ہنڈورا کا مرتبان
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- سوموار 04 / جولائی / 2016
- 5906
پانامہ لیکس نے 2کام کیے۔ ایک تو یہ کہ جب یہ خبر منظر عام پر آئی تو بہت سے ابرو بلند ہوئے۔ بہت سے چہروں پر پراسرار مسکراہٹیں رینگنے لگیں۔ بہت سے دل ڈوب گئے۔ میڈیا نے اپنے قلم سیاہی میں ڈبو دیئے۔ ٹی وی اینکرز زیرلب مسکراہٹوں کے ساتھ نئی خبر کے ساتھ نمودار ہوئے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے طول و عرض میں غیر مستحکم احساسات نمودار ہونے لگے۔
لیکن ہمارا موضوع پانامہ لیکس نہیں ہے۔ ہم میڈیا میں اچھالے جانے والے لفظ ”پنڈورا کا باکس“ کے اندر رہنا چاہتے ہیں اور قدیم یونانی تاریخ میں جھانکنے کی سعی کرنا ہے۔
یونان کے جزیرے ”کریٹ“ (Cerete) میں ہماری عارضی تعیناتی ہمارے لئے خوشی کی خبر تھی۔ جب اس جزیرے پر اترے تو یوں لگا جیسے ہم ایک کائنات کی کھڑکی سے دوسری کائنات قدیم میں کود پڑے ہوں ہم محسوس کر رہے تھے کہ ہم اک جہاں دیگر میں اتر آئے ہیں۔
یونانی تہذیب دنیا کی قدم ترین تہذیب گردانی جاتی ہے۔ لیکن اس تہذیب کا جدامجد جزیرہ کریٹ تھا۔ جہاں شہنشاہ کافوس (Minos) کے قصر شاہانہ اور امراء کے عالیشان محلات اور دیوان سڑکیں اور گلیاں آج بھی عظمت رفتہ پر سر اٹھائے فخر سے استادہ ہیں، اور ہمیں چھ سے سات سو سال قبل از مسیح کی داستان سناتے ہیں۔ یہ بات مسلم ہے کہ جزیرہ کریٹ یونانی قدیم تہذیب کی خشت اول ہے۔
لیکن اس بار ہم صرف پنڈوراباکس کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ خداوند خدا زوس (Zeus) نے خداوند ہی نے ٹس (Hephaetus) کو حکم دیا کہ مٹی اور پانی کے امتزاج سے مجسمہ بنائے۔ ہی نے ٹس حکم بجالایا۔ اور جزیرہ کریٹ کی مٹی اور پانی کی آمیزش سے مجسمہ تیار کیا اور زوس کی بارگاہ میں پیش کیا۔ ایتھنیا نے اسے کپڑا بننے کے فن سے روشناس کیا۔ افروڈی ٹس (جسے رومن تہذیب نے وینس کا نام دیا) نے اسے حسن اور آرائش سے نوازا۔ ہومر نے اسے فن خطابت کا مہر بخشا اور یہ لاجواب مجسمہ اس پہلی عورت کا تھا جس نے زمین پر قدم رکھا۔ خداوند ”ہی نے ٹس“ کے اس حسین و جمیل نسوانی پیکر نے اپنی فن کاری، آرائش، حسن اور حسن تکلم سے ششدر کر دیا اور اس کا نام ہنڈورا تجویز کیا گیا۔ جس کا مطلب تھا ”جس پر تحائف نچھاور ہوئے“۔ نام کے تجویز کے بعد خداوند خدا زوس نے اسے ایک سربمہر مرتبان عطا کیا اور ہدایت کی کہ اس مرتبان کو کسی صورت میں نہ کھولنا۔
یہاں یہ فرض کرنا ضروری ہے کہ تاریخ کے صفحات نے ہنڈورا کے مرتبان کو پنڈورا کا باکس کا نام دیا ہے۔
اگر ہم دنیا کے قدیم رہن سہن اور قدیم کھنڈرات کی بات کریں تو کھنڈرات کی دنیا میں باکس یا صندوق کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ بلکہ ہم ہر شہر پر مٹی کے برتنوں، مٹی کے مرتبانوں اور طرح طرح کے مٹی کے ظروف کو نمائش میں سجے دیکھتے ہیں۔ یونان کی قدیم تر زبان میں اس مرتبان کو نام میتھوس (Mithos) تھا جس کا ترجمہ اور لاطینی زبان میں پیکس (Pyxis) ہوا اور ترجمہ کرنے والے اپنے وقت کے عالم اور شاعر ایرسیس (Erases) نے سات سو قبل مسیح اس کا ترجمہ کیا۔
خداوند پرومی تھیس (Promethus) نے جب ہنڈورا کو دیکھا تو اس پر دل و جان سے فدا ہو گیا اور ا س سے شادی کر لی۔ ہنڈورا کو بے تحاشہ فراغت نصیب ہوئی۔ تو اس نے سوچا اب یہ مرتبان کھول کر اس کا راز معلوم کیا جائے۔
(یاد کریں آدم و حوا کا شجر ممنوعہ کے بارے میں حکم)
ہنڈورا نے مرتبان کا ڈھکن کھولا اور یک لخت ہزاروں کی تعداد میں بدروحیں، بے قابو خوں خوار درندے، انسانی دکھ اور ناقابل برداشت Evils اڑ گئے اور جب ہنڈورا نے جھانک کر مرتبان کے اندر دیکھا تو صرف ایک چیز بدستور موجود تھی جسے ”امید“ کہاجاتا ہے۔
”اگر تم یہ کہو کہ منطق کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے علم و جہل کی سرحدیں الگ الگ ہو جاتی ہیں تو دریافت طلب بات یہ رہ جاتی ہے کہ خود علم کی حقیقت کیا ہے۔“
(قدیم یونانی فلسفہ)