عسکریت پسندی کے مضمرات

عالمی طاقتوں کی باہمی چپقلش، اپنے اپنے مفادات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی روش نے عالمی امن کو کئی دہائیوں سے خون آلود کر رکھا ہے۔ عراق پر حملہ کے وقت کسی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ عراق میں بیرونی مداخلت عالمی امن کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن جائے گی۔ اور اس کا نتیجہ شام کی ہولناک بربادی و تباہی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اور جنگ عظیم دوم کے بعد دوسرا بڑا انسانی ہجرت کا المیہ رونما ہو گا۔

آج روئے زمین پر شام سب سے زیادہ خون آلود ملک بن چکا ہے ، جو مست ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندا جانے والا اسلامی ملک ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں شامی جن میں بچے، بوڑھے اور جوان و عورتیں سبھی شامل ہیں، اپنے ہنستے بستے گھروں سے ویران قبرستانوں میں مدفون ہو چکے ہیں۔جو باقی بچے ہیں وہ کیمپوں میں کمسمپسری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ کیا وہ کبھی دوبارہ اپنے گھروں کو جا بھی سکیں گے کہ نہیں اور یہ خیال کسی موت سے کم نہیں ہے۔ شام کی موجودہ حالت ایک چھوٹی سی غلطی کا شاخسانہ ہے۔ محض اقتدار کی ہوس اور مفاد پرستوں کی سازش جس کا خمیازہ صرف شامی معصوم لوگوں کو بھگتنا پڑا۔

بشار الاسد نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد، جنہوں نے تیس سال تک شام پر حکومت کی تھی کی وفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس وقت ان کی عمر آئین کے مطابق مطلوبہ عمر سے آٹھ سال کم تھی۔ لیکن حافظ الاسد کے وفاداروں نے آئین میں ترمیم کرکے اس کے بیٹے کوصدر منتخب کرایا دیا۔ اس طرح ایک ہی خاندان اور جماعت کی نصف صدی پر محیط حکمرانی کے وہ نتائج سامنے آئے کہ اللہ کی پناہ۔ بعد ازاں عالمی طاقتوں کی مداخلت اور کھینچا تانیوں نے شام کے بخیے اکھیڑ دیئے ۔ اپوزیشن کے چند مطالبات کو طاقت کے زور پر کچلنے کے فیصلے نے شام کو برباد کردیا اور آج وہ ہولناک کھنڈرکا منظر پیش کررہا ہے ۔ صرف اسد کا محل محفوظ ہے ۔

دوسرا اسلامی ملک جس کی قیادت عبرتناک انجام کو پہنچی، وہ لیبیا ہے۔ یہ بھی کسی وقت ایک مضبوط اسلامی ریاست تھی۔ وہاں 1969میں کرنل معمر قذافی نے حکومت پر قبضہ کرکے ریاست کو ایک سوشلسٹ ریاست میں بدل دیا۔ اور پھر بیالیس سال تک سیاہ و سفید مطلق حکمران کے طور پر حکمرانی کی ۔ معمرقذافی نے بھی آرمی اور عسکری ونگز کے سہارے ملک کو چلایا۔ بالآخر وہ منطقی انجام کو پہنچا۔ جب وہ بڑی طاقتوں کی نظروں میں جب کھٹکنے لگا تو اندرونی و بیرونی سازشوں کا ایسا شکار ہؤا کہ 2011 میں مخالفین نے بر سر عام تشدد کے بعد گولی مار کر ان کو ہلاک کردیا ۔ آج یوٹیوب پر اس کی ہلاکت کی عبرتناک ویڈیو موجود ہے۔

لیبیا، شام کے بعد تیسرا اسلامی ملک جو اندرونی خلفشار اور سازشوں کی نذر ہوا اور ابھی بم دھماکوں کی وجہ سے آگ میں جل رہا ہے، وہ عراق ہے عراق کی موجودہ حالت سے پہلے ڈکٹیٹر صدام حسین نے چوبیس سال تک مطلق العنان کے طور پرحکومت کی ۔ صدام کی ڈکٹیرشپ کا آغاز1979 میں ہوا اور 2003میں ایک غار سے نکال کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

صدام حسین بھی سازشوں کی ساتھ ہی برسراقتدار آئے تھے ان سے پہلے عراق پر عبدل الکریم قاسمی کی حکومت تھی۔ وہ وزیراعظم تھے، اس کے خلاف بغداد میں قتل کی سازشیں ہو رہی تھیں۔ پلان ناکام ہونے پر صدام ایک گدھے پر سوار صحرا کے راستے مصر فرار ہو گئے تھے۔ 1963 میں جب قاسمی کی حکومت کا خاتمہ کردیا گیا تو صدام حسین نے واپس عراق آکر پھر سرگرمیوں میں شامل ہوئے۔ لیکن اپنی سرگرمیوں اور مزاج کی وجہ سے جیل بھجوا دیئے گئے۔ اور1968تک جیل میں رہے۔بعد میں صدام نے اپنی ایک ملٹری فورس قائم کی اور اپنی طاقت میں اضافہ کیا ۔ اسی دوران اپنے ایک کزن کے دور اقتدار میں بطور نائب صدر کام شروع کیا۔ یہاں سے اس نے طاقت ور ہونا شروع کیا اور موقع ملنے پر صدام نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پھر اپنی نئی حکومت کو مزید مضبوط کرنے اور تمام خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو پھانسیاں دیناشروع کیں۔ پھر خود بھی مکافات عمل کا شکار ہوا۔ 2003میں شرمناک انداز میں گرفتار ہو کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور اس کے بعد آج تک عراق اندرونی و بیرونی سازشوں کا ایسا شکار ہوا کہ تاحال وہاں قتل و غارت جاری ہے ۔عسکری گروپ آپس میں دست و گریباں ہیں۔ ایک ہی دھماکہ میں بیک وقت سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ یہ سطور کو سپرد قلم کرنے کے دوران بغداد کی ایک مارکیٹ میں دھماکا ہوا ، جہاں عورتیں بچے عید کی شاپنگ کے لئے آئے ہوئے تھے ۔ پلک جھپکتے ہی دو سو سے زائد لوگ موت کا شکار ہو گئے ۔

یہ وہ اسلامی ممالک ہیں جہاں اسلامی عسکری ونگ قائم کئے گئے خواہ ان کا کچھ بھی مقصد ہو لیکن ان کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔تاریخ یہی بتا تی ہے کہ دوسروں کے لئے گڑھے کھودنے والے ایک دن خود ہی اس میں ضرور گرتے ہیں۔ جیو اور جینو دو کی نفی کا انجام کبھی بھی سلامتی اور اطمینان قلب کا باعث نہیں ہو سکتا۔ ان تمام اسلامی ممالک میں جہاں جہاں عسکری ونگ قائم کئے گئے، وہاں بعد میں عالمی طاقتوں نے ان کو استعمال کرکے انہی ممالک کو قبرستانوں میں بدل دیا۔ کسی بیرونی فوج کی آمد کی ضرورت نہ رہی۔ اب وقت بہت بدل چکا ہے اب جنگ کرنے اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کے طریقے بدلے جا چکے ہیں۔ ایٹم بم کسی بھی ملک کی سالمیت اور استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتے ۔ روس ایک مثال کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔اس لئے تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہی انسانی خون سے لکھی گئی تاریخ موجود ہے۔ طاقت کے گھمنڈ میں ہمیشہ عقل اور فہم و فراست کے دروازے بند ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ پھر سانحات کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

پاکستان کے اندر بھی عسکریت پسندی نے پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان کی سرزمین کو خون میں نہلا رکھا ہے۔ یہ بھی ماضی کی ہی ایک غیر جمہوری حکومت کا فیصلہ تھا۔ کراچی میں کئی دہائیوں سے قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستان بھر میں اب تک سول و ریاستی اہلکاروں کی ہزاروں کی تعداد میں شہادتیں بھی اس کی گواہی دیتی ہیں کہ عسکریت پسندی کے خاتمہ کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں۔ ملک میں ہتھیاروں کی فراوانی ہے جو کسی بھی وقت بڑے سانحہ کا موجب بن سکتی ہے۔ پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت عسکری ونگز کے خلاف کارروائی نا گزیر ہے۔ اس کے لئے سیاسی مصلحتوں سے کام لینایا کسی اسلامی مملک کی ناراضگی کا سوچنا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا۔