمہارے لیے دو دن عید کے دن مقرر کرتا ہوں ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے یکم شوال المکرم کو عید الفطر اور دس ذوالحج کو عید الاضحی کا تحفہ عنایت فرمایا ۔
یکم شوال المکرم کو عید کا روز مقرر کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ دن ہمیشہ حضرات انبیاء کرام صلواۃ اللہ علیہم اجمعین کی کامیابی اور نافرمان خدا قوموں کی پسپائی کا دن رہاہے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہفتے کے دن قوم لوط کی تباہی ہوئی تھی اور وہ شوال کی پہلی تاریخ تھی۔ اتوار کے روز اخدود والے تباہ ہوے تھے اور یہ شوال کی پہلی تاریخ تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے جب ظالم قوم سے نجات پائی اور قوم پانی میں غرق ہو گئی تھی یہ بھی یکم شوال تھی اور دن سوموار کا تھا۔ سیدنا حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر سمندر پار کر گئے اور فرعون پانی میں غرق ہو گیا، یہ بھی شوال کی پہلی تاریخ تھی اور دن منگل کا تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام کو قوم عاد سے نجات بدھ کو ملی تھی اور وہ قوم تباہی کا شکار ہو گئی تھی یہ بھی یکم شوال تھی ۔ حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے قوم ثمود کے مظالم سے نجات عطا فرمائی اور وہ قوم بھی تباہ ہوئی یہ جمعرات کا دن تھا اور یکم شوال تھی۔ اللہ تبارک و تعالی نے آسمان زمین عرش کرسی لوح قلم بہشت دوزخ کو جس روز پیدا فرمایا وہ جمعہ کا دن تھا اور شوال کی پہلی تاریخ تھی۔ یہ دن اقوال عالم کی تاریخ میں ہمیشہ بہت بڑی اہمیت کا دن رہا ہے۔ اس لیے یکم شوال کو آپ ﷺ نے عید کا دن قرار دیا اور 10 ذوالحج کو اس لیے عید کا دن مقرر فرمایا یہ وہ تاریخ ہے جس دن جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگرحضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا قصد کرکے تاریخ رقم فرما دی تھی۔
پیارے پیغمبر ﷺ نے ان دونوں عید کے دنوں کو اللہ تبارک و تعالی کی عبادت کے لیے اور مخلوق خدا کی خدمت کے لیے مقرر فرمایا ۔دو رکعت نماز جس میں چھ تکبیرات واجب ہیں پڑھنا لازم قرار دیا جو کہ حقیقت میں اللہ تبارک و تعالی کے شکرانے کے نفل ہیں ۔ عید کی خوشیوں میں غرباء مساکین کو بھی شامل کرنے کے لیے اس روزہرمسلمان پر فطرانہ واجب کر دیا جس کی مقدار دو کلویا احتیاطا سوا دو کلو گندم یا ساڑھے چار کلو کھجور ہے۔ اس فطرانہ کا مقصد یہ ہے کہ امراء کے سا تھ غرباء بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جائیں ۔ عید کی نماز کے لیے خصوصی اہتمام ضروری ہے ۔مثلا عید کے روز غسل کرنا ، مسواک کرنا، اچھے کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا، جسم کی گھر کی آرائش کرنا، صبح جلدی اٹھنا ۔راستے میں جا تے ہوئے عید الفطر میں تھوڑا آہستہ آوازسے اور عید الضحی میں بلند آواز سے تکبیرات اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا للہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھتے ہوئے جانا۔ عیدین کا وقت سورج نکلنے کے پندرہ بیس منٹ بعد شروع ہو جاتا ہے ۔ اور دن ڈھلنے سے پہلے ختم ہو جاتا ہے ۔عید الفطر کی نماز کچھ تاخیر سے پڑھنا تا کہ صدقہ فطر وغیرہ کی ادائیگی کی جا سکے اور غرباء تک اسے پہنچایا جا سکے اور کچھ کھایا پیا جاسکے، اور عید الاضحی کی نماز اس کی نسبت جلدی پڑھنا مناسب ہے تاکہ بعد میں قربانی کی جا سکے ۔ دونوں عیدوں میں نہ ہی اذان کہی جاتی ہے اور نہ ہی اقامت۔ عید کی نماز میں دو رکعتیں سنت موکدہ ہیں جس میں چھ تکبیرات کا کہنا واجب ہے ۔عید کی نماز صرف با جماعت ہوتی ہے اکیلے نہیں پڑھ سکتا ۔
جب امام تکبیر اولی کہے تو مقتدی بھی تکبیر کہ کر ہاتھ باندھ لے۔ ثناء پڑھنے کے بعد تین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور ہاتھوں کو کانوں تک لے جائے دو دفعہ چھوڑ دے تیسری تکبیر کے بعد باندھ لے اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور چند آیات قراٰنی کے بعد رکوع سے پہلے تین مرتبہ پہلی رکعت کی طرح تکبیریں کہے۔ اور چوتھی تکبیر کے بعد رکوع میں چلا جائے ۔نماز مکمل ہونے کے بعد امام دو خطبے دیے گا۔ دونوں خطبوں کو خاموش بیٹھے پوری توجہ سے سننا واجب ہے ۔ خطبات کے بعد امام کو چا ہیے کہ وہ پوری ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لیے دعا کریں ۔اس کے بعد لوگ اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ آتے ہوئے جس راستہ سے آئے تھے جاتے ہوئے راستہ تبدیل کر کے جائیں ۔عید الفطر میں کوئی نہ کوئی چیز مثلا کھجور چھوہارے وغیرہ کھا کر آ نا سنت ہے اور عید الاضحی میں بغیر کھائے پیے عید پڑھنا اور قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتداء کرنا سنت ہے ۔
عید کے روزنماز عید سے پہلے گھر میں بھی اور عید گاہ میں بھی ہر قسم کے نفل پڑھنامنع ہے۔ عید نماز پڑھنے کے بعد عید گاہ میں نفل پڑھنا منع ہے۔ اگر کوئی شخص کسی غیر ملک سے آئے جہاں روزہ ایک دن پہلے رکھا گیا ہو اور وہ عید کر کے آ یا ہے مگر پاکستان میں پہنچاتو اس روز عید تھی تو وہ دوبارہ عید کی نماز میں شامل ہو جائے لیکن وہ امامت کرانے سے گریز کرے ۔اگر کسی بہت بڑے عذر کی وجہ سے نماز عید پہلے روز نہ پڑھی جا سکی ہو تو عید الفطر کی نماز دوسرے دن اور عید الاضحی کی نماز تیسرے دن تک پڑھی جا سکتی ہے ۔عید کے دن تکبیرات مردوں عورتوں پر پڑھنا واجب ہے اور وہ یہ ہیں ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا للہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ مردوں کے لیے تکبیرات عید الفطر میں ذرا آہستہ اور عید الاضحی میں بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے عورتیں آہستہ سے پڑھ لیں ۔ عید کے روز بچوں کو عیدی دینا بھی سنت نبوی میں شامل ہے۔آپ اپنی شہزادی سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر تشریف لائے اور حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما اور ان کی والدہ صاحبہ کو عیدی دی ۔ اور ان کے کمرہ میں جا کر دونوں ہا تھ اللہ تبارک و تعالی کی طرف اٹھا کر فرمانے لگے میرے اللہ حسن اور حسین نے مجھ سے عیدی مانگی اور میں نے دی اب میں تجھ سے عیدی مانگتا ہوں اور میری عیدی یہ ہے کہ میری امت کی بخشش فرما دے۔ حضور اکرم ﷺ نے ساری زندگی امت کی بخشش کے لیے دعائیں فرمائیں۔ اس لیے امت کو چاہیے کہ ہر انسان اور دنیا کی ہر شے سے زیادہ محبت محبوب کائنات ﷺ سے کریں اور آپ کی سنت پر عمل پیرا ہوں۔دونوں عیدین میں نماز عید الفطر کے روز فطرانہ اور نماز عید الاضحی کے روز قربانی کرنا واجب قرار دیا گیا ہے ۔
عید الفطر کے روزدیے جانے والے فطرانہ کے مسائل درج ذیل ہیں۔
1۔ ہر وہ شخص جو زکوۃ کی ادائیگی کی اہلیت رکھتا ہے یا گھر کی تمام جائز ضروریات کے پورا کرنے کے اس کے پاس اسباب موجود ہیں تو اس پر فطرانہ کی ادائیگی واجب ہے اور عید الاضحی پر قربانی واجب ہے۔ جو شخص زکوۃ لینے کا حقدار نہیں وہ فطرانہ کی رقم بھی نہیں لے سکتا ۔ یہ حق فقراء غرباء مساکین بیوگان کا ہے ۔ اور ایسے مسافر جن کا زاد راہ ختم ہو جائے اور ایسی جماعت جو صرف اور صرف اللہ تعالی کا دین پڑھنے پڑھانے میں لگی ہوئی ہو۔ یا خدا کی راہ میں لوگوں کو دین پہنچانے کے لیے گھر سے نکلی ہوئی ہو اور ان کے پاس خرچہ ختم ہو گیا ہو۔ اور ان کا کوئی ذریعہ آمدنی نہ ہو، ایسی جماعت کو بھی فطرانہ و زکوۃ دی جا سکتی ہے ۔
2۔ فطرانہ کے واجب ہونے کا وقت عید کے روز صبح صادق کے بعد شروع ہوتا ہے اور نماز عید سے پہلے پہلے ادا کر دینا بہتر ہے۔ نہ کر سکے تو بعد میں بھی ادا کر سکتا ہے ۔رمضان المبارک میں بھی پیشگی فطرانہ دے سکتا ہے ۔ جو شخص صبح صادق سے پہلے فوت ہو گیا یا جو بچہ صبح صادق کے بعد پیدا ہوا دونوں پر فطرانہ واجب نہیں ہے ۔ عید کے روز گھر میں جتنے بھی افراد بڑے ہوں یا چھوٹے یا مہمان سب کی طرف سے فطرانہ دینا واجب ہے ۔
3۔ فطرانہ اگر جنس کی شکل میں دیا جائے تو جو اجناس تمام تر کھائی جا سکتی ہیں مثلا گندم چاول باجرہ مکئی چنا ان کی مقدار دو کلو ہے ۔مناسب ہے کہ احتیاط سوا دو کلو تک دے ڈالے جن اجناس سے چھلکا اترتا ہے یا گٹھلی نکلتی ہے ان میں فطرانہ کی مقدار دوگنی ہو جائے گی مثلا دھان کھجور چھوہارا خرمانی وغیرہ اگر قیمت دینا چا ہیں تو بازاری قیمت ادا کر دیں۔ مثلا آج کل ایک نمبر اعلی قسم آٹا سوا دو کلو تقریبا نوے روپے کا آ جاتا ہے اس لیے اس سال فطرانہ کی مقدار 90 روپے فی کس ہے ۔
4۔ صدقہ فطر ایک ہی مستحق کو دے دے یا بہت سے مستحقین میں تقسیم کر دے دونوں طرح درست ہے ۔ فطرانہ مسجد کو نہیں لگتا۔
شوال املکرم کے چھ روزے :۔ حضور اکرم ﷺ عید کے اگلے روز سے مسلسل چھ روزے نفلی رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص یہ چھ روزے رکھے گا تو یہ رمضان المبارک کے روزوں کے سا تھ شامل ہو کر اس کا ثواب اسی طرح سے ملے گا جیسے کسی نے پورا سال ہی رزہ رکھا ہو ۔ اللہ تبارک و تعالی کے ہاں امت محمدیہ کے لئے خاص انعام ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا جو شخص ایک نیکی کرتا ہے اللہ تعالی کے ہاں اس کے لیے دس گنالکھی جاتی ہیں ۔اب رمضان کا ایک مہینہ گویا کہ دس گنا بن کر دس مہینے کے برابر تھا سال میں چونکہ بارہ ماہ ہو تے ہیں یہ چھ روزے دس سے ضرب پا کرسا ٹھ روزے قرار پائے۔ جو دو ماہ بنتے ہیں اس طرح سے گویا کہ پورا سال ہی اس عمل کو کرنے والا روزہ دار ہی کہلائے گا ۔