ترک بغاوت، پاکستان اور عالمِ اسلام

جس شام ترک فوجی بغاوت کی خبر ٹیلی ویژن کی سکرین پر ابھری، اہلِ فکر کو تفکرات کے ایک اژدہام نے گھر لیا۔ ترک قوم 1914 سے فوج کے شدید زیرِ اثر رہی ہے۔ اتا ترک خود ایک جنرل تھے اور جدید ترکی کے لیے ان کے ذہن میں ایک واضح منصوبہ تھا۔ جدید یک رُخ سیکولر ترکی کو انہوں نے فوج کی زیرِ نگرانی تشکیل دیا۔ تُرک فوج آج بھی اپنے آپ کو سیکولر اتا ترک اور ان کے سیکولر ترکی کا واحد اور جائز وارث مانتی ہے۔

ایک طویل مدت تک فوج کا آئین میں باقاعدہ کردار طے تھا اور عوامی حکومتیں فوجیوں کی مرضی کے بغیر نہ بنتی تھیں، نہ ٹوٹتی تھیں اور نہ ہی وہ فوج کی مرضی کے بغیر بڑے فیصلہ کرنے کا تصور کر سکتی تھیں۔ پچھلے چند سال سے موجودہ سیاسی نظام کے تحت فوجی بیوروکریسی کی سیاسی معاملات میں مداخلتی قوت کو قدرے کمزور کیا گیا ہے۔ ایسے میں ایک نئے فوجی دور کا مطلب اس تمام تگ و دو کو تہ کر کے الماری میں بند کرنے کے مترادف ہوتا۔ ترکی ایک بار پھر وردی اور بوٹوں کے حوالہ ہو جاتا۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ فوجوں کا آنا، ان کے جانے سے کہیں آسان ہوتا ہے۔ نیز فوجی ادوار میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کئی دہائیوں میں ہوتا ہے۔

ترکی بغاوت کی پہلے گھنٹوں میں اہلِ فکر کا دوسرا دردِ سر یہ تھا کہ اگر یہ بغاوت کامیاب ہو گئی تو پاکستانی جنرل اس سے حوصلہ پکڑیں گے اور پاکستان میں فوجی بغاوت اور مارشل لاء کا راستہ مزید ہموار ہوگا۔ یادش بخیر پاکستانی اور ترکی جنرل ہمیشہ ایک دوسرے سے انسپائر ہوتے رہے ہیں، اور بالخصوص وہ جنرل جنہوں نے ہر دو ممالک میں آئین توڑے اور بغاوت کی۔ یہ خالص اتفاق نہیں ہے کہ پاکستان اور ترکی میں مارشل لاء اور اس سے متوازی نظام قریباً قریباً ایک ہی مدت میں وقوع پذیر ہوئے۔

پاکستان میں مارشل لاء 1958, 1969, 1977 اور 1999 میں لگایا گیا جبکہ ترکی میں فوجی بغاوتیں 1960, 1971, 1980 اور 1997 میں ہوئیں۔ اور یاد رہے کہ آخری پاکستانی باغی جنرل اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی اعلیٰ فوجی تعلیم ترکی میں ہوئی تھی اور وہ ترکی زبان روانی سے بولتے ہیں۔

اس بار بھی ایک کامیاب ترک بغاوت پاکستان میں فوجی بغاوت کا راستہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور ہموار کرتی۔ اور پاکستان، جہاں پہلے ہی سے چند احمق اور صرف اپنے جز وقتی مفاد کو دیکھنے والی قوتیں جنرلوں کو بغاوت پر آمادہ کررہی ہیں،  اس بہاؤ میں بہہ سکتا تھا۔  اسی لیے یہ خدشہ بے بنیاد نہ تھا کہ ترک بغاوت میں پاکستانی مارشل لاء کا خاکہ بن رہا ہے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان اور ترکی کا ہی نہیں، گو کہ یہ کہنا بہت حد تک درست ہو گا کہ ترکی اور پاکستانی جنرل اور عوام ایک دوسرے سے ایک مخصوص اور مہربان رابطہ میں جڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت میں تمام مسلم ممالک کے جنرل ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہیں اور اگر ایک ملک میں فوجی بغاوت کامیاب ہو جاتی ہے تو دوسرے ممالک کے جنرلوں کو شہ ملتی ہے۔ تاریخ میں پاکستان، بنگلہ دیش، لیبیا، عراق، مصر، انڈونیشیا، یوگنڈا اور ترکی کی مثالیں سامنے ہیں۔ یہاں پر جنرلوں نے ایک دوسرے سے سیکھتے ہوئے عوامی حکومتوں کو پچھلی چھ، سات دہائیوں میں بوٹوں تلے روندا ہے۔

فی زمانہ مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے مسلم ممالک  ایک انارکی  کا شکار ہیں۔ لیکن ایشیا اور افریقہ میں مسلم ممالک میں عوامی حکومتوں کا رواج بہتر ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے بڑے ممالک میں سیاسی اور عوامی نظام کا قدرے استحکام ہے۔ ترکی میں حالیہ فوجی بغاوت کی کامیابی کا نتیجہ صرف پاکستان ہی میں بغاوت پر نہیں رکتا، اس کے اثرات دیگر مسلم ممالک پر بھی کسی نہ کسی طرح پڑتے، بالخصوص اگر ترکی اور پاکستان ایک ہی وقت میں فوجیوں کے چنگل میں پھنس جاتے۔ اب جب یہ بغاوت ناکام ہوئی ہے تو امید غالب ہے کہ اس سے پاکستان میں فوجی بغاوت کا راستہ پہلے سے مشکل ہو گیاہے۔

میرا مطالعہ یہ ہے کہ صرف پاکستانی جنرل ہی نہیں، پاکستانی عوام بھی ترکوں سے انسپائر ہوتے ہیں۔  گوکہ دونوں ممالک کے حالات و واقعات بہت مختلف ہیں۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی عوام نے  بھی ترک عوام سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ترک عوام نے جس طرح جرأت اور جانبازی سے ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کے سامنے کھڑے ہو کر، جانوں کی قربانی دے کر اپنے مستقبل کو بچایا ہے، امید ہے کہ مشکل وقت میں پاکستانی بھی اس سے رہنمائی اور تقویت حاصل کریں گے۔