بنگلہ دیش: مشکلات کے دہانے پر

  • تحریر
  • ہفتہ 09 / جولائی / 2016
  • 4893

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جب دنیا بھر میں مسلمان مغفرت کی دعائیں مانگ رہے تھے، یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے خونیں واقعات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔استنبول، بغداد، سعودی عرب میں جدہ، قطیف اور مدینہ منورہ اور ڈھاکہ میں دہشت گردی نے سب کو چکرا کر رکھ دیا۔ ترکی، عراق اور سعودی عرب میں دہشت گردی کے ان واقعات کا ایک مخصوص علاقائی پس منظر ہے لیکن بنگلہ دیش میں دہشت گرد حملہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی خونیں واقعہ تھا۔ عالمی میڈیا نے ڈھاکہ میں ہولی آرٹیسن کیفے پرحملے کا تعلق داعش اور القاعدہ سے جوڑا تو بنگلہ دیشی حکومت نے اصرار کیا کہ اس حملے کے تانے بانے سراسر مقامی ہیں۔ بلکہ اس نے ایک مقامی انتہا پسند تنظیم پر الزام بھی دھر دیا۔ اس سے قطع نظر کہ یہ حملہ سراسر مقامی قوتوں کا کام تھا یا نہیں، یہ حملہ اپنے پیچھے بہت سے سوالات اور اندیشے چھوڑ گیا ہے۔

بنگلہ دیش سولہ کروڑ کی آبادی کے ساتھ دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا ملک ہے۔ معاشی طور پر عالمی بنک کے پیمانے کے مطابق یہ ملک دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل تھا لیکن گذشتہ چھ سال کے دوران مسلسل چھ فی صد سے زائد جی ڈی پی گروتھ کی وجہ سے اس کی معیشت اب اس قدر بہتر ہو گئی ہے کہ عالمی بنک نے پچھلے سال بنگلہ دیش کو کم آمدنی والے ملکوں کی فہرست سے نکال کر اوسط آمدنی والےLow middle income گروپ میں شامل کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش اس وقت چین کے بعد امریکہ اور یورپ کو گارمنٹس برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا سب بڑا ملک ہے۔ گارمنٹس کی سالانہ برآمدات چھبیس ارب ڈالر کی ہیں جو ملک کی کل برآمدات کا اسّی فی صد ہیں۔ کئی سال کی مسلسل معاشی ترقی اور برآمدات میں ہر سال اضافے نے ملک میں مڈل کلاس کو فروغ دیا ہے اور غربت میں یقیناً کمی ہوئی ہے۔دنیا کی ایک بڑی اور مشہور ایڈورٹائزنگ کمپنی Ogilvy & Mather نے بنگلہ دیش کو بھارت اور فلپائن کے ساتھ ان بارہ ملکوں میں شامل کیا ہے جہاں آنے والے سالوں میں ایڈورٹائزنگ بزنس میں ترقی کے روشن امکانات ہیں۔ معاشی فرنٹ پر اتنی اچھی خبروں کے باوجود بنگلہ دیش کے بارے میں کئی سیاسی اور غیر سیاسی خبروں کی بناء پر کچھ عرصے سے ماہرین کو خدشہ تھا کہ معاشی استحکام کے نیچے سیاسی اور امن و امان میں عدم استحکام کی فالٹ لائن بھی اسی تیزی سے متحرک ہو رہی ہے جو جلد ہی جوبن دکھائے گی۔

بنگلہ دیش گذشتہ دوِ دہائیوں سے شدید سیاسی تقسیم اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ ملک کی دو بڑی سیای پارٹیوں میں دشمنی، ذاتی لڑائی کی شکل اختیا ر کر گئی ہے۔ حسینہ واجد اور بیگم ضیاء الرحمان کے درمیان ملک پھنس کر رہ گیا ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت نے 2009 میں اقتدار سنبھالا تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی لانے کی بجائے اپنے پے در پے اقدامات سے سیاسی مخاصمت اور انتقام کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ بیگم ضیاء الرحمان پر عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔ جماعت اسلامی سمیت بے شمارسیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ بھی عروج پر ہے۔ ہم نے اپنے تیرہ مئی کے کالم میں اس سیاسی تقسیم اور تفریق کا کچھ یوں تجزیہ کیا تھا۔ ’ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت نے سیاسی تقسیم اور انتقام کو جس مقام پر پہنچا دیا ہے اس کے نتائج بھیانک دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی عمل میں سے اپنے مخا لفین کو زبردستی باہر کرنے کے عمل میں یہ خلاء مذہبی انتہا پسندوں اور کئی جنونی گروپس نے پورا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اپنے سیاسی مخا لفین کو ٹھکانے لگانے کے جنون میں حسینہ واجد کی حکومت ان انتہا پسندوں سے آنکھیں چرائے ہوئے ہے جس سے معاشرے میں تقسیم اور عدم برداشت نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ‘

ٌگذشتہ تین سالوں کے دوران مذہبی انتہا پسندی اور تشدد کی لہر کے ہاتھوں اسّی سے زائد بلاگرز، پروفیسرز، اقلیتی مذہبی افراد اور سیکولر خیالات کے حامل دانشور ہلاک ہوئے۔ حکومت نے ہر نئے واقعے کے بعد پکڑ دھکڑ کر کے تاثر دیا کہ وہ اس انتہاء پسندی کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہے لیکن مخالفین کچھ اور ہی دہائی دیتے رہے۔ شدت پسندوں کی سرکوبی کی آڑ میں ہزاروں سیاسی مخالفین کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ اس تنقید کا جواب یہ تھا کہ اپوزیشن کا ہاتھ ان تشدد پسندوں کی پشت پر ہے۔ صرف جون کے مہینے گیارہ ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ لاوا پکتا رہا اور یکم جولائی کو سفارتی علاقے میں قائم انتہائی سیکورٹی والے علاقے میں اس کیفے پر سات حملہ آوروں نے آتشیں اسلحے اور گرینیڈز کے ساتھ حملہ کر دیا۔ غیر ملکیوں کو علیحدہ کیا اور بھون ڈالا۔ دو درجن سے زائد لوگوں کو یرغمال بنائے رکھا۔ بارہ گھنٹوں بعد اس حملے کا ڈراپ سین ہوا تو چھ حملہ آور ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ بیس سے زائد لوگ مارے گئے جن میں نو اطالوی، سات جاپانی، ایک امریکی اور ایک بھارتی شہری بھی شامل تھا۔

حملے کا ڈراپ سین تو ہو گیا لیکن کئی دیگر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ اتنے خوفناک حملے کے بارے میں انٹیلی جنس پیشگی سراغ لگانے یا وارننگ دینے میں کیوں ناکام رہی۔ یہ کیفے گلشن کے انتہائی سیکورٹی الرٹ والے علاقے میں ہے جہاں زیادہ تر سفارت خانے واقع ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ 2009 میں ڈھاکہ کے ایک سفر کے دوران اسی علاقے میں موجود پاکستانی سفارت خانے میں کمرشل قونصلر سے ملنے گئے تو کئی سیکورٹی حصار پار کرنے پڑے۔ ایسے ہائی سیکورٹی الرٹ علاقے میں اس واقعے نے سفارتی حلقوں کو خوف زدہ کر دیا ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کے عام پروفائل کے برعکس اس حملے میں شامل تمام نوجوان کھاتے پیتے خوشحال گھرانوں سے تھے اور یونیورسٹی تعلیم یافتہ تھے۔ یہ تمام نوجوان اشرافیہ کی سکہ بند پراڈکٹ تھے۔ یہ کب اور کیسے شدت پسند ہوئے ، ان کے گھر والوں کو بھی پتہ نہ لگا۔ انہیں یہ تو اندازہ تھا کہ ان کے بچے مذہبی سخت گیری کی طرف مائل تھے لیکن کب وہ شدت پرست ہو گئے، ماں باپ کو پتہ ہی نہ لگا۔ ایک حیرت انگیز بات اور ہوئی ، یہ نوجوان چند ماہ قبل اپنے گھروں سے بِلا اطلاع غائب ہو گئے۔ کچھ گھر والوں نے پولیس میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ بھی کروائی۔ اس دوران وہ کہاں تھے؟ کس کس سے رابطے میں تھے؟ ابھی تک کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

اس حملے کے سا تھ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمد یعنی گارمنٹس ایکسپورٹس پر بھی ایک سوال لگ گیا ہے۔ گارمنٹس کی برآمد پر ممکنہ منفی ا ثر کے ساتھ ساتھ اس صنعت سے وابستہ لاکھوں ورکرز اور نوزائیدہ مڈل کلاس کے معاشی استحکام پر بھی مشکوک ہو گئی ہے۔ 2013 میں رانا پلازہ کے اندوہناک واقعہ ( جس میں گیارہ سو سے زائد ورکرز ہلاک ہو گئے ) کے بعد عالمی برانڈز پہلے ہی محتاط تھے۔ اب اس حملے کے بعد انہیں اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ کئی عالمی برانڈز نے اپنے سٹاف کو بنگلہ دیش کے سفر سے فی الحال روک دیا ہے۔ اب آگے کیا ہو گا ؟ گارمنٹس انڈسٹری اور معیشت پر اس اچانک انہونی سے انڈسٹری اور حکومت حیران و پریشان ہیں۔

حملے کے بعد حکومت نے سوشل میڈیا پر چڑھائی اور پکڑ دھکڑ کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت جب تک سیاسی تقسیم اور انتقام کے اندھے پن سے باہر نہیں نکلتی ، اسے تشدد پرستی کی سالوں سے پھیلتی اور متحرک فالٹ لائن کے حدود اربع کا اندازہ نہیں ہو پائے گا۔ اس فالٹ لائن کو روکنے کے لیے جس قومی وحدت کی ضرورت ہے وہ بھی فی الحال مفقود ہے۔ اندیشہ ہے کہ دہشت گردی کی سرکوبی کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کا نیا سلسلہ نہ شروع ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ایک ہونی تو جو ہوئی سو ہوئی، مستقبل میں کئی مزید انہونیاں ہو سکتی ہیں۔ امید اور دعا ہے کہ مسلم ممالک اپنا دامن اور بندِ قبا دیکھنے میں مزید کوتاہی نہ کریں۔