ظلم سہتا ہوا انسان!

پچھلے ہفتے لمبی مدت سے جانچ کرنے والی انکوائری چلکوٹ رپورٹ آخر کار منظرِ عام پر آہی گئی۔ اور جیسا قیاس لگایا جارہا تھا کہ اس انکوائری میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹو نی بلئیر کو عراق جنگ اور صدام حسین کو ہٹا نے کے لئے کچھ حد تک قصور وار ٹھہرا ایا جائے گا تو بالکل ویسا ہی ہوا۔ اس رپورٹ کو مکمل ہونے میں سات سال لگ گئے۔ چلکوٹ رپورٹ لگ بھگ 2.6ملین لفظوں پر مشتمل ہے اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس پوری رپورٹ کو اگر مکمل طور پڑھا جائے تو اس کو پڑھنے میں لگ بھگ نو روز لگ سکتے ہیں۔

اس رپورٹ اور انکوائری کو مکمل کر نے کے لئے سر جون چلکوٹ کا انتخاب کیا گیا تھا جو کہ پیشے کے اعتبار سے ایک سوِل سرونٹ تھے۔ سر جون چلکوت کو 2003کے عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت کی وجہ اور اس جنگ سے کیا سبق حاصل کیا گیا اس کا پتہ چلانا تھا ۔اس رپورٹ میں جن اہم باتوں کا پتہ چلانا تھا ان میں یہ تھا کہ کن وجوہات کی وجہ سے برطانیہ کو عراق جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ کیا فوجیوں کو پورے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ کن باتوں سے تنازعہ ہوا تھا۔ اس کے بعد اس کے کیا اثرات ہوئے۔ اورعراق میں جنگ کے بعد فرقہ وارانہ تشدد کی کیا وجوہات ہیں۔

چیر مین سر جون چلکوٹ نے ایک پریس بیان میں کہاکہ 2003میں عراق پر حملہ کرنے کی جن وجوہات کو پارلیمنٹ اور عوام کو بتایا گیا وہ محض ایک واحد راستہ نہیں تھا۔جب کہ صدام حسین سے کوئی فوری طور پر خطرہ نہیں تھااور خفیہ ایجنسی کی رپورٹ بے بنیاد تھی۔ عراق جنگ میں 179 برطانوی فوجی مارے گئے اور 4,487امریکی فوجیوں اپنی جان گنوا دی تھی۔جس سے برطانیہ سمیت امریکہ میں کافی احتجاج ہوا تھااور امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس بلانے کی بھی کافی تحریک چلی تھی۔لیکن اس کے علاوہ عراق جنگ میں لا کھوں مسلمانوں کی بھی جان گئی تھی۔

چلکوٹ رپورٹ کے شائع ہونے کے فوراً بعد ٹونی بلئیر جنہیں زیادہ تر لوگ (Tony Liar)ٹونی لائیر (جھو ٹا) کہتے ہیں پریس کانفرنس کر کے اپنی صفائی میں یہ کہا کہ ’مجھے لوگوں کی جان جانے کا افسوس ہے اور اس کے لئے معافی مانگتا ہوں لیکن مجھے عراق میں صدام حسین کو ہٹانے کااور جنگ میں شامل ہونے کاکوئی افسوس نہیں ہے بلکہ اسے ٹونی بلئیر اپنا ایک دانشمندانہ قدم بتا رہے ہیں۔جس کی وجہ سے انہیں بے شرم اور بے رحم بھی کہا جارہا ہے۔ سر جیریمی گرین اسٹوک جو کہ 2003میں اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر تھے ان کا کہنا ہے کہ ٹونی بلئیر چاہتے تھے کہ عراق جنگ اقوام متحدہ کے قرار داد کے تحت ہوتی، لیکن امریکہ نے ٹونی بلئیر پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے ٹونی بلئیر مجبور ہوگئے۔ یہ ایک اچھی بات ہوتی کہ اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کی جانچ کرنے والے انسپکٹر کو چھ ماہ کی اور مدت دینی چاہئے تھی تا کہ وہ اپنا کام مکمل کر پاتے اور ممکن ہے کہ عراق کی حالت ایسی نہ ہوتی جیسا کہ اب ہے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جنہوں نے 2003 میں پارلیمنٹ میں اپنا ووٹ دے کر عراق کی جنگ کی حمایت کی تھی ان کا کہنا ہے کہ ’ یہ ضروری ہے کہ اس بات سے ہم سب کو سبق حاصل کرنا چاہئے اور حکومت کے کام کاج میں بہتری لانی چاہئے ۔ اس کے علاوہ قانونی مشورہ پر بھی دھیان دینا چاہئے‘۔

لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربین جنہوں نے عراق میں جنگ کی مخالفت میں اپنا ووٹ دیا تھا، انہوں نے کہا کہ ’ اس رپورٹ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ فوجیوں کا جارحانہ اقدام ایک غلط بیانی کا نتیجہ تھااور ہم نے ہمیشہ کہا تھا کہ یہ جنگ ایک غلط قدم ہے ‘۔اس کے بعد جیریمی کوربین نے برٹش آرمی کے مرنے والوں کے خاندان سے ملاقات کر کے مخلصانہ طور پر لیبر پارٹی کی طرف سے جنگ میں جانے کے لئے معافی مانگی۔ مارے جانے والے فوجیوں کے خاندان کے لوگوں نے اپنی اشک بھری آنکھوں سے کہا کہ اگر ٹونی بلئیر عراق کے جنگ میں خوامخواہ شامل نہ ہوتے تو آج ان کے بیٹے اور رشتہ دار زندہ ہوتے ۔ ایک مرنے والے فوجی کی ماں نے کہا کہ’ اگر کوئی انتہا پسند ہے تو وہ ٹونی بلئیر ہے‘۔ وہیں ایک اور مارے جانے والے فوجی کی ماں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں قانونی صلاح لے رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ٹونی بلئیر پر مقدمہ چلایاجائے۔

عراق جنگ لگ بھگ چھ ہفتے تک جاری رہی جس میں امریکی اور برطانوی فوجیوں نے مل کر صدام حسین کی پچیس سالہ حکومت کو ختم کر دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد عراق میں فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوگیا اور اب صورتِ حال خانہ جنگی جیسی ہوگئی ہے۔ ملک میں شیعہ اور سنی آپس میں لڑ رہے ہیں اور آئے دن خود کش بم دھماکوں سے ہزاروں لوگوں کی جان جا رہی ہے جو زیادہ تر مسلمان ہیں۔

آئیے آپ کو چلکوٹ رپورٹ کی چند اہم باتیں بتاتے ہیں۔ برطانیہ نے عراق جنگ میں جانے کا فیصلہ کئی وجوہات سے کیا لیکن ملٹری ایکشن ہی واحد ذریعہ نہیں تھا۔تاہم ممکن ہے ملٹری ایکشن آخری ذریعہ ہو سکتا تھا ۔لیکن مارچ 2003میں صدام حسین سے برطانیہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا بلکہ برطانیہ کو اقوام متحدہ کی جانچ پڑتال کا ساتھ دینا چاہئے تھا۔اس جنگ سے اقوام متحدہ کے وقار کو دھچکا پہنچا یا گیا ہے۔
28؍جولائی 2002 میں اس وقت کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے امریکی صدر جارج بش کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ’ جو کچھ بھی ہو‘ وہ ان کے ساتھ ہیں۔جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ٹونی بلئیر برطانوی عوام اور پارلیمنٹ کو مجروح کر کے امریکی صدر جورج بش کے اشارے پر ناچ رہے تھے۔
(WMD-weapons of mass destruction)جس کی بنا پر امریکہ نے برطانیہ کو جنگ میں شامل ہو نے کو کہا تھا وہ ایک بے بنیاد بات تھی۔ امریکی اور برطانوی دونوں ہی ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک من گھڑت کہانی بنا کر عراق کے خلاف جنگ کرنے کے لئے غلط رپورٹ فراہم کی۔تاہم خفیہ ایجنسی کی اس ناقص رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا گیا جب کہ ایسا کرنا ضروری تھا۔
برطانوی فوجیوں کو جنگ میں بھیجنے سے پہلے ان کی تیاری ناقص تھی اس کے علاوہ اسلحہ کی بھی کافی کمی تھی۔جس کی وجہ سے کئی سو فوجیوں نے اپنی جان گنوا دی اور لگ بھگ 150,000عراقیوں نے بھی اپنی جان گنوا دی ہے۔اس کے علاوہ ایک ملین لوگ بے گھر بھی ہو گئے ۔
اس رپورٹ نے اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ مستقبل میں ایسے حالات میں جہاں دیگر ممالک میں مداخلت کرنے کا معاملہ سامنے آئے تو حکومت کو پہلے اس پر اچھی طرح بحث کرنی چاہئے اور ان باتوں کو چھان پھٹک کر دیکھنے کے بعد ہی ایسا فیصلہ کرنا چاہئے۔

2003  میں بھگ ایک ملین لوگوں نے لندن میں مظاہرہ کرکے عراق جنگ کی سخت مخالفت کی تھی اور لوگوں نے ٹونی بلئیر کے فیصلے کی کھل کرمذمت بھی کی تھی۔لیکن ٹونی بلئیر اپنی طاقت کے نشے میں چور عوام کے احتجاج کی پرواہ کئے بغیر عراق کے معصوم لوگوں کو مارنے اور برباد کرنے میں مصروف تھے کہا جارہا ہے کہ چلکوٹ رپورٹ عراق جنگ کی مخالفت کرنے والوں کے لئے ایک عمدہ تحفہ ہے۔

چلکوٹ رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کا کافی بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا تو وہیں اس بات کی بھی امید کی جارہی تھی کہ اس رپورٹ میں ٹونی بلئیر کو مجرم ٹھہر ایا جائے گا لیکن اس کے بر عکس مجھے ذاتی طور پر چلکوٹ رپورٹ محض عام اور بکواس رپورٹ لگ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چلکوٹ رپورٹ سے ظالم ٹونی بلئیر کو سزا ملے گی یا کیا ٹونی بلئیر اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے سے مرنے والوں کے خون سے رنگے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر شرمندگی محسوس کریں گے۔ نہیں!

مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا کیونکہ چلکوٹ رپورٹ کو مکمل کرنا برطانوی حکومت کی مجبوری تھی۔ ایک ایسی مجبوری جس کے لئے وہ دنیا بھر میں اپنی رواداری اور مساوات کا چرچا کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ چلکوٹ انکوائری کا کرانا ضروری سمجھا گیا تاکہ آنے والے دنوں میں برطانیہ دنیا والوں کے سامنے میں اپنی رواداری اور مساوات کی مثال بنا رہے ۔ لیکن ٹونی بلئیر کی بے رحمی اور بے دردی کو عراق کے لاکھوں لوگ کیسے بھلا پائیں گے۔ جہاں ٹونی بلئیر کے غلط فیصلے نے ہزاروں ماؤں سے ان کے بچے چھین لئے ۔ کتنی ہی عورتوں کو بیوہ بنا دیا تو کہیں بچوں کو یتیم کردیا۔اس کے علاوہ عراق جنگ میں زیادہ تر مسلمانوں کا قتل و عام ہوا ہے۔ آج عراق فرقہ واریت کا شکار ہوچکا ہے جہاں شیعہ سنی کو مار رہے ہیں تو کہیں سنی شیعہ کومار رہے ہیں۔ میں منظر بھوپالی کے اس شعر سے بات ختم کرتا ہوں کہ :
سچ کہوں مجھ کو یہ عنوان بُرا لگتا ہے
ظلم سہتا ہوا انسان بُرا لگتا ہے
میرے اللہ میری نسلوں کو ذلّت سے نکال
ہاتھ پھیلائے مسلمان بُرالگتا ہے