مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح

محترمہ فاطمہ جناح 30جولائی1893کو پیدا ہوئیں آپ اپنے سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ اس وقت آپ کے والدین کراچی میں وزیر مینشن اپارٹمنٹ کی دوسری منزل پر رہتے تھے جو کرایہ پر لیا ہوا تھا ۔ محترمہ کے بھائیوں میں محمد علی، احمد علی،بندے علی ، رحمت علی جبکہ بہنوں میں مریم اور شیریں شامل تھیں۔ فاطمہ جناح اپنے بہن بھائیوں میں محمد علی کے زیادہ قریب تھیں اور 1901میں والد کی وفات کے بعد محمد علی ہی آپ کے سرپرست بنے تھے۔ 1902میں بمبئی باندرا کانونٹ Bandra convent سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔1919میں کلکتہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے ڈاکٹر آر احمد ڈینٹل کالج سے دندان سازی کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1923میں بمبئی میں اپنا ڈینٹل کلینک کھولا۔ 1918 میں جناح کی رتن بائی کے ساتھ شادی ہونے تک وہ اپنے بھائی محمد علی کے ساتھ قیام پذیررہیں۔ فروری 1929میں رتن بائی کی وفات کے بعد آپ نے اپنا کلینک بند کردیا اور اپنے بھائی محمد علی جناح کے گھر میں رہنے لگیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کے گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور یہیں سے فاطمہ جناح کا اپنے بھائی سے ایسا تعلق پیدا ہوا جوان کی وفات تک قائم رہا ۔ قائداعظم کی زندگی کی آخری دہائی میں جس شخصیت نے آپ کا لمحہ بہ لمحہ ساتھ دیا اور ان کی ہمت بڑھائی، وہ محترمہ فاطمہ جناح ہی تھیں ۔1932 میں لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں بھی آپ اپنے بھائی کے ساتھ شامل ہوئیں۔1941میں مسلم خواتین سٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام میں بھی آپ نے بھرپور دلچسپی لی جس نے بعد میں تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیاتھا۔

تحریک پاکستان کی انتھک جدوجہد میں فاطمہ جناح کا کردار ہماری تاریخ کا سنہری باب ہے ۔محترمہ فاطمہ جناح دو قومی نظریہ کی بہت بڑی علمبردار تھیں اور آزادی کے آخری سالوں میں اس کی بنیاد پر مسلم لیگ خواتین کو فعال کیا۔قائد اعظم نے ایک بار اپنی اس بہن کے بارے میں کہا تھا کہ میں جب بھی گھر واپس آتا تھا اور ان سے ملتا تو فاطمہ میرے لئے ایک روشنی اور امید کی ایک روشن کرن کی طرح محسوس ہوتی تھیں۔ اگر فاطمہ مجھ پر بہت سی پابندیاں عائد نہ کرتیں تو میری صحت بہت خراب ہوتی اور فکروں میں بہت اضافہ ہوتا ۔بانی پاکستان کے ان الفاظ سے نہ صرف فاطمہ جناح کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ا ن کی اپنے بھائی سے والہانہ محبت و عقیدت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ بطور خاتون فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں میں جس طرح دن رات کام کیا اور اپنے بھائی کا ساتھ دیا اس سے خواتین کا سر بھی فخر سے بلند ہوتا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح جنہیں بعد میں قوم نے مادر ملت کا خطاب دیا ، نے ہر عوامی جلسے میں اپنے بھائی کے ساتھ شرکت کی اور ان کی مدد کی، ان کا حوصلہ بڑھایا اور بوقت ضرورت قابل عمل مفید مشورے بھی دیئے، جس کے نتیجہ میں بانی پاکستان تمام اندرونی اور بیرونی مشکلات اور مخالفت کے باجود اپنے دشمنوں کو شکست دیتے چلے گئے۔

1947کے پراشوب دور میں قائد اعظم نے خواتین ریلیف کمیٹیWomen180s Rrelief commiittee قائم کی تھی ۔ کمیٹی نے مہاجرخواتین کی پاکستان میںآباد کاری میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔ اس میں محترمہ فاطمہ جناح کا کردار بہت غیر معمولی رہا آپ نے پاکستان بھر کے مختلف شہروں کے دورے کئے اور سیاسی طور پر مسلم لیگ اور خواتین کو فعال کرنے میں اپنی سیاسی بصیرت اور سوجھ بوجھ کا بھرپور استعمال کیا ۔ مسلمان خواتین کو فعال و متحرک کیا جنہوں نے بعد میں مسلم لیگ کو مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعد میں یہی کمیٹی آپواAPWA, All Pakistan women Association کے قیام کا بھی محرک بنی جس کو محترمہ رعنا لیاقت علی خان نے قائم کیا تھا۔ مادر ملت کے ذکر کے بغیر تاریخ پاکستان نا مکمل رہے گی ۔ اپنے بھائی کی وفات پر جس طرح ہمت، صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اس سے بھی ان کی شخصیت مزید کھل کر سامنے آئی تھی۔

اپنے عظیم بھائی کی وفات کے بعد کئی سال تک محترمہ فاطمہ جناح ملکی سیاست سے دوررہیں لیکن آپ نے قوم کو آزادی کے مقاصد یاد کرانے اور نصب العین کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کے لئے متعدد بار قوم سے خطاب کیا اور پیغامات بھی دئے ، جو ہماری سیاسی تاریخ میں محفوظ ہیں ۔ ایوب خان کے دور میں بطور صدارتی امیدوار آپ نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں عظیم الشان ریلیوں کی ولولہ انگیز قیادت کی ۔ اس مہم میں کی گئی تقاریر سے ان کی جمہوری سوچ اور عوام اور عوامی مسائل سے دلچسپی کا پتہ چلتا ہے ۔1960میں وہ ملکی سیاست میں متحرک ہوئیں اور عوام کے ساتھ رابطوں کے لئے گھر سے باہر نکلیں ان کی سیاست کا سب سے اہم اور بڑا واقعہ صداتی انتخاب میں بطور صدارتی امیدار شرکت کرنا تھا۔ اس کے لئے آپ نے اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد کئے جانے کے بعد ایوب خاں کو بطور ڈکٹیٹر ایک سیاسی مخالف قرار دیا اور اس کی بہت سے پالیسیوں کو مقاصد آزادی کی نفی کہاتھا۔ 1965کے صدارتی الیکشن میں ایوب خان کے مقابلہ میں آپ نے قوم کے سامنے ایک نو نکاتی پروگرام پیش کیا تھا اور پھر مغربی اور مشرقی پاکستان میں طوفانی دورے کئے جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ان دوروں کی وجہ سے آپ کی عوامی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔ اسی مہم کے دوران حکومت وقت کی جانب سے سیاست سے الگ ہوجانے کے مشوروں کے جواب میں محترمہ فاطمہ جناح نے اس وقت کی حکومت سے استفسار کیا کہ میں اپنے ان نیک خواہوں سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنے باطن میں جھانک کر دیکھیں اور پھر بتائیں کہ خود انہوں نے میرے اس مقام اور حیثیت کو بے وقار کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔

ایوب خان کے دورحکومت کے دور میں مادر ملت کے ساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھا گیا ،وہ پاکستانی نسلوں کو ہمیشہ کے لئے شرمندہ کرتا رہے گا ۔ آپ کی بعض اہم تقاریر کے اہم نکات سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ملکی سیاست میں پاکستان مخالف مذہبی جماعتوں کی سیاسی اجارہ داری کے باعث بانی پاکستان اور مادر ملت دونوں کا نظریہ اور تصور پاکستان پس پشت ڈال دیا گیا ، جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔1951 میں قائد اعظم کی تیسری برسی کے موقع پر ان کی تقریر میں بار بار مداخلت کی گئی کیونکہ اس میں آپ نے حکومت وقت کی بعض پالیسیوں پر تنقید کی تھی ۔مادر ملت نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قیام پاکستان کا مقصد شہریوں کوپرسکون آزاد اور پر مسرت زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ تمام شہری ترقی اور خوشحالی میں یکساں شریک ہوں۔ اس جمہوری مملکت میں ہر شخص کو عقیدے، تحریر و تقریر اور تنظیم سازی کی آزادی ہونی چاہیئے۔ یہ بات مادر ملت نے 14اگست1957کو یوم پاکستان کے موقع پر قوم کے نام خطاب کرتے ہوئے کہی تھیں۔ اپریل1954میں اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ پاکستانی عوام ہر حال میں اپنی آزادی اور خود مختاری کی حفاظت کریں گے۔ پاکستان جمہوریت کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا اور یہ جمہوری ملک ہی رہے گا اور جمہوریت میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ 1964میں عید الفطر کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں مادر ملت نے فرمایا کہ سیاسی عدم استحکام چند ایسے طبقوں کی خباثتوں کا نتیجہ ہے جو اقتدار پر قابض ہیں اور خود کو حب الوطنی اور عقل و دانش کا نمونہ سمجھتے ہیں۔

بد قسمتی سے یہی سوچ آج بھی پاکستان پر حکمرانی کر رہی ہے جس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کی اچانک اور پراسرا موت آج بھی ایک معمہ ہے۔ آپ 9 جولائی کی شب اپنی قیام گاہ قصر فاطمہ کراچی میں74برس کی عمر میں وفات پا گئیں ۔ ان کے گلے پر سرخ نشان بھی پایا گیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اس وقت پاکستان میں کوئی بھی ان کا عزیز یا رشتہ دار موجود نہ تھا۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت کی حکومت نے ان کی وصیت کے مطابق اپنے بھائی کے پہلومیں دفنانے کی بجائے مقبرہ کے احاطہ میں دفن کیا ۔