اترپردیش - بساط تو بچھ چکی ہے
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 19 / جولائی / 2016
- 4528
یہ درست ہے کہ اترپردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اور بڑا ہونے کے ناطے سیاسی میدان میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاست میں ایسے بے شمار مسائل ہیں جن کا حل فوری طور پر ہونا چاہیے اس کے باوجود ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اور چونکہ آج کل ریاست میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سب سے اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں لہذا، اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے چھوٹی و بڑی تمام سیاسی پارٹیاں فعال نظر آرہی ہیں۔
سال2017 میں اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے بساط بچھائی جا چکی ہے۔ اس بڑی جنگ کو جیتنے کے لئے تمام ہی سیاسی پارٹیوں نے ذات پات کی بنیاد پر تقسیم سماج کے پیش نظر اپنی اپنی گوٹیاں بھی بٹھانا شروع کردی ہیں۔ ترقی کی بات کرنے والی بی جے پی بھی آگے نکلنے کے لئے پوری طاقت کے ساتھ دوڑ میں شامل ہے۔ بہار کی شکست کے بعد بی جے پی اترپردیش کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔ اس پس منظر میں اِن کے رہنما اسٹیج پر تو ترقی کی بات کرتے نظر آتے ہیں اس کے باوجودلائحہ عمل معاشرتی بنیادوں پر تقسیم شدہ سماج کو مزید تقسیم کرکے الو سیدھا کرنا ہے۔ اترپردیش میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ دلتوں کی تعداد تقریباً 50% فیصد ہے۔ ان میں سے % 19فیصد یادو اگر نکال دیئے جائیں تب بھی یہ کافی شرح ہے ، جسے بی جے پی اپنی طرف متوجہ کرنے میں مصروف ہے۔ اس سب کے باوجود بڑا سوال یہ ہے کہ بہار انتخابات میں یہی بی جے پی ذات پات کی کشتی میں سوار ہو کر ڈوب چکی ہے، تو کیا ایک بار پھر اتر پردیش کے انتخابات میں اِس کشتی میں سوار ہونے کے لیے وہ اپنے آپ کو تیار پاتی ہے؟ ایسے میں دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ اتر پردیش کی سیاسی منجھدار میں یہ کشتی کس کو کنارے تک پہنچاتی ہے۔
اگر نریندر مودی کے مرکزی وزیروں میں ہونے والی تبدیلی کی بات کریں تو وہاں بھی اتر پردیش پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ریاست کے جن تین ممبران پارلیمنٹ کو وزیر بنایا گیا ہے ان میں سے دو مشرقی اور ایک وسط، یا علاقہ اودھد سے آتے ہیں۔ یہ تینوں ہی پہلی مرتبہ لوک سبھا کے لئے 2014 میں منتخب ہوئے ہیں۔ انتظامی صلاحیت اور پارٹی میں سرگرمی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تینوں ہی بھارتیہ جنتا پارٹی میں مقامی ومحدود اثرات کے رہنما ہیں۔ لیکن اپنے علاقے میں اپنی ذات کے لوگوں پر اثر ڈالنے کے قابل مانے جاتے ہیں۔ مرزاپور کی ممبر پارلیمنٹ انوپریا پٹیل ، پارٹی اپنا دل میں شروع سے تنازعات میں رہی ہیں تو وہیں انوپریا، کرمی برادری کی اہم لیڈر ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ چند دنوں سے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار جو خود ایک کرمی لیڈر ہیں اترپردیش میں وارانسی اور آس پاس کے علاقوں میں شراب بندی مہم کو ایشو بناتے ہوئے اپنا اثر بڑھانے کے مصروف ہیں۔
اسی طرح شاہجہاں پور سے ممبر پارلیمنٹ کرشنا راج بھی اپنے علاقے میں دو بار رکن اسمبلی رہ چکی ہیں اور دلت طبقہ میں اپنی ذات کی بنار پر معروف رہنما مانی جاتی ہیں۔ دلت برادری کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں مصروف بی جے پی کا یہ فیصلہ بھی ذات پات کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے۔ تقریبا یہی جوڑ توڑ چندولی کے ایم پی مہندر پانڈے پر بھی لاگو ہوتا ہے جو اپنے علاقے میں برہمن کمیونٹی کے بااثر لیڈرہیں۔ دوسری جانب اس تبدیلی کے پس پشت ایک اور تشویش جو بی جے پی کی سامنے آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان تین وزراء سے کم از کم اپنے علاقے میں کچھ کام کرائے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کے 73 لوک سبھا رکن ہونے کے باوجوداکثریت پر یہ الزام لگتا آیا ہے کہ وہ اپنے ہی علاقے میں غیر فعال ہیں۔ حال ہی میں ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں کہ بہت سے ممبران پارلیمنٹ نے گود لئے دیہات میں ابھی تک کوئی خاص کام نہیں کیا اور بعض نے تو اپنے فنڈ کا بھی مناسب استعمال نہیں کیا ہے۔
بی جے پی کے بعد اگر بی ایس پی کی بات کی جائے جس کی سربراہ مایاوتی یہ امید لگائے بیٹھی ہیں کہِ اس بار ریاست میں اُن کی حکومت بنے گی، توحقیقت جو سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ بی ایس پی خود اندرون خانہ کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پارٹی کے لیڈر ایک ایک کرکے الگ ہورہے ہیں اور مایاوتی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ پیسے کی دلدادہ ہیں۔ مقامی سے لے کر ریاست تک کے زیادہ تر لیڈر پارٹی میں پیسے کا کھیل کھل کر کھیلتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جس کا ذکر نہ صرف بی جے پی صدر امت شاہ نے یہ کہتے ہوئے کیا کی بی ایس پی سربراہ مایاوتی نوٹ چھاپنے کی مشین ہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ ایس پی اور بی ایس پی، راہو کیتو کی طرح ہیں، ان کے رہتے اترپردیش کی ترقی نہیں ہو سکتی۔ بی ایس پی کو نوٹ چھاپنے والی مشین بنا دیئے جانے کے بی جے پی کے الزام کی مخالفت کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی، کی سربراہ مایاوتی نے امت شاہ کے الزام کو مکمل طور پر نسل پرستی کو فروغ دینے والی ذہنیت کے مترادف بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی نے بہوجن سماج کو لینے والے سے نکال کر دینے والا بنایا ہے۔ پارٹی انہی کے تھوڑے بہت مالی تعاون سے اپنی انسانیت پر مبنی مہم کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔ جبکہ بی جے پی اور کانگریس اور ان کی حکومتیں بڑے بڑے سرمایہ داروں سے رقم لینے کی وجہ سے ہمیشہ ان کی غلامی کرتی آئی ہیں۔ بی ایس پی صدر مایاوتی نے یہ بھی دعوی کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت غریبوں، مزدوروں، دلتوں ، کسانوں، پسماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتوں میں سے خاص طور پرمسلمان اور عیسائی معاشرے کے مفادات کے خلاف ہے اور سرمایہ داروں کے لئے کام کرنے کی وجہ ہر طبقہ میں اپنا اعتماد کھوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ان کی مسلسل ہار ہو رہی ہے۔
ان حالات میں اگر مایاوتی کی بات مان بھی لی جائے جو انہوں نے امت شاہ ، مودی اور ان کی حکومت کے بارے میں کہی اور جو کافی حد تک صحیح بھی ہے، اس کے باوجود بی ایس پی سے باغی ہونے والے سوامی پرساد موریہ اور پرم دیو یادو کی باتوں کو کس طرح نظر انداز کیا جاسکتا ؟جس میں ان پر پیسہ لے کر عہدہ دینے کی بات سامنے آئی ہے۔
اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بہتر کارکردگی اور کامیابی کی خواہش لیے کانگریس پارٹی بھی گزشتہ کئی سالوں کے بعد اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی فکر مند نظر آ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو پارٹی کی لوک سبھا میں کمزور ترین صورتحال ہے وہیں راجیہ سبھا میں اِس کی موجودہ صورتحال برقرار رہے، یہ خواہش بھی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار خاص فیصلے ہو رہے ہیں۔ سیاسی strategist اور صلاح کار پرشانت کمار کی مدد لی جا رہی ہے، پرینکا گاندھی کو میدان میں اتارنے اور بڑے پیمانے پر ریلیوں سے خطاب کرنے کی باتیں سامنے آ ئی ہیں، نیز ذات پات پر مبنی سیاست میں وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک جانب کانگریس نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر راج ببر کو ریاست کا صدر بنایا ، جن کی شناخت کسی خاص گروہ سے اگرچہ منسلک نہیں ، اس کے باوجود راجا رام پال، بھگوتی پرساد، راجیش مشرا اور عمران مسعود کو نائب صدر بنا کر کانگریس نے ذات اور مذہب ہردو پہلو سے کامیاب ہونے کی کوشش کی ہے۔ بڑی خبر یہ بھی ہے کہ تین مرتبہ دہلی کی وزیر اعلیٰ رہنے والی شیلا دکشت کو اترپردیش میں بطور وزیر اعلی نام زد کیا گیا ہے۔ شیلا دکشت ذات کے لحاظ سے برہمن ہیں اور یوپی کے علاقہ قنوج کی بہو ہیں۔ باالفاظ دیگر اترپردیش کی بہو اترپردیش میں بطور وزیر اعلیٰ داخل ہوا چاہتی ہے۔
قبل از وقت اترپردیش اسمبلی انتخابات کے بارے میں بہت کچھ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن اتنی بات طے ہے کہ بی جے پی کے علاوہ جن پارٹیوں کو بھی کامیاب ہونا ہے ان کے لئے مسلمانوں اور دلتوں کا ووٹ شیئر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس پس منظر میں مسلمان ہوں یا دلت، دونوں ہی کو ووٹ دینے سے قبل ریاست میں اپنی حیثیت اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے۔ ساتھ ہی جو وعدے پچھلی حکومتوں نے ان سے کیے تھے لیکن پورے نہیں کیے، انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جو نقصانات ہوئے ہیں اس کی تلافی کی بھی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔ کیونکہ سننے میں یہی آ رہا ہے کہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی نے پردے کے پیچھے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اب اگر آپ ان دو سیاسی جماعتوں کے اِس فیصلے سے اتفاق رکھتے ہیں تو آنکھ بند کر کے کسی ایک کے حق میں بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ووٹ دینے کا حق انفرادی ہے نہ کہ اجتماعی اور ہم ایک "جمہوری ملک" میں رہتے ہیں جہاں حکومتیں "عوام کی پسند "سے بنائی جاتی ہیں۔ لہذا آپ کی پسند صرف آپ کی ہونی چاہیے یا ان لوگوں کی جن پر آپ کو اعتماد ہے۔