آزاد کشمیر انتخابات۔۔۔ شو آف پاور کا ذریعہ

قوموں کو ان کی مادی قوت نہیں بلکہ اخلاقی قوت ، قانون کی بالا دستی اور احترام آدمیت و انسانیت کی وجہ سے مہذب قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں قانون کی بالا دستی ہوتی ہے وہاں لوگ انتظامیہ کا بھی احترام کرتے ہیں۔ جو حاکم و رعایا کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں قانون سے واقف لوگ قانون سے ناواقف لوگوں کو قانون شکنی کا راستہ دکھاتے ہیں۔ قانون سازی کرنے والے خود قانون توڑتے ہیں اور انتظامیہ ان کا تحفظ کرتی ہے۔

وزیر کھانا کھانے جائے تو راستے بند، وہ شادی پر جائے تو راستے بند اور جنازے پر جائے تو مولوی صاحب بھی بعض اوقات خطبہ معطل کر کے وزیر صاحب کے لیے خیر مقدمی کلمات شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ہے وہ ماحول جس سے آج ہمیں واسطہ پڑا ہوا ہے۔ مہذب ملکوں میں لیڈرز عوام کی اصلاح کرتے ہیں مگر یہاں عوام کو لیڈروں کی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔ اکثر اوقات لیڈروں کو یاد کرانا پڑتا ہے کہ جناب آپ قانون و قاعدے کی خلاف ورزی کر کے غریب عوام کو تنگ کر رہے ہیں۔ جب سے الیکشن مہم شروع ہوئی ہے میں صرف ناگزیر حالات میں اور وہ بھی بہت کم وقت کے لیے بازار کا رخ کرتا ہوں کیونکہ ہر طرف سڑکیں، اڈے چوراہے بند اور گاڑیوں پر لاؤڈ سپیکرز کی چیخ و پکار انسان کو پاگل کر دیتی ہے۔ آج میں غلطی سے ایک بازار میں چلا گیا۔ میں نے سوچا میں گاڑی بائی پاس پر کھڑی کر کے پیدل بازار جاؤں گا تاکہ وقت پر واپس آ سکوں۔ لیکن میں اس وقت حیران ہوا جب بائی پاس کی وسیع و عریض سٹرک بھی لہراتے ہوئے جھنڈوں والی گاڑیوں کی وجہ سے بند ہو چکی تھی۔ یہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے تھے جس کے کارکن بائی پاس روڈ بند کر کے شو آف پاور کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس گرمی میں ایک منٹ کھڑی گاڑی میں بیٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ حد نظر تک گاڑیا ں ہی گاڑیاں تھیں۔ میرا دم گھٹنے لگا تو میں گاڑی سے باہر نکلا۔ پی پی کے چند نوجوانوں نے آگے بڑھ کر میری خیریت دریافت کی اور کہا کہ ان کے لیڈر وزیر تعلیم مطلوب انقلابی ہوٹل کے اندر ہیں ، آپ بھی اندر تشریف لائیں۔ یہ سن کر مجھے اور غصہ آیا کہ وزیر اندر بیٹھا ہوا ہے اور باہر سڑک بند ہے۔ میں نے سوچا جب وزیر کو ہوش نہیں تو ان بے چارے نوجوانوں سے کیا شکوہ کیا جائے۔ اتنے میں پی پی کے ایک سنئیر رہنما آئے جنہوں نے معذرت کرتے ہوئے سڑک کھلوانے کی یقین دہانی کروائی۔ مگر صورت حال ان کے بس میں نہ تھی۔

پی پی کی گاڑیوں کی وجہ سے بڑے ٹرک اور ٹرالر بائی پاس روڈ پر جمع ہو چکے تھے۔ میں عارضہ قلب میں مبتلا ہوں۔ میں چار سٹنٹس کی مدد سے چلتا پھرتا ہوں۔ گرمی میں میری حالت اتنی غیر ہو گئی کہ میں اپنی کار وہیں چھوڑ کر پاس ہی یو بی ایل بنک کے اندر اے سی کا سہارا لینے چلا گیا۔ جہاں سے تھوڑی ہوش آنے پر میں نے پولیس کو فون کیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ وزیر تعلیم مطلوب انقلابی اور ان کے دوسرے وزراء ساتھی اگر کسی جنازے یا شادی پر جائیں تو بھی پولیس کی بھاری نفری ساتھ ہوتی ہے۔ لیکن آج شو آف پاور کے موقع پر نظم و نسق سنھبالنے کے بجائے پولیس تھانے میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ پولیس کا ایک سپاہی اس وقت گشتی گاڑی لے کر آیا جب کہ میری طرح تنگ آنے والے مسافرخود سڑک خالی کرو اچکے تھے ۔ اس میں البتہ پی پی کے بعض سنجیدہ لوگوں نے بھی تعاون کیا۔

ماضی میں مسلم کانفرنس کے ساتھ بے شمار پالیسی معاملات پر ہمارے اختلاف رہے ہیں اور اب بھی ہم اسے اپنی بعض پالیسیوں کو درست کرنے پر زور دے رہے ہیں لیکن مسلم کانفرنس نے ماضی میں نہ اب کسی قسم کی امن و امان کی صورت حال پیدا کی۔ مسلم کانفرنس کے بہت سارے پرانے لوگ مسلم لیگ (ن) میں چلے گئے ہیں اور جاتے ہی ان کا انداز بھی پی پی کے جیالوں جیسا ہو گیا ہے۔ ن لیگ کے آپس میں اور دوسروں کے ساتھ بھی دوران الیکشن کئی جھگڑے ہو چکے ہیں۔ ڈھول کی تھاپ پر بازاروں میں داخل ہونے کا رواج سلطان محمود کے دور میں شروع ہوا ۔ چوہدری یاسین اور مطلوب انقلابی نے اسے چار چاند لگائے۔ سلطان محمود کئی پارٹیاں بدل چکے ہیں لیکن وہ جہاں جاتے ہیں اپنا کلچر ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے پروٹوکول کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہماری پولیس اتنی اچھی ہے کہ جب کھوئیرٹہ جیسے تنگ اور چھوٹے شہر کے اندر روڈ بلاک کر کے ہمارے عظیم سیاستدان ہوٹلوں میں جا کر چائے پیتے ہیں تو پولیس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جب تک لیڈرز اور ان کے چیلے کھا پی کر فارغ نہیں ہوتے تب تک روڈ مکمل بند رہے۔ ایک دفعہ میں ایک جنازے پر جا رہا تھا کہ سابق وزیر اعظم سلطان محمود جلسہ ختم کر کے ایک ہوٹل پر چائے پی رہے تھے اور روڈ بلاک کرنے والی گاڑیوں کی پولیس حفاظت فرما رہی تھی۔ میں نے کار سے اتر کر پہلے ا نسپکٹر کو بڑے اچھے طریقے سے روڈ کھلوانے کی درخواست کی۔ اس نے مجھے انتظار کرنے کا مشورہ دیا تو میں نے اسے کہا کہ پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس، ورنہ پولیس وردی کے بغیر تمہیں گھر جانا پڑے گا۔ آئی جی پولیس کا نمبر میں نے اپنے موبائل سے نکال کر اسے کہا کہ بہتر ہے وہ خود ان سے بات بھی کر لے۔ تب جا کر اسے کچھ سمجھ آئی اور راستہ کھولا۔

اب آزاد کشمیر کے الیکشن میں حصہ لینے والی تمام پارٹیاں مسلم کانفرنس کے علاوہ پاکستانی پارٹیوں کی شاخیں ہیں جنہوں نے آزاد کشمیر جیسی پر امن ریاست کا ماحول سخت خراب کر دیا ہے۔ پاکستان نے بھی ہندوستان کی نقالی کرتے ہوئے الحاق مخالف ریاستی پارٹیوں پر الیکشن میں حصہ لینے کی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ پاکستان سے جو بھی یہاں آزاد کشمیر میں الیکشن مہم پر آتا ہے وہ خود کو قانون سے بالا تر سمجھتا ہے ۔ ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت لاؤڈ سپیکر کا غیر ضروری اور بند ہال سے باہر استعمال پر پابندی عائدکی گئی تھی لیکن یہ پابندی صرف عام لوگوں پر ہے۔ لاؤڈ سپیکر کا بے دریغ استعمال زہنی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔ آزاد کشمیر میں سب سے پہلے اس پابندی پر نرمی جماعت اسلامی نے اس وقت لی جب جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق میرے آبائی شہر کھوئیرٹہ تشریف لائے تھے۔ کیونکہ نعرہ بازی کے بغیر جماعت کو بھی مزہ نہیں آتا یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ لاؤڈ سپیکر کے بغیر اﷲ کی دھرتی پر اﷲ کے پیغام کا جو وہ نعرہ لگاتے ہیں اس کی آواز اﷲ تعالی کو سنائی نہیں دے گی۔

گزشتہ رات کچھ ریاستی پارٹیوں کے نوجوانوں نے روڈ بلاک کر کے شو آف پاور کا مظاہرہ کرنے والوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا مگر ہم چند ساتھیوں نے انہیں مشورہ دیا کہ ہم قانون شکنی نہیں کریں گے، بلکہ ضابطہ اخلاق کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھیں گے۔ جو میں نے لکھ دیا ۔جلسے بند ہالوں یا ایسی مخصوص جگہوں پر ہوں جہاں عوام کی آمد و رفت متاثر نہ ہو۔ اس طرح کی صورت حال کی وجہ سے مختلف مقامات پر بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔