مہاراجہ گلاب سنگھ کے نئے جانشین (3)
- تحریر یونس تریابی
- منگل 05 / جولائی / 2016
- 6287
کسی واقع یا بات کو اپنے عمل ، مقصد یا ضرورت سے ہم آہنگ کرنے کی سیاست کو انگریزی میں الائنمنٹ (alignment)کہا جاتا ہے ۔ کانگرسی لیڈروں نے برطانیہ کی نگرانی بلکہ ہدایت پر مہاراجہ ہری سنگھ کا اپنے آباؤاجداد کی تعمیر کردہ جدید ریاست کشمیر کو پاکستان کی مداخلت اور جارحیت سے بچانے کا وطن پرستانہ کردار تراشنے اور اسے بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی جعلی دستاویز کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا جو سیاسی جال تیار کیا ،اسے صرف محنت کش عوام کی ایک انقلابی پارٹی ہی توڑ کر کشمیری قوم کی نجات کا راستہ تلاش کرسکتی ہے ۔
اس برطانوی ۔ کانگرسی جال کو جسے جُوں کا توُں برقرار رکھنے کی ذمہ داری امریکی سامراج نے اُٹھا رکھی ہے ، توڑنا کشمیر کی روایتی اور مذہبی جماعتوں کے بس میں نہیں ہے ۔ اس سیاسی جال کو پروموٹ کرتے ہوئے بلراج مدہوک نے اپنی تصنیف کشمیر:سنٹر آف نیوالائنمنٹ (Kashmir:Centre of New Alighnment) میں گلاب سنگھ کو ایک ہیرو بنا کر پیش کرتے ہوئے شہنشاہیت پسندی کا یہ نعرہ بلند کیا ، ’’گھر جو گلاب سنگھ نے تعمیر کیا‘‘ (The House that Gulab Sing Built)۔ یہ کتا ب 1963 میں شائع ہوئی ۔ جدید ریاست کشمیر کی تعمیر کومہاراجہ گلاب سنگھ کا قابل تعریف کارنامہ قرار دینا کوئی نئی یا عجیب بات نہیں ہے ۔ شہنشاہیت اور مطلق العنانیت کے پیروکار وں کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہنشاہوں یا مطلق العنان حکمرانوں کے ریاستوں کو وسعت دینے کے کارناموں کی تعریف کریں ۔ اُرجن ناتھ سپرو ایم اے، نے1931 ء میں جدید ریاست کشمیر کی تعمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کا قابل تعریف کارنامہ ظاہر کرنے کے لئے اپنی کتاب کا نام ہی یہ رکھا کہ ’’دی بلڈنگ آف دی جموں اینڈ کشمیر اسٹیٹ۔ بی اینگ دی اچیومنٹ آف مہاراجہ گلاب سنگھ‘‘ (THE BUILDING OF THE JAMMU AND KASHMIR STATE.----BEING THE ACHIEVEMENT OF MAHARAJA GULAB SINGH) ۔ یہ پروجیکٹ شہنشاہیت یا مطلق العنانیت پسندوں کا تو ہوسکتا ہے لیکن سوشلزم و قومی آزادی کی تحریکوں اور جمہوریت کے علمی منصوبوں میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔
یہاں اصل اور بنیادی بات مہاراجہ گلاب سنگھ کو جدید ریاست کشمیر کا معمار ثابت کرنے کی نہیں ہے بلکہ اس کی آڑ میں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی دستاویز پر مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخط ہونے اور اس کے اسباب(اپنے آباؤاجداد کے ورثہ کو پاکستان کی جارحیت سے بچانے کے من گھڑت دعوے) کو کانگرسی لیڈروں کے توسیع پسندانہ مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے یا الائنمنٹ کی ہے ۔ یہ ریاست کشمیر کے خلاف وہ بھارتی جال ہے جس میں نیشنل کانفرنس کی قیادت شروع میں ہی پھنس گئی اور شیخ محمد عبداللہ پاکستان کی جارحیت سے گلاب سنگھ کی تعمیر کردہ جدید ریاست کشمیر کو بچانے کیلئے مہاراجہ ہری سنگھ کے من گھڑت کردار کے دفاع میں اتنے آگے چلے گئے کہ وہ پونچھ بشمول میرپور کی بغاوت کے سہارے قومی سطح پر اُبھرنے والی اس تحریک آزاد جمہوریہ کشمیر کو بھی بھول گئے جس کے بارے میں اُنہوں نے مورخہ 21 اکتوبر 1947 ء کو دہلی میں ایک اخباری کانفرنس میں خود کہا تھا کہ ’’پونچھ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مہاراجہ کے مظالم کا براہ راست نتیجہ ہے ۔۔۔ اور اُنہوں (پونچھ کے عوام) نے اپنے حقوق کی بازیافت کے لئے تحریک شروع کررکھی ہے ‘‘ (بحوالہ آتش چنار)۔
کشمیر میں پاکستان کی مداخلت اور جارحیت کا ایک سوال موجود ہے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی دستاویز پر مہاراجہ ہری سنگھ کا دستخط کردینے کا بھارتی دعویٰ ایک دوسرا سوال ہے ۔ جبکہ پونچھ سے اُبھرنے والی کشمیری عوام کی اپنی تحریک آزاد کشمیر ایک بالکل مختلف اور تیسرا سوال ہے۔ لیکن نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے اپنے بھارتی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ان مختلف سوالات کو توڑمروڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ گڈمد کردیا ہے۔ یہ کشمیر کی تاریخ کے وہ واقعات اور حقائق ہیں جن کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے کچھ کشمیریوں کی طرف سے گلاب سنگھ کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی مہم کے اصل مقاصد ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ یہ اُن محب الوطن کشمیریوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے جوکشمیر کے اندر پاکستان اور بھارت کی پراکسی جنگوں کو روکنا چاہتے ہیں اور اپنی قومی جدوجہدآزادی کو استوار اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
25 مارچ 2016 کے ایک کشمیری اخبار میں ’’معاہدہ امرتسر کی یاد میں دنیا کے مختلف ممالک میں تقریبات کے انعقاداور ان میں کیک کاٹے جانے، معاہدہ کو جدید ریاست جموں کشمیر کا خالق قرار دینے اور گلاب سنگھ کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کئے جانے ‘‘ کی ایک خبر شائع ہوئی ہے ۔ گلاب سنگھ کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کرنیوالوں کی فہرست میں شامل کچھ جانے پہچانے قوم پرستوں کی قوم پرستی راقم کو پہلی دفعہ مشکوک نظر آئی ہے ۔ اور یہ معلوم ہوا ہے کہ گلاب سنگھ کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کرنیوالوں میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے وہ لوگ شامل ہیں جو اپنے آپ کو معروف کشمیری قوم پرست کہلانے پر فخر محسوس کرتے تھے اور یہی لوگ گلاب سنگھ کے نئے جانشین ہیں۔
گلاب سنگھ کے نئے جانشینوں کے اس گروہ میں دوقسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ایک وہ جو کشمیر کی جبری تقسیم اور اس پر بھارت اور پاکستان کا جبری قبضہ مسلط کئے جانے کے واقعات کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں اور وہ بھارت کے سیکولرازم اور جمہوریت کے جھوٹے پروپیگنڈے کے زیر اثر اور بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ دوسرے وہ ہیں جو سویٹ یونین کے تحلیل ہو جانے، چین میں نئے معاشی تجربات ہونے ، بین الاقوامی سطح پر سوشلسٹ اور سامراج مخالف قوتوں کی پسپاہی اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں بنیادی انسانی و جمہوری اور قومی حقوق کے فقدان سے ناامید اور مایوس ہوکر غلامی کے راستوں میں آزادی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان رواجی قوم پرستوں کو اپنے ملک کے عوام کی طاقت اور قوت پر بھروسہ اور اعتماد نہیں ہے اور انہیں کشمیر کی وحدت اور خود مختاری کی بحالی کےلئے کسی نئے گلاب سنگھ کی تلاش ہے جو انہیں نریندر مودی جیسے کٹر برہمن پرست اور فاشسٹ لیڈر کی شکل میں ہی مل سکتا ہے ۔ (جاری ہے)