برطانیہ: یہ جانا بھی کیا جانا ہے
- تحریر
- ہفتہ 16 / جولائی / 2016
- 6172
برطانیہ میں سابق وزیر اعظم کی روانگی اور نئی وزیر اعظم کی آمد کے مناظر دکھاتے ہوئے ایک تجزیہ کار نے کمال تبصرہ کرتے ہوئے اس اچانک تبدیلی کو یوں سمویا۔۔۔ سیاست دان ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن بعض اوقات موقع سیاست دان کی تلاش میں ہوتا ہے۔ تین ہفتے قبل کس نے سوچا تھا کہ ڈیوڈ کیمرون دو سال قبل ہی سابق ہو جائیں گے اور ان کی کیبنٹ کی ہوم سیکریٹری نئی وزیر اعظم ہو جائیں گی۔ برطانوی ریفرنڈم کا کایا پلٹ نتیجہ کیا آیا، تبدیلیوں کی لائن لگ گئی۔ ڈیوڈ کیمرون نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تو شیڈول یہ بتایا کہ اکتوبر میں پارٹی کنونشن میں نئی قیادت کا فیصلہ ہو گا۔ وزارت کے لیے سب سے فیورٹ بورس جانسن نے اس قیادت کی دوڑ سے علیحدگی کے اعلان کا بم شیل پھوڑا تو نئی قیادت کے لیے نگاہیں ادھر ادھر گھومنے لگیں۔
گذشتہ چھ سال سے ہوم سیکریٹری رہنے والی تھیریسا مے نے اپنی امیدواری کا اعلان کیا۔ دیکھتے دیکھتے چار امیدوار میدان میں آ گئے۔ کنزرویٹو ممبران پارلیمنٹ نے چار میں سے دو کا انتخاب کر کے امیدوار شارٹ لسٹ کر دیے۔ شارٹ لسٹ امیدواروں میں تفاوت 199 اور 84 کا تھا۔ دوسری امیدوار نے اتنا بڑا فرق دیکھ کر پارٹی کنوینشن کا انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا اور قیادت کی دوڑ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ سو یوں میدان میں ایک ہی امیدوار ہونے کی وجہ سے تھریسا مے واحد امیدوار ٹھہریں۔ ایسے میں پارٹی کنوینشن کی ضرورت نہ پڑی اور یوں اکتوبر میں آنے والی تبدیلی اسی ہفتے ہو گئی۔ ڈیوڈ کیمرون سابق ہو گئے اور تھیریسا مے نئی وزیر اعظم بن گئیں۔ دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے سابق کے جانے اور نئے کے آنے کے مناظر لائیو نشر ہوئے۔
ان مناظر میں ایک تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ تصویر میں سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی نئی رہائش گاہ پر 10 Downing Street سے لائے سامان کو ٹرک سے اتار رہے ہیں۔ تصویر میں وہ ایک گتے کا ایک بڑا کارٹن اٹھائے ہوئے ہیں۔ دونوں ہاتھوں سے انہوں نے کارٹن اٹھایا ہوا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے جامنی رنگ کی ایک ٹی شرٹ اور ڈینم ٹراؤزر پہنی ہوئی ہے۔ شرٹ کا کالر کھڑا ہواہے جیسے کوئی بے دھیانی میں کالر سیدھا کرنا بھول گیا ہو یا کوئی کھلنڈ رے پن کے اظہار میں دانستہ کالر کھڑا رکھتا ہے۔ پاوں میں جوگر پہنے ہوئے۔ اس تصویر پر یار لوگوں نے طرح طرح کے کومنٹس دیے۔ کسی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں جہوریت کب ایسی معراج کو کب پہنچے گی جب سابق وزیر اعظم کسی کروفر اور جاہ و جلال کے بغیر یوں سادگی سے اپنے گھر سدھاریں گے۔ کسی نے اپنی جمہوریت پر حسب توفیق دو چار حرف بھیج کر دل ہلکا کیا۔ کسی نے سنجیدگی سے یاد دلایا کہ روم ایک روز میں میں نہیں بنا تھا، ایسی جمہوری روایتیں بھی چند سالوں یا دِہایوں میں نہیں بنا کرتیں بلکہ صدیوں میں بنتی ہیں۔ سبق ایسے تبصروں کا یہ تھا کہ ہنوز دلّی دور است۔
برطانیہ میں تبدیلی کا سرکل مکمل ہوا تو ان کی جمہوری روایتوں کے مطابق۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٍٹوں میں کہرام ، پونڈ کی قیمت میں ریکارڈ کمی اور معیشت میں جاری بے یقینی کے باوجود سر پھٹول ہوئی، نہ الزامات کا تبادلہ ہوا، عدالتوں کا دراوازہ کھٹکھٹایا گیا کہ جانے والا یوں جانے نہ پائے نہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کو اشارہ ملا کہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر کچھ الزامات ایسے لگائیں کہ باقی زندگی عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے ہاں حاضری میں گذرے۔ اس کے بر عکس سب کچھ سلیقے اورپروقار طریقے سے ہو گیا ۔ کچھ ا حباب کو یہی گلہ ہے کہ ایک ہم ہیں کہ جیسی بھی بری بھلی جمہوریت ہے اس کے باوجود کسی انجانے نام کی تحریک کی داد فریاد ملک کے بڑے شہروں میں سپہ سالار کی تصویر کا ساتھ آویزاں ہوئی کہ جانے کی باتیں ہوئی پرانی، خدا کے لیے اب آ جاؤ۔ بات بینرز سے نکلی تو میڈیا اور سوشل میڈیا پر جا پہنچی۔ ٹاک شوز کے لئے اچھا خاصا مصالحہ نکل آیا۔ چوہدری اعتزاز احسن کو اس میں انہیں ڈرانے کی سازش نظر آئی۔ مولانا فضل الرحمان نے ان پردہ نشینوں کو گرفتار کرنے پر زور دیا جنہوں نے چپکے چپکے سپہ سالار کو اور ہی راستہ سجھا دیا۔ عسکری ترجمان نے وضاحت کی کہ ہمارا اس قصے میں لینا ایک نہ دینے دو۔ حکومت نے الگ اپنی وضاحت پیش کی۔
اس گرما گرم ماحول میں عمران خان لندن روانہ ہوئے تو یار لوگوں نے دو سال پرانے اتفاقات سوچنے شروع کر دیے کہ کچھ احبا ب کے بقول طاہر القادری بھی لندن کی اڑان بھرنے کو تھے ۔کسی ممکنہ لندن پلان پر رزم آرائی کو مگر عمران خان کی ممکنہ تیسری شادی کی افواہوں نےدبا لیا۔ آناٌ فاناٌ ملک بھر کا مسئلہ نمبر ایک عمران خان کی شادی کی صورت تمام ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر حاوی ہوگیا۔ سو شل میڈیا پر چند تصاویر بھی خوب شئیر ہوئیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی طرف سے تردید پر یار لوگوں کا یقین اس لیے اور بھی پختہ ہو گیا کہ دوسری شادی سے قبل بھی ایسی ہی تردید ہوئی تھی۔ چند نیوز چینلز کے لندن بیوروز نے تو نکاح کی امکانی تقریب کا احوال بھی سنا ڈالا اور اس تقریب کے التواء کا بھی۔ ہم نے ایکسپریس نیوز کے لند ن بیورو کے نمائندے اور ہمارے رفیق کالم نگار نسیم صدیقی سے ان خبروں کی صداقت جاننی چاہی تو ان کا جواب تھا کہ Its total rubbish ۔ بلکہ ان کا گلہ تھا کہ ایسی بے بنیاد اور اڑائی ہوئی خبروں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
ایسی بے بنیاد خبروں کا محاسبہ ہو گا کہ نہیں، ہمیں معلوم نہیں لیکن ایک اور محاسبہ پورے سیا سی سٹم کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ پانامہ لیکس پر سیاست کے پوتڑے دھڑا دھڑ دھل رہے ہیں۔ ایک لیڈر بضد ہیں کہ وہ وزیر اعظم کو جیل بھجوائے بغیر نچلے نہیں بیٹھیں گے۔ ایک اور لیڈر کے ہاتھ میں سینٹ میں قرارداد کا متن بھی ہے اور عدالتوں کے دروازے پر بھی نظر ہے۔اپوزیشن اپنے تئیں واپسی کے سب راستوں پر پہرہ دیے ہوئے ہے۔ حکومت کی سنیں تو انہیں اس سارے ہنگامے میں سازش کی بو آ رہی ہے۔ گذشتہ دھرنے کو دوران بار بار ہمیں باور کرائے گئے ٌ ڈاکو، چور، لٹیرے ٌ کے ساتھ متحد ہو کر اپوزیشن ملک کو پانامہ لیکس کی فیوض و برکات سے مستفید کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
پانامہ لیکس کا معاملہ کہاں جا کر اگلا پڑاؤ ڈالتا ہے، ہمیں معلوم نہیں لیکن اس پر سیاست بازی سے یہ غلط فہمی دور ہو رہی ہے کہ ہماری سیاست اور اندازِ سیاست میں بلوغیت آ رہی ہے۔ آزاد کشمیر میں الیکشن میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ پوری الیکشن مہم میں مجال ہے کہ عوام کے بنیادی مسائل مرکز نگاہ ہوں ۔ ایک دوسرے پر ذاتی الزامات اورکیچڑ اچھالنے سے کسی کو فرصت ہی نہ ملی۔ بلکہ سیاسی درجہِ حرارت اتنا بڑھا کہ چند بے گناہوں کا خون لے کر آسودہ ہوا۔ کچھ یہی رنگ ڈھنگ ہمیں آنے والے دنوں کی سیاست کے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ ٖ فضا کئی سیاسی پارٹیوں کو سوٹ کرتی ہے کہ بنیادی اور تلخ مسائل پر بات ہو نہ جواب دہی کہ ان کی صوبائی یا مرکزی حکومت کی کارکردگی کیا رہی؟ قومی وسائل کے ساتھ کیا بیتی؟ گورننس کے ساتھ کیا ہاتھ ہوا ؟ مقامی حکومتوں کے اختیارات کے ساتھ کیا ہوا؟ جنہیں یہ مسائل حل کرنا ہیں انہیں ایک دوسرے کی دستار اچھالنے سے فرصت نہیں۔ ایسے میں سپریم کورٹ از خود نوٹس کے زریعے پوچھ رہی ہے کہ الیکشن کمیشن کئی ہفتوں سے فعال کیوں ہے؟ ہا ئی کورٹ کو فیصلہ دینا پڑ رہا ہے کہ ایک شوگر ملز کا اسٹاک بیچ کر کاشت کاروں کی جان چھڑائی جائے۔
رہا بار بار اور ہر بار سوال اٹھانے پر کمر بستہ میڈیا تو اسے بھی اہل شہر کی طرح ہر روز تماشا چاہیے۔ پرسوں عمران خان کی تیسری شادی پر میڈیا دیوانہ تھا، کل قندیل بلوچ کی پہلی شادی کو کھوج نکالنے کا تماشہ۔ سیاست سے جڑا ہر ادارہ اگر ٌ یونہی مصروف ٌ رہا تو ایسے ماحول میں وہ جمہوری روایتیں کیسے بنیں گی جن کے لیے ڈیوڈ کیمرون کو وزیر اعظم ہاوس خالی کرنے کے بعد اپنا سامان خود ڈھوتے دیکھ کر بار بار سوال کیا گیا تھا۔ سیاست دان موقع کی تلاش میں ہیں لیکن کیا کریں موقع سیاست دان کی تلاش میں دکھائی نہیں دیتا۔