کشمیر میں آزادی کی نئی لہر

کشمیر میں اپنے حقوق اور آزادی کی جدوجہد مسلسل سات دہائیوں سے مختلف انداز سے چلتی آرہی ہے۔ بھارتی حکومت اس مسئلے کو طاقت کے زور پر حل کرنا چاہتی ہے جو کہ  ایک ناکام حکمت عملی ثابت ہورہی ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد پر عالمی میڈیا اور مغربی دنیا کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوجوان کشمیری رہنما برہان مظفر وانی کو بھارتی مسلح افواج نے جب قتل کیا تو اس کے ردِعمل میں وادئ کشمیر میں نوجوانوں کا احتجاج  بیداری کی ایک نئی لہر بن کر ابھرا ہے۔

مغربی دنیا اور عالمی میڈیا میں کشمیر کا مسئلہ اب چھپایا نہیں جاسکا۔ اسی لیے تو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سفارتی کردار اداکرنے کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اقوامِ متحدہ کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مذاکرات کشمیر کے تنازعے کو ایجنڈے پر رکھے بغیر ممکن نہیں ہوسکتے۔ پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت، کشمیر کو کسی بھی طرح بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار نہیں دے سکتا۔ کشمیری اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج جس جبر کے ساتھ وہاں کے لوگوں کو دبانا چاہتی ہیں، اب وہاں طاقت کا استعمال بھی غیرمؤثر ہوتا جا رہا ہے۔ جموں وکشمیر میں کرفیو کی ناکامی اور اس کے مقابلے میں پُرامن نہتے کشمیری نوجوان جس طرح اپنی آزادی کے لیے احتجاج کررہے ہیں، اس نے مقبوضہ کشمیر اور بھارتی حکومت کی ناکامی کو ثابت کردیا ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ تنازعات کے حوالے سے یہ دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے زیادہ Militarization کرکے ریاست لوگوں کو دبانے میں مصروف ہے۔ کشمیر میں سات لاکھ سے زائد بھارتی افواج کی موجودگی، درحقیقت ناکام بھارتی حکومت کا اظہار ہے۔

بھارت کی خفیہ ایجنسی را (RAW) کے سابق چیف امرجیت سنگھ دولت نے کہا ہے کہ ’’ہم (بھارت) نے دہائیاں ضائع کردیں کشمیر میں انتہاپسندی کو دباتے ہوئے۔‘‘ کشمیر، دنیا کی تین ایٹمی طاقتوں (پاکستان، بھارت، چین) کے درمیان ایک Nuclear Necklace ہے۔  تنازعاتی حوالے سے یہ دنیا کا گرم ترین خطہ ہے۔ پاکستان اور بھارت اس مسئلے پر دوبار براہِ راست جنگیں کرچکے ہیں۔ کارگل کی جنگ اس کے علاوہ ہے۔ معروف امریکی پالیسی ساز سٹیفن کوہن کا کہنا ہے کہ ’’پاک بھارت تعلقات میں بہتری اس وقت تک اہم ہی نہیں جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرلیا جاتا۔‘‘

کشمیر میں آزادی کے اجتماعات کو اس وقت بڑی اخلاقی و سیاسی طاقت ملی جب تین روز قبل بھارت کی راجدھانی میں مزدور تنظیموں، خواتین وانسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر ترقی پسند تنظیموں نے بھارت کے کشمیر میں جبر کے خلاف اور کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔  ایسے اجتماع اب پورے بھارت میں پھیل رہے ہیں۔ ان مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مزدوروں، خواتین اور دیگر سماجی تنظیموں نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اس مسئلے کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر اور الجھا کر زیادہ دیر ٹال نہیں سکتی۔ اس مسئلے کا حل سیاسی ہے، فوجی نہیں۔ اِن مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی ترقی پسند تنظیموں نے بھارتی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ جب اس مسئلے کا ذکر کرتا ہے تو بھارتی میڈیا پہلے پاکستان اور پھر دہشت گردی کا ہوّا بنا کر کشمیریوں کا ذکر ہی نہیں کرتا۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل بھارت کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبا کی تحریک کا ابھار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھارت کے اندر انصاف اور انسانیت اور طبقاتی حوالے سے ایک بڑی تحریک کسی بھی وقت پھوٹ سکتی ہے، جو کشمیر میں آزادی، بھارت میں بالائی طبقات کے جبر اور محنت کشوں کے حقوق کی بنیاد پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ بھارت کے دانشور حلقے، کشمیر کے مسئلے کو یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کو کہ وہاں دہشت گرد مصروفِ کار ہیں، پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں جن میں معروف بھارتی دانشور ارون دھتی رائے سرِفہرست ہیں۔

بھارت نے جس تسلسل اور جبر کے ساتھ کشمیر کی تحریک آزادی کو طاقت کے ساتھ دبانے کی کوشش کی ہے، حالیہ احتجاجی مظاہروں نے اب اس کی Myth بھی توڑ دی ہے۔ جموں وکشمیر میں نہتے اور پُرامن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ہی درحقیقت ایک بڑا سیاسی اور اخلاقی ہتھیار ہے جس نے اس تحریک کو ایک نئی جِلا بخشی ہے۔ وہ لوگ، گروہ اور ریاستیں جو مسئلے کو طاقت (Violence) کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں، وہ آئے روز ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔ کشمیری عوام خصوصاً نوجوان، بھارتی افواج کے خلاف نہتے اور پُرامن احتجاج کے ذریعے مسلح بھارتی افواج سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے ہیں۔ اُن کے احتجاج نے اُن طاقتوں کے اس تصور کو بھی رد کر دیا ہے کہ تشدد کا استعمال مسئلے کا حل ہے۔ اسی لیے آج کشمیریوں کی حمایت میں عالمی میڈیا، عالمی طاقتیں اور بھارت کے اندر بھی ردِعمل شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وہ لوگ جو کسی بھی دارالحکومت میں بیٹھ کر تشدد کے حکم اور حکمت عملی سے اس مسئلے کا حل اپنی مرضی سے چاہتے ہیں، وہ اب ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ پُرامن کشمیریوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی آزادی کی جدوجہد کرنا جانتے ہیں۔ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ سے زائد افواج نے درحقیقت بھارتی ریاست کی کمزوری کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ کشمیر کی حالیہ آزادی کی لہر میں بھارتی مسلح افواج کی دہشت گردی کے نتیجے میں چالیس سے زائد نوجوان شہید ہوچکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ دوہزار سے زائد نوجوان شدید زخمی حالت میں پائے گئے ہیں۔

کشمیر کی آزادی کی جدوجہد قیامِ پاکستان سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ لیکن اسّی کی دہائی کے خاتمے سے اب تک مختلف آزادی کے مظاہروں کے دوران جو کشمیری براہِ راست بھارتی ظلم وجبر کا نشانہ بنے، اُن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اسّی کی دہائی سے اب تک شہدائے کشمیر کی تعداد تقریباً ایک لاکھ کے قریب ہے۔ اس دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد سویلین گرفتار کیے گئے۔ کشمیریوں کی املاک کی تباہی سوا لاکھ کے قریب ہے۔ پچھلے ستائیس برسوں میں جدوجہد آزادی میں تیئس ہزار کے قریب کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں۔ یتیم بچوں کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار کے قریب ہے اور بھارتی مسلح افواج نے تقریباً دس ہزار کشمیری خواتین کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔

کیا دنیا کی کوئی طاقت اتنے جبر کے اس طویل تسلسل کے باوجود پُرامن لوگوں کی جدوجہد کو ٹال سکتی ہے؟ یقیناً نہیں ۔ اسی لیے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر میں دہشت گردی ناکام اور عوام کی پُرامن جدوجہد کامیابی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ریاست یا کسی گروہ کی دہشت گردی کشمیریوں کی جدوجہد کو التوا میں تو ڈال سکتی ہے لیکن ہمیشہ کے لیے مٹا نہیں سکتی۔ کشمیر میں حالیہ آزادی کی پُر امن نوجوانوں کی تحریک نے دنیا کو جس طرح اپنی طرف متوجہ کیا ہے، یہ اس جدو جہد کی کامیابی کا ایک مرحلہ ہے۔ ایسے میں پاکستان کی ریاست اور عوام پر لازم ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوقِ آزادی کے لیے مکمل اور بھرپور طریقے سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔