ایدھی مر گئے سوال چھوڑ گئے
- تحریر اختر چوہدری
- اتوار 10 / جولائی / 2016
- 8647
ایدھی مر گئے۔ مردہ پرست قوم کو ایک اور مزار میسر ہو گیا۔ مبارک ہو۔ دیا جلاؤ۔ چادر چڑھاؤ۔ جھنڈا گاڑو۔ 88 سال کا بوڑھا ایدھی 60 سال سے غربت، جہالت، بدنظمی، کج فہمی، بے انصافی اور تذلیلِ انسانیت میں لَت پَت پاکستان میں شرفِ انسانیت کے بُت گاڑتا گاڑتا اب خود چھ فٹ مٹی تلے گڑ گیا۔ اب سرکاری جنازےکرو۔ قومی جھنڈا سر نگوں کرو۔ بڑی بڑی سرخیاں لگاؤ۔ وزیرو، سفیرو - تصویریں بنواؤ۔ دنیا کو پھرسے طعنہ دو کہ ایدھی کی بڑائی کو نہ سمجھی اور نوبل انعام عطا نہ کیا۔ تُف ہو تم پر، ایک مسلمان کی خدمات کو نہ سراہا۔
ایدھی مر گئے۔ اب پاکستانیوں کو دو سوالوں کا جواب ڈھونڈنا ہو گا: اوّل: اس ملک کو ایدھی کی ضرورت کیوں تھی؟
جن معاشروں اور ریاستوں میں افراد اور ریاست کے مابین مدنی معاہدہ زندہ و جاوید ہو وہاں لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ریاست کے خزانہ میں اپنا "حقّ ِ معلومہ" بخوشی داخل کرتے ہیں۔ ریاست اپنی قوت کے بل پر اور ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ، وسائل کو افراد کی فلاح کے لیے اس طرح صرف کرتی ہے کہ ساری ریاست ایدھی فاؤنڈیشن بن جاتی ہے اور کسی ایدھی کی ضروری باقی نہیں رہتی۔ تو سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایدھی کی ضرورت کیوں تھی؟
دوسرا سوال یہ ہے: ایدھی مر گئے - اب کیا ہو گا؟
کیونکہ کل اور آج میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کل جب ایدھی زندہ تھا تب بھی میّتیں بے کفن اور لاوارث تھیں، اور آج جب ایدھی مر گیا تب بھی میّتیں بے کفن اور لاوارث ہیں۔ کل جب ایدھی زندہ تھا تب بھی بچے یتیم و لاوارث تھے، آج جب ایدھی مر گیا تب بھی بچے یتیم و لاوارث ہیں۔ کل جب ایدھی زندہ تھا تب بھی بوڑھے اور کم سن ہاتھ سڑکوں پر لاوارث و بے بس چند سکّوں کی امید پر پھیلے ہوئے تھے۔ آج جب ایدھی مرگیا تب بھی بوڑھے اور کم سن ہاتھ سڑکوں پر لاوارث و بے بس چند سکّوں کی امید پرپھیلے ہوئے ہیں۔
کب تک پاکستانی زندہ اِیدھیوں کے کندھوں پر اپنے مردہ ضمیرکی لاش لادے دنیا کو طعنے دیتی پھریں گے کہ ایک مسلمان کو نوبل انعام نہ دیا؟ کب تک پاکستانی مردہ اِیدھیوں کے مزار پر دئے جلا کر اپنی انسانی، مدنی اور اسلامی ذمہ داریوں سے فراغت کا تعویز خریدیں گے؟
وقت کا تقاضہ ہے کہ اِیدھیوں کا جھنڈا چڑھانے اور ان کا مزار بنانےکی بجائے، ریاست کی بنیادیں استوار کرنا شروع کریں۔
سورۃ بقر کی پہلی آیات میں لکھا ہے کہ یہ مومن، اس رزق کو، جو ہم نے ان کو دیا ہے، اپنی ضرورت پورا کرنے کے بعد، دوسروں کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ دنیا کی جدید فلاحی ریاستوں نے اپنی عملی تجربہ سے ثابت کیا ہے کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے تکریمِ انسانیت استوار کی جا سکتی ہے۔ باقی سب جھوٹ ہے، منافقت ہے اور وہ جہنم ہے جس کی نظیر قرآن کے صفحات میں واضح لکھی ہے۔