ایدھی مرگئے، بحث جاری ہے
- تحریر سید شاہد عباس
- بدھ 20 / جولائی / 2016
- 6968
ایدھی سے سب سے بڑی غلطی زندگی میں یہ ہوئی کہ اُس نے جھگڑا دیکھا۔ پہلا شخص زخمی ہوتے دیکھا۔ لوگوں کو تماشہ دیکھتے ہوئے پایا اور دل میں ٹھان لی کہ جنہیں کوئی نہیں اُٹھائے گا انہیں میں اُٹھاؤں گا۔ جن کو کوئی غسل دینے والا نہیں ہو گا اُن کو میں غسل دوں گا۔ جن کو دفنانے والا کوئی نہیں ہو گا اُن کو میں دفناؤں گا۔ جن کو لوگ کوڑے پر ڈال کے بے نشاں کر دیں گے، اُن کا باپ بھی میں بنوں گا اور ماں بھی۔ اُس کولوگوں کی ہوس کو اپنا نام دینے پرتنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن وہ اپنے کام میں جتا رہا۔ لوگ صرف باتوں میں اس کی مثالیں دیتے رہے کہ یہ دو جوڑے کپڑوں میں رہتا ہے ۔ اور وہ عمل میں جتا رہا۔ لوگ اُس کے ساتھ تصویریں بنوانے کو ترجیح دیتے رہے اور وہ لاوارثوں کا وارث بننے میں مصروف رہا۔ حتیٰ کہ جب وہ بستر مرگ پر تھا تب بھی لوگ اس کے ساتھ بنائی ہوئی تصاویر کو اپنی کامیابی کی ضمانت بنا رہے تھے۔ لیکن اس نے کسی کو منع نہیں کیا۔
آج ایدھی کو دنیا سے گئے دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں ۔ کیا ہم نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ ہم نے ایدھی کے مقصد کو کتنا آگے بڑھایا۔ کیا ہم نے ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے آج بھی اپنی تجوریوں کے منہ کھولے؟ کیا بیس کروڑ لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی عہد کیا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے لاوارث لاشوں کو غسل دیں گے؟ کیا ہم میں کوئی ایسا ہے جس نے اپنے دل میں خود سے وعدہ کیا ہو کہ ایدھی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے لیے آج اپنے گھر میں موجود پرانے فالتوں کپڑوں کو کسی خیراتی ادارے کے دے دوں ؟ کیا ہم ایدھی کے چلے جانے کے غم میں ایسا سوچ پائے کہ ہم ایدھی ہومز جا کر کسی ایک بچے کو اپنائیں گے؟ کیا ہم میں سے کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس نے ایدھی کے دنیا سے جانے کے دن کے بعد سے آج تک ایک مرتبہ بھی ایدھی کے کسی ایک کام کی تقلید کرنے کا سوچا ہو؟
ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ہم تو اس خوشی سے ہی بیدار ہونے کا نام نہیں لے رہے کہ کراچی میں ایک شاہراہ کو ایدھی سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ ہم اس غم میں ہی گھلے جا رہے ہیں کہ نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کا نام ایدھی سے کیوں منسوب نہیں ہؤا۔ ہمیں یہ دکھ کھائے جا رہا ہے کہ اب تک ایدھی کے نام سے کوئی یادگار کیوں نہیں بن پائی۔ ایک گروہ ایدھی کو شیعہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے تو دوسرا اس کو سنی مانے بیٹھا ہے۔ ارئے بھئی ایدھی وہ تھا جو یہ کہتا تھا کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے والوں کو بھی اپنے ہاتھوں سے غسل دیتا تھا اور ہاتھ کھول کر پڑھنے والوں کی تدفین بھی خود کرتا تھا۔
خدارا۔۔۔۔ بھول جاؤ کہ وہ کس فرقے، کس لسانی گروہ، یا کس تنظیم کے حق میں تھا یا مخالفت میں تھا۔ چھوڑ دیجئے کہ ایدھی میں کیا کمی تھی اور کیا کمی نہیں تھی۔ نکال دو اس بات کو ذہن سے کہ وہ مہاجر تھا یا پنجابی۔ اُس کے کام کو زندہ رکھو۔ شاہراہوں کے نام بھی تبدیل ہوتے رہیں گے اور ہوائی اڈے بھی ایدھی کے نام سے منسوب ہو جائیں گے۔ اگر واقعی ایدھی سے اتنا پیار ہے تو اس کے پیغام کو نئی زندگی دو۔ ایدھی فاؤنڈیشن کو دل کھول کر عطیات دو کہ انہیں محسوس ہی نہ ہو کہ ایدھی کے بعد لوگوں کی محبت میں کوئی فرق آیا ہے۔ ایدھی سے محبت ہے تو اس کے یتیم خانوں، مردہ خانوں، اولڈ ہومز،کی ذمہ داریاں اپنے ذمے لو۔ یتیموں کی کفالت کرو۔ ایدھی ہومز کی لاوارث بچیوں کی شادیوں کے انتظامات میں ادارے کی مدد کرو۔ لاوارث لاشوں کو اپنے ہاتھ لگاؤ۔ یقین رکھو کہ مردہ کاٹ کھانے کو نہیں آتا۔ صرف ایدھی کے نام سے سڑکیں اور ائیر پورٹ منسوب کروانے پر ہی ساری توانائیاں خرچ نہ کرو ۔ کچھ اس کی روح کی خوشی کا بندوبست بھی کرو۔ اور اپنی عاقبت بھی سنوارو ۔