گزرے تھے ہم جہاں سے ۔۔۔ ڈھاکہ کی طرف واپسی
- تحریر سرور غزالی
- بدھ 13 / جولائی / 2016
- 7190
جہازکے پہیے چر چرائے اور وہ رن وے پر دوڑنے لگا۔ جہاز کے ساتھ میں بھی قطر کے شہر دوہا سے ڈھاکہ کا سفر کر رہا تھا۔اگر چہ سفر تو میں ڈھاکے کی جانب کر رہا تھا مگر میرا ذہن مخالف سمت میں اڑ رہا تھا۔ ڈھاکہ کو الوداع کہتے ہوئے۔ ڈھاکہ سے دور بہت دور ہوتے ہوئے۔ جہاز کے پہیے کی جگہ میرے ذہن میں بے بی رکشے نے لے لی۔ بے بی رکشہ ڈھا کے میں اسی شور مچاتے رکشہ کو کہتے ہیں جس کا شور آج بھی ہماری تمام تر سوچوں کو منتشر کر دینے لئے کافی ہو تا ہے۔ رکشے کے شور میں اور تار کو ل کی سڑک پر دوڑتے ہوئے اس کے چھوٹے چھوٹے پہیے کی گردش کے ساتھ ساتھ ہم لوگ ڈھاکہ کے ہوائی اڈے کی جانب بڑھ رہے تھے اورڈھاکہ شہر سے دور ہو تے جارہے تھے۔ ہم لوگوں کو ڈھاکہ چھوڑ دینا تھا اور دور بہت دور چلے جا نا تھا۔
وہ ڈھاکہ جہاں میں نے اپنے بچپن کے دن گذارے تھے۔جہاں میں نے نا نا جان اور نانی جان کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا تھا۔ جہاں میں نے ماموں جان سے نصیحتیں اور ڈانٹ سنی تھیں۔ جہاں میں نے اپنی کزنوں کے ساتھ کھیل کھیل میں لڑائیاں کی تھیں اور جہاں کچھ عرصے سے اسکول بھی جوائن کر لیا تھا۔ جہاں کی گلیوں میں میں نے کھیلا تھا۔ نانا جان کے ساتھ بازار سے کھجور کا گڑ خرید تا تھا۔ جوگی نگر اور رینکین اسٹریٹ کی مانوس گلیاں مجھ سے دور ہو رہی تھیں۔پاکسی اور ایشرڈی اور راجشاہی میں پہلے ہی چھوڑ آیا تھا۔ وہ قصبے اور شہر جہاں میں نے زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے گزارے تھے۔ ایسے لمحے جو مجھے زندگی کے ہر موڑ پر سہا را دیتے ہیں، میری یاسیت اور میری مایوسی کو مجھ سے چھین کر لے بھا گتے ہیں،ایسے ہی جیسے میرا چھوٹا بھائی بچپن میں میری کتاب لے کر بھاگ جا تا تھا اور میں اس کے پیچھے بھاگتا اور ڈر تا کہ وہ میری نئی کتاب کہیں پھاڑ نہ دے اور میری کتاب کی خوبصورتی کہیں ضائع نہ ہو جائے ۔۔۔ خوبصورت کتا بیں ،خوبصورت جلد کی کتا بیں جب بھی میری کمزوری تھیں اور آج بھی ہیں۔مزیدار کہانیوں سے بھری ، حکایتیں اور معلومات سے پُرکتا بیں۔کتا بیں انسان کے دکھ درد کی خاموش ساتھی ہوتیں ہیں اور قلم انسانی ہیجانی جذبات کی عکاسی کر تے ہیں۔ خوشی اور غم کے ہیجان کی۔
’’لنچ پلیز،،،‘‘
’’اوہ ہاں۔۔۔ ‘‘ وہ کیا تھا مینیومیں ۔۔ میں نے چونک کر سراُٹھایا۔ ہوائی میزبان۔۔۔
’’ہا ں وہ چکن۔۔‘‘ میں نے پھر کہا ۔
طرح طرح کے کھانے ائر ہوسٹس بانٹتی رہی اور پھر جلد ہی چائے اور کافی کا دور چل پڑا۔
میں ایک سرکاری دورے پر بنگلہ دیش کا سفر کر رہا تھا۔ میرے ہمراہ دو جرمن ساتھی تھے۔ چونکہ انہیں زبان اور کلچر کا کوئی اندازہ نہ تھا۔ ایک ایسے ایشائی دوردراز ملک کا سفر دونوں پہلی بار کر رہے تھے تو طے یہی ہوا کہ سفر میں انہیں میری ہدایت پر ہی عمل کر نا ہو گا۔ ڈھاکہ ہم وقت پر پہنچ گئے۔
’ خواتین و حضرات ! ہم ڈھاکے کے ضیاء الرّحمن انٹر نیشنل ایئرپور ٹ پر پہنچ گئے ہیں۔ ہم آپ کا ہمارے ساتھ سفر کر نے پر شکر یہ ادا کر تے ہیں۔۔۔۔‘‘
جہاز چلتا ہوا ائیر پورٹ کی عمارت کے قریب ہو رہا تھا۔ میں نے کھڑی سے جھانک کر دیکھا اور اور میرے بچپن کی ساری یادوں نے یکدم پھر سے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ دور تک وہی سبزہ ہی سبزہ اور اس کے آخر ی سرے پر درختوں کی لمبی قطار ،آگے چھوٹا سا پکھر یا تالاب۔۔۔ اور پھر چلتے چلتے جہاز کی کھڑکی سے مجھے ایک ندی دکھائی دینے لگی جو بنگلہ دیش کے حسن کو مکمل کر دیتی ہے۔ ایئرپورٹ بلڈنگ کے قریب آتے ہی مجھے سب سے پہلے جو کچھ نظر آیا اسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ ایئرپورٹ بلڈنگ پر نہایت جلی حروف میں ۔۔۔لکھا تھا۔۔ مطار ضیاء الدین عربی زبان میں۔۔۔ بنگالی زبان کی بجائے یہ عر بی زبان میں ۔۔۔ پھر جو ں جوں جہاز آگے بڑھا تو میرے سامنے پوری عمارت اور اس پر نصب بورڈ ،بنگلہ زبان میں لکھا ضیا ء الرحمن ایئرپورٹ کے حروف بھی دکھائی دینے لگے۔
یہ بنگلہ دیش حکومت کی اسلام سے محبت ہے یا اس معاشی قوت سے، جس نے انہیں عربی زبان میں ائیرپورٹ کا نام لکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میرے ذہن میں سوال ابھرا۔
ائر پورٹ کی عمارت سے متصل سرکاری عمارت میں ہم تینوں کا استقبال کر نے کے بعد بنگالی افسران ہمیں اندر لے گئے۔ اور بات چیت کا دور شروع ہو گیا۔ میرے دونوں ساتھیوں نے اپنا اپنا بیگ اٹھا لیا تھا۔ اور میں نے یہ سوچ کر کہ ائرپورٹ سے نکلنے کے بعد سامان لیتا چلوں گا۔ ایک چھوٹی سی ٹرالی جو ہمراہ تھی۔سامان آنے کے انتظار نہ کر سکنے کی صورت میں چھوڑ دیا تھا۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں بنگالی افسران سے یہ کہنا بھول گیا۔۔۔یا یہ کہ ان کی حد درجہ خاطر کی وجہ سے جھجھک مانع ہوئی اور میں نے ان سے نہیں کہا کہ وہ میری ٹرالی ساتھ لے لیں۔ بات چیت میں کافی دیر ہو گئی اور پھر فراغت کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا ،کہ اب آپ جہاں کہیں ہم آپ کو پہنچا دیتے ہیں۔۔۔اگر کہیں تو ہماری گاڑی آپ کو آپ کے ہوٹل چھوڑ آئے گی۔ یا پھر آپ لوگ گھومنا پھرنا چاہیں تو ایک گائیڈ آپ لوگوں کو گھمانے لے جائے گا۔ اب مجھے پہلی بار اپنے سوٹ کیس کی پریشانی لاحق ہوئی۔ میں نے کہا سب سے پہلے تو آپ لوگ مجھے اس ہال میں لے چلیں جہاں میرا چھوٹا سوٹ کیس منتظر ہو گا۔ میرے دونوں جرمن ساتھی چاہتے تھے کہ میں انہی کے ساتھ ہوٹل چلوں اور نہا دھو کر ڈھاکے کی سیر کو نکلوں۔۔۔مگر میرا پروگرام سن کر انہیں خاصی مایو سی ہوئی۔ یہ کیا۔۔۔۔ڈاکٹر ملر بولا۔۔۔۔اب تم یہاں ائر پورٹ سے رخصت ہو جاؤ گے۔۔۔۔ہمیں کیا سمجھ آئے گا ۔۔خاک۔۔۔۔پریشان مت ہو میں نے جواب دیا۔ گائیڈ تمہیں تھوڑی دیر بعد آکر شہر گھمانے لے جائے گا۔ جب تک تم لوگ ہوٹل میں نہا دھو کر فارغ ہو لینا۔ وہ انگریزی بولے گا اور تم لوگوں کوکو ئی پریشانی نہیں ہوگی۔ میں کل کی میٹنگ میں وقت پر پہنچ جاؤں گا۔ بادلِ ناخواستہ وہ دونوں ایک پولیس افسر کے ساتھ باہر کی طرف چلے اور مجھے ایک اور پولیس افسر لے کر اس ہال میں آگیا جہاں مسافروں کا سامان جہاز سے اتر کر سامان والی پٹی پر آتا اور پھر لوگ اٹھا لیتے ہیں۔۔۔۔اس وقت وہاں بالکل بھیڑ نہ تھی۔ اور ایک چھوٹی سی ٹرالی۔۔۔۔بالکل ویسی ہی جیسی میں برلن سے لے کر چلا تھا۔۔۔۔اداس کھڑی تھی۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ میری ٹرالی جیسی کی جیسی وہاں رکھی تھی۔ مگر یہ میری بڑی بھول تھی۔۔۔۔ٹرالی کی حالت دیکھ کر مجھے گمان ہوا کہ دوران سفر سامان اتارنے اور چڑھانے میں کارندوں نے میرٹرالی کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔۔۔۔مگر نہ۔۔۔یہ تو میری ٹرالی نہیں ہے۔۔۔۔میں نے قریب پہنچنے کے بعد ٹرالی کو دیکھتے ہوئے اس افسر سے کہا۔ دراصل میری ٹرالی میں میرا ایک جوڑے کپڑے، سونے کا لباس اور دیگر چند ضروری اشیاء جس کی مجھے کوئی خاص فکر نہ تھی کے علاوہ ایک عدد نائک کمپنی کا جوتا بھی تھا۔ اور جس کی مجھے سب سے زیادہ فکر تھی۔
ہوا یہ تھا کہ جب نے برلن سے چلنے سے قبل ڈھاکہ کی پاکستانی ایمبیسی میں تعینات اقبال بھابھی کو فون کیا کہ اپنی فلائٹ نمبر دے دوں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے بھانجے کی کچھ فرمائش ہے تم ذرا اسے گھر فون کر لو۔ جب نے میں پتہ کیا تو شاہد نے مجھے بتا یا کہ انکل آپ برلن میں نائک ٹاؤن چلے جائیں وہ آپ کو مطلوبہ جوتا دے دیں گے، آپ قیمت ادا کر کے لے لینا۔ اچھا بھئی۔۔۔۔ایسا ہی کر لیتے ہیں۔ میں نے حامی بھر لی۔
اب ڈھاکہ ائرپورٹ پر کھڑے جب میں نے اپنے اس شک کو ، کہ میری ٹرالی کوئی اور لے گیا ہے اور بدلے میں اپنی ٹرالی چھوڑ گیا، یقین میں بدلنے کے لئے سوٹ کیس کھولا تو ۔۔جوتا (ندارت)نہ دارد۔۔۔۔ایسا ہو نا تو کوئی معجزہ ہی ہو تا۔۔۔۔کہ جوتا موجود ہوتا اور ٹرالی بدل چکی ہوتی۔
خیر میں نے افسر سے کہا کہ یقیناًکوئی غلطی سے میری ٹرالی لے گیا ہے۔۔۔مگر یہ ٹرالی میرے لیے بیکار ہے میں اسے یہیں چھوڑتا ہوں۔۔۔۔اور اب آپ مجھے پاکستانی ایمبیسی فون ملا دیں تاکہ وہاں سے کوئی آکر مجھے لے جائے۔
ایمبسی سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ بھابھی تو، میرے منع کر نے اور یہ بتا نے کے باوجود کہ مجھے پہلے ائرپورٹ پر ہی کچھ دیر رکنا ہے،خود مجھے ائر پورٹ لینے آئی ہو ئی ہیں۔ ان کے پی اے نے بتا یا کہ ان کا ڈرائیور آپ کو لینے ائر پورٹ کی عمارت میں کہیں ہوگا اور میڈم گاڑی میں ہونگی۔۔۔آپ فون رکھیں اور جلد ہی کوئی آپ سے رابطہ کرے گا۔ میں نے فون بند کر کے افسرسے کہا کہ ایک آدمی میرے ساتھ کار پارکنگ تک چلے اور اس دوران اگر کوئی فون آئے تو اس پر بتا نا کہ ہم کہاں پر ہوں گے۔ وہ افسر پہلے ہی بہت شرمندہ ہو رہا تھا کہ ٹرالی کا کھو جانا اس کی غفلت سمجھی جائے گی۔۔۔حالانکہ یہ میری غلطی تھی۔
ائر پورٹ سے پارکنگ تک آنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ انسانوں کا ایک اژدھام تھا جو ٹھاٹھیں ماررہاتھا۔۔۔خیر پارکنگ میں ہمیں سامنے ہی ایمبیسی کی گاڑی نظر آگئی۔ میں نے بھابھی سے سوال کیا کہ وہ کب سے میرا انتظار کر رہی ہیں تو انہوں نے بتا یاکہ ہم بس ابھی ابھی آئے ہیں۔ میں نے اندازہ لگا یا تھا کہ تم دو گھنٹے سے زیادہ کیا میٹنگ کر وگے اور اس حساب سے یہاں پہنچ گئی تھی۔۔۔وہ سب تو ٹھیک ہے مگر ایک زبردست گڑ بڑ ہو گئی ہے۔۔۔میں نے پر یشان کن لہجے میں جواب دیا۔ شاہد کا جوتا جس ٹرالی میں رکھا تھا اسے کوئی اور لے اڑا ہے۔۔۔اب میں اس کو کیا جواب دوں گا۔۔۔میری بات سن کر بھا بھی تھوڑا پریشان تو ہوئیں مگر کہنے لگیں اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ جو ہونا تھا سو ہوا۔۔۔۔چلتے وقت پولیس افسر نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ کوئی فون نمبر دے دے تاکہ ٹرالی واپس ملنے کی صورت میں وہ ہمیں فوری طور پر آگاہ کر سکے۔ بھابھی نے اپنا موبائل نمبر اسے دیا کہ وہ انہیں ہی آگاہ کرے۔ ائر پورٹ سے گاڑی ڈھاکہ شہر کے علاقے گلشن کی طرف چل پڑی۔۔۔۔
پھرہماری منزل آگئی ایمبیسی آ ف پا کستا ن ۔
میں ایمبیسی کی عمارت کو دیکھتا ہی رہا۔ ’پاکستا ن ہا ئی کمیشن‘ جلی حروف میں لکھا تھا۔ ائر پو رٹ سے ایمبیسی تک سارے راستے شہر میں، میں ہر جگہ میں دیکھتا آیا تھا کہیں بھی کو ئی چھوٹی سی بھی جھنڈی سبز و سفید رنگوں میں مجھے نظر نہ آئی تھی۔ایمبیسی کی عمارت کے صحن میں بڑا سا پاکستا نی پرچم لہرا رہاتھا۔ ۔۔ بنگلہ دیش کی سر زمین پر پہلا اور شاید ڈھاکہ شہر میں وا حد پا کستا نی پر چم دیکھ کر میں ایک دفعہ پھر اس شہر میں منا ئے گئے آخری 14 اگست اور اس کے قبل کے دنوں کو یاد کئے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔۔۔
ایمبیسی میں تھوڑی دیر رک کر ہم لوگ گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔۔ابھی ہم گھر پہنچے ہی تھے اور دروازے کے اند ر داخل ہورہے تھے کہ بھابھی کا فون بجنے لگا۔۔۔ہوں ہاں کر کے بھا بھی نے فون اقبال بھائی کو پکڑا دیا۔۔۔ اور کہنے لگیں اقبال ، سرور کی اٹیچی مل گئی ہے ائر پورٹ جاکر لے آؤ۔۔۔۔اقبال بھائی جو اب تک کچھ نہ سمجھ پائے تھے کہ معاملہ کیا ہے حیرانی سے فون پر تفصیلات لینے لگے۔
فون بند کر کے انہوں پہلے تو مجھ سے سوال کیا۔۔۔تمہاری اٹیچی رہ گئی تھی ائرپورٹ پر۔۔۔۔نہیں میں نے کہا۔۔۔۔کوئی اسے لے اڑا تھا۔ ہاں تو انہوں نے سراغ لگا لیا ہے اور تماری ٹرالی مل گئی ہے۔ الٹے پاؤں میں اقبال بھائی کی معیت میں ائر پورٹ پہنچا۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کمرے میں چند پولیس والوں نے ایک خاتون کو پکڑ کر بٹھا رکھا ہے اور وہ زار قطار رو رہی کہ ہم سے غلطی ہوگئی۔ہم غلطی سے کسی دوسرے کی ٹرالی لے گئے تھے۔ معلوم ہوا کہ پولیس کے سپاہی اسے اس کے گھر سے پکڑ کر لے آئے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ مجھ سے گڑ گڑانے لگی۔۔۔پولیس والے اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھے۔ میں نے ٹرالی کو کھول کر تشفی کی کہ جوتا موجود ہے۔ پھر میں نے اس خاتون سے کہا آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے۔ تاہم آپ نے جب اس کا تالا کھولنے کی کوشش کی ہوگی اور تالا کھولنے کی بجائے آپ نے اسے توڑا ہوگا تو آپ کو یقیناًمعلوم ہوچکا ہوگا کہ یہ اٹیچی آپ کی نہیں ہے۔ بھائی مگر آپ دیکھ لو اس میں آپ کا سارا سامان جوں کا توں رکھا ہے۔ عورت بدستور روتی ہوئی بولی۔۔۔ہاں تم ٹھیک کہتی ہو۔ ایک پولیس والے نے مجھ سے کہا بتائیں سر اس کو کیا سزا دی جائے۔۔۔۔آپ جو بولیں گے، وہ سزا اس کی دی جائے گی۔۔۔۔نہیں اب ان خاتون کو جانے دو۔۔۔مجھے میرا سامان سب کچھ ویسا ہی مل گیا ہے۔۔۔۔ان سے غلطی ہی ہوئی ہوگی۔۔۔آپ جاسکتی ہیں،میں نے عورت کو اشارہ کیا۔۔اور وہ اٹھتی ہوئی پولیس والوں کی کھا جانے والی نظروں سے نظریں ملائے بغیر آہستہ آہستہ دروازے کی طرف چلنے لگی۔۔۔اسے ڈر تھا کہ مبادا کہ کوئی پولیس والا اسے رکنے کو نہ کہے۔۔۔مگر کوئی کچھ نہ بولا۔۔۔اس کے جانے کے بعدمیں نے اور اقبال بھائی نے پولیس افسران کا شکریہ ادا کیا اور ٹرالی لے کر گھر پہنچ گئے۔ اب شاہد بہت خوش تھا۔
وقت بہت تیزی سے گزر رہاتھا۔۔۔۔مجھے اگلے دن واپس جا نا تھا۔ شام کے وقت ہم لو گ ڈھاکہ شہر گھومنے نکلے۔۔۔ گلشن کا یہ علاقہ بہت خوبصورت اور جدید ہے۔ یہاں تمام سفارت خانے اور ان کی رہائشی عمارتیں واقع ہیں۔ اور یہ ایک پوش علاقہ ہے۔ڈھاکہ میں سب سے پہلے وہ سائیکل رکشے نظر آئے جو اس شہر کی خصوصیت کا باعث ہیں۔ ڈھاکہ ایک ہزار سال پرانا شہر ہے۔ اور مختلف ادوار میں اسے مختلف حکمرانوں اور سلطنتوں کا دارلحکومت رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ اور آج یہ بنگلہ دیش کا درالحکومت سولہ ملین افراد کا شہر ہے۔ جس میں پورے ملک کی تیس سے چالیس فیصد آبادی ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہے۔ انگریزوں نے برصغیر میں اپنے قدم سب سے پہلے یہیں جمائے تھے۔ صدر گھاٹ کے بازار میں گھومتے پھرتے رہے۔ ایک ٹائی خریدی کچھ بچوں کے کپڑے لیے ۔۔۔ بیت المکرم ڈھاکہ کی سرکاری عالیشان مسجد ہے ۔ یہاں بھی مارکیٹیں ہیں۔
دھان منڈی کو تاریخ بنگلہ دیش میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ دھان منڈ ی میں بنگلہ دیش کے بانی۔۔شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ بھی تھی اور قتل گاہ بھی۔۔۔۔یہیں سے انہیں سن ستر میں گرفتار کر کے مغربی پاکستان لایا گیاتھا۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز دھان منڈی ،اپنی چھوٹی سی نہر کے لیے مشہور ہے۔ ڈھاکہ کی اپر کلاس اور سوپر کلاس یہاں رہائش کو ترجیح دیتی ہے۔ ارادہ کیا گیا کہ دھان منڈی چلا جائے۔
اقبال بھائی گاڑی چلاتے ہوئے ریڈیو ڈھاکہ پر ہم سب کو سنا رہے تھے کہ کل سے ایک زبردست عوامی تحریک کی زور شور سے تیاری جاری ہے۔ پہیہ جام ہڑتال کی تیاری کا مرکز آج پھر دھان منڈی ہی ہے۔ سن لیا وہ اپنی بیگم سے بولے۔۔میرا نہیں خیال کہ ہمیں اس طرف جا نا چاہیئے۔۔۔۔سرور کو کل سوار ہونا ہے۔۔۔یہ سب کچھ آج ہی ہو نا تھا بھابھی نے برا سا منہ بنایا۔۔۔
روانگی کے دن میں صبح صبح ائر پورٹ پہنچ چکا تھا۔۔۔۔میرے دونوں جر من ساتھی نظرآئے تو ان کا موڈ کچھ اچھا نہیں تھا۔۔۔وہ مجھ سے پوچھنے لگے۔۔۔تمہیں مچھروں نے نہیں تنگ کیا۔۔۔میں نے زیر تبسم مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔وہ میرے نمکین خون کا مزہ چکھ چکے ہیں بس اسی لیے نہیں کاٹا۔۔۔میں نے دیکھا کہ دونوں کے چہرے مچھر کاٹنے سے بری طرح متاثر تھے۔۔۔۔میری مسکراہٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔۔۔میں نے پھر پوچھا۔۔۔کیا تمہارے کمروں میں چھتوں پر پنکھے نہیں لگے تھے۔۔۔تھے تو سہی۔۔۔پر اس سردی میں پنکھے۔۔۔کیسے چلاتے ملر بولا۔ اور ۔۔۔ پنکھوں سے مچھروں کا کیا تعلق ہے۔۔۔میں نے کہا اگلی بار پنکھے چلاکر کمبل اوڑھ لینا۔۔۔۔ اچھا ملر پھر بولا ۔۔۔اسی لیے تمہیں ہمارے ساتھ ہوٹل میں ٹھہرنا چاہیئے تھا۔۔۔۔میں نے کہا ہاں اور شاید ہم تینوں کو ایک ہی کمرے میں۔۔۔۔
بورڈنگ اور امیگریشن سے گزرتے وقت ایک افسر سے بات چیت ہوئی۔ میں کچھ بنگلا، کچھ انگریزی بول کر کام چلا لیتا تھا۔۔۔۔کہنے لگا اب تو شاید تم کبھی بھی میرے ملک نہ آؤ۔۔۔ٹرالی کی چوری سے تمہارا استقبال ہوا ۔ ہمیں بہت شرمندگی۔۔۔ہوئی۔۔۔میں نے کہا کہ میرے دوستوں کو اس بات کا علم نہیں ہے۔۔تم بھی اب اس کو بھول جاؤ۔۔۔ اچھا۔۔۔وہ حیرانی سے بولا۔۔۔
ابھی ہم لوگ لاؤنج میں بیٹھے سوار ہونے کا انتظار ہی کر رہے تھے۔۔۔کہ ایک ائر لائن کا کارندہ میرے پاس آیا اور بولا آپ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بورڈنگ کارڈ لے کر ذرا میرے ساتھ کاؤنٹر تک چلیں۔۔۔۔میں نے ان دونوں کا بورڈنگ ان سے لیا۔۔۔اور انہیں حیران پریشان چھوڑ کر اس بندے کے ساتھ کاوئنٹر پر آگیا۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ کیا کوئی نئی مصیبت آن پڑی ہے۔۔۔ مگروہ بولا کچھ نہیں۔۔۔۔ہمارے بورڈنگ کارڈ کو لے کر نیا بورڈنگ کارڈ تھماتے ہوئے بولا آپ تینوں کی سیٹیں بد ل دی گئی ہیں۔۔۔۔
میں نے اپنے ساتھیوں کوان کے بورڈنگ کارڈ تھما دیئے۔
لاؤنج میں بیٹھا میں سوچتا ہی رہا کہ یہ کیا چکر ہے۔۔۔۔ فورا ہی ہمیں جہاز پر چلنے کا عندیہ دیا گیا۔۔۔۔اور اس شخص نے کاؤنٹر سے مجھے اشارہ کیا کہ پہلے آپ تینوں آجائیں۔۔۔۔
جہاز کے اندر پہنچ کر عقدہ کھلا کہ ہماری سیٹیں۔۔اکانامی سے بزنس کلاس میں ڈال دی گئیں تھیں۔۔۔شائید میرے ائر پورٹ کے تجربے کے ازالے کی خاطر۔۔۔۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو آنکھیں دکھا کر کہا۔۔۔دیکھو یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔یہ لوگ مجھے اب بھی اتنا ہی چاہتے ہیں۔۔۔اور ہاں اب تم لوگوں کی مچھروں کے کاٹنے کی شکایت دور ہو جانی چاہیئے۔