مارشل لاء اور جمہوریت کا استقبال کرنے والے

جنرل ضیاالحق نے افغانستان میں بڑی طاقتوں کی کشمکش سے کچھ عرصہ پہلے اقتدار پر قبضہ کیا اور پاکستان میں ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس عمل میں جنرل ضیا کی ملٹری بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ اس ’’ساتھ کے عمل میں‘‘ دو اہم سماجی اور مذہبی اداروں نے اُن کے ہراول دستے کا کام کیاجو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ ایک دکان دار طبقہ جو شہروں میں نئی مڈل کلاس کا نمائندہ بن کر سامنے آیا۔ اس دکان دار طبقے میں چھوٹے اور بڑے صنعتکار بھی شامل تھے۔ ان کی طاقت کا مرکز پنجاب اور کراچی تھے۔ یہ مرکنٹائل کلاس پاکستان میں درحقیقت ایک نئی سیاسی قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔

دوسرا طبقہ مذہبی لوگوں کا تھا جس کی قیادت میں مساجد کو سیاسی مراکز کے طور پر استعمال کیاگیا۔ آج ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ دونوں طبقات ہماری قومی سیاست میں کس قدر اہم اور طاقتور ہیں۔ یعنی مرکنٹائل کلاس جس کی بڑی نمائندہ مسلم لیگ (ن) اور دوسرے تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے علاوہ مختلف مذہبی گروہ، جن میں مسلح گروہ بھی شامل ہیں، یہ سب پاکستان کی سیاست، سماج حتیٰ کہ خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونے والے سیاسی پریشر گروپس ہیں۔ افغانستان میں جب عالمی طاقتوں نے اکھاڑا بند کرنے کا اعلان کیا تو جنرل ضیا کا کردار بھی ختم ہوگیا۔ وہ اس بدلتی عالمی اور علاقائی صورتِ حال کو سمجھ نہ پایا یا پھر اس نے سردھڑ کی بازی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ اپنی ہی قائم کردہ کنٹرولڈ ڈیموکریسی میں محمد خان جونیجو کو سامنے لایا، اس سمیت سارے سیاسی ڈھانچے کو لپیٹا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر فضا میں بکھر گیا۔ وہی لوگ اہم شخصیات اور ادارے جو آمریت کے سرچشمے تھے، اب پاکستان میں جمہوریت کی روحِ رواں بن گئے۔ انتخابات کے بعد نئی منتخب حکومت جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں قائم ہوئی، اس میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ کوڈیموکریسی ایوارڈ دیا اور غلام اسحاق خان جو اقتدار کے ایوانوں میں مستقل ’’گوشہ نشین‘‘ تھے، صدر بنا دئیے گئے۔

پاکستان میں طویل فوجی حکمرانی کے بعد سول چہرے اقتدار میں نظر آنے لگے۔ لیکن حقیقت میں اہم فیصلے انہی لوگوں کے پاس تھے جنہوں نے افغانستان فتح کرنے اور پاکستان کو اسلامی امہ کا قائد بنانا طے کر رکھا تھا جن میں جنرل حمید گل مرحوم سمیت کئی لوگ شامل تھے۔ اسی لیے تو وہ کبھی یہ کہتے جھجکتے نہیں تھے کہ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) انہوں نے بنایا۔ انہوں نے ہی جلال آباد فتح کرنے کی منصوبہ بندی کی اور انہی کی قیادت میں طالبان کے ظہور کا منصوبہ عمل پذیر ہوا۔ اس میں سول حکمران خاموش اور بے بس نظر آئے۔ اس سارے قومی منظرنامے میں ’’جمہوریت کے ظہور‘‘ کے ساتھ یکایک دیوارِبرلن گری، مشرقی یورپ میں سوشلزم تحلیل ہوا اور اس کے بعد دنیا میں ’’سرخ جنت‘‘ جو سوویت یونین کی شکل میں قائم تھی، بکھر گئی۔

مشرقی یورپ کے ملک پولینڈ میں مزدور رہنما لیخ ولیسا کی قیادت میں سوشلزم کے خلاف ’’جمہوری جدوجہد‘‘ دنیا بھر کے ممالک میں ایک سمبل کے طور پر جانی جاتی تھی۔ خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بشمول پاکستان میں بھی۔ اس ’’بدلتی دنیا‘‘ پر ہمارے دانشوروں نے بھی اعلان کردیا کہ پولینڈ سے پاکستان  From Poland to Pakistan، اب جمہوریت ہی جمہوریت ہے۔ اس حتمی تجزیے میں یہ بھی طے کرلیا گیا کہ وہ افواج جو سرد جنگ میں امریکہ کی اتحادی تھیں اور وہاں پر جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جاتا تھا، اب وہاں ان مسلح افواج کا کردار فوجی معاملات تک محدود ہوگیا ہے۔ اس لیے اب پاکستان میں جمہوریت ہی جمہوریت چلے گی۔ وہ زمانہ بیت گیا جب اقتدار پر فوجی جرنیل مسلط ہوں گے۔ ایسے میں راقم نے ایک کتاب بعنوان ’’چوتھا مارشل لاء‘‘ لکھی جس کو دانشور حلقوں سمیت فوج کی اعلیٰ قیادت میں حیرانی سے دیکھا گیا۔ راقم نے اپنے تجزیے کے مطابق لکھا تھا کہ پاکستان پر چوتھے مارشل لاء کا سایہ ہروقت لٹکتا رہے گا۔ امریکہ اور پاکستانی مسلح افواج نئے بدلتے حالات میں اپنا نیا کردار طے کریں گی۔ بعد میں اسی کتاب میں ترامیم کرکے اس کو انگریزی میں بعنوان "Garrison Democracy" شائع کیا گیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد میاں نواز شریف پنجاب سے ملک کے قومی لیڈر بنے۔ حکومت میں آئے یا لائے گئے، پھر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید دوبارہ آئیں پھر چلی گئیں اور یوں 12اکتوبر 1999ء میں فوج پھر آگئی۔ پاکستان میں ایک نئی فوجی حکمرانی کا دَور آیا۔ اس حکمرانی کی شکل اور انداز نیا تھا۔ وہ جو آئی جے آئی بنتے وقت ’’جانِ من‘‘ ٹھہرے، اب اپنی جان کی امان مانگتے پھر رہے تھے۔ وہ دانشور وہ جنرل ضیا کی آمد پر ’’ملک بچ گیا‘‘ کہتے تھے، اب سکتے میں تھے۔ بعد میں وہ اسی تھیوری پر ایمان لے آئے کہ ’’جمہوری عمل چلتا رہنا چاہیے۔ جمہوریت کا تسلسل رہے گا تو ملک ترقی کرے گا‘‘۔

جنرل پرویز مشرف نئے انداز کے فوجی حکمران بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں کو ٹکٹکیوں پر چڑھا کرکوڑے نہیں برسائے اور نہ ہی پریس پر پابندیاں لگائیں اور نہ ہی صحافیوں کو جنرل ضیا کی طرح ’’سرعام لٹکا دیئے جانے‘‘ کی دھمکیاں دیں۔ بلکہ انہوں نے دونوں سیاسی جماعتوں میں بڑی نقب لگائی۔ ایک کے بطن سے قائداعظم کے نام پر مسلم لیگ کو جنم دیا اور دوسری جماعت سے پیٹریاٹ کے نام سے پیپلزپارٹی کو۔ مذہبی لوگوں کو اقتدار اور اپوزیشن میں ان کے مقام پر رکھا۔ لیکن اب ذرا غور کریں کہ 5جولائی 1977ء اور 12اکتوبر 1999ء کے بعد افغانستان کیسے عالمی طاقتوں کا سیاسی مرکز بنا۔ ہمارے کچھ دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف  ’’علمِ بغاوت بلند کیا‘‘۔ کیسا لطیفہ ہے یہ دعویٰ! اگر جنرل مشرف ان میں سے کسی ایک دعویٰ کرنے والے صحافی کو جنرل ضیا کی طرز پر چاردیواری پھلانگ کر رات کی تاریکی میں بچوں کے سامنے گرفتار کرواتا یا کسی تھانے یا عقوبت خانے میں وہ آؤ بھگت کرواتا جو جنرل ضیا نے اپنے مخالفوں اور صحافیوں سے کی تو پھر ہم مانتے کہ اِن کی جدوجہد کس قدر کٹھن تھی۔ بلکہ یہ صحافی تو جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دَور کی میڈیا پالیسی کے سبب ٹی وی سکرینوں کا حُسن اور اخباروں کی زینت بنے۔

مشرف کا دورِحکومت گیا تو مفاہمت کا دور آیا۔ جمہوریت کے ساتھ ساتھ وکلا تحریک کے نتیجے میں ’’افتخاریت‘‘ بھی آئی۔ جمہوریت، افتخاریت اور مفاہمت کا دور ختم ہوا۔ نواز شریف ایک بار پھر اپنے سارے خاندان کے ساتھ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے۔ اب وہی لوگ جو کبھی 5جولائی 1977ء کو ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ کہہ کر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے پر نازاں اور اطمینان کا اظہار کررہے تھے، آج وہی لوگ اور دانشور سخت الفاظ میں فوج کی اقتدار میں مداخلت کے بڑے نقاد ہیں۔ کیا یہ تاریخ کا سبق ہے یا اپنے سیاسی نظریات کی وابستگی کے لیے اظہارِ یکجہتی ہے؟ وہ جو فوجی آمریت پر تنقید کو پاکستان سے غداری اور اسلام سے دشمنی تعبیر کرتے تھے، آج وہی اہل قلم فوجی قیادت کے صرف عسکری کردار کے حامی ہیں۔ کیا شاندار سفر ہے، شعور کا یا پھر نظریاتی وابستگی کا۔ لیکن بس ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جو آج فوجی قیادت کی سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں، وہ ایک حوالے سے اپنی اسی کمٹمنٹ پر کھڑے ہیں، جہاں وہ 1977ء اور 1988ء میں آئی جے آئی کے بننے پر  میاں شریف کے صاحبزادگان کے ذریعے  جمہوریت، ترقی اور ملک کی بقا کو امڈتا دیکھ رہے ہیں۔ اور ایک سوال اس سے اور جڑا ہوا ہے کہ یہ لوگ اپنے قلم سے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف پر تو بڑی لعن طعن بھیجتے ہیں لیکن مجال ہے کہ جنرل ضیا کی آمریت ان کی تنقید کا نشانہ بنے۔ اس سارے معاملے کو 1977ء سے 1988ء (آئی جے آئی کی تشکیل) کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو معاملہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔

آج پاکستان کس قدر بدلا ہے، اس کی گواہ وہ تحریریں اور تجزیے ہیں جو ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پیش ہو رہے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے جمہوریت اور آمریت گھل مل گئے ہیں۔ تصویر صاف شفاف ہو نے کی بجائے دھندلاتی جا رہی ہے۔ جمہوریت اشرفیہ کے چند کنبوں تک محدود اور آمریت پھیلتی جا رہی ہے۔ جب ہم جمہوریت کو چند کنبوں کے حوالے سے تعبیر اور پیش کریں گے ، اس کو عوام تک نہیں پھیلائیں گے، جمہوریت کو سماجی ،معاشی اور اقتدار کی نچلی سطح تک تقسیم نہیں کریں گے تو آمریت ضرور پروان چڑھے گی۔ لوگ اسے آپشن کے طور پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ اس دوران ایک نئی نسل سامنے آ جاتی ہے جو خاندان اور اشرافیائی جمہوریت کے سراب سے نکل کر آمریت کی نجات کے سراب کی طرف چل پڑتی ہے۔ ایسے میں قوم اپنا وقت صرف ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتی۔