مردہ علوم کی لاش!
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 04 / جولائی / 2016
- 6546
امریکہ کی نیشنل اکیڈیمی آف سائنسز سے خبر آئی ہے کہ اکیڈیمی میں کلوننگ کے بارے میں ریسرچ کرنے والے ادارے کے سائنس دانوں کے درمیان گزشتہ دنوں بحث و مباحثہ کے دوران یہ موقف سامنے آیا ہے کہ انسانی کلوننگ کی کوشش ناکام ہو جائے گی۔
امریکی سائنس دانوں کے بقول اگر کلوننگ کے ذریعے بچے پیدا بھی کر لئے گئے تو وہ معذور پیدا ہوں گے کہ کلوننگ کی ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں، غیر موثر اور خطرات سے پُر ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جب حیوانوں کی کلوننگ بھی کی جاتی ہے تو محض پانچ فیصد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے اس لئے وہ امریکی حکومت سے سفارش کریں گے کہ وہ کلوننگ پر پابندی لگا دے۔
یہ تو تھا تصویر کا ایک رخ۔ آیئے اب آپ کو بتاﺅں کہ ”بات“ کہاں تک بڑھ چکی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ اسی سال جنوری میں نہ صرف خبر بلکہ کلوننگ بندر کی تصویر بھی شائع ہوئی تھی کہ امریکی سائنس دانوں نے ایک ایسا بندر پیدا کر لیا ہے جس میں کلوننگ کے ذریعے مصنوعی طور پر جینی تبدیلیاں کر لی گئیں تھیں۔ بندر کا یہ بچہ جسے اینڈی(Andi) کا نام دیا گیا ہے یہ بندر دنیا کا پہلا ایسا بندر ہے جس کو مطلوبہ جینی تبدیلیوں کے ساتھ وجود میں لایا گیا ہے۔ سائنس دانوں کے اس کلوننگ کے کارنامے کی بنیاد پر یہ توقع یقین میں بدل گئی ہے کہ اس کامیابی کے خطوط پر تحقیق کرتے ہوئے انسانوں کو لاحق ہونے والے بعض پریشان کن امراض کا علاج ڈھونڈ نکالا جائے۔ ایسی بیماریوں میں تمام قسم کا کینسر، پارکنسس کا عارضہ، ذیابیطس، ہارٹ اٹیک اور ایڈز وغیرہ شامل ہیں۔
جینی تبدیلیوں اور کلوننگ والے بندر کو وجود میں لانے والی ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جیرالڈ شاٹن (اس پروفیسر نے چند ماہ قبل ہالینڈ کا دورہ بھی کیا تھا) نے بتایا کہ یہ کامیاب تجربہ بیماریوں کے علاج کے ضمن میں ایک اہم قدم ہے۔ اور ہم یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ تجربہ انسانی تاریخ کے ایک غیر معمولی وقوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جینی تبدیلیوں والا یہ بندر انسانی کلوننگ کا پیش خیمہ بن گیا ہے۔ انسانی حیات کا معمہ سلجھانے میں سائنس کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ موذی اور موروثی امراض پر قابو پایا جا سکے گا اور نئے علاج و دوائیں وجود میں آ سکیں گی۔ دراصل قدرت نے جین اور کروموسومز میں حیات انسانی کی حیاتی کیمیائی ہدایات کا ضابطہ محفوظ کر دیا ہے اسے کھولنا اور سمجھنا اب تک ممکن نہیں تھا۔ اس کی بعض جزئیات کو سمجھا گیا تھا لیکن مجموعی طور سے یہ ضابطہ معمہ بنا ہواتھا۔ سائنسدان اس جستجو میں تھے کہ اسے کلی طور پر سمجھ لیں، یہاں تک کہ برطانیہ اور امریکہ کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر ریسرچ اور تحقیقات کے ذریعہ کامیابی حاصل کر لی۔ یہ اس قدر بڑی کامیابی ہے کہ اسے اب تک کے سب سے اہم سائنسی کارناموں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ یہ پہیہ کی ایجاد اور ایٹم کو توڑنے سے بھی بڑی کامیابی مان لی گئی ہے۔ تاہم بعض حلقوں کی جانب سے اس تجربہ کی مذمت کی جا رہی ہے جس میں مذہبی جذبات رکھنے والے سائنس دانوں کا ایک معمولی گروہ بھی شامل ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس قسم کے تجربے خدا کی کاریگری میں مداخلت کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا ایسے تجربوں سے سائنس دانوں کو گریز کرنا چاہئے۔
ان لوگوں کویہ خدشہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے ان تجربوں کو آگے بڑھاتے ہوئے سائنس دان ایسے انسانوں کو بھی تخلیق کرنے لگیں جن میں مرضی کے مطابق جینی تبدیلیاں کی گئی ہوں اور اگر یہ سب کچھ انسان نے کر ڈالا تو خدا کے لئے کرنے کو کیا رہ جائے گا۔ لیکن اوریگان ریجنل پرائی میٹ ریسرچ سینٹر کے پروفیسر شاٹن نے ان تمام خدشات کو بے بنیاد بتایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جینی تبدیلیوں کے ساتھ پیدا ہونے والا یہ بندر صحت کے اعتبار سے بے حد چاک و چوبند ہے اور اپنے دوسرے دو ساتھیوں کے ساتھ خوب کھیلتا کودتا رہتا ہے۔ ان کو یہ امید ہے کہ اس تجربہ کی روشنی میں نہ صرف بیماریوں کے علاج میں بے پناہ مدد ملے گی بلکہ اس سے بعض کارآمد اعضا بھی لیبارٹی میں ہی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بندر کو اینڈی (Andi) کا نام اسی لئے دیا گیا ہے کہ جب اسے انگریزی میں الٹا پڑھائے جائے تو یہ INDA بنے گا جس کے معنی ہیں Inserted DNA یعنی مصنوعی طو ر پر داخل کیا گیا DNA۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس بندر کی پیدائش کے لیے جو ڈی این اے استعمال کیا گیا اس میں جیلی فش کا ایک اضافی جین الگ سے داخل کیا گیا تھا اس طرح تبدیل شدہ DNA سے ایک بندریا کے جین کو کراس کیا گیا پھر اس سے بندر اینڈی وجود میں آیا۔
اس تجربہ کی بنیاد پر سائنس دان اب اس قابل ہو چکے ہیں کہ وہ کلوننگ کے علاوہ کسی بھی بیماری جیسے کینسر کی بیماری کے جین کو داخل کر کے اس سے اس بیماری کی مدافعت پیدا کرنے والا ویکسین تیار کر سکتے ہیں جس سے نوع انسانی کو کس قدر فائدہ پہنچے گا۔ اسے ڈاکٹر حضرات ہی بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے بندر کا کلون (Clone) تیار کرنے کےلئے اس لئے منتخب کیا ہے کہ اس سے قبل ڈولی نامی بھیڑ کا کلون تیار کیا تھا اور چونکہ بندر اپنی ساخت اور فعلیات (کام کاج) اور نفسیات کے حوالے سے انسانوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لہٰذا اب تک جو تجربات چوہوں اور بھیڑوں پر کئے جا رہے تھے ان کو تر ک کر کے ہم نے بندر کو منتخب کیا ہے۔ ان سے نہایت حوصلہ افزا نتائج ہمارے سامنے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بندروں کے بعد براہ راست انسان کی باری ہے۔
محبت زندگی بن کر محیط بزم امکاں ہے!
اگر سمیٹے تو انساں ہے، اگر پھیلے تو یزداں ہے