پھر ہمی قتل ہو آئیں یارو چلو!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 12 / جولائی / 2016
- 5804
کہنے کو امریکہ دنیا کا مہذب ترین ملک ہے، یہاں سے نام نہاد علم و ہنر کی روشنی ساری دنیا میں پھیل رہی ہے لیکن خود امریکہ میں رنگ و نسل کے نام پر جس درندگی کا مظاہرہ ہو رہا ہے وہ انسانیت کے نام پر ایک بدنما داغ ہے۔ اس بربریت کی بدترین مثال مارٹن لوتھر کنگ کا سفاکانہ قتل ہے۔ مارٹن لوتھر دنیا کی چند عظیم المرتبت ہستیوں میں سے تھا۔ اس کو نہ صرف اس کے پیروکار بلکہ دنیا کے سیاہ فام لوگوں کے علاوہ، اس کے دشمن بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کی موت نے دنیا کو ایک عظیم الشان انسان سے محروم کر دیا ہے کہ ہر شخص اپنی ذہنیت کے مطابق جیتا ہے اور اکثر مرتا بھی ہے۔
1964 سے آج تک امریکہ اور یورپ کے سیاہ فام اپنے اس رہنما کا دن نہایت جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ مارٹن لوتھر کنگ عدم تشدد اور پرامن طریقے سے امریکی سیاہ فام لوگوں کے حقوق کےلئے جنگ کر رہا تھا، وہ حضرت عیسیٰ ؑ، گاندھی اور ڈیوڈ تھورد کی تعلیمات سے بہت متاثر تھا اور ان نظریات پر عمل کرتے ہوئے عدم تشدد پر سختی سے کاربند رہا۔ سب سے پہلے 1955 میں دنیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ اس عالمگیر شہرت کے حوالے سے لوگ اس سے بہت سی توقعات وابستہ کرنے لگے اور وہ اپنے مظلوم لوگوں کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے امریکی حکومت سے ٹکرا گیا۔ اس نے سب سے پہلے امریکہ کی ریاست منٹگمری میں بسوں کا بائیکاٹ کیا۔ کالے لوگوں کو بسوں میں علیحدہ پیچھے کی طرف مخصوص سیٹوں پر بیٹھنا پڑتا تھا اور سیٹ پر بیٹھے ہوئے کالے مرد یا عورت کو کھڑے سفید فام افراد کےلئے جگہ خالی کرنی پڑتی تھی۔ کنگ کا یہ عدم تشدد سے بھرپور احتجاج کامیاب رہا اور حکومت کے ارباب اختیار نے یہ سوچتے ہوئے کہ پرامن احتجاج کہیں ہنگاموں میں تبدیل نہ ہو جائے، کنگ کا مطالبہ مانتے ہوئے یہ امتیازی سلوک ختم کر دیا۔ اس سے پہلے امریکی حکومت مارٹن لوتھر پر دو بار قاتلانہ حملہ کروا چکی تھی۔ اس سلسلے میں ایک بار اس کے گھر کو بم سے اڑا دیا گیا اور دوسری بار جب وہ ایک کامیاب جلسے میں تقریر کے اختتام پر اپنے مداحوں کو آٹو گراف دے رہا تھا تو ایک سیاہ فام عورت نے اس پر چھرے سے حملہ کر دیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔
مارٹن لوتھر کنگ 15جنوری 1929 کو جارجیا ریاست کے اٹلانٹا شہر (جہاں ان دنوں معروف ٹیلی ویژن ادارے سی این این کا ہیڈ آفس ہے) میں پیدا ہوا اس کا باپ آئرش نیگرو نسل سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی ماں خالصتاً افریقی سیاہ فام تھی۔ اس کے باپ کی بہت بڑی فیملی تھی۔ مارٹن کے نو بھائی بہن تھے۔ اس کا باپ اوباش قسم کا شرابی تھا، شراب پی کر وہ مارٹن کی ماں سے بدسلوکی کرتا، اس کو گالیاں دیتا اور مار پیٹ کرتا تھا۔ مارٹن کے ساتھ بچپن میں نسلی امتیاز کے بہت سے تلخ واقعات پیش آئے جنہوں نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالا۔ جس سے وہ تنہائی کا شکار ہو گیا۔ ایک دفعہ جب وہ محض سات آٹھ سال کا بچہ تھا اور اسکول سے اپنے گھر واپس آ رہا تھا تو ایک سفید فام امریکی نے اسے بالٹی میں پانی بھرنے اور اسے اٹھا کر لانے پر مجبور کیا۔ میکائل (مارٹن کے بچپن کا نام) نے انکار کر دیا اس پر سفید فام امریکی نے اس کے نازک گال پر ایک بھرپور طمانچہ جڑ دیا۔
میکائل روتا ہوا بھاگ کر گھر آیا اور اپنی ماں سے اس سفید فام کی شکایت کی۔ ماں اپنے بیٹے کو لے کر اس سفید فام آدمی کے پاس آئی اور ا س سے پوچھا کہ کیا اس نے میکائل کو مارا ہے؟ اس پر سفید فام نے کہا کہ ہاں مارا ہے اور تم کر لو جو کرتی ہو؟ یہ سنتے ہی مارٹن کی ماں ایک خونخوار کالی بلی کی طرح اس پر پل پڑی اور اس کو زمین پر گرا دیا پھر اس پر چڑھ بیٹھی اور اسے بری طرح پیٹا۔ مارٹن کی ماں نہایت جری اور بہادر خاتون تھی۔ اس واقعہ کا مارٹن کی زندگی پر گہرا اثر ہوا۔ وہ اکثر یہ واقعہ اپنے دوستوں کو سنایا کرتا تھا۔ اس واقعہ نے اسے ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیا۔ لیکن اپنی ماں کے طریقے سے نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد کے طریقہ کار سے۔ مذہب نے بھی مارٹن لوتھر کنگ کی زندگی میں ایک اہم رول ادا کیا تھا۔ وہ کہتا تھا مجھے ورثہ میں عیسائیت کے عقائد ملے تھے اور ان عقائد کو عملی جامہ پہننے کےلئے میں نے مہاتماگاندھی کا طریقہ کار استعمال کیا۔
دسمبر 1955 میں جب مارٹن نے منٹگمری البامہ میں بسوں کا بائیکاٹ شروع کیا، وہ اس وقت بوسٹن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر آیا تھا۔ یہ بائیکاٹ ایک سال تک پرامن طریقے سے چلتا رہا، یہاں تک کہ حکومت کو اس نسلی امتیاز کا خاتمہ کرنا پڑا۔ اس کے لئے نہ صرف اس کے ساتھیوں نے گرفتاریاں دیں بلکہ مارٹن بھی کئی مرتبہ گرفتار ہوا لیکن اس واقعہ سے سیاہ فام آبادی میں امید و یقین کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ مارٹن لوتھر کنگ نے 1959 میں بھارت کا دورہ کیا تھا اس نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں مہاتما گاندھی کے نظریات کی بڑی تعریف کی تھی۔ خود اس کے گھر میں مہاتما گاندھی کی ایک تصویر آویزاں ہے۔ مہاتما گاندھی کا پوتا راج موہن گاندھی اس کے ذاتی دوستوں میں شمار ہوتا تھا۔ امن نوبل پرائز حاصل کرتے وقت مارٹن کی عمر 35 برس تھی اور وہ اس وقت تک یہ انعام حاصل کرنے والا دنیا کا سب سے کم عمر انسان تھا۔ اس انعام سے ملنے والے لاکھوں ڈالر اس نے سیاہ فام تحریک کےلئے وقف کر دیئے۔ وہ اپنی زندگی میں سقراط سے بھی متاثر تھا اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس کے دونوں ہیرو گاندھی اور سقراط کا بھی وہی انجام ہوا جو مارٹن لوتھر کا۔ سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑ ااور گاندھی کو گولی مار دی گئی۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ سچ کا بول بالا ہو گیا۔ اگر یہ پتہ نہ چلے کہ جھوٹ کون بول رہا ہے تو قتل تو سچ ہی کا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سچ کی حمایت میں قتل ہونے کے عمل کو شہادت کہتے ہیں۔