ملک میں مارشل لاء کی طفیلی حکومتیں

  • تحریر
  • اتوار 17 / جولائی / 2016
  • 5643

شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو کہ جب ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے کی باتیں نہ ہوتی ہوں۔اب تو ملک میں ’’ فوجی راج‘‘ کے مطالبے کرنے والے بھی کافی تعداد میں نظر آتے ہیں جن کی نظر میں ان کی بقاء اور ترقی ملک میں مارشل لاء کی صورت ہی ہو سکتی ہے۔انہی دنوں ملک کے تمام صوبوں کے کئی شہروں میں فوج کو ملک کا اقتدار سنبھالنے کی دعوت ’’عوامی مطالبے‘‘ کے طور پر ایک ہی جگہ سے تیارپینا فلکس کے بینرز ایک ہی رات بڑی تعداد میں آویزاں کئے گئے۔ان ’’ مارشل لائی‘‘ بینرز سے عوام حیران و پریشان اور کئی شخصیات کانپ کر رہ گئیں۔اسی پریشانی میں حکومت بھی گوں مگوں کی کیفیت میں رہی۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے اس حوالے سے اعلان لاتعلقی جاری ہوا تو تھوڑا سا سکون نظر آیا۔ بینرز اتارنے کا کام شروع کیا گیا اور اسلام آباد میں بینرز لگانے والی تنظیم’’ مووآن پاکستان‘‘ کے چند افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔

بدقسمتی سے ملک میں مسلسل مارشل لاء لگنے اور پھر فوج کی تابعدار سیاسی جماعتوں کی تخلیق اور پرورش سے عوام میں ایسے افراد بھی معقول تعداد میں موجود نظر آتے ہیں جو ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘ بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔اب بھی یہ مضبوط تاثر موجود ہے کہ خارجہ اور دفاع سمیت ملک کے کئی اہم ترین امور سول حکومت کے بجائے فوج کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ملک میں دھرنوں اور فوج کی طرف سے انتظام حکومت مکمل طور پر سنبھالنے کی باتیں، اس تناظر میں عوام کو ورغلانے کا کام کرتی ہیں کہ عوام کو بدعنوان اور نااہل سیاست کی بدترین کارکردگی کے بھیانک نتائج کا سامنا ہے اور مسلمہ مفاد پرست اور بدعنوان سیاست ملک کو سوچ و عمل کی راہیں اور قیادت مہیا کرنے کے بجائے معاشی عدم مساوات اورعوام کو دوسرے درجے کے شہری بنائے رکھنے کے ’’ نظام‘‘ کو ’’ ملی بھگت‘‘ سے یقینی بنائے ہوئے ہے۔

ملک میں آئے روز جمہوریت کو بچانے اور چلانے کے دعوے ہوتے رہتے ہیں لیکن عملی طور پر جمہوریت کے تحفظ کے ٹھیکیدارہی اپنے مفادات پر جمہو ر اور جمہوریت کی’’ بار گینگ‘‘ کرنے کی ایک تاریخ رقم کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ملک کی سلامتی کو کئی سنگین خطرات حقیقی طور پر درپیش ہیں لیکن ہمارے ملک میں عوام کو کمتر درجہ مستقل طور پر عطا کرنے والا ’’ نظام‘‘ مضبوط ، مستحکم اور ناقابل چیلنج ہے۔ جمہوریت کے خود ساختہ محافظ اور فوجی حاکمیت کے درمیان’’ پنگ پانگ‘‘ سے آئین و قانون کو ایمان کا درجہ دینے والے شہری بلا وجہ ’’عوامی اہمیت و حاکمیت‘‘ کے جھانسے میں آتےہیں اور خود فریبی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کیا موجودہ سیاسی کردار کے چہرے کے ساتھ ملک میں جمہورکے مفاد اور جمہوریت کے قیام اور استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے؟ کیا موجودہ سیاسی’’ ناز و انداز‘‘ اپنائے رکھنے سے فوج کی حاکمیت کے بجائے عوامی حاکمیت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے؟ بلاشبہ ملک میں شخصی،خاندانی،علاقائی اور فرقہ وارانہ گروپ سیاسی جماعتوں کے نام پر قائم ہیں۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کی بقا کی آخری جنگ عوام نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں لڑی تھی ، جس میں طاقت اور دھونس سے عوامی سیاست کو ’’ شکست فاش‘‘ سے دوچار کیا گیا۔ پھر ملک میں حقیقی سیاسی جماعتوں کا خاتمہ اور طاقت کی پوجا کرنے والوں کی مفاد پرست سیاست کو ملک میں میرٹ بنا دیا گیا۔ جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے وفادار اور تابعدار سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کی تخلیق و پرورش کی اور اب اس مفاد پرست سیاست کے ملک کی سلامتی اور بقاء کے تقاضوں کے منافی ’’ عوام کش‘‘ نتائج سب کے  سامنے ہیں۔

ملک میں پہلا مارشل لاء لگاتے ہوئے جنرل ایوب خان  حکومت  سنبھالی۔  پھر کمزور ہونے پر اپنی ہی اسمبلی کو نظر انداز کر کے ملک کو ایک دوسرے جنرل کے حوالے کر دیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے المناک سانحے کے بعد جو سول حکومت قائم ہوئی، وہ سابق مارشل لاء حکومت کا تسلسل تھا۔ اس سول حکومت نے مارشل لاء کے اعمال و عوامل کو آئینی و قانونی قرار دے کر حکومتی کاروبار شروع کیا۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے ساتھ ان کا نظام حکومت ختم ہوا تو عبوری طور پر اگلا مارشل لاء آ گیا۔ پھر انتخابات کے ذریعے سول حکومت قائم ہوئی تو ایک بار پھر سابق مارشل لاء حکومت کے اقدامات کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت آئینی و قانونی قرار دے دیا گیا۔ 

سول حکومتوں کو لانے اور رخصت کرنے کے دور کے بعد جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء ملک کی تقدیر قرار پایا۔ جنرل پرویز مشرف سے اپنے ’’ بزرگوں‘‘ کے اصولوں کی پاسداری میں وفادار اور تابعدار سیاست کو مزید مضبوط بنایا۔ کہنے کو سول حکومت ، انتخابات کے بعد قائم ہوئی تو ماضی کی روایت کی طرح اس بار بھی مارشل لاء کے اقتدار اورحکومت کے اقدامات کو جائز اور قانونی قرار دے دیا گیا۔ کیا ملک میں مارشل لاء کی طفیلی اور مارشل لاء کی ذیلی حکومتوں کا ہی تسلسل نہیں ہے؟ کیا مارشل لاء کے اقتدار کے بعد قائم ونے والی ان حکومتوں کو جائز، آئینی اور قانونی قرار دیا جا سکتا ہے جو مارشل لاء کے اقتدار ، حکومتوں کو جائز، آئینی اور قانونی قرار دیتے ہوئے اپنی بقاء کے لئے نظریہ ضرورت  کا سہارا لیتی ہیں۔ ؟

یوں ملک میں سول حکومت کے دعوے کے باوجود مارشل لاء کی حاکمیت ناقابل چیلنج انداز میں بدستور قائم ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم اتنے’’ عقلمند ‘‘ ہیں کہ ملک میں غیر آئینی، غیر قانونی حکومتوں کے تسلسل کو ہی نظریہ ضرورت کی بقاء کی چاہ میں، ملک و عوام کی تقدیر بنا رکھا ہے۔