مسئلہ کشمیر اور ہماری خارجہ پالیسی

جنت  نظیر وادی کشمیر ایک بار پھر لہو لہان ہے اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم نے ایک بار پھر اقوام عالم کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف مبذول کرادی ہے ۔ زخموں سے چور مقبوضہ کشمیر کے لوگ جو اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے بھارتی فوج کے بندوقوں کی زد میں ہیں۔ مودی سرکار نے اس بار تمام انسانی حقوق، عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ سری نگر سمیت وادی کشمیر کے شمال و جنوب میں زندگی پوری طرح مفلوج ہے اورپولیس اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے خلاف بے دردی سے اسلحہ استعمال کیا گیا،جس کے نتیجہ میں اب تک54 کشمیری شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں ۔ زخمیوں کے علاج کے لئے مقامی ہسپتالوں میں ادویات اور اپریشن کی سہولیات میسر نہیں۔

اس بار سیکورٹی فورسز نے چھروں والی شاٹ گن استعمال کی ہیں جس کی وجہ سے ایک سو سے زائد نوجوانوں اور بچوں کی بینائی ضائع ہو چکی ہے۔وادی میں اخبارات کی اشاعت پر پابندی ، موبائل اور انٹر نیٹ کی سروس بھی معطل ہے۔ اس سے شہریوں کو آپس میں رابطے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستانی چینلز کے علاوہ ہر قسم کی کیبلز بھی بند ہیں۔ پوری وادی میں جگہ جگہ خار دار تاریں لگا کر راستوں کو بند کیا ہوا ہے اور زندگی پوری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے صورتحال مزید سنگین اور خراب ہو گئی ہے۔ٹرانسپورٹ اور آمدورفعت نہ ہونے کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء کی قلت سے بچے، بوڑھے اورخواتین سبھی کا بھوک و پیاس سے برا حال ہے ۔ تعلیمی ادارے بھی بند کر دئے گئے ہیں ۔ اس بدترین صورت حال پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل پر پوری دنیا کو تشویش ہے۔ بھارتی حکومت نے اخبارات کی اشاعت پر تین دن کی پابندی لگا کر آزادی اظہار پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ بھارت کی حکومت چاہتی ہے کہ اخبارات اس کے کالے کرتوت سامنے نہ لائیں۔ بان کی مون نے مودی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فورا مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرے اور اضافی فوجیں وہاں سے نکال کر وادی کی صورتحال معمول پر لائے ۔

بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے ڈھائے گئے ان مظالم کے خلاف پاکستان کی اپیل پر بدھ کو یوم سیاہ منایا گیا جس پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ مظاہرے کئے گئے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا گیا اور اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے کشمیریوں نے احتجاج کرکے آزادی کے مطالبے کو دہرایا۔اس بار بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم کی شدت اس قدر زیادہ اور طویل تھی کہ خود بھارت کے اندر سے بھی کشمیریوں کے خلاف مظالم پر آوازیں اٹھیں۔ ایک سابق بھارتی وزیر داخلہ چدم بھرم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے وعدے توڑ کر کشمیریوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔ کشمیریوں کو وسیع خود مختاری نہ دی تو بھارت کو نتائج بھگنا پڑیں گے۔ ایک بیان میں چدم بھرم نے کہا کہ کشمیریوں کے مذہب ، ان کی ثقافت اورتاریخی اقدار کا احترام کرنا ہو گا۔ کانگریس کی راہنما سونیا گاندھی نے بھی کشمیریوں پر بھارتی فوج کی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ جنوبی ایشیا میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے اور گزشتہ68برسوں سے اقوام متحدہ کے زیر غورہے، لیکن ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ اس عرصہ میں متعد بار دونوں حکومتوں نے بات چیت کا آغاز بھی کیا ہے۔ ایسے مراحل بھی آئے کہ جن سے یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید اب یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا، لیکن ان حالات میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جا تا ہے جس کے باعث نہ صرف جاری کوششوں پر پانی پھر جاتا رہابلکہ الٹا کشیدگی اس حد تک بڑھ جاتی کہ سرحدوں پر کشیدگی پیدا ہو جاتی۔ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض قوتیں کسی بھی طور پر مسئلہ کشمیر کا حل نہیں چاہتیں تاکہ ان کے مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسے عناصر کو پہچانا جائے اور انہیں کشمیر کے معاملہ سے دور رکھا جائے۔ کشمیر کی آزادی کا حصول ایک جمہوری عمل ہے جو جمہوری سوچ کے ساتھ ہی حل ہو گا اور تشدد کی راہ سے گریز کرنا ہو گا لیکن بھارت مسلسل تشدد کی راہ پر گامزن ہے ۔

1948میں بھارت خود اقوام متحدہ میں اس مسئلہ کو لے کر گیا تھااور اس وقت کی امن کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان دنوں جنرل اسمبلی میں اس مسئلہ پر بہت تفصیل سے بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے اور فریقین نے اپنا اپنا نقطہ نظر امن کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ سر محمد ظفراللہ خاں کی بھرپور وکالت، فراست، تدبر اور مضبوط لابنگ کی بدولت یہ متفقہ قراردادیں منظور ہوئیں، جن میں بھارت کشمیریوں کو ان کی منشاء کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق دینے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے ان قرار دادوں پر عمل نہ کرایاجا سکا جس کی وجہ سے بعد میں نہ صرف مزید سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں بلکہ خود کشمیریوں کو بھی اس کی بھاری قیمت چکانی پڑرہی ہے۔مسئلہ کشمیر کی وجہ سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرات لاحق رہے ہیں ۔اپنے قیام کے صرف تین سال بعد اقوام متحدہ کے سامنے آنے والے اس عالمی مسئلہ کا حل نہ ہونا خود اقوام متحدہ کی اپنی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

اقوام متحدہ کی تشکیل کے وقت اس کے اغراض و مقاصد میں یہ بات بھی شامل کی گئی تھی کہ یہ ادارہ ایسے تمام علاقائی جھگڑے بھی حل کرے گا جو مختلف ممالک کے مابین ہوں گے ۔ لیکن افسوس کشمیر کے حوالے سے تاحال عالمی ادارہ اپنی ہی قرار دادوں پر عمل نہیں کرا سکا جبکہ اس کے ریکارڈ میں یہ بات موجود ہے کہ بھارت نے ماضی میں وہاں کیا وعدے کئے تھے۔عالمی برادری کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں طرف کئی دہائیوں سے اندر ہی اندر نفرت کی چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔ متعدد بار سرحدوں پر بدترین کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں جمہوری قوتیں کمزور ہو رہی ہیں جبکہ مذہبی جنونی قوتیں زور پکڑ رہی ہیں، جس سے خطے میں امن کو مزید خطرات لاحق ہو رہے ہیں ۔ ان حالات میں ایٹمی جنگ کے امکانات بھی موجود رہیں گے۔ اس کی وجہ یہی مسئلہ کشمیر بھی بن سکتا ہے۔ اس لئے اقوام متحدہ کو آگے آ کر اپنا مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیئے ۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل نمائندہ ملیحہ خاں لودھی نے فعال کرداد کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے سامنے مسئلہ کشمیرکو احسن طریقہ سے اٹھایا ہے اور جملہ شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں جن کے نتیجہ میں جنرل سیکرٹری نے ایک بار پھر مصالحتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان کوبھی اپنی ماضی و حال کی بعض پالیسوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ اس امر کا جائزہ لینا ہو گا کہ اب تک اس مسئلہ پر اس کی خارجہ پالیسی کتنی فعال اور کامیاب رہی ہے۔ پاکستان کو اب مذمت کی خارجہ پالیسی ترک کرنا ہو گی اور حقیقت پسندی کی راہ اپنانا ہو گی۔یہ جیتے جاگتے انسانوں کی آزادی کا معاملہ ہے۔ کشمیر کی آزادی اور اس کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر اپنی نیٹ ورکنگ اور لابنگ کو مزیدفعال اور بہتر کیا جائے۔ بھارت پر ہر طرح کا سیاسی، اخلاقی اور سفارتی دباؤ بڑھایا جائے اور کشمیر کمیٹی کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ ان افراد کو کمیٹی کا ممبر اور چئیرمین بنایا جائے جن کی باتوں کو دنیا سنے۔ مناسب ہو گا اگر کسی خاتون کو چئیرمین کمیٹی بنایا جائے۔ موجودہ چئیرمین ایک انتہائی متنازعہ شخصیت ہیں جو اپنی انتہا پسندانہ سوچ اور پالیسیوں کی وجہ سے اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ ان کی وجہ سے جدوجہد کشمیر کو نقصان بھی پہنچ رہا ہے۔

آج یہ حالت ہے کہ پاکستان خود اسلامی ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں بھی ناکام ہے۔ سعودی عرب کی حکومت مودی سرکار کو سعودی قومی اعزاز سے نوازتی ہے جبکہ پاکستانی لیڈروں کو صرف سیاسی پناہ دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے 192 اراکین میں اسلامی ممالک کی تعداد 50کے قریب ہے اوراو آئی سی جیسا ادارہ ہونے کے باوجودمسئلہ کشمیر کا تنازعہ کا برقرار رہنا لمحہ فکریہ ہے ۔