ترکی کی علاقائی پالیسی پر نظرِ ثانی

ترکی میں گزشتہ ایک سال سے دہشت گردی ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ترک ریاست پچھلی تین دہائیوں سے نسلی دہشت گردی Ethnic Terrorism کا شکار تھی، اب  مذہبی دہشت گردی نے اس صورتِ حال کو بدل دیا ہے۔ کُرد علیحدگی پسند عبداللہ اوجلان جوکہ کُردستان ورکرز پارٹی کا لیڈر ہے، اپنی مسلسل جلاوطنی سے ترکی میں دہشت گردی کے واقعات کی رہنمائی کررہا تھا۔

سابق وزیراعظم بلند ایجوت مرحوم نے 1999ء میں ڈرامائی انداز میں نیروبی سے گرفتار کرکے جہاں اس مطلوب کُرد رہنما کو پابند سلاسل کیا تھا۔  اس گرفتاری  کے نتیجے میں انہوں نے  پر انتخابات میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔ اسّی کی دہائی سے کُردستان ورکرز پارٹی کی طرف سے دہشت گردی کی جنگ کے دوران تیس ہزار سے زائد ترک شہری، فوجی اور کُرد ہلاک ہوئے ہیں۔ کُرد علیحدگی پسند تحریک عراق میں امریکی مداخلت کے بعد مزید طاقتور ہوئی۔ ایک علیحدہ کُرد ریاست کا خواب چار مختلف ریاستوں (ترکی، ایران، عراق، شام) کے درمیان سرحدوں کے اندر پروان چڑھانے میں یورپ، امریکہ، اسرائیل اور روس نے اپنے اپنے طور طریقے سے ادا کیا۔ ترکیہ جمہوریہ شروع دن ہی سے اس مسئلے سے نبرد آزما تھی۔ اسّی کی دہائی میں پہلی عراقی جنگ اور پھر دوسری عراقی جنگ کے بعد سے یہ مسئلہ نئی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ مشکلات ترک ریاست کو دوچار ہیں کہ جہاں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ کُرد آباد ہیں۔ ترکوں نے کُردوں کو پچھلی دو دہائیوں میں مختلف اصلاحات کے ذریعے مین سٹریم میں لانے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرف سے ایک نئی کُرد ریاست کے وجود کی خواہش اور دیگر عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں اس خواب کی تعبیر ترکی کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے جسے ترکی پچھلی نو دہائیوں سے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف انداز میں نمٹتا چلا آ رہا ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے لبنان اسرائیل جنگ 2006ء میں ایک پالیسی بیان دے کر درحقیقت نئے مشرقِ وسطیٰ (New Middle East) کا جو تصور پیش کیا تھا، اس کے تحت پرانی ریاستوں کے بطن سے نئی ریاستیں بنانا اور کچھ ریاستوں کو مستقل میدانِ جنگ بنایا جانا شامل ہے۔ اگر ہم 2006ء سے آج تک مشرقِ وسطیٰ کے اندر رونما ہونے والے واقعات کو دیکھیں تو آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے کہ امریکی سامراج کس مشرقِ وسطیٰ کو نیا مشرق وسطیٰ New Middle East کہتا ہے۔ لیبیا، عراق اور شام جیسی مضبوط عرب ریاستوں کی کمر توڑ کر اُن کو علاقائی میدان جنگ Battlefields میں بدلنا، یمن اور سعودی عرب کے مابین تنازعات کو تقویت دینا اور ان میں کامیابی اس نئے مشرقِ وسطیٰ کا راستہ ہے۔ تیونس اور مصر میں اسلام پسندوں کی کامیابی اور پھر مصر میں اسلام پسندوں نے جس جلدبازی کے ساتھ پرانے نظام سے اپنے نظریات کی طرف منتقلی Transition کی بجائے مہم جوئی سے سر کرناچاہا ، اس نے امریکہ اور اسرائیل کے لیے آسانیاں پیدا کردیں۔

اس سارے عمل میں اگر آپ گہرائی سے مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ عالمی طاقتوں نے مشرقِ وسطیٰ کے قدیم ترین باسیوں یعنی عربوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب خطے میں کوئی Potential Arab State باقی نہیں رہی۔ خطے میں اب دو قسم کی عرب ریاستیں ہیں، امریکی سامراج کے رحم وکرم پر چلنے والی بادشاہتیں یا پھر اس کی فساد زدہ ریاستیں۔ لیبیا، عراق اور شام کی کمر ٹوٹنے سے عرب دنیا میں طاقت کا توازن بکھر گیا ہے۔ مصر اب سراسر امریکی رحم وکرم پر ہے اور آئندہ مذہبی دہشت گردی کا اہم ترین مرکز بنے گا۔ یہی امریکہ اور اسرائیل کو سوٹ کرتا ہے۔ دہشت گرد کارروائیوں سے اسلامی نشاۃِ ثانیہ کا خواب دیکھنے والے دنیا بھر کے لاتعداد ’’مسلمان مفکرین‘‘ لاشعوری طور پر امریکی سامراج کے لیے درحقیقت ہراول دستے کا کام کررہے ہیں۔ عربوں کی کمر ٹوٹتے وقت ہی درحقیقت عرب دنیا سے ایک ایسا فکری اتحاد ٹوٹا جو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں برپا ہوا، وہ تھا عرب نیشنل ازم اور سوشلزم۔ ان دو فکری ستونوں کے بعد عرب دنیا کا غرور عرب صحراؤں میں ملیا میٹ کردیا گیا اور اس سارے عمل میں مشرقِ وسطیٰ کے اہم اور غیرعرب کھلاڑی ایران نے بڑی چابکدستی سے اپنا کردار بڑھایا اور مضبوط کرلیا۔ عراق میں وہ امریکہ کا اتحادی ہے، شام اور لبنان میں روس کا اتحادی ہے، کیا شاندار تضاد ہے اپنے قومی مفادات کے لیے۔ عرب دنیا یا مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ، روس، چین حتیٰ کہ یورپ، سب کے ساتھ مختلف انداز میں سرگرم ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں دو ہی علاقائی ریاستیں ہیں جن کو خطے کی اہم ریاستیں Potential States کہا جا سکتا ہے، ایرانی اور ترک ریاستیں۔

ایران اپنے تہذیبی پس منظر کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے تضادات سے کھیلنا خوب جانتا ہے۔ اگر وہ اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو وہ مشرقِ وسطیٰ کی سب سے طاقتور معیشت بن سکتا ہے۔ ایران نے کُرد مسئلے کو جس جبر سے حل کیا، اس میں بھی امریکی اس کے اتحادی ہیں۔ ایرانی اپنے تہذیبی پس منظر کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ میں کردار کو مزید وسعت دینے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی انداز میں ایٹمی مہارت اور میزائل ٹیکنالوجی پر عبور پا چکے ہیں۔ ایسے میں ترک ریاست کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، جوکہ نیٹو رکن ہے۔ لیکن وہ ایران جیسے ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی میں خودکفالت کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی۔ ترک ریاست نے پچھلی ایک دہائی میں خطے میں اپنے کردار کو وسعت دیتے ہوئے درحقیقت ایک مہم جویانہ خارجہ پالیسی اپنائی، جس میں خطے کے مسلمانوں کی جذباتی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسلام کا نعرہ بلند کیا گیا۔ ترک ریاست آج بھی ایک مکمل سیکولر ریاست ہے لیکن خارجہ پالیسی میں اسلام کو ایک نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ترک حکومتوں نے پچھلے آٹھ نو برسوں میں ترک ریاست کے کردار کو وسعت دلانے کی بجائے جنگوں، تنازعات اور دہشت گردی کو اپنی سرحدوں کے اندر داخل ہونے کے مواقع فراہم کردئیے، جس پر اب صدر طیب اردوآن حیرانی اور بے چارگی کا شکار نظر آرہے ہیں۔ اسی لیے اب وہ کُرد مسئلے اور اسلامی دہشت گردی کے خلاف سخت گیر پالیسی اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترک ریاست کے اندر نسلی دہشت گردی  Ethnic Terrorism اور اب مذہبی دہشت گردی Religious Terrorism دو بڑے خطرات  کے طور پر منڈلا رہے ہیں۔

تاریخ کی اپنی جدلیات ہوتی ہیں، شام وعراق میں مذہبی دہشت گردی جس میں طاقت یا دہشت کا زیادہ اثر داعش کے پاس ہے اور اسی طرح دوسرے مذہبی دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں مقامی لوگوں کے جو مسلح گروہ ہیں، وہ تمام تر کُرد ہیں اور وہ سراسر سیکولر ہیں اور کُردستان ورکرز پارٹی ایک سٹالنسٹ مسلح تنظیم ہے۔ کوبانی میں داعش کی شکست انہی کُرد گروہوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ اس وقت کُرد مسلح تنظیمیں ایک طرف ان مذہبی انتہاپسندوں کے سامنے کھڑی ہیں اور دوسری طرف وہ خطے میں اپنی طاقت اور مسلح جدوجہد سے ایک کُرد ریاست کے لیے مزید متحرک ہوگئی ہیں۔ یہ صورتِ حال اُن عالمی طاقتوں کے لیے بھی آئیڈیل ہے جو نیا مشرقِ وسطیٰ (New Middle East) بنانا چاہتی ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑی رکاوٹ ترکی ہی ہے۔ اب ترک ریاست کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنے بنیادی تصور یعنی کمال ازم کو ریاست کی مضبوطی کے لیے بروئے کار لائے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جب پچھلے سال انقرہ میں مذہبی دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو سابق وزیراعظم احمت دعوت اولو نے اسے"Cocktail Terrorism" قرار دیا یعنی Ethnic and Religious Terrorism (کُرد اور مذہبی دہشت گردی)۔ لیکن ایک سال میں صدر طیب اردوآن ایک طرف کُردوں کے خلاف ترک مسلح افواج کی بھرپور حمایت کرکے شدید ملٹری آپریشن کررہے ہیں اور اِن کُرد مسلح گروہوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں اور اسی کے ساتھ انہوں نے مذہبی دہشت گردی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اعلانات کیے ہیں۔ روس کے خلاف سخت گیر رویے پر یکایک نظرثانی کرتے ہوئے بہتر تعلقات کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس سے روس اور ترکی جہاں اربوں ڈالرز کے اقتصادی منصوبے جاری رکھ سکیں گے، وہیں ترکی اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو رہا ہے، جس میں خطے کے مسلح مذہبی گروہوں کو سپورٹ کرکے نام نہاد Neo-Ottomanism بحالی کا یوٹوپیائی تصور کارفرما تھا۔

اب ترک ریاست کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنی علاقائی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے، وگرنہ یہ خطرات اس کی سرحدوں کو عبور کرکے اس عالمی ایجنڈے کو عمل پذیر کرسکتے ہیں جس کے تحت نیا مشرق وسطیٰ New Middle East قائم کرنا ہے۔ ترک قوم نے جس طرح پہلی جنگ عظیم میں یورپی اور اتحادی ممالک کی ترک قوم کو اناطولیہ اور تھریس کے خطوں سے مٹا دینے کی کوشش کو ناکام بنا کر عثمانی سلطنت کی راکھ سے  ایک نئی ترک ریاست کا ظہور ممکن کیا تھا۔ ترک قوم نے اس وقت مصطفی کمال پاشا اور عصمت اِنونو کی قیادت میں اُن یورپی طاقتوں کو مشر قِ وسطیٰ میں ترکی کے راستے سے رکاوٹ بن کر روکا جو مشرقِ وسطیٰ میں داخل ہو کر قدیم بازنطینی اور قدیم یونانی ریاستوں کی بحالی کا خواب دیکھ رہی  تھیں۔ پہلی جنگ عظیم میں ان یورپی اور اتحادی ریاستوں نے حجاز سے مصر اور صحارا تک مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم اپنے منصوبوں کے مطابق تو کر دی لیکن نئے ترکی نے ان یورپی خوابوں کو چکنا چور کر دیا اور اس کی قیادت کمال اتاترک نے کی۔ آج پھر ترک پچھلے چند برسوں کے تجربات سے اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اس ترک ریاست کا وجود اپنے نیشنلسٹ کردار سے بچایا جا سکتا ہے۔