دوبئی میں بسنت اور پتنگ ، جاب گئی بھاڑ میں

میں نے مشرقی وسطیٰ کے ممالک دوبئی، ابو ظہبی،شارجہ ، العین اور سلطنت اومان کے شہروں مسقط اور بریمی کا سفر کیا۔ با وجود اس کے کہ یہ سفر نت نئے تجربات اور دلچسپ واقعات سے پر تھا، مگر یہ سفر وسیلہ ظفر ثابت نہ ہوا کیونکہ تلاش معاش میں مجھے وہاں کامیابی نہ ہوئی۔مجھے وہاں رہ کر پیسہ کما نے کا ڈھنگ بھی پسند نہیں آیا۔ البتہ بس، کار اور دوسرے زمینی ذرائع کے ذریعے کیاگیا یہ سفرمجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔

دوبئی کے ہوائی اڈے پر امیگریشن سے گزرنے کے لیے میں قطار میں کھڑا سوچ رہاتھا کہ اگر سجاد کسی وجہ سے مجھے لینے نہ آسکا تو پھر کیا ہوگا۔۔۔۔۔وہ میرا دوست تھا ۔۔۔۔ایک ایسا دوست جو اتفاق سے دوستی کے بندھن میں جڑ گیا تھا۔ برلن میں سجاد مجھے راہ چلتے مل گیا۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگا پاکستانی ہوں، مسافر ہوں، کئی دنوں سے یہاں ایک ہوٹل میں مقیم ہوں مگر اردو بولنے کو اور پاکستانی کھانوں کو ترس گیا ہوں۔ میں نے کہا فکر نہ کرو۔ میرے ساتھ چلو میں تم سے اتنی باتیں کرونگا کہ تم کھانا کھانا بھی بھول جاؤگے۔ اسے میں اپنے گھر لے آیا۔ ہم نے ساتھ کھا نا کھایا اور بس پھر کیا تھا۔ وہ کئی دن برلن رکا اور اس دوران ہماری دوستی پکی ہو چکی تھی۔

میل اور فون کا سلسلہ چل نکلا اور پھر اس کے بڑے بھائی سے بھی فون پر گفتگو ہوتی رہی۔ سجاد اور اس کے بڑے بھائی دوبئی اور شارجہ میں قالینوں کا کاروبار کر تے تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ مجھے روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارت جانے کا شوق چرایا۔ اس شوق میں کچھ مشورہ بھائیجان کا بھی تھا۔ وہ عرصہ سعودیہ میں گذار کر اب عمان میں مقیم تھے۔ ان کی تنخواہ کافی اچھی تھی۔ میں نے بھائی جان سے عمان کے ویزے کے لیے دعوت نامہ منگوالیا اورامارات کے ویزے کے لیے سجاد سے کہا۔ اس نے اپنے بڑے بھائی جواد کی جانب سے فوری طور پر ویزا بھجوا دیا۔

پاسپورٹ کی جانچ کے بعد باہر نکل کر مجھے زیادہ تلاش نہ کر نا پڑا۔۔۔۔سجاد سامنے ہی کھڑابے چینی سے میرا انتظار کر رہاتھا۔ وہ مجھ سے ٹرالی لے لی اور سامان گاڑی میں رکھنے لگا۔ جلد ہی وہ دوبئی کی صاف ستھری چوڑی سڑکوں اپنی گاڑی دوڑا رہا تھا۔ راستے میں ایک میکڈونلڈ کے قریب اس نے گاڑی پارک کی۔اور مجھ سے پوچھنے لگا میکڈونلڈ چلے گا یا دیسی کھا نا کھا نا ہے۔ میں نے کہا دیسی۔کھانے کے بعد ہم لوگ پھر چل پڑے اور دوبئی کی ایک عالیشان مارکیٹ میں اترے۔ یہاں جواد کا قالین کا شو روم تھا اور اس کے قریب ہی اس کی رہائش بھی واقع تھی۔ شو روم پہنچ کر میں جواد سے ملا۔ سجاد کو خیر سے میں برلن سے جانتا تھا مگر جواد سے پہلی ملاقات ہوئی ۔ دونوں بھائیوں کی خوش اخلاقی اور مہمان نوازی قابل رشک تھی۔ جواد سے مل کر ہم لوگ شارجہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ مجھے سجاد کے ساتھ شارجہ میں قیام کر نا تھا۔ تاہم شارجہ اور دوبئی کا فاصلہ صرف ۱۵ کلو میٹر اور اتنا تھوڑا ہے کہ جیسے ایک ہی شہر کے ایک حصے سے نکل کر انسان دوسر حصے میں پہنچ جائے۔ شارجہ پہنچتے پہنچتے رات کافی ہو چکی تھی لہذا اب سوائے اس کے ہم لوگ اپنے اپنے بستر پر دراز ہو جاتے اورکچھ ممکن نہ رہا تھا۔

دوسری صبح سجاد نے مجھے اٹھا یااور ہم لوگ ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوئے اور اس مکان میں جو کہ ایک کئی افرادکی رہا ئش تھی ، وہاں مقیم دوسرے لوگوں سے سلام دعا ہوئی۔ سب ہی پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے تھے۔ اور صبح صبح کام پر نکلنے کی تیاری میں لگے تھے۔بعد میں ان سب سے شام کو ہی ملاقات ہوا کر تی تھی۔ دوبئی میں بے تحاشہ بلند و بالا عمارتیں ہیں اور شاپنگ مال ہیں جس کے مقابلے میں شارجہ قدرے پر سکون ، ہرا بھرا شہر ہے۔ یہاں کی دو سوق ، یعنی شاپنگ سنٹر،جوکہ ایک دوسر ے ملحق ہیں ، کلاسیکی عربی تعمیرات کا نمونہ ہیں اور بہت خوبصورت ہیں۔ انہی میں سے ایک میں سجاد کی بھی دوکان تھی۔ جس میں قالینوں کے علاوہ دستکاری کی اعلی اشیا بھی دستیاب تھیں۔ سجاد کے گھر، جہاں میرا قیام تھا وہاں سے سوق کا فاصلہ بہت ہی کم تھا ۔ اسی لیے میں جب بھی بور ہوتا اس سے ملنے سوق آجا تا۔ دوبئی البتہ آنے جانے میں دن صرف ہو جاتا چونکہ جواد مجھے روک لیتے، دوپہر کا کھانا شام کی چائے اور ادھر ادھر گھومنے پھر نے کا پروگرام بن جاتا۔ مجھے مختلف درخواستیں ، نوکری کی تلاش کے لیے بھیجنی ہوتیں اور جواد نہایت خندہ پیشانی سے اپنا کمپوئٹر اور فیکس ٹیلی فون سب کچھ سامنے رکھ دیتے۔ سرور آپ بلا تکلف سب کچھ استعمال کریں ۔ اللہ نے چاہا تو آپ کو جاب مل جائے گی۔ آپ نے جرمنی سے تعلیم حاصل کی ہے، کیوں نہ ملے گی۔ وہ میرا حوصلہ بڑھا تے۔

ایک دن میں دوبئی کے ایک دوسرے حصے میں گھومنے گیا۔یہاں پر آپ چھوٹی چھوٹی کشتیوں کے ذریعہ سمندر پار کر کے دوبئی کے دوسرے حصے میں پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں پرا نے بازار اور مارکیٹ ہیں ۔ دوبئی کا مچھلی بازار کافی مشہور ہے۔ یہاں سمندری مچھلیوں کی بے شمار قسمیں بکتی ہیں۔ یہاں مچھلیوں کا بہت بڑا کاروبار بھی ہوتا ہے۔ نیلامی بھی ہوتی ہے اور تھوک کے بھاؤ خرید و فورخت بھی ہوتی ہے۔ دوبئی کی مارکیٹ اور مال کے علاوہ یہاں ایک میوزم بہت مشہور ہے۔ جسے ہیریٹج اینڈ ڈاؤنگ ویلج، میوزیم گاؤں کہتے ہیں۔ اس کے اندر جاکر انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عربوں کی قدیم تاریخی شہرمیں انسان بہ نفس نفیس پہنچ کر نظارہ کر رہا ہے۔ گھاس پھوس کے مکانات، چھوٹی چھوٹی دوکانیں، خیمے اور ان کی بناوٹ کا طرز سب کچھ ویسا بنا ہوا ہے جیسا کبھی ماضی میں رہا ہوگا۔ یہ عربی طرز کا ایک ایسا گاؤں تشکیل دیا گیا ہے جواس کی سیر کر نے والے کو تاریخ، تہذیب و ثقافت کا سراغ دیتا ہے۔بالکل اصل پتھروں کے مکانات کی نقل جو کہ کبھی پہاڑی اور ریگستانی علاقوں میں ہوا کر تے تھے۔ یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔بدوؤں کے خیمے، روائتی ہوائی ستون والے مکانات، مارکیٹ میں لگی دوکانیں، مسالوں کی دوکانیں اور بے شمار دوسری دلچسپی کا باعث چیزیں اور طرز رہائش کا پتہ دینے والی اشیاء اس تاریخی گاؤں کا حصہ ہیں ۔

ایک دن ضیاء اور ان کی بیگم کے گھر سے دعوت سے لوٹا تو پتہ چلا کہ میرے کسی کزن کا ابوظہبی سے فون آیا تھا۔ اس نے اپنا نمبر چھوڑ دیا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ شکیل ابوظہبی میں مقیم ہے مگر اس سے پہلے سے رابطے کا کوئی نمبر میرے پاس نہ تھا۔ اب جب نمبر ملا تومیں نے اس کو فون کیا اور فوری طور پر وہاں کا پروگرام بنا ڈالا۔ ابو ظہبی کے لئے بس سے روانہ ہؤا۔ ڈیڑھ گھنٹے کا سفر تھا۔ یہ شہر متحدہ عرب امارات کا دارلحکومت ہے۔ نیو یارک کے طرز پر بنا یا گیا ہے۔ اونچی اونچی عمارتوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہائشی عمارتیں بھی آسمانوں سے باتیں کر تیں نظر آئیں۔ یہاں کشادہ سڑکیں ہیں۔ اور چوپر کی طرح ایک دوسرے کو منقطع کرتی سڑکیں دور جدید کے شہر کا تصور پیش کرتی ہیں۔ غیر ملکی چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم، شیرنگ کی لائف گزار رہے ہیں۔ اور بس پیسے کما کما کر وطن یعنی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش بھیجے جارہے ہیں۔بیشتر لوگوں کونہ تو کسی پنشن کی سہولیات میسر ہیں ، نہ میڈیکل انشورنس کا کوئی بندوبست ہے۔ ہر سال دوسال میں کنٹریکٹ کی تجدید کی امیدکی شاخ پر ڈولتی نوکری۔۔۔ مزدوری اور بس۔ سب نے مجھے یہی بتا یا کہ پاکستان میں گھر بنوا رہا ہوں۔۔۔کسی نے بھی یہ نہیں بتا یا کہ بڑھاپے کے لیے کوئی اسکیم خریدی ہے۔

دوبئی واپس آکر میں نے مسقط جانے کا پروگرام بنا لیا۔ چالیس منٹ کی فلائٹ سے مسقط پہنچ گیا۔ مسقط قدرے مختلف شہر ہے۔ جو مجھے دراصل زیادہ پسند آیا۔ اس لیے بھی کہ مسقط خوابوں کا الف لیلوی نہیں بلکہ حقیقت کی دنیا کا شہر ہے۔ یہاں اونچی عمارتوں کے ساتھ ساتھ نیچی رہائشی عمارتیں بھی ہیں۔ روائتی طرز تعمیر پر بنی عمارتیں ،چوڑی چوڑی سڑکیں اور شاپنگ سنٹر سبھی کچھ اعتدال کے ساتھ نظر آیا۔ سرکاری عمارتیں اور دفاتر کے خاص طرز ان کی موجودگی اور فعال ہونے کا پتہ دیتی ہیں۔ بینکوں میں اور سرکاری دفاتر میں خواتین و مردوں کی تعداد قریب قریب برابر ہی نظر آئی۔ خوبصورت پارکوں سے تو سار امشرق وسطی ہی مزین ہے۔ سو مسقط میں بھی بہت سارے اور بہت خوبصورت پارک ہیں۔ مسقط اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ یہاں صرف کاروبار ہی پھلتا پھولتا نظر نہیں آتا بلکہ یہاں کے محکمہ جات فعال نظر آتے ہیں، ٹریفک کا نظام بہتر ہے، شاید اس لیے بھی کہ یہاں دوبئی جیسا اژدہام بھی نہیں ہے۔ یہاں میں نے بھائی کی بڑی سی پراڈو جیپ میں بیٹھ کر خوب سیر کی۔ سلطان قابوس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ قرم کا نیچرل پارک دیکھا،  قطب بیچ کی سیر کی اور سب سے اچھا وہ میوزیم دیکھا جو مسقط کے قریب ہی نزو ا میں قائم ہے۔ اس میں پرانی طرز زندگی اور حفاظتی تدابیر اور ہتھیار، قلعہ بندی کے طریقے سب کچھ دیکھنے کو ملا۔ اور احساس ہوا کہ اومانی بہ حیثیت ایک قوم اپنی تاریخ رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی ترقی میں اپنی تاریخ کو فراموش نہیں کیا ہے بلکہ انہیں اس پر فخر ہے۔

مسقط کے سیر سپاٹے اور کچھ نوکری کی کوشش کے بعد مجھے ایک بار پھر امارات جا نا تھا۔ اور اس دفعہ زمینی راستے سے۔ طے یہ ہوا کہ بھائیجان کے دفتر کی گاڑی مجھے بریمی شہر پہنچا دے گی اور میں وہاں سے بس کے ذریعہ ابو ظہبی داخل ہو جاؤں گا۔ اور پھر آگے کا سفر کروں گا۔ لیکن اس طرح سفر کرنے کے لئے ایک خاص اجازت نامے کی ضرورت بھی تھی۔ جلد ہی یہ مسلہ بھی حل ہو گیا۔ اور ایک دن صبح صبح ہماری گاڑی مسقط سے بریمی شہر کی جانب روا ں دواں تھی۔

دنیا کے نقشے پر دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ گوادر جو کہ آج کل خبروں کی سرخیوں میں ہے اور پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک خوبصورت راز ہے جس سے عام آدمی تو ابھی تک نا آشنا ہی ہے کہ سامنے ہی سمندر پار مسقط واقع ہے۔ مسقط خلیج اومان میں واقع ہے اور اس کے دوسری طرف خلیج فارس میں دوبئی کا ساحل لگتاہے۔ بندر عباس ، ایران کے پورٹ سے دوبئی میں خوب تجارت ہوتی ہے۔ مسقط سے شمال مغرب میں تین سو تیس کلو میٹر کے فاصلے پر اس کا شہر بریمی واقع ہے۔ اور العین اس سے جڑا ہوا ہے۔ بریمی پہنچے سے پہلے ہی ہماری گاڑی کو ایک چیک پوسٹ سے گزر نا پڑا۔ یہاں اتر کر ہم سب نے اپنا اپنا پاسپورٹ اور شناخت نامہ جمع کروا دیا۔ مجھ سے سرکاری کارندے نے خشک لہجے میں پوچھا ، کہاں جا نا ہے۔ میں بتا یا العین ، ابو ظہبی کے شہر۔ اس نے میرا پاسپورٹ رکھ لیا اور مجھے ایک پرچہ بنا کر دیا جس سے کہیں اور چیکنگ کے دوران میں اپنی شناخت کرواسکتا تھا۔ اس پرچے سے یہ بھی پتہ چل جاتا تھا کہ میرا پاسپورٹ یہاں جمع ہے اور مجھے امارات میں داخلے اور گھومنے پھر نے کی اجازت ہے۔ یوں میں اپنا پاسپورٹ رکھوا کر ، جس کی کے ایک فوٹو کاپی میں نے احتیاط کے طور پر رکھ لی تھی، پہلے بریمی اور العین اور وہاں سے ابوظہبی اور دوبئی کے دورے پر نکل کھڑا ہوا۔

دوران سفر اپنا پاسپورٹ انسان کو بہت عزیز ہو تا ہے۔ اور اس سے قبل میں کبھی بھی اور کہیں بھی اپنے پاسپورٹ سے یوں جدا نہ رہا تھا۔ اس وجہ سے مجھے کچھ پر یشانی بھی لاحق تھی کہ کہیں کسی چیکنگ کے دوران کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے۔ بریمی سلطنت اومان کا ایک چھوٹا سا شہر، ابوظہبی کے شہرالعین کے ذریعہ جڑا ہو ہے۔ اور ان دنوں ، سڑک پر صرف ایک اسپیڈ بریکر۔۔۔۔جو گاڑیوں کی رفتار کو دھیما کر نے کے لیے سڑک کے بیچ میں بنائی جاتی۔۔ کے ذریعہ ہی ایک دوسرے سے جداجدا شہر تھے۔ گویا یہ اسپیڈ بریکر ہی سرحد کا کام دیتے تھے۔میں بریمی سے ٹہلتے ہوئے العین میں داخل ہو گیا۔ العین ایک چھوٹا سا شہر ہے لیکن سونے کے کاروبار اور زیورات کے لیے بہت مشہور ہے۔ مجھے بھابھی نے تاکید کی تھی کہ میں وہاں کچھ زیورات اپنی بیگم کے لیے ضرور خرید لوں۔ العین میں، میں دوپہر کا کھا نا کھانے اور گھومنے پھر نے کے علاوہ وہاں کی میونسپلٹی کے ایک دفتر میں ایک پاکستانی صاحب سے ملا، جن کا پتہ مجھے شکیل نے دیا تھا۔ انہیں میں نے اپنا سی وی دیا اور اس کے بعد میں ایک بار پھر بس کے ذریعہ ابو ظہبی کی جانب گامزن تھا۔

ابوظہبی میں، میں جب شکیل سے ملا۔۔۔ تواس نے مجھے بتایا کہ کل تمہارا ایک جاب کے سلسلے انٹر ویو ہے۔ تیاری کر لو۔شام کو وہ مجھے ایک پاکستانی صاحب سے ملوانے لے گیا۔ جن کی معرفت یہ انٹرویو رکھا گیا تھا۔ ساتھ میں انہوں مجھے یہ بھی کہا کہ انٹرویو لینے والے کا بھی مجھے پتہ چل چکا ہے اور یہ بات خاصی مایوس کن ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت ہو اور آپ یہاں کچھ عرصہ اور ٹھہریں تو میں انٹرویو کو موخر کروادوں، تاکہ یہ شخص جو کہ ساؤتھ انڈین ہے اس کے ساتھ نہیں بلکہ کسی دوسرے ، اس کے افسر کے ساتھ انٹرویو ہو سکے۔۔۔۔ مگر کام تو مجھے اسی کے ساتھ کر نا ہو گا شاید۔۔۔ میں نے اپنی رائے پیش کی تو کیوں نہ میں اس سے ابھی ہی مل لوں۔۔ہاں یہ بات ٹھیک ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ انٹرویو حسب امید ناکام ہی رہا ۔ ورنہ شاید یہ سفر نامہ آج میں جانے کہاں بیٹھا لکھ رہا ہوتا۔ میں ایک دو روز ابوظہبی اور پھر دوبئی شارجہ سے ہوتے ہوئے واپس لوٹنے لگا۔ دوبئی میں البتہ پہنچ کر پتہ چلا کہ وہاں بسنت میں پتنگ اڑانے کا پروگرام ہے سب لوگ چل رہے ہیں اور دوستوں اور جواد کی خواہش ہے کہ میں ضرور شرکت کروں۔پتنگ تو بچپن میں اڑائی لیکن یہ پہلااور آخری موقعہ تھا کہ دوبئی شہر میں بسنت کے موقع پر پتنگ اڑایا اور مزے لوٹے۔۔۔ یہاں پتنگ کے کٹنے اور لوٹنے کی نوبت نہیں آئی۔