ترکی کی ناکام بغاوت کی رات

مَیں گرماگرم چائے کے ساتھ  استنبول کےایک روایتی ترک چائے خانے میں  شام ڈھلے غروبِ آفتاب کا نظارہ کررہا تھا۔ یہاں بحیرۂ مرمرا کے کنارے سورج آٹھ بجے کے بعد سمندر میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ میں اس نظارے سے لطف اندوز ہورہا تھا اور وٹس اَپ پر ایک دوست سے اس نظارے سے لطف اندوز ہونے کی کیفیت شیئر کررہا تھا۔ سورج بحیرۂ مرمرا میں ڈوب گیا اور میں خاموشی سے ترک تاریخ کے بارے سوچ میں محو تھا۔

چائے خانہ لوگوں سے بھرا ہؤا تھا۔ ترکوں کی ایک عام روایت ہے کہ وہ شام ڈھلے ایسے چائے خانوں میں بیٹھ کر سیاست سمیت ہر موضوع پر گفتگو کرتے ہیں اور ساتھ اکثرتاولا کھیلتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگ ریٹائرڈ یا بڑی عمر کے ہوتے ہیں۔ دس بجے کے قریب مجھے ترکی کے شہر میرسن، جہاں میں چند ہفتے قبل گیا تھا، سے ایک پیغام موصول ہوا۔ ترکی میں فوجی بغاوت شروع ہوچکی ہے، انقرہ اور استنبول میں فوجی ٹرک سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ٹرک باسفورس کے دونوں پُلوں پر پہنچ چکے ہیں۔ میں اس وقت وہاں سے کافی دور تھا، ٹیکسی پکڑی اور باسفورس کے کنارے پہنچا۔ باسفورس کے دونوں پُلوں پر ترک افواج کے نوجوان، ٹینکوں اور دیگر جدید اسلحے سے مسلح پُلوں پر الرٹ کھڑے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان فوجی جوانوں نے ایشیا سے یورپ جانے والی تمام ٹریفک کو روک رکھا تھا۔ لیکن یورپ سے ایشیا جانے والی ٹریفک کو اجازت تھی۔

اِس وقت اس ناکام فوجی بغاوت کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ان میں یہ سوال سرفہرست ہے۔ ٹریفک جام ہورہی تھی، گاڑیوں، بسوں، بڑے کنٹینرز اور لوگوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس دوران مجھے ترکی میں میرے مختلف دوستوں کے فون آنے شروع ہوگئے۔ انقرہ میں فوجی باغیوں کے جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹرز ترکیہ جمہوریہ کی اسمبلی کی عمارت کے اوپر اڑ رہے ہیں۔ ان خبروں کے ساتھ ہی استنبول اور ترکی بھر کی سڑکیں سنسان ہونا شروع ہوگئیں۔ باسفورس پر بندوقیں تھامیں جواں سال ترک فوجی جوان کھڑے تھے اور مجھے ہرصورت اپنی رہائش گاہ پہنچنا تھا۔ میں نے فوری طور پر پاکستان میں اپنے اخبار کے چیف ایڈیٹر جناب چوہدری عبدالرحمان، وفاقی وزیر پرویز رشید اور اپنے دوست جناب سینیٹر مشاہد حسین کو وٹس اَپ پر ترکی میں فوج بغاوت برپا ہونے کی اطلاع دی کہ اس وقت تک سی این این، بی بی سی اور الجزیرہ پر ترکی میں فوجی بغاوت کی خبر نشر نہ ہوئی تھی۔ اس طرح نیو ٹی وی نے پاکستان میں سب سے پہلے ترکی میں فوجی بغاوت کی خبر کو نشر کیا اور پھر ساری رات راقم نیو ٹی وی پر ترکی میں فوجی بغاوت کے بارے میں مطلع کرتا اور تجزیہ پیش کرتا رہا۔

جب تک میں اپنی رہائش گاہ پہنچا، مختلف ترک ٹیلی ویژن چینلوں نے انقرہ اور استنبول میں مسلح افواج کی آمد کے حوالے سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ میں نے فیس بُک پر اپنے دوستوں کو بھی ترکی میں برپا فوجی بغاوت کے حوالے سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ رات 11:30 بجے تک ترکی کے تمام شہروں میں مکمل سناٹا چھا گیا۔ میں اپنی رہائش گاہ سے ترک مسلح افواج کی آمدورفت کو بھی دیکھ رہا تھا۔ اب دنیا بھر کے میڈیا میں فوجی بغاوت کی خبریں پھیل چکی تھیں۔ رات 12:30 بجے تمام ٹی وی چینلز کی نشریات کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور سوشل میڈیا بھی معطل کردیا گیا۔ اس دوران وٹس اَپ اور فون ہی رابطے، اطلاعات اور خبروں کا ذریعہ تھے۔ کچھ دیر بعد رات ایک بجے کے قریب چند ٹی وی چینلز بحال کر دئیے گئے۔ ان پر استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر تعینات مسلح افواج کی براہِ راست رپورٹیں بھی نظر آنے لگیں۔ FoxTurk ٹی وی نے انقرہ میں باغیوں کے بڑے نشانے ترک پارلیمنٹ کو بہت قریب سے دکھانا شروع کردیا۔ اس وقت تک ترکی میں فوجی بغاوت کے کمانڈروں اور اُن کے موقف کو جاننے کے لیے پورا ترکی بے چین تھا کہ انہوں نے فوجی بغاوت کیوں برپا کی، کیا پارلیمنٹ توڑ دی گئی ہے، آئین سمیٹ دیا گیا ہے، صدر اور وزیراعظم زندہ ہیں یا گرفتار کرلیے گئے ہیں، اس بغاوت کی قیادت کون کررہا ہے۔ لیکن بس یہی خبریں تھیں کہ انقرہ اور استنبول کے کچھ علاقوں میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ پورا ترکی یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ ترکیہ جمہوریہ کا اقتدار اس وقت کس کے پاس ہے۔ منتخب حکومت کے پاس یا فوجی کوڈیٹا کرنے والوں کے پاس۔

رات دس بجے سے تقریباً ڈیڑھ بجے تک صدر جمہوریہ جناب طیب اردوآن کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ بس یہ خبر تھی کہ وہ صدارتی محل میں نہیں اور کسی نامعلوم مقام پر موجود ہیں۔ پر اُن کے زندہ سلامت ہونے کی خبر تھی۔ اس دوران وزیر انصاف کا بیان ترک اور عالمی میڈیا پر نشر ہوا کہ فوجی بغاوت چند ایک باغیوں کی برپا کردہ ہے اور اس کے پیچھے صدر طیب اردوآن کے روحانی مرشد پنسلوینیا امریکہ میں خودساختہ جلاوطن مذہبی سکالر فتح اللہ گلین ہیں۔ انہوں ہی نے طیب اردوآن کو نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی سے علیحدہ کرکے نئی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی بنانے کی ترغیب اور رہنمائی کی تھی۔ اس دوران صدر طیب اردوآن کے پرانے ساتھی سابق صدر عبداللہ گل کا ٹیلی فونک انٹرویو ترک ٹی وی چینلوں پر چلنے لگا کہ باغی آئین اور جمہوریت کے دشمن اور غدار ہیں۔ اس وقت تک یہ خبر باغیوں کے حوالے سے سامنے آئی کہ انہوں نے سرکاری ٹی وی TRT پر قبضہ کرلیا ہے اور خبریں پڑھنے والی نیوز کاسٹر کو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان کرے کہ ’’امن کونسل‘‘ نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ لیکن لوگ باغیوں کے سربراہ کا چہرہ اور نام جاننے کے لیے بے چین تھے۔ نیوزکاسٹر کو ایک ترک فوجی جوان نے پرچی دی کہ یہ پڑھو، جس پر صرف یہ الفاظ تحریر تھے کہ ’’جمہوری نظام محفوظ کرلیا گیا‘‘۔ اسی دوران خبر نشر ہوئی کہ پورے ملک میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ سنسان سڑکیں مزید سنسان ہوگئیں۔ لیکن یکایک مساجد سے امن کے لیے دعائیں اور کچھ مساجد سے لوگوں کو سڑکوں پر نکل کر ملک کو محفوظ رکھنے کے عمل میں دعوت دینے کا اعلان ہوا۔ ترکی کی تمام مساجد مذہبی شعبے کے ماتحت ہیں۔ تمام سرکاری اماموں نے یہ دعائیں کیں۔ میں نے بھی اپنی رہائش کے قریب تین مساجد سے درود شریف سنا۔

ترک قوم فوجی بغاوت کے سربراہوں کے ناموں اور اُن کے ایجنڈے کو جاننے کے لیےبے چین تھی۔  کرفیو اور سنسان شہروں کی خبروں کے بعد خبر ملی کہ سی این این ترک اور سرکاری ٹی وی TRT باغیوں سے واگزار کروا لیا گیا ہے۔ اس واگزاری کے بعد ہم نے آئی فون کے ذریعے سی این این ترک پر پہلے سابق صدر عبداللہ گل اور پھر سابق وزیراعظم احمت دعوت اولو کو گفتگو کرتے دیکھا اور سنا جو باغیوں کو غدار اور جمہوریت کا دشمن قرار دے رہے تھے۔ اسی دوران وزیرخارجہ کا بیان بھی جاری ہوا کہ باغیوں کی پشت پناہی امریکہ میں مقیم فتح اللہ گلین کررہے ہیں۔ FoxTurk ٹی وی اس دوران دارالحکومت انقرہ کی فضاؤں میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کو اڑتے اور پارلیمنٹ پر فائرنگ اور شیلنگ کرتے ہوئے دکھا رہا تھا۔

کرفیو لگنے کے بعد سڑکیں سنسان ہوگئیں۔ پورا ترکی گھروں میں بیٹھ گیا تو یکایک ٹی وی چینلز بحال ہونا شروع ہوگئے اور باغیو ں کو کچلنے کی خبریں اور حکومتی وزرا کے بیانات آنے شروع ہوگئے۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ صدر ترکیہ جمہوریہ جناب طیب اردوآن زندہ سلامت ہیں اور وہ اپنی تعطیلات منانے کے لیے بحیرۂ روم کے کنارے ساحلی شہر مارمریس میں تھے، اسی لیے صدارتی محل میں موجود نہ تھے۔ پارلیمنٹ پر گن شپ طیاروں کی فائرنگ اور بم گرانے کے نظارے ہم نے FoxTurk ٹی وی سے براہِ راست دیکھے۔ باغیوں کے اس اقدام پر پورا ترکی حیران تھا کہ ترک پارلیمنٹ پر بم برسانے کی ضرورت باغیوں کو کیوں پیش آئی۔ اس دوران سوشل میڈیا بھی بحال ہوگیا۔ اس وقت رات کے تین بج چکے تھے۔

اس دوران صدر ترکیہ جمہوریہ  طیب اردوآن سی این این ترک پر جو کچھ دیر پہلے باغیوں سے واگزار کروا لیا گیا تھا، فیس ٹائم کے ذریعے نیوز ریڈر خاتون کو انٹرویو دے رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ چند لوگوں نے غداری کی ہے جن پر جلد ہی قابو پا لیا جائے گا اور میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں۔ بے چہرہ فوجی بغاوت۔ اس بے چہرہ فوجی قیادت کی طرف سے پورے ملک میں کرفیو کا اعلان۔ انقرہ اور استنبول کے کچھ علاقوں میں متعین فوجی جوان، ٹینک اور بکتربند گاڑیاں۔ وہ مسلسل فیس ٹائم پر خطاب کررہے تھے۔ سوٹ ٹائی میں ملبوس نہایت پُراعتماد اور پُرسکون انداز میں وہ اس غداری اور بغاوت کا الزام خودساختہ جلاوطن مذہبی سکالر اور اپنے پرانے مرشد فتح اللہ گلین پر لگا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم امریکہ سے اپنے اس پرانے مطالبے کے تحت دہشت گرد فتح اللہ گلین کو واپس وطن لانے کی کوششوں کو تیز کردیں گے، جنہوں نے بیرونِ ملک بیٹھ کر فوج کے اندر اپنے حامیوں کے ذریعے اس بغاوت کی قیادت کی ہے۔

ترک حکومت نے کچھ عرصے سے سرکاری سطح پر فتح اللہ گلین کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ اس دوران اُن کے اس حکم پر کہ عوام سڑکوں پر آئیں اور جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کے گھناؤنے ارادوں کو ناکام بنا دیں، انقرہ میں میئر کی قیادت میں دس ہزار کے قریب لوگ تعینات فوجی دستوں کی طرف بڑھنا شروع ہوگئے جن کے ہمراہ ترک پولیس کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ترک پولیس جدید مسلح اور طاقتور ہے۔ مسلح پولیس اور ترک عوام کو آتے دیکھ کر ان فوجی جوانوں نے اپنے ٹینکوں کو پیچھے ہٹانا شروع کردیا۔ مظاہرین بڑھتے گئے۔ ترک سپاہی جو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں سے باہر تھے، قدم بہ قدم پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے۔ اس دوران ٹی وی چینلز پر یہ خبریں نشر ہوئیں کہ باغیوں کے ہیلی کاپٹرز نے انقرہ میں سول انٹیلی جینس ایجنسی (MIT) اور پولیس کے ہیڈکوارٹر پر شیلنگ کی ہے اور 19 پولیس والے ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس دوران باسفورس پُلوں، تاکسیم سکوئر استنبول پر مظاہرین ترکی کے پرچم تھامے فوجیوں کے گرد جمع تھے۔ ترک مسلح افواج کے جوان عوام پر فائرنگ سے مکمل اجتناب کررہے تھے۔ اگر خدانخواستہ وہ ٹینکوں ، بکتربند گاڑیوں اور جدید اسلحے سے فائر کھول دیتے تو اس رات ہزاروں ترک شہری اپنی ہی مسلح افواج کے سپاہیوں کی گولیوں سے ہلاک ہوجاتے۔ اب عالمی ٹی وی دکھا رہا تھا کہ پولیس اور عوام نے مسلح سپاہیوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے۔

اس دوران بغاوت کے تقریباً چار گھنٹوں بعد اطلاعات آنا شروع ہوگئیں کہ صدر طیب اردوآن جلد پریس سے خطاب کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق وہ مارمریس سے استنبول پہنچیں گے، جو ایک گھنٹے کے فضائی سفر پر ہے۔ استنبول ایئرپورٹ جو باغی فوجیوں نے سنبھال رکھا تھا، اسے عوام اور پولیس نے خالی کروا لیا۔ اس دوران انقرہ کی فضا میں اڑنے والے جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر کو بھی گرا لیا گیا۔

اس دوران مختلف چینلز پر باغیوں پر قابو پانے، اُن کی گرفتاریوں کی خبریں دنیا بھر میں پھیل چکی تھیں اور حکومت کہہ رہی تھی کہ چند غداروں نے بغاوت کی ہے، اُن کو کچل دیا گیا ہے۔ اطلاعات تھیں کہ صدر طیب اردوآن مارمریس سے جیٹ طیاروں کی حفاظت میں اڑے، استنبول آنے سے پہلے بلغاریہ کے قریب سرحدی شہر ایدرنے لینڈ کیا جب حکام نے مکمل سیکیورٹی کلیرنس کی اطلاع کی تو وہ استنبول کے اتاترک ایئرپورٹ پر لینڈ کرگئے۔ اطلاعات کے مطابق، اُن کا طیارہ مارمریس سے ایدرنے لینڈ کرنے سے پہلے تیس منٹ فضامیں کلیرنس کے لیے اڑتا رہا اور اسی طرح استنبول ایئرپورٹ پر بھی اس عمل کو دہرایا گیا۔ باغیوں کے بارے میں یہ بھی خبریں آرہی تھیں کہ انہوں نے آرمی چیف کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس دوران فرسٹ آرمی (ترکی) کمانڈر جنرل دندار کے بیانات آنا شروع ہوگئے کہ باغیوں کو قابو کرلیا گیا ہے۔ فرسٹ آرمی کے کمانڈر کے تحت استنبول کا علاقہ ہے۔

استنبول کے اتاترک ایئرپورٹ پر صدر ترکیہ جمہوریہ  طیب اردوآن جب پریس کانفرنس کے لیے سامنے آئے تو اُن کے ہمراہ اُن کے داماد بیٹھے تھے جو کابینہ میں وزیر بھی ہیں۔ ترک پرچموں اور اتاترک کی قدآور تصویر کے سامنے بیٹھ کر انہوں نے عوام اور پولیس کو سلام پیش کیا اور جمہوریت کو بچانے کے لیے اُن لوگوں کے کردارسراہتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا۔ غداروں، شیطانوں اور اس بغاوت میں شامل لوگوں اور بغاوت منظم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے فتح اللہ گلین کو غدار قرار دیا۔

اس کے بعد بغاوت کے سرد ہونے کی خبریں آنا شروع ہوگئیں ۔ جب 16جولائی کا سورج طلوع ہوا تو ترکی کا سیاسی منظرنامہ بدل چکا تھا۔ ناکام بغاوت۔ تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کے استحکام کے لیے اکٹھی اور باغیوں کے اقدام کو مسترد کررہی تھیں۔ لیکن اس Faceless Coup d'etat کے حوالے سے سوالات کا سمندر اٹھنا شروع ہوگیا ہے اور ساتھ ہی حکومت نے عدلیہ اور مسلح افواج کے خلاف بڑا آپریشن شروع کردیا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب نئی کوڈیٹا شروع ہوچکی ہے۔ میرے فون پر صدر طیب اردوآن کی طرف سے جاری کردہ میسج آیا کہ سڑکوں پر آکر جمہوریت کے بچاؤ کا جشن منائیں۔ اب تک گرفتار ہونے والے فوجیوں میں 5جرنیل، 47نظربند جرنیل، 29کرنل اور نظربند اور گرفتار لوگوں کی کُل تعداد 6000 تک پہنچ چکی ہے۔ ترک عوام میں ایک نیا تجسس اور سوالات جنم لے چکے ہیں۔ اس رات کے بارے میں اور بعد از ناکام بغاوت ترکی میں حکومت، حکمرانی، جمہوریت، سول وملٹری تعلقات کے حوالے سے ہر شخص گومگو کا شکار ہے۔