یوم سیاہ اوربرہان وانی کا جنازہ
- تحریر ساجد حبیب میمن
- منگل 19 / جولائی / 2016
- 5459
حکومت نے ایک اچھا فیصلہ کیاہے کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار ہمدردی اور بھارت کے جبروتشددسے پردہ اٹھانے کے لیے یوم سیاہ منایا جائے ۔ ضروری ہوگا کہ اس روز ملک بھر میں جلسے جلوس نکالیں جائیں اور ریلیوں میں بھرپور انداز میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کشمیریوں سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔ یہ عمل بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ظلم وستم کو پوری دنیا کے سامنے لانے کے لیے ایک مثبت اقدام ہوگا۔ ہمارے سفارت خانوں کو لوکل میڈیاکے ساتھ اس سلسلے میں اجلاس کرنے چاہئیں تاکہ دونوں ادارو ں کے باہمی روابط سے پوری دنیا میں یہ بات عام ہوسکے کہ بھارت کی حکومت اور ان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کس درندگی کے ساتھ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزریاں کررہے ہیں ۔
اس کے علاوہ ہر ایمبیسی کو چاہیئے کہ وہ ایک صفحے پرمشتمل کشمیر پر مقامی زبانوں میں ایک معلوماتی پمفلٹ تیار کروائے، جس میں کشمیر کے بارے میں معلومات ہوں۔ اس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا خلاصہ موجود ہواور یہ کہ بھارت کس انداز میں کشمیریوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کررہاہے۔ ان تمام معلومات کو تحریری صورت میں ترتیب دے کر اسے وسیع پیمانے پر تقسیم کیا جائے۔ میں کشمیر اور ان تمام کشمیری بہن بھائیوں اور بچوں کے لیے لکھنے پر خود کو مجبور سمجھتا ہوں۔ یہ لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں بھی پاکستانی پرچم کو ہاتھوں میں تھامے ہوئے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوتے ہیں۔ 1949میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سلامتی کونسل کی جانب سے جو قرارداد منظور ہوئی کاش کہ اس قرارداد پر اسی دن سے عمل شروع کردیا جاتا جب لوہا گرم تھا۔ کاش کہ یہ جذبہ جو کشمیر میں کبھی یوم سیاہ تو کبھی یوم شہدا کے نام سے ہمارے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اس روز بھی یہی عالم ہوتا تو ہمیں لاکھوں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے لاشے، جوان بہنوں کی عصمت دری کے درجنوں واقعات اور بزرگوں اورجوانوں کے گولیوں سے چھلنی ہوتے سینے تو نہ دیکھتے پڑتے۔
آج بھارت کا وزیراعظم پاکستان کے وزیراعظم کے پاس ان کی سالگرہ میں بغیر ویزا پاسپورٹ کے آجاتا ہے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف بھارت میں مسلمان ہونا ہی جرم بن چکا ہے۔ ان کے سروں پر ٹوپیاں اور چہروں پر داڈھیاں ہی ان کی جان کی دشمن بن بیٹھی ہیں ۔ ہم کبھی بھارت کو اپنا پسندیدہ ملک قراردینے میں اپنی پوری جان لڑاتے ہیں تو کبھی بھارت کے ساتھ تجارت کے عوض لاکھوں کشمیریوں کی جان ومال کا سوداکرتے ہیں ۔ اس وقت بھارت خود بھی خوب پریشان دکھائی دیتاہے کیونکہ اس نے برہان وانی کی موت کے ساتھ دانستہ طور پر ایک ایسی بغاوت کو جنم دے ڈالاہے جس نے بھارت کی آٹھ لاکھ فوجیوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ وہ اس وقت کشمیریوں کے رد عمل سے خوف زدہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان کی لاکھ رکاوٹوں کے باوجود برہان وانی کا جنازہ کشمیر ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی تاریخ کا تاریخی جنازہ ثابت ہؤا۔ اس جنازہ میں مزاحمت کے باوجود لاکھوں کشمیریوں نے شرکت کی ۔ کشمیری عوام کی طرف سے آزادی کے لیے جذبات کا جو سمندرہمیں میڈیا میں دکھائی دیتاہے اس کا محور صرف عوام ہیں۔
سیاستدان اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے ان لمحات میں بھی نہیں ٹلتے جس کااندازہ آزاد کشمیر میں 21 جولائی میں ہونے والی انتخابی گھما گھمی سے لگایا جاسکتاہے کہ وہاں پر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں کس طرح ایک دوسرے پر الزامات لگارہی ہیں۔ کس انداز میں کشمیر میں بہنے والے لہو کو سیاست چمکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود اس میں کوئی دورائے نہیں ہونا چاہئے کہ کشمیر پاکستان کا جز لا ینفک ہے۔ وہ کبھی ہم سے الگ نہیں تھا۔ بھارت اپنی گھناؤنی حکمت عملی کےباوجود کشمیر کو ہم سے الگ نہیں کرسکتا۔ وہ کشمیریوں کی زندگیوں کے ساتھ نت نئے حربوں کے ساتھ کھلواڑ تو کرسکتاہے مگر کشمیر کی آزادی کے خواب ان کی آنکھوں سے نہیں چرائے جا سکتے۔ اس بار عید بھی پاکستان اور کشمیر کی عوام نے مل جل کر بنائی ہے۔ عید نت نئے تحائف اور نئے نئے کپڑے خریدنے کا نام بھی ہے اس لیے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کے معاشی حالات بھی ایسے نہیں ہے کہ وہ عید کی تمام خوشیوں کو اس انداز میں مل جل کربانٹ سکیں جیسے کسی آزاد ملکوں کی قومیں اپنی عیدوں کومنایا کرتی ہیں۔ کشمیر میں عید منانے والے کشمیری مسلمانوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے گھر کا کونسا فرد کل یا اس کے بعد ان کے پاس ہوگا بھی کہ نہیں۔ ان کی زندگیوں کی کیا ضمانت جو اپنے حقوق اور الگ وطن کی آس میں اپنے گھروں سے ہی کفن پہن کر نکلتے ہیں۔
سوال ہے کہ آخر اس یوم سیاہ کومنانے کا فائدہ کس کو ہوگا۔ کتنے ہی سالوں سے ہم یہ چونچلے کرتے چلے آرہے ہیں مگر نتیجہ یہ ہی کہ آج کشمیر میں اتنے مرگئے اور آج اتنے افراد قید کرلئے گئے۔ بھارت ہمارے احتجاج کو اپنی مقبولیت کے لیے استعمال کرتاہے۔ پاکستان کےسیاست دان کشمیر کاز کو اپنی سیاست اور الیکشن کمپیین کا حصہ سمجھتے ہیں۔ پھرکشمیر کی آزادی کے لیے حکومت اپنا کردار کیسے ادا کرسکتی ہے۔ وہ حکومت جو بھارت کے ساتھ دوستی کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے یا وہ اپوزیشن جو حکومت کو گھر بھیجنا چاہتی ہے تاکہ خود حکومت میںآجائے۔ کیا کبھی آپ کو یہ اپوزیشن جماعتیں کشمیر کے معاملے میں اس طرح اکھٹی نظر آئی ہیں۔
پاکستان میں موجود کشمیر کمیٹی آخر کس مرض کی دوا ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ہیں۔ دوستو یہ سیاستدان جس انداز میں حکومت بنانے یا اس کو گرانے کے لیے جمع ہوےی ہیں ، اس انداز میں یہ کبھی کشمیر کے لیے کھڑے نہیں ہوئے ہوں گے۔ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیر کوپاکستان کی حکومت کی نہیں بلکہ پاکستان کی عوام کی ضرورت ہے۔ وہی ان کے ساتھ مل کر کشمیر کی آذادی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔