لندن کی ادبی تقریب اور ذکر ادیبوں کا
- تحریر سرور غزالی
- سوموار 04 / جولائی / 2016
- 7505
6 فروری2016 : لندن کی جانب محو سفر ہوں۔۔۔اور میرا طیارہ اونچی اڑان اڑرہا ہے۔۔۔لندن سے میں سیدھا برمنگھم جاوں گا اور سلطانہ مہر اور جاوید چوہدری کی خدمت میں اپنا افسانوی مجموعہ ’بھیگے پل‘ ، پیش کرو ں گا۔ اس کتاب کی کل لندن میں امجدمرزا امجد تقریب رونمائی کا اہتمام کر رہے ہیں۔ یہ میری تیسری کتاب ہے۔اس سے قبل 2008 میرا پہلا افسانوی مجموعہ ’ بکھرے پتے‘ اور 2013 میں ایک ناولٹ ‘ دوسری ہجرت‘ شائع ہو چکی ہیں۔
میں برطانیہ کے مختصر سے تین روزہ دورے پر تھا اور حسب پروگرام سب سے پہلے برمنگھم ہی رکا۔ وہاں سلطانہ مہر اور جاوید اختر چوہدری کا مہمان بنا۔ جاوید اختر ص نے گاڑی بھیج کر مجھے اپنے دولت خانے پر سلطانہ مہر صاحبہ کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ ایک پر تکلف ظہرانے اور سہ پہر کی چائے پر سلطانہ مہر اور جاوید اختر کے ساتھ نہایت مشفقانہ ماحول میں بے تکلف علمی بات چیت ہوتی رہی۔ گفتگو کے دوران عصر حاضر کی اہم ادبی اور لیجنڈری شخصیت سلطانہ مہر اور افسانہ نگار جاوید اختر چوہدری نے لکھنے لکھانے اور ادب کی موجودہ صورتحال پر اپنی رائے پیش کی اور خاکسار کی بات توجہ سے سنی۔ پھر موضوع گفتگو میری کتاب بھی رہی۔
سلطانہ مہر سے میری جنگ کے صفحات پر کب پہلی ملاقات ہوئی تھی مجھے یاد نہیں۔۔۔۔تاہم یہ بات اس وقت کی ہے جب وہ جنگ سے منسلک تھیں۔ جنگ میں سن 1981 میں میری پہلی منی کہانی یا افسانچہ چھپا تو سلطانہ مہر اس وقت تک جنگ چھوڑ کر جا چکی تھیں۔ وہاں میری شفیع عقیل، مرزا سلیم بیگ اور رضی الدین سے ملاقاتیں رہیں۔ سلطانہ مہر صاحبہ کی تحریریں نظروں سے گزرتی رہیں۔
یہ سن 2006 کی بات ہے جب سلطانہ مہر اور جاوید چوہدری اردو انجمن کی دعوت پر برلن آئے۔۔۔پروگرام کے دوسرے روز انور اور ان کی بیگم عشرت نے اپنے گھر ایک پر تکلف دعوت کا انتظام کیا۔ ان کے یہاں ڈنر پر اورلوگوں کے ساتھ جاوید اختر چوہدری اور سلطانہ مہر سے بے تکلف گفتگو رہی۔ سلطانہ مہر بہت سینئر لکھاری، شاعرہ اور صحافی ہیں۔ وہ اردو کی واحد خاتون تذکرہ نگار ہیں۔ انہوں نے تذکرہ نگاری کے فن کو ایک بار پھر جلا بخشی ہے جبکہ وہ معدوم ہوئی جارہی تھی۔ اور اس فن کو اس نئے انداز سے پیش کیا کہ اس کے مخالفین بھی ان کی کارکردگی کے معترف ہو گئے۔ آٹھ جلدوں پر مشتمل مختلف انداز و بیان کے تذکرے پیش کر نا آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ دونوں خوش اخلاق اور اعلی درجے کے مہمان نواز شریف النفس شخصیات نے ہم سب کا نہایت خندہ پیشانی سے استقبال کیا ۔ ہماری خاطرداری کی اور ہمیں خوب عزت دی۔
جاوید اختر چوہدری کئی کتابوں کے خالق اور اچھے افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانوں کے مجموعے ’ ٹھوکا کی شہرت‘ نے ان کی پہچان بنادی ہے۔ سلطانہ مہر اور جاوید اختر چوہدری دونوں بہت ہی شفیق اور ملنسار انسان ہیں۔ ان لوگوں کی سادگی اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ان کے اعلی ظرفی کی بہترین مثال ہے۔ وہ دوسروں کے لئے باعث تقلید ہیں۔
لندن ائر پورٹ سے مجھے سیدھے لندن کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پہنچنا تھا۔ جہاں میری ہمشیرہ اپنے بچوں کے ساتھ میری منتظر تھی۔ چنانچہ اسٹینڈ اسٹیڈ ہوائی اڈے سے بس پکڑ کر الفرڈ اترا، اور پھر وہاں سے دوسری بس کے ذریعہ لندن لیورپول اسٹیشن پہنچا۔ دونوں بچے ہمشیرہ کے ساتھ بے چینی سے منتظر تھے۔ پلیٹ فارم پر سوار ہونے کے لیے جاتے وقت پہلے ٹکٹ چیک ہوا۔ ایسا جرمنی میں تو کیا کہیں بھی نہیں ہوتا۔ مگر یہ مرحلہ جلد طے ہوگیا۔ جرمنی میں ہم لوگ کسی بھی ڈبے میں گھس جاتے ہیں اور پھر ٹرین کے اندر ہی مطلوبہ سیٹ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ مگر بر طانیہ میں ایسارواج نہیں ہے۔ بچے بھی یہی کہتے رہے مما ہماری سیٹ اور آگے ہے ہم صرف ریزو سیٹ کے ڈبے میں ہی سوار ہونگے۔ مگر مجھے یہ پڑی تھی کہ کہیں ٹرین سیٹ ڈھونڈتے ڈھونڈتے چل نہ پڑے۔ مگر اپنی روایت کے مطابق میں ریل کے ڈبے میں زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اندر سخت رش تھا اور لوگ آگے جانے کا راستہ دینے کو تیار بھی نہ تھے۔ مجبورا پھر اتر ا اور مطلوبہ سیٹ والے ڈبے میں سوار ہوا۔ برطانیہ ریل انجن کا موجد ضرور ہے مگر برمنگھم جانے والی یہ ٹرین اتنی کھٹارا تھی کہ لگتا تھا کہ ریل کے موجد سے ناراض ہو گئی ہو۔
برمنگھم سے واپسی کی ٹرین خاصی لیٹ ہوگئی۔۔اور مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی۔۔تیز موسلا دھار بارش اور طوفانی جھکڑ اور ریلوے اسٹیشن پر انتظار۔۔۔ خاصا مشکل کام تھا۔ باربار پلیٹ فارم تبدیل ہوتا رہا اور پھر جب آخر کار تاجدار برطانیہ کا ریلوے کا عملہ خیر سے ایک پلیٹ فارم کو مختص کر نے تیار ہو گیا تو بھی بار بار یہ اعلان کانوں کے پردے پھاڑتا رہا کہآگے کی آدھی بوگیاں راستے میں ٹرین سے علیحدہ کر لی جائیں گی لہذا جن مسافروں کو سفر کے اختتام تک یعنی لندن تک کا سفر کر نا ہے انہیں زحمت سے بچنے کی خاطر پیچھے کی بوگیوں میں سوار ہونا چاہئے۔ چلئے جناب آگے کی خالی بوگیو کو حسرت سے تاکتے ہوئے ہم پچھلی بوگیوں کی طرف آئے تو پتہ چلا کہ ساری سیٹیں بھر چکیں ہیں۔ہماری ریزو سیٹوں کا کیا بنا ۔ اس گھبراہٹ ، ٹرین کی تاخیر اور مسافروں کی جلدی میں ، جسے جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا۔ جوں جوں ٹرین آگے کی طرف رواں دواں رہی، سیٹیں خالی ہوتی گئیں اور بالآخر ہم سب یکجا ہو بیٹھ گئے اور لندن آنے کا انتظار کر نے لگے۔ خیر لند ن پہنچے اور بچے ایک بارسے پھر سے چہکنے لگے۔ بچوں نے مجھے ہوٹل چھوڑا اور گھر چلے گئے۔۔۔رات کے بارہ بج رہے تھے۔
دوسرے دن 7 فروری کو میری کتاب کی رسم اجرا تھی۔۔۔۔مجھے اندازہ نہ تھا کہ امجد بھائی اتنی تیاری کئے بیٹھے ہیں اور ان کی انجمن کی جانب سے ایک ایوارڈ بھی اس خاکسار کے لئے تیار کیا گیا ہے۔بہر حال تقریب رسم اجرا کے دوسرے مرحلے میں مشاعرہ بہت ہی اعلی پائے کا تھا۔ صدارت کی ذمہ داری رحیم اللہ شاد کو دی گئی۔ صدر انجمن ڈاکٹر شوکت نواز خان بھی اسٹیج پر موجود تھے. بہت سارے شعرا کرام کا بہت ہی اعلی کلام سننے کو ملا۔۔۔جن میں جو نام یاد رہ گئے وہ یہ ہیں۔۔۔نرگس جمال سحر۔ڈاکٹر سوری۔شاہین سحر۔ گل زیب زیبا۔ ستنام کور۔ عادل فاروقی۔ سبینہ سحر ۔ امجد بھائی۔ رحیم اللہ شاد نے اپنا ایک قطعہ اور غزل کے کئی اشعار مجھے پیش کئے جو افسانہ نگاری سے متعلق تھے۔اور ۔۔۔ باقی لوگوں کی تصویریں یہاں لگا رہا ہوں آپ خود پہچان لیں گے۔ مشاعرے کے بعد آٹوگراف کا دور چلا۔۔۔سب نے میری کتاب خرید کر مجھ سے دستخط کی فرمائش کی۔اور میں لندن کے ادبی حلقے کی دوست نوازی اور کتاب پروری پر عش عش کر اٹھا۔۔۔