آزاد کشمیر: 2016 کا مضحکہ خیز الیکشن
آزاد کشمیر میں جمہوری نظام، جموں کشمیر لبریشن لیگ کے بانی کے ایچ خورشید نے متعارف کروایا تھا۔ کے ایچ خورشید ابھی زیر تعلیم ہی تھے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے سن چالیس کی دہائی کے وسط میں دورہ کشمیر کے دوران اس نوجوان طالب علم کی صلاحیت سے متاثر ہو کر معتمد خاص کے طور پر اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ قائد اعظم نے ایک مرتبہ کے ایچ خورشید کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ایچ خورشید کے ٹائپ رائٹر سے بنا ہے۔
کے ایچ خورشید اگر چاہتے تو پاکستان کے سیاسی نظام میں من پسند منصب حاصل کر سکتے تھے لیکن جب کشمیر جبری طور پر تقسیم ہو گیا تو انہوں نے خود کو وحدت کشمیر کی بحالی کے لیے وقف کر دیا۔ ساری زندگی لاہور ایک کرایہ کے مکان میں رہے جبکہ آج کے سیاستدان تو درکنار ان کے چپراسی بھی راتوں رات پلاٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ کے ایچ خورشید جب سن پچاسی میں فوت ہوئے تو وہ میرپور سے لاہور ایک ویگن پر سفر کر رہے تھے۔ ان کی جیب سے صرف پنتیس روپے نکلے تھے اور بنک اکاؤنٹ خالی تھا۔ ایسے باکردار اور مخلص لیڈر کو پاکستان اور آزاد کشمیر کے گندے اور استحصالی نظام نے قبول نہ کیا۔ کے ایچ خورشید کا جرم صرف یہ تھا کہ آزاد کشمیر کو ایک بااختیار ریاست بنا کر وہ مسلہ کشمیر عالمی برادری میں لے جانا چاہتے تھے ۔ پاکستان سے انتہائی ہمدردی رکھنے کے باوجود ان کا موقف تھا کہ اگر پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کی نمائندگی کرے گا تو دنیا جموں کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک علاقائی تنازعہ کے طور پر دیکھے گی اور مسلہ کشمیر عالمی طاقتوں کے درمیان سیاسی ٹکراؤ کا شکار ہو جائے گا۔ بعد میں رونما ہونے والے سیاسی حالات و واقعات نے یہ حقیقت ثابت کر دی۔
آزاد کشمیر کے وہ الیکشن پسند سیاسست دان جو میرٹ پر اقتدار حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے انہوں نے کے ایچ خورشید پر پاکستان دشمنی کا جھوٹا پروپگنڈا کر کے پاکستان کی نوکر شاہی کی خوشنودی حاصل کی۔ 1971 ء کے الیکشن میں کے ایچ خورشید کو ایک سازش کے تحت ہرا کر ایکٹ 1974 کے تحت ریاست آزاد جموں کشمیر کے اختیارات مزید کم کر دئیے گئے۔ پاکستان کی مسلط کردہ وزارت امور کشمیر اور افسران تو پہلے ہی حکومت آزاد کشمیر کے ماتحت نہ تھے ۔ اب وزیر اعظم پاکستان نے خود کو کشمیر کونسل کا چئیرمین بنا کر ریاست آزاد کشمیر کو مزید کمزور اور محدود کر دیا۔
مسئلہ کشمیر حل ہونے تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہندوستان اور پاکستان کا کام صرف امن و امان قائم رکھنا تھا لیکن ان دونوں نے اپنے اپنے زیر قبضہ جموں کشمیر کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے اسمبلیوں سے الحاق کی قراردادیں منظور کروا ئیں۔ ان کے ظالمانہ کارناموں میں الحاق ہندوستان اور الحاق پاکستان کی شق پر دستخط نہ کرنے والے امیدواروں پر الیکشن میں حصہ لینے کی پابندی بھی شامل ہے۔ جموں کشمیر اس وقت دنیا کی واحد بد نصیب ریاست ہے جہاں ریاستی پارٹیوں پر پابندی اور غیر ریاستی پارٹیوں کو ہر طرح کی آزادی و حمایت حاصل ہے۔ اس گندے اورغیر انسانی و غیر جمہوری کھیل میں اس ریاست کے بے ضمیر سیاستدان خود ملوث ہیں جن سے تاریخ ایک دن ضرور حساب لے گی۔
اب آئیے الیکشن 2016 کی طرف۔ اس الیکشن کا انتہائی مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ الیکشن میں حصہ لینے والی پارٹیوں نے مرکزی سطح پر اتحاد کیا ہوا ہے کیونکہ کسی بھی پارٹی کوحکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کرنے کی توقع نہیں ہے۔ لیکن ان پارٹیوں کے امیدوار مرکزی قیادت کے فیصلوں کے بر عکس اپنے اپنے حلقوں میں مخالف اتحاد قائم کیے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر مسلم لیگ( ن) اور جماعت اسلامی نے مرکزی سطح پر اتحاد کا علان کیا مگر روالاکوٹ میں سابق امیر جماعت اسلامی نے ن لیگ کے خلاف مسلم کانفرنس کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا اور دھیر کوٹ میں جماعت اسلامی کا امیدوار مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کو چیلنج کر رہا ہے۔ میرے حلقے کھوئیرٹہ میں ماضی میں مسلم لیگ( ن) کے راجہ نثار کہا کرتے تھے کہ جو مجھے ووٹ نہیں دیتا وہ رفیق نئیر کو دے کر دوسرے حلقے سے آنے والے پی پی امیدوار مطلوب انقلابی کو آؤٹ کرے ۔ مگر اب سنا جا رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو مجھے ووٹ نہیں دیتا وہ پی پی کے مطلوب انقلابی کو دے جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ رفیق نئیر اب پی ٹی آئی کے امیدوارہیں اور پاکستان میں مسلم لیگ (ن) اور پی پی، تحریک انصاف کو آؤٹ کرنا چاہتی ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی سنا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے ٹکٹ ڈاکٹر نثار انصر ابدالی کو نہ ملنے کی وجہ سے وہ اندرون خانہ پی ٹی آئی کے امیدوار رفیق نئیر کی مخالفت کر تے ہوئے در پردہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ نثار خان کی حمایت کر رہے ہیں۔
خدا جانے یہ افواہیں کہاں تک درست ہیں لیکن یہ حقیقت واضح ہے کہ الیکشن پہلے بھی کسی نظریے اور پالیسی کے تحت نہیں بلکہ برادری ازم کی بنیاد پر ہوا کرتے تھے لیکن اس بار برادریاں بھی تقسیم ہیں۔ مرکز میں پالیسی اور جبکہ حلقوں میں انہی برادریوں کے امیدواروں کی اپنی اپنی پالیسیاں ہیں۔ پہلے امیدوار ایک دوسرے کی برادریوں کو فتح کرنے کی مہم چلایا کرتے تھے۔ اب اپنی ہی برادری اور پارٹی کے خلاف ہر حربہ استعمال کر کے اپنی اپنی سیٹ بچانے کے چکر میں ہیں۔ کوئی جمہوری اصول اور ضابطہ اخلاق نظر نہیں آ رہا ہے۔ الیکشن اب جھوٹ، فراڈ ، منافقت، سودے بازی اور کرپشن کی تربیت گاہ بن گیا ہے۔ ووٹرز اب کسی نظریے، اصول، پالیسی اور اجتماعی تعمیر و ترقی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی جیب گرم کرنے کی بنیاد پر ووٹ دے رہا ہے۔ یہ سبق بھی ان کو سیاستدانوں نے ہی سکھایا ہے۔
اس کا مقصد یہ بھی نہیں کہ اس ملک میں پاک صاف اور دیانتدار قیادت اور لوگ نہیں۔ کے ایچ خورشید کی میں پہلے ہی مثال دے چکا ہوں۔ مقبول بٹ شہید نے آزدی کشمیر کی خاطر بھارتی جیل میں پھانسی کا پھنداچوم لیا تھا۔ ہزاروں کشمیری نوجوانوں نے ایک مقدس مشن کی خاطر جام شہادت نوش کیا۔ ہزاروں کشمیریوں نے اپنی جوانیاں جیل میں گزار دیں لیکن ایسے لوگ فی الحال اقلیت میں ہیں۔ جس دن ترکی کے عوام کی طرح کشمیری عوام نے بھی ضمیر فروشوں کے بجائے باضمیر اور باکردار قیادت کا ساتھ دیا اس دن جموں کشمیر کی وحدت بھی بحال ہو جائے گی اور ایک منصفانہ جمہوری نظام بھی آ جائے گا۔