مہاراجہ گلاب سنگھ کے نئے جانشین (4)

گلاب سنگھ کے ان نئے جانشینوں کی طرف سے چاربڑے نعرے سامنے آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ ’’معاہدہ امرتسر ہمارے گھر(ریاست کشمیر )کی بنیاد ہے۔‘‘ حالانکہ برطانیہ کی ایسٹ انڈیا ٹریڈنگ کمپنی نے اس قسم کے معاہدوں کے ذریعے ہندوستان میں پانچ سو ساٹھ سے زائد “گھر“ تعمیر کئے تھے جن کا آج کوئی وجود نہیں ہے ۔

اگر آج کشمیر کے جداگانہ وجود وجغرافیائی وحدت اور سیاسی اکائی کا تصور زندہ ہے تو یہ بیعنامہ امرتسر کی وجہ سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی سیاسی تحریکوں اورشاندار قربانیوں کے باعث ہے، جس کی مثال برصغیر ہندوستان کی کسی دوسری ریاست میں نہیں ملتی ۔ دوسرا یہ کہ ’’ اگر معاہدہ امرتسرنہ ہوتا تو متحدہ ریاست کشمیر بھی نہ ہوتی۔‘‘ مادی اور معروضی دنیا میں فرضی تصورات کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ انسان ایک نہیں ہزاروں تصورات قائم کر سکتا ہے ۔ یہ تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایسٹ انڈیا ٹریڈنگ کمپنی ریاست کشمیر کو برطانوی ہند وستان میں شامل کرلیتی تو پھر کیا ہوتا؟ تیسرا یہ کہ ’’معاہدہ امرتسر کو بیعنامہ امرتسر نہ کہا جائے‘‘۔غالباً اس وجہ سے کہ اس میں بیعنامہ کی اصطلاح استعمال کرنے سے ملکوں اور انسانوں کی خرید وفروخت کا پہلو نکلتا ہے اور مہاراجہ گلاب سنگھ کا وہ مجسمہ پاش پاش ہو جاتا ہے جسے کانگرسی لیڈروں اور نیشنل کانفرنسیوں کی پشت پنائی سے مہاراجہ ہری سنگھ کا بیٹا کرن سنگھ کھڑا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

اگر ہزاروں سال پہلے غلام داری کے سماج میں غلاموں کے حقوق کی پامالی کی بات ہوسکتی ہے اور آقاؤں کی وحشت اور بربریت کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے تو پھر ماضی قریب میں قوموں اور ریاستوں کی خرید وفروخت میں شریک گلاب سنگھ کے کردار کو بے نقاب کرنے میں کیا غلطی ہے ۔ اور خاص کر اس صورت میں جبکہ بیعنامہ امرتسر سے متعلق ایسی دستاویزات موجود ہوں جن میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے خود ’’فروخت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہو۔ اور ان کا چوتھا بڑ انعرہ یہ ہے کہ’’معاہدہ امرتسر ہمارے متحدہ ریاستی اکائی کی قانونی بنیاد ہے۔‘‘ اصل حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ صرف معاہدہ امرتسر ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام ریاستوں کے ساتھ برطانیہ کے تمام معاہدات کی جگہ قانون آزادی ہندوستان 1947 ء نے لے لی ہے۔ اس قانون کے وجود میں آنے کے پس منطر میں ہندوستان کے تمام ملکوں اور قوموں کے عوام کی ایک طویل سامراج مخالف جدوجہد کار فرما ہے ۔ قانون آزادی ہندوستان پر عمل درآمد کے آغاز کے ساتھ ہی بیعنامہ امرتسر ختم یا غیر فعال ہوگیا ہے اور اس کی حیثیت ایک تاریخی دستاویزسے زیادہ نہیں ہے ۔

قانون آزادی ہندوستان 1947 ء نہ صرف جدید ریاست کشمیر کی وحدت کو جوں کا توں تسلیم کرتا ہے بلکہ یہ 15 اگست 1947 ء کو نافذالعمل ہوجانے کے ساتھ ہی کشمیر سمیت برصغیر ہندوستان کی تمام ریاستوں کے خودمختار ہوجانے کے قانونی اور آئینی حق کی توثیق بھی کرتا ہے ۔ قانون آزادی ہندوستان کی اس تشریح پر کوئی اختلاف یا تنازعہ موجود نہیں ہے ۔ اگر کسی فعال قانون کے تحت جدید ریاست کشمیر کی وحدت اور خودمختاری کی قانونی اور آئینی توثیق کا دن منایا جانا ضروری ہے تو پھر یہ 16 مارچ 1846 نہیں بلکہ 15 اگست 1947 ہے ۔ ہمارے وطن عزیر کشمیر میں اصل تنازعہ ریاست کشمیر کے اقتدار اعلیٰ کے’’قانونی حق ‘‘ پر پیدا ہوا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کے 4 اکتوبر 1947 ء کے اعلان آزاد ’’ جمہوریہ کشمیر ‘‘میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون آزادی ہندوستان کے تحت برطانیہ کے اقتدار اعلیٰ کے خاتمے کے ساتھ ہی مہاراجہ خاندان کے حکمرانی کے وہ تمام حقوق زائل ہوگئے ہیں جن کا یہ بیعہ نامہ امرتسر کی بنا پر دعویٰ کرتا تھا۔ کشمیر کے اقتدار اعلیٰ کے اس ’’قانونی تنازعہ‘‘ پرمہاراجہ حکومت اور آزاد حکومت کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی۔ مگر اس تنازعہ کا قانون آزادی ہندوستان کے فریم ورک کے اندر کوئی حل نکالے بغیر ہی اس تنازعہ کو بھارت اور پاکستان کی مداخلت اور جارحیت کے ذریعے دبا دیا گیا۔

ہمارا یہ یقین بہت پختہ ہے کہ کشمیر کے اقتدار اعلیٰ کے اس قانونی تنازعہ پر ا علان آزاد جمہوریہ کشمیر میں پیش کی جانے والی قانون آزادی ہندوستان کی تشریح درست ہے اور کشمیری عوام کو اقتدار اعلیٰ کا یہ قانونی حق دلانے کی اپنی اس جدوجہد کو آزاد کشمیر حکومت نے تحریک آزاد کشمیر کا نام دیا ہے جوکہ کشمیر کے کسانوں اور مزدوروں کی انقلابی تحریک چرانے کی ایک کوشش ہے ۔ ہمارے ملک پربیرونی جبری قبضے کی پشت پناہی سے چلنے والی ثقافی صعنتوں کے جھوٹے پروپیگنڈے اور کشمیر کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوششوں کے باعث بہت سے کشمیری و پاکستانی اور بھارتی لوگ تنازعہ کشمیر شروع ہونے کے اصل واقعات کے بارے میں ابہام کاشکار ہیں۔ بیشک اس ابہام کوختم کرنے کے لئے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ قانون آزادی ہندوستان کے ماہرین کی علمی و تحقیقاتی اور مکالمی تقریبات کااہتمام کیا جائے اور کشمیر کے اقتدار اعلیٰ کے سوال پر شروع ہونیوالے قانونی تنازعہ پراُن کی ماہرانہ رائے معلوم کی جائے، تاکہ کشمیر کے عوام اپنی قومی جدوجہد آزادی کو قانونی محاذ پر بھی مضبوط بنا سکیں ۔

اس کے برعکس ختم شدہ اور غیر فعال بیعنامہ امرتسرکو جدید ریاست کشمیر کا خالق قرار دے کر مہاراجہ گلاب سنگھ کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی تقریبات کا کشمیری عوام کے خلاف بھارت کے سیاسی جال کو مضبوط بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نظر نہیں آتا ۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قانون آزادی ہندوستان یادنیا کا کوئی دوسرا قانون یا ادارہ از خود سوموٹو ایکشن لیکر کشمیرکی وحدت اورآزادی کی بازیابی کے لئے نہیں آئے گا۔ یہ بحث صرف اس حد تک درست ہے اور ہونی بھی چاہیے کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور ودیگر بین الاقوامی قوانین اور قانون آزادی ہندوستان کشمیری عوام کی اپنے وطن کی وحدت ، خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کی بازیابی کیلئے جدوجہد کو جائز ثابت کرتے ہیں ۔ اس کا آخری فیصلہ کشمیری عوام نے اپنی ایک طویل اور صبرآزما قومی انقلابی جدوجہد کے ذریعے خود رقم کرنا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ کچھ کشمیری اپنے ذاتی مفاد ات کی خاطر مہاراجہ گلاب سنگھ کی فوجی مہم جوئی کی آڑ میں قابض طاقتوں کو ریاست کشمیر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا اختیار دینا چاہتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ جس طرح برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے تلوار کی نوک پر ہندوستان کی مختلف ریاستوں اوراقوام کو مغلوب اوراکٹھا کیا تھا، اسی طرح گلاب سنگھ نے بھی ریاست کشمیر میں آباد مختلف قومیتوں کو تلوار کی نوک پر اکٹھا کیا تھا ۔ یہ کشمیر میں آباد مختلف قومیتوں کے حقوق کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ کشمیرکی موجودہ جبری تقسیم کوتسلیم کرلیا جائے اور اس پرغیر قانونی طریقے سے قابض بیرونی ملکوں کو ریاست کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی اجازت دی جائے۔ ریاست کشمیر کی خود مختاری و اقتدار اعلیٰ اور وحدت کی بازیابی کا مطلب ریاست کی موجودہ جبری تقسیم اور اس پر بیرونی جبری قبضے کا خاتمہ ہے اور اس کی اصل ضمانت کشمیر میں آباد تمام قومیتوں کے حق خود ارادیت کے اصولوں اور برابری کی بنیاد پر آپس میں اتحاد ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی یہ عہد کرتی ہے کہ کشمیر کی مکمل آزادی اور خود مختاری کے بعد کشمیر میں آباد تمام قومیتوں کا حق خود ارادیت تسلیم کیا جائے گا اور تمام قومیتوں کو ریاست کے امور میں برابری کی بنیاد پر شرکت کرنے کا اختیار ہوگا۔ (ختم شد)