عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
جمعہ 15؍ جولائی کو لگ بھگ رات نو بجے اپنے ایک دوست کے ساتھ چند لمحے گزار کر گھر واپس آرہا تھا تو گاڑی چلاتے ہوئے بی بی سی ریڈیو پر یہ خبر سنی کہ ترکی میں فوجی بغاوت شروع ہوچکی ہے اور قومی ٹیلی ویژن اسٹیشن سے فوج کی جانب سے اعلانات پڑھے جارہے ہیں۔ اسکائی، بی بی سی، الجزیرہ اور سی این این جیسے چینل پر بس ایک ہی خبر دکھائی جارہی تھی کہ ترکی میں فوجی بغاوت ہوئی ہے اور ملک کے صدر طیب ار دوآن کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ یہ سن کر کلیجہ جیسے منہ کو آنے لگا۔
لگ بھگ تین گھنٹے تک ٹیلی ویژن سے چپک کربیٹھا رہا اور خبروں کو بہت غور سے سنتا رہا لیکن بے چینی اس بات کی ہورہی تھی کہ آخر ترکی میں اب کیا ہوگا؟کیا ترکی کی عوامی حکومت ختم ہوگئی؟کیا جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا گیا؟ کیا دنیا کا سب سے کامیاب جمہوریت والا مسلم ملک فوج کی گرفت میں چلا گیا؟ذہن ان ہی باتوں کو سوچ کر الجھا ہوا تھا کہ ایک مقامی چینل نے آئی فون کے فیس ٹائم سے صدر طیب اردوآن کی تقریر کو نشر کیا جس میں انہوں نے ترکی کی عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر باہر آئیں اور فوج کی موجودگی کے خلاف احتجاج کریں۔
بس پھر کیا تھا ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آکر فوج کے خلاف مظاہرہ کرنے لگے۔ معروف تاریخی شہر استنبول کے باسفورس پُل سے گاڑیوں کی آمد و رفت کو فوج نے بند کر دیا تھا لیکن اس کی مخالفت میں لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر فوج کی موجودگی پر احتجاج کیا۔ اس کے علاوہ مساجد سے بھی لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ گھروں سے باہر آئیں اور بغاوت کے خلاف احتجاج کریں۔ تھوڑی دیر بعد جنگی جہاز چنگھاڑتا ہوا ترکی راجدھانی انقرہ اور استنبول کے اوپر دکھائی دینے لگے۔
کچھ لمحے بعد وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اعلان کیا کہ حکومت کا تختہ الٹے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے فوراً بعد فوج کا ایک باغی گروپ نے قومی ٹیلی ویژن پر آکر اس بات کا اعلان کیا کہ اس نے ملک کی جمہوریت کی حفاظت کرنے کے لئے صدر طیب اردوآن سے اختیار لے لئے ہیں۔ ملک میں کرفیو لگا دیا گیا ہے اور مارشل لاء کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئے آئین کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ جس وقت یہ ساری باتیں ہورہی تھی اس وقت صدر اردوآن ترکی کے ساحل کے علاقے میں چھٹی گزار رہے تھے۔ صدر اردوآن نے فوراً اپنی چھٹی کی معیاد ختم کر کے استنبول پہنچنے کا فیصلہ کیا اور اسی دوران انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف سڑکوں پر نکل آئیں اور فوج کی مخالفت کریں۔ اس دوران باغی فوجیوں نے آرمی جنرل کو یر غمال بنا لیا اور پارلیمنٹ پر گولے بھی برسائے۔
لیکن ہفتہ کی صبح بہادر ترکی عوام کے احتجاج کے آگے باغی فوج کی ہمت پست ہونے لگی اور دیکھتے دیکھتے باغی فوجیوں نے ہتھیار ڈالنا شروع کر دئے۔ ترکی کے بہادر عوام نے سڑکوں پر آکر ایک بار پھر دنیا کو اس بات کا پیغام دیا کہ ترکی اب بھی سلطنتِ عثمانیہ کی شان کو نہیں بھلا پایا ہے جس نے اپنی بہادری اور دیانتداری کی عمدہ مثال دنیا کو پیش کی تھی۔
یوں تو ترکی کی فوجی بغاوت بہت جلد ناکام ہوگئی لیکن کئی سوال ایسے ہیں جس پر اب بھی پردہ داری ہے۔ حکومت نے فتح اللہ گلین پر انگلی اٹھائی ہے اور کہا کہ اس میں ان کا ہاتھ ہے جبکہ امریکہ میں مقیم فتح اللہ گلین نے ترکی حکومت کی اس بات کو رد کرتے ہوئے فوج کی بغاوت کی مذمت کی ہے۔دریں اثناء ترکی حکومت نے لگ بھگ چھ ہزار اعلیٰ فوجی افسران اور ججوں کو گرفتار کیا ہے۔ کچھ فوجی افسران کا کہنا ہے کہ انہیں فوجی بغاوت کا کوئی علم ہی نہیں تھا بلکہ وہ تو فوجی سرگرمیوں میں حصہّ لے رہے تھے۔ ترکی میں یہ فوجی بغاوت کوئی پہلی بار نہیں ہوئی ہے اس سے قبل 1960کے بعد اب تک چار بار فوجی بغاوت ہوچکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حال ہی میں فوج اور صدر طیب اردوآن کے بیچ کافی تناؤ رہا ہے۔اس کے علاوہ شام میں جنگ اور ترکی میں آئے دن بم دھماکوں سے بھی فوجی بغاوت کا اندیشہ موجود تھا۔
ترکی میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی طاقتیں نظر ترکی کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر ملکوں نے امن قائم رکھنے کی اپیل کی تو وہیں ترکی کی جمہوریت کا بھی احترام کرنے کو کہا ہے۔تاہم ترکی نیٹو (NATO)کا ممبر ہے اور شام کی جنگ میں اہم رول نبھا رہاہے۔ اس کے علاوہ شام کے پناہ گزینوں کے لئے ترکی ایک اہم ملک ہے جہاں کافی تعداد میں مہاجر موجود ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ ترکی کے طاقتور لیڈر اور صدر طیب اردوآن کون ہیں ۔ طیب اردوآن کی پیدائش 1954میں ہوئی اور ان کی پرورش بحر اسودکے ساحل پر ہوئی جہاں ان کے والد بطور کوسٹ گارڈ کام کرتے تھے۔جب یہ تیرہ برس کے تھے تو ان کے والد نے استنبول شہر جا کر بسنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اپنے بچوں کی اچھی پرورش اور تعلیم چاہتے تھے۔طیب اردوآن اپنے لڑکپن کے دنوں میں استنبول کی گلیوں میں اکثر لیموں اور تل بیچتے تھے۔انہوں نے ایک اسلامی اسکول سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور پھر استنبول کے مرمارا یونیورسٹی سے منیجمنٹ میں ڈگری حاصل کی۔طیب اردوآن ایک پیشہ وارانہ فٹبالر بھی تھے۔1994میں طیب اردوآن استنبول شہر کے مئیر منتخب ہوئے۔ ان کے ناقدین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ طیب اردوآن نے اپنے دور میں استبول کی سجاوٹ اور شہر کے لاء اینڈ آرڈ ر کو بہت بہتر کیا تھا۔ لیکن 1999میں مذہب کے نام پر لوگوں کو اکسانے کے الزام میں انہیں چار سال قید کی سزا بھی ہوئی تھی۔ 2001میں طیب اردوآن نے ایک نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد ڈالی جس کا نام AKPپارٹی ہے۔اس کے بعد 2002میں وہ ترکی کے عام انتخاب میں شاندار جیت حاصل کر کے وزیر اعظم بن گئے۔طیب اردوآن کے حامیوں کا ماننا ہے کہ جب سے انہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے تب سے ترکی کی معاشی حالت میں سدھار آیا ہے۔
طیب اردوآن پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ مذہبی ہیں۔ جس سے سیکولر نظام کے حامی لوگ ناراض اور خوف زدہ بھی ہیں۔اکتوبر 2013میں طیب اردوآن کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے عورتوں کے حجاب پہننے پر جو پابندی عائد تھی اسے ختم کر دیا۔جس سے مغربی ممالک سمیت نام نہاد سیکولر لوگوں کو کافی دھچکا لگا۔ کہا جارہا ہے کہ صدر طیب اردوآن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور لمبے عرصے تک سیاست میں رہنے کی وجہ سے فوجی بغاوت کا ہونا لازمی سمجھا جارہا تھا۔ اس کے علاوہ صدر طیب اردوآن پر اس بات کا بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے اوپر تنقید پسند نہیں ہے اور جس کی وجہ سے انہوں نے کئی اخبارات کے خلاف سخت قدم بھی اٹھائے ہیں۔ اس کے علاوہ صدر طیب اردوآن پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ترکی کی سیکولر شکل کو بدل کر ملک میں اسلامی نظام پھیلا رہے ہیں۔
اکتوبر2015 میں استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے سو سال کا دن منا یا تھا جس میں مجھے بھی برطانیہ سے شرکت کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دوران مجھے ترکی کے عوام سے ملنے کے علاوہ وہاں کی ثقافت ، زبان، ماحول ،تاریخ اور شان کا پتہ چلا۔یوں تو سلطنتِ عثمانیہ کے بارے میں ہم نے کافی پڑھ رکھا ہے لیکن ترکی قوم سے ملنا اور ان کے ملک کو جاننے اور دیکھنے کا موقعہ مجھے اس سفر کے دوران حاصل ہوا تھا۔مجھے آج بھی یاد ہے جب میں فجر کی نماز پڑھنے ابو ایوب الانصاری مسجد میں داخل ہوا تو مجھے مسجد میں بمشکل نماز پڑھنے کی جگہ ملی۔ میں نے اسی دن اس بات کو محسوس کیا کہ ترکی میں اسلام کا کتنا بول بالا ہے۔صحابی حضرت ابو ایوب الا نصاری کامزار اسی مسجد کے احاطے میں ہے۔
یوں تو دنیا کے کسی بھی ملک میں جہاں جمہوری حکومت ہو اور اگر وہاں فوج حکومت کا تختہ الٹ کر قبضہ کر لے تو دنیا اس کی مذمت کرتی ہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ جوں جوں فوجی بغاوت کی ناکامی کی خبر پھیل رہی ہے مغربی ممالک ترکی حکومت کو یا تو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ گرفتار فوجیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے یا ترکی حکومت پر تنقید کی جارہی ہے کہ ترکی اب سیکولر ملک نہیں رہا یا ترکی میں مذہب زور پکڑ رہا ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں میری اس حوالے سے انگریز ، اٹلی اور اسپین کے لوگوں سے بات ہوئی اور میں ان لوگوں کی صدر طیب اردوآن کے خلاف باتوں کو سن کر سکتے میں آگیا کہ یہ لوگ ترکی کے صدر کو کتنا نا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے اور پریس کو آزادی نہیں ہے۔اس کے علاوہ اور بھی ایسی باتیں ہیں جس کو سن کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ترکی میں فوجی بغاوت میں مغربی ممالک کا اگر براہ راست ہاتھ نہیں ہے تو کہیں نہ کہیں وہ چاہتے تھے کہ صدر طیب اردوآن کی حکومت ختم ہو جائے۔
لیکن ترکی کے دلیر اور سمجھدار عوام اپنے صدر کی بات کو مان کر سڑکوں پر اترآئے اور ان لوگوں کی ناپاک ارادوں پرپانی پھیر دیا جو ترکی میں فوجی حکومت کو لا کر ایک بار پھر ترکی میں جمہوریت پر شب خون مارنا چاہتے تھے۔ ترک عوام اس کامیابی پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں