کوئی نہ کہے کہ ایدھی مر گیا
- تحریر منور علی شاہد
- جمعہ 15 / جولائی / 2016
- 11095
"غریبوں کا خیال رکھنا“ یہ وہ آخری الفاظ تھے جوعبدالستار ایدھی نے دنیا چھوڑنے سے پہلے کہے، جو ان کے آخری الفاظ بن گئے ۔ میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق عبدالستار ایدھی مرحوم نے مرنے سے قبل جو الفاظ کہے وہ انہی لوگوں کے بارے میں کہے جن کے لئے انہوں نے اپنی جوانی اور بڑھاپا وقف کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے کام میں کسی رنگ و نسل زبان، مذہب و عقیدہ، فرقہ اور ذات پات کی کوئی تمیز نہ رکھی تھی اور یہی ان کے کام کی معراج تھی۔
وہ انسانیت کے پجاری تھے۔ انسانیت کا استعارہ اور روشنی کا مینار تھے۔ عجب بندہ تھا وہ غریب تھا لیکن بلا کا خوددار اور بے خوف و نڈر۔ کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتا تھا من کا بہت سچا تھا ایک انتہائی غریب گھر میں آنکھ کھولنے والا اپنی جوانی اور بڑھاپا دونوں، غریبوں کی نذر کر گیا اور وہ کام کر گیا جو حکومتیں نہ کرسکیں ۔ انسانوں کو انسانیت کا مفہوم سمجھا گیا و ہ ایک ایسی سرزمین پر انسانیت کے عاشق تھے جہاں انسانوں کی پہچان مذہب و عقیدہ اور فرقہ بنا دی گئی ہے۔ لیکن عبدالستار ایدھی نے ان سب سماجی برائیوں کو انسانیت کی لازوال محبت کے ساتھ روند ڈالا۔ غریب پروری اور انسانیت کی بے لوث خدمات کے نتیجہ میں جوعزت ایدھی صاحب کو ملی ہے اس نے ان کو ہمیشہ کے لئے امر بنا دیا ہے۔ ایدھی صاحب درویش صفت انسان تھے انہوں نے اس نظریہ انسانیت کا احیاء کیا، جس کو چودہ سو سال پہلے محسن انسانیت ﷺ نے دنیا کے سامنے رکھا تھا۔
انسانیت پر کسی مذہب یا سوسائٹی کی اجارہ داری نہیں ہوتی ۔ایدھی صاحب نے ہمیشہ انسانیت کو ہی اپنا مذہب سمجھا۔ ان کی وفات سے جو صف ماتم بچھی اس پر بیٹھنے والوں میں سبھی مذاہب اور مکاتب فکر کے لوگ شامل تھے۔ سبھی نے ان کی وفات کا غم شدت سے محسوس کیا ۔ اندرون و بیرون دنیا نے ان کی وفات پر دکھ و غم کا اظہار کیا گیا۔ ۔ ایدھی صاحب غریبوں کے دکھوں کا مداوا تھے، یتیموں، بیواؤں اور لاوارثوں کے وارث تھے، ایدھی صاحب شفقت کا منبع تھے۔ ایک دن کا نومولود بچہ ہو یا ادھیڑ عمر شخص کی لاوارث نعش، ہرکسی کو انسانیت کی چادر میں لپیٹا۔ ایدھی کی خدمات اور کام کا موازنہ دنیا میں کسی اور کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جو کام ایدھی صاحب نے کردئے وہ نہ کسی نے کئے اور ہی کر سکے گا۔ ایدھی صاحب نے 8000 انسانی نعشیں گندے نالوں میں اتر کر نکالیں، کوئی دوسرا ایک ہی نکال کر دکھائے۔ انہوں نے بیس ہزار سے زائد نومولو بچوں کے وارثین میں اپنا نام لکھایا، جو دوسروں کے گناہ کا نتیجہ تھے۔ آج کون ہے جو ایک بچے کو اپنا سکے ۔ ایدھی صاحب کی وفات کا غم اور دکھ کا اندازہ لگانا ہے تو آپ کوایدھی ویلفئیر سروسز کے شیلٹرز ہومز ، اولڈ ہومز لاوارث بچوں کی پناہ گاہوں میں جانا ہو گا اور وہاں کے مناظر دیکھنا ہوں گے، جہاں رہنے والے ہر چھوٹے بڑے، بوڑھے، عورت و جوان کی آنکھ اشکبار تھی اور کچھ تودھاڑیں مار مار کر روتے رہے تھے۔
ایدھی جھولوں میں لیٹے پھول سے بچے اب وہ چہرہ نہیں دیکھ سکیں گے جو ان بچوں کو دیکھتے ہی مسکرانے لگتا تھا ۔اصل میں ان سب کے لئے قیامت صغری تھی اور ہر ایدھی ہوم سوگ میں ڈوبانظر آتا تھا کیونکہ بعض پہلوؤں سے ایدھی صاحب کو دوسروں پر امتیاز اور سبقت حاصل ہے کہ انہوں نے اس ملک اور اس ماحول میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسروں کی جان بچائی ۔اس طرح کے حالات اور ماحول میں ایدھی صاحب نے خدمت انسانیت کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔اس شہر میں انسانوں کی جان بچاتے رہے جہاں نامعلوم گولیوں کا ہر وقت خطرہ رہتا تھا وہ وہاں سب سے پہلے اور نہتے پہنچت،ے جہاں اہلکاربکتر بند گاڑیوں میں پہنچتے تھے۔ اس انسانی مسیحا نے وہ ناقابل یقین کارنامہ کر دکھایا جو56 اسلامی ممالک کی حکومتیں مل کر نہ کرسکیں۔ خود پاکستان کے اندر بھی ایک ایسا فلاحی منصوبہ نظر نہیں آتا جو اس طرح بلا امتیاز خدمت خلق کر رہا ہو اس پر فخر کیا سک۔ے حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں بہت سے لوگ محلوں اور بڑے بڑے بنگلوں میں بیٹھے پاکستان کی بدنامی کاباعث بن رہے تھے وہاں اکیلا ایدھی ملیشیا کی شلوار قمیض اور ہوائی چپل پہنے پاکستان کا نام روشن کرنے میں مصروف تھے ، ریاستی ادارے بدنامی کے میڈل حاصل کر رہے تھے تو ایدھی کے فلاحی ادارے اور ایمبولینسز سروسز گینزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام لکھوا رہے تھے۔ اس خدا کے بندے نے تن تنہا بھیک مانگ مانگ کر ایسے فلاحی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچا دیئے جو گینزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوئے۔ انسانی خدمت خلق اور ہمت کی ایسی داستاں رقم کر گیا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
ایسی داستاں حیات اور جدوجہد کی کہانی کسی ہوشربا کہانی سے کم نہیں دکھائی دیتی۔1951 میں اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی دوکان خریدی اور ایک ڈاکٹر کی مدد سے ڈسپنسری کی بنیاد ڈالی اور رات کو وہیں سو جاتے کہ کسی کو ایمرجنسی ہو تو وہ مدد کرسکیں اس طرح ڈسپنسری سے غریبوں کو مفت ادویات ملنے لگیں ایک مخیر کاروباری دوست نے بیس ہزار کا عطیہ دیا تو اس سے ایک پرانی ووکس ویگن خریدی اور اس کو ایمبولینس بنا کر صوبے بھرمیں امدادی سرگرمیاں شروع کردیں۔ یہ ابتداء تھی اور جب ان کی وفات ہوئی تو ایدھی نیٹ ورک100 شہروں میں قائم ہو چکا تھا اور پاکستان بھر میں12سو ایمبولینسیں کام کر رہی تھیں جن میں تین سو صرف کراچی میں ہیں۔ اس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو جہاز، ایک ہیلی کاپٹر، سپیڈ بوٹ اور ربربوٹ بھی موجود تھی۔ پاکستان بھر میں تین سو چھوٹے بڑے مراکز موجود ہیں۔ صرف کراچی میں آٹھ ہسپتال موجود ہیں جن میں ایک کینسر کا ہسپتال بھی ہے۔ جہاں غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے ۔
ایک مضمون میں ان کے منصوبوں کی تفصیل کا ذکر ممکن نہیں۔ عبدالستار ایدھی کو ان کی زندگی ہی میں انسانیت نوازی اور خدمت خلق کے غیرمعمولی کام پر عالمی اعزازات ملنا شروع ہو گئے تھے جو ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ 1986میں فلپائن کا سب سے بڑا اعزاز میگا سے ملا۔ 1988میں انہیں لینن پیس پرائز سے نوازا گیا۔ اطالیہ میں خدمت برائے انسانیت امن و بھائی چارہ ایوارڈ دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے ہمدن اعزاز برائے عمومی طبی خدمات دیا گیا۔ 2009 یونیسکو کا ایوارڈ ملا ۔2010میں لندن سے جماعت احمدیہ یوکے کی طرف سے احمدیہ پیس ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ اور بھی نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈز ملے تھے۔ ان کی وفات پر دنیا بھر کے میڈیا نے ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور ایدھی صاحب کو پاکستانی مدر ٹریسا اور کچھ نے فادر ٹریسا قرار دیا۔ چین، امریکہ، بھارت سمیت دیگر ممالک نے ان کی وفات پر دکھ و غم کا اظہار کیا۔ احمدیہ جماعت کے عالمگیر امام مرزا مسرور احمد صاحب نے لندن سے ان کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایدھی صاحب بہت مخلص انسان تھے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی ۔ پاکستان میں ننکانہ سکھ کمیونٹی کی طرف سے گردوارہ جنم استھان میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی اور خصوصی ارداس یعنی دعائیہ تقریب میں ایدھی صاحب کی بلا امتیاز انسانی خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کراچی میں پاکستان چرچ کونسل کی طرف سے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی اور دعائیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں ایدھی صاحب کے انسانی خدمت خلق اور فلاحی کاموں پر ان کی غیرمعمولی خدمات کو سراہا گیا۔ سوشل میڈیا پر ایدھی صاحب کی شخصیت اور ان کے فلاحی کارناموں پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے، ایسا شاید ہی کسی اور پاکستانی کے بارے میں کہا گیا ہو۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:
کتنے قطروں کو سمندر کر گیا
کام پورا کرکے اپنے گھر گیا
تا قیامت وہ رہے گا جاوداں
کوئی نہ کہے کہ ایدھی مر گیا