یورپی یونین سے علیحدگی کے اثرات

برطانیہ کے بارے میں  مشہور تھا کہ اس کی دنیا  میں اس کے زیر نگین علاقوں میں سورج غروب نہیں ہوتا۔  حال ہی میں برطانوی عوام  کا یورپی یونین سے علیحدگی کا حالیہ فیصلہ نہایت اہم اور بڑا تھا جس سے ساری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہاں ان حالات و اثرات کا جائزہ لیا جائے گا جو برطانیہ کی علیحدگی کے بعد  سامنے آئیں گے۔ اور دیکھیں گے کہ  اس فیصلہ  سے ملک اور عوام کو کیا فوائد و نقصانات ہوں گے۔

23جون2016ء کے ریفرنڈم نے ملک کا نقشہ ہی تبدیل کردیا ہے۔ برطانوی عوام  نے یورپ سے جدا ہونے کے حق میں 52فیصد جبکہ یورپ کے ساتھ رہنے کے حق میں 48 فیصد ووٹ دئے۔  دنیا میں جمہوریت کی ماں کہلانے والا برطانیہ جمہوری قدروں کو فروغ دینے والا آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ لندن میں 75فیصد لوگوں نے یورپ کے ساتھ رہنے میں اور دوسرے بڑے شہر اور اکثریتی ایشین علاقہ میں یہ تناسب  49 فیصد رہا ۔ مانچسٹر میں 60 فیصد لوگوں نے یونین کی حمایت میں ووٹ دیا۔ ریفرنڈم سے ملک بھر میں تقسیم کا رجحان دکھائی دیا ۔ شمالی آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ نے یورپ کے ساتھ رہنے جبکہ انگلینڈ اور ویلز نے یورپ سے باہر نکلنے کےلئے ووٹ دیا۔

72فیصد لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔  1992ء کے بعد  کسی رائے دہی میں سب سے زیادہ لوگوں نے اپنا حق رائے استعمال کیا تھا۔ ٹوری لیڈروں نے عوام کو کنفیوژ کیا۔ ایک طرف ڈیوڈ کیمرون یورپ میں رہنے کی بات کر رہے تھے جبکہ بورس جانن سابق میئر لندن باہر نکل جانے کی مہم چلا رہے تھے۔ جس سے ان کی پارٹی کے اندر اختلافا ت رہے۔ 43 سال کی رفاقت کے بعد برطانیہ  یرپی اتحاد سے الگ ہورہا ہے۔ برطانیہ کے اس فیصلے کے بعد 25لاکھ سے زائد شہریو ں نے دوبارہ ریفرنڈم کرانےکی درخواست کی ہے۔ تاہم  وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ دوسرا ریفرنڈم نہیں ہوگا۔ دوسرا ریفرنڈم کرانے کے مطالبہ پر مبنی پٹیشن لانچ کردی گئی ہے جس پر 3لاکھ افراد نے دستخط کئے ہیں تاہم ایک رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ دوبارہ ریفرنڈم کرانے کی پٹیشن پر جعلی دستخط کرائے گئے ہیں ۔ اس کی تحقیقات کی جارہی ہے اور پارلیمانی اتھارٹی ممکنہ طور پر اس کا جائزہ لے رہی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے ریفرنڈم کے نتائج کےبعد اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ معاہدہ لزبن کے آرٹیکل 50کے تحت وزیر اعظم کو یورپی یونین سے علیحدگی کی باضابطہ درخواست دینا ہوگی اور یہ عمل دو سال کے اندر مکمل ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ چاہیں گے کہ ایسی درخواست اگلا وزیر اعظم  دائرکرے۔ وہ اکتوبر میں اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی وہ راستہ نہیں جس پر وہ چلنے کا مشورہ دیتے ۔ لیکن وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین کے بغیر بھی رہ سکتا ہے اور اب ہمیں یورپی یونین سے بات چیت کےلئے تیار ہونا چاہئے جس کے لئے سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی حکومتوں کو مکمل ساتھ دنیا ہوگا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکےکہ برطانیہ کے تمام حصوں کے مفادات کا تحفظ  ہوگا۔  دوسری جانب یورپی یونین نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جتنا جلدی ہوسکے الگ ہو جائے۔ جرمن چانسلر انگیل میرکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو اپنے بلاک میں سے برطانیہ کے خروج کے بعد اس کے ساتھ مذاکرات میں کسی بھی طور پر نا مناسب رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی برطانیہ کے اخراج کے عمل کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔

ادھر یورپی کمیشن کے صدر نے کہا ہے کہ اب برطانیہ کیلئے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہوگا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ برطانیہ یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی مرضی کی چیزوں میں تو شامل ہو اور باقی کو چھوڑ دے۔ جبکہ برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں نے تنظیم میں یکجہتی اور استحکام کے ساتھ ساتھ تبدیلی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے ۔ یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نےکہا ہے کہ باقی 27 رکن ممالک  متحد رہنے کےلئے پرعزم ہیں۔

برطانیہ کی علیحدگی کے بعد اب کیا ہوگا؟
علیحدگی کی وجہ سے اس کی تجارت اوراقتصادیات پر بُرا اثر پڑے گا۔ علاوہ ازیں جائیداد کی تقسیم یونین کا بجٹ اور یورپی یونین کے شہری جو برطانیہ میں ہیں اور جو برطانوی شہری یونین ممالک میں رہائش پذیر ہیں ان کا کیا ہوگا۔ ایسے بہت سے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ یورپ سے تجارتی روابط پر بھی بات چیت کی جاسکتی ہے لیکن ضروری نہیں ایسا ہی ہو۔ اگر کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو اس مدت تک برطانیہ کو یونین کے ساتھ عالمی تجارت تنظیم WTOکے اصول و ضوابط کے تحت تجارت کرنا پڑے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی فری مارکیٹ میں برطانیہ کو چین اور امریکہ کی طرح تجارت کرنی پڑے گی، جس میں اب تک اسے آزادانہ رسائی حاصل تھی۔

چند ماہ قبل وزیر اعظم چین کے دورہ لندن میں چین نے کئی سوملین پونڈ کے تجارتی معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ اسی طرح امریکہ  بھی  برطانیہ کو نئی تجارتی منڈیوں تک رسائی کے لئے بھرپور مدد کرے گا۔ امریکہ اس کو کبھی اکیلا چھوڑنے کو تیار نہیں ۔ یہ دونوں ساتھ چلنے کی Shoulder to Shoulder کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔  ریفرنڈم کے بعد  عالمی منڈی میں پونڈ کی قیمت 10فیصد گری ہے۔ جس کی وجہ سے ڈالر اور دیگر کرنسی پر بھی بڑا اثر پڑا ہے۔ اس طرح سونے کی قیمت عالمی منڈی میں اوپر چلی گئی ہے۔ پاکستان کی معیشت اوردیگر ممالک کو  آنے والے دنوں میں نقصانات برداشت کرنے پڑیں گے۔ پونڈ کی قیمت 1985ء کے بعد آج کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ اس کی وجہ سے عالمی حصص میں مندی دیکھنے میں آئی ہے۔

علیحدگی کے بعد  ماہرین کی رائے
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ معیشت کو پہنچنے والے دھچکے کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری بڑھنے کا امکان ہے۔ اس سے تنخواہوں میں اضافے کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تنخواہوں میں8.2فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ ایک عام آدمی کی آمدنی سالانہ 780پونڈ تک کم ہو جائے گی۔
ایک اندازے کے مطابق 2019ء اور 2020ء تک حکومت کی محصولات میں 38 ارب پونڈ سے لیکر 44 ارب تک کمی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اس کا بجٹ 28فیصد فلاح و بہبود پر صرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو ملنے والی سہولیات جن میں ٹیکس کریڈٹس اور دیگر مراعات شامل ہیں، پراثر پڑے گا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ اکنامک ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ خاندانوں کو 2771 پؤونڈ تک سالانہ کا نقصان ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں وزارت خزانہ کی پیش گوئی ہے کہ شرح سود میں  0.7 فیصد سے 1.1فیصد تک  اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم کیمرون کا کہنا ہے کہ گھروں کے قرضہ میں ایک ہزار پاؤنڈ سالانہ تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ گھروں کے مالکان کے اخراجات بڑھیں گے جس سے کرایوں میں اضافہ ہوگا۔ اگر معیشت کو شدید دھچکا لگتا ہے تو بنک آف انگلینڈ کو شرح سود میں کمی کرنی پڑے گی۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے IMFنے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے سے گھرو ں کی قیمتوں میں شدید کمی واقع ہوگی جس سے مارگیج کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حصص غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلئے بہت زیادہ پرکشش نہیں رہیں گے اور ان کی قدر میں کمی واقع ہوگی۔ البتہ طویل المدت میں یہ صورت حال نہیں ہوگی۔ پونڈ کی کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور کمپنیوں کا منافع بھی بڑھے گا جبکہ درآمدات میں کمی ہوگی۔ پونڈ کی قیمت کی کمی سے یورپ میں چھٹیاں گزارنا مہنگا پڑے گا لیکن جہازوں کے کرایوں کا انحصار فضائی کمپنیوں پر ہوگا کہ وہ بنیادی قیمت یوروEURO میں متعین کرتے ہیں یا پونڈ میں ۔ یورپ میں موبائل فون استعمال کرنا بھی مہنگا پڑے گا۔ برطانیہ کی علیحدگی کے بعد اس کو یورپین یونین کو بجٹ دینا نہیں پڑے گا یعنی برطانیہ جو یورپین یونین کو سالانہ تقریباً 12ارب ڈالر کی جو رقم فراہم کرتا ہے ، اب  یہ رقم اب اس کے پاس ہی رہے گی اور فلاحی کاموں پر صرف ہو سکے گی۔  لیکن اس کے بدلے میں برطانوی کسانوں کو یورپی یونین کی جانب سے ملنے والی براہ راست امداد روک دی جائے گی۔ 2015 ء میں یہ امداد تقریباً 4 ارب ڈالر تھی۔ دیگر شعبوں میں ملنے والی امداد بھی بند ہو جائے گی۔ 

امیگریشن چیلنجز
اب برطانیہ یورپی یونین سے آنے والے تارکین وطن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گا۔ یعنی اعلیٰ درجے کی ماہرین کو ترجیح دی جائے گی جبکہ مزدور اور کم درجے کے کام کرنے والوں کو روکا جائے گا۔  برطانیہ کو پہلے بھی امیگریشن کے قوانین پر اعتراض تھا۔  اس کا خیال تھا برطانیہ اآنے والوں کی تعداد ذیادہ ہے۔ اب ایسے لوگوں کو برطانیہ کہے گا کہ وہ اس ملک سے نکل جائیں۔ تاہم  جب تک دو سال پورے نہیں ہو جاتے برطانیہ یہ قدم اٹھا نہیں سکتا۔ ممکن  ہے کہ اس برطانوی پاسپورٹ کو تبدیل کرنا پڑے۔ اسی طرح ہیلتھ کارڈ، انشورنس اور ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ علیحدگی کے بعد ممکن ہے کہ برطانیہ ، ناروے اور آئس لینڈ کی طرح یورپی اکنامک ایریا میں رہنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ کرے اور اس صورت میں یورپی ہیلتھ انشورنس کارڈ کارآمد رہیں۔ اس کے علاوہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ ایسے دو طرفہ معاہدے کرسکتا ہے جیسا کہ اس نے روس، آسٹریلیا اور اسرائیل سے کر رکھے ہیں، جہاں برطانوی شہریوں کو ہنگامی طبی امداد مہیا کی جاتی ہے۔
جہاں تک ویزہ پالیسی کا تعلق ہے، برطانیہ سنگل مارکیٹ میں رہنے کےلئے آزادانہ سفر کی شرط مان لے، جس سے بآسانی یورپی ممالک کا سفرکر سکیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو برطانوی شہریوں کے دوسرے یورپی ممالک میں مستقل قیام پر قدغین لگ جائے گی لیکن سیاحت کی ترقی کےلئے سفر پر پابندیاں لگنے کاامکان کم ہوگا۔

یورپی رہنماؤں کا ردعمل
جرمنی کی چانسلر انگیل میرکل نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یورپ اور یورپی وحدت کے عمل کےلئے دھچکہ ہے۔ فرانس کے صدر فرانسوا اولدند نے کہا کہ اس سے یورپ ایک سخت امتحان میں مبتلا ہوگیا ہے۔ اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا کہ یورپ ہمارا گھر ہے اس گھر کو مرمت اور بہتری کی ضرورت ہے۔ روس کے صدر ولادی پوتن نے کہا کہ یہ نتیجہ نقل مکانی اور سلامتی کی صورتحال سے برطانیہ کی ناخوشی ظاہر کرتا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوعان نے کہا کہ اگر یورپی یونین نے اپنے طور طریقے ٹھیک نہیں کئے تو دوسرے ملکوں کو بھی یونین کو خیر باد کہنا پڑے گا۔  جرمنی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دن یورپ اور برطانیہ کے لئے انتہائی دُکھ بھرا ہے۔  پولیش کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ یورپ اور پولینڈ دونوں کےلئے ایک بُری خبر ہے۔
برطانیہ کی علیحدگی سے یورپی یونین کی مخالف تنظیموں نے فرانس، نیدرلینڈ اور اٹلی میں بھی ریفرنڈم کا مطالبہ کردیا ہے۔ ممکن ہے آئندہ آنے والے حالات کئی ممالک کو برطانیہ کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور کردیں۔

متحدہ یورپ کا جائزہ

برطانیہ اور یورپ کی چند طاقتوں اور ان کے حکمرانوں نے  رعایا اور خود اپنے ساتھ جو ظلم و بربریت کی ہولناک تاریخ رقم کی ہے، انہی وجوہات کی بنا پر متحدہ یورپ کو محفوظ ویکجا کرنے کی سوچ و فکر کی ضرورت پیش آئی تھی۔  ان کو مجبوراً دنیاوی حالات کے پیش نظر اپنے اندرونی اور بیرونی خطرات اور معاشی حالات کے پیش نظر ایسا کرنا ضروری سمجھا گیا ۔
1914ء میں خطرناک حالات یورپ میں پیش آئے۔ آپس میں نفرتیں  بڑھ گئی تھیں۔ 14اگست1914ء میں بیلجئم پر جرمنی کی یلغار کے بعد  برطانیہ نے بھی جنگ کا اعلان کردیا تھا۔ پہلی جنگ عظیم بھرپور طریقے پر شروع ہوگئی تھی۔ایک اندازہ کے مطابق اس جنگ میں جو چار سالوں تک جاری رہی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں جو چار سالوں تک جاری رہی، ایک کروڑ فوجی اور 70لاکھ سویلین مارے گئے تھے ۔
23اگست1914ء میں جاپان نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کیا پھر5 ستمبر 1914ء کو ہی پیرس فرانس کے نواح میں جرمنی اور فرانسیسی فوجوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ اس میں 5 لاکھ افراد مارے گئے۔ 7 ستمبر 1914ء میں ترکی نے بیلجئم کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ 13اکتوبر 1914ء کو 25 ہزار کنیڈین فوجی  جنگ میں حصہ لینے کے لئے یورپ روانہ ہوئے۔ اس کے بعد 5 نومبر کو برطانیہ اور فرانس نے ترکی کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔  تین صدیوں میں168 جنگیں ہوئیں- 18ویں صدی میں44 اور 19ویں صدی میں 52اور 20ویں صدی میں 72جنگیں ہوئی ہیں ۔

اللہ کرے متحدہ یورپ  امن کا گہوارہ بن جائے۔  یہ تبھی ممکن ہوگا جب یہ عدل و انصاف کو قائم رکھیں گے۔