مسجد قرطبہ واپس بلاتی ہے

قرطبہ کی جامع مسجد اور اہرام مصر کا احوال ہم نے اپنی چوتھی یا پانچویں جماعت کی اردو کی کتاب میں پڑھا تھا۔اور تب سے ہی ہمیں ان دونوں ہی مقامات کی سیر کا شوق تھا۔ اور دیکھئے کہ یہ شوق پورا بھی کب ہوا۔ ان دونوں مقامات کی سیر کی علیحدہ علیحدہ تفصیل آپ کو دو نشستوں میں سنا تا ہوں۔

ہم نے اسپین کے جنوبی صوبے اندلس کا قصد کیا اور  اسپین کے شہر مالاگا جو کے سمندر کے کنارے واقع ہے، تک کا ہوائی سفر کیا۔ ہم  مالا گا کے ائرپورٹ پر شام کو آٹھ بجے پہنچ گئے۔ مالاگا میں ائر پورٹ پر ہی ہمارا ٹورسٹ گائیڈ موجود تھا اور ہمیں اس نے ائرپورٹ سے ایک بس کے ذریعہ ہوٹل پہنچا دیا۔ مالاگا اسپین کے جنوب میں واقع ہے اور اس کے جنوب میں صوبہ کاڈز، شمال مغرب میں سلویا، شمال میں قرطبہ اور مشرق میں غرناطہ ہے۔ اس کی مشرقی ساحلی سرحد کوسٹا دیل سول(سورج کا ساحل) بحر روم پر ہے۔

پہلے ایک دن ہم ساحل سمندر کے کنارے گزارا۔ کوسٹا دیل سول صرف ایک تفریحی مقام ہے۔ یہاں بے شمار ہوٹل ہیں اور دنیا جہان کے بھانت بھانت کے سیاح نظر آتے ہیں۔ ساحل سمندر بہت خوبصورت ہے۔ سورج پوری آب وتاب سے چمک رہا ہو، سمندری لہریں  اٹکھیلیاں کر رہی ہوں اور سمندر کی موج مستی اپنے عروج پر ہو تو سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے ۔ ساحل سمندر پر ہماری ساری تھکن اڑن چھو ہوگئی۔

دوسرے دن ہم لوگوں نے قرطبہ کی سیر کا پروگرام بنایا۔ مالاگا سے قرطبہ تقریبا ایک سو ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ معلوم ہوا کہ صبح سات بجے ہماری بس مالا گا سے قرطبہ کے لیے روانہ ہوگی۔ سو ہم لوگ صبح صبح بس اسٹینڈ پہنچے اور قرطبہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ قرطبہ شہر ، اسپین کے صوبہ قرطبہ کا سب سے بڑا اور اندلس میں تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں کافی سردی پڑتی ہے۔ اور آب وہوا پر اٹلانٹک کی سمندری ہواؤں کا خاصا اثر ہو تا ہے۔

موروں نے اس پر سن 711 پر قبضہ کیا اور سن 756 میں یہشہر سلطنت امیہ کا حصہ بن گیا۔  انیسویں صدی میں یہ شہر ایک علمی مرکز تھا۔ اور عبدالمالک ابن حبیب اور باقی ابن مخلد ، احادیث کی تعلیم کے ماہر کے طور پر سارے اندلس میں مشہور تھے۔ دسویں صدی میں خلافت قرطبہ قائم ہوئی۔ اس وقت یہاں لگ بھگ5 لاکھ شہری رہتے تھے اوریہ شہر اس وقت کا دنیا کا ایک مشہور ترین شہر تھا۔ یہاں یہودی، عیسائی اور مسلمان نہایت امن و بھائی چارے کی فضا میں سکھ چین کا سانس لیتے تھے۔

قرطبہ میں اپنے وقت کی مشہور و معروف اور خوبصورت ترین مسجد، جامعہ مسجد قرطبہ جس کو اب مسجد کیتھدرل کے نام سے جا نا جاتا ہے۔ قائم ہے ۔ قرطبہ کی جامعہ مسجد کی تعمیر امیر عبدالرحمن اول نے سن 785 میں شروع کروائی۔ اس مقام پر ایک چرچ سنٹ ونسنز بازیلیکا نام سے قائم تھا۔ مسجد کی کئی بار توسیع کی گئی اور اس کا رقبہ 23 ہزار مربع میٹر تک پہنچ گیا اور قائم رہنے کی صورت میں شاید آج یہ دنیا کی تیسری بڑی مسجد میں شمار ہوتی۔ اس میں تقریبا 860 سنگ مرمر کے متوازی ستون  ہیں جن پر محرابیں بنائی گئیں ہے، جو روشنی اور اس کے عکس سے ایک خوبصورت منظر پیش کر تی ہیں۔ اس کے علاوہ موروں کے وقت کے فن تعمیر کا سب سے اعلی نمونہ اس میں لگی وہ محراب امام ہے جو سن 960 میں الحاکم دوئم نے تعمیر کروائی تھی۔ جس پر قدیم بازنطینی طرز کی موزائک ہے۔ یہ خوبصورت مسجد بے شک دنیا کی مشہور ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔ ہزاروں سیاح یہاں روزانہ اس سابقہ مسجد اورموجودہ چرچ کو دیکھنے آتے ہیں۔ یہاں عبادت کرتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی یادگار عمارت ہے جسے یونیسکو کے ثقافتی ورثے کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ہمیں ہزاروں سالہ تاریخ کی یاد دہانی کراتی ہے۔عبدالرحمان سوئم اور سب آخر میں المنصور نے اس کی تعمیر اور توسیع میں حصہ لیا۔

بشپ الونسو منریقی نے سن 1523 کے بعد سے مسجد کے اندر ایک چرچ، کیتھڈرل کی تعمیر کروا کر اسے واپس چرچ میں تبدیل کر وادیا۔ مسجد اس قدر بڑی ہے کہ اس کے اندر ایک طویل قامت گرجا گھر سما گیا۔
مسجد کو اس کے اطراف سے دیکھا۔ صحن کی حالت بھی کچھ خاص اچھی نہ تھی۔ اوراس کے اطراف میں چھوٹی چھوٹی دوکانیں بھی واقع ہیں۔ کبھی یہاں پر یقینَا کبھی کوئی بہت پر رونق بازار ہوا کر تا ہوگا۔  یہاں پر اب بھی چند ایک مسلمانوں کی دوکانیں موجود ہیں جہاں دستکاری اوردوسری اشیاء دستیاب ہیں۔  قرطبہ میں جامعہ مسجد کے علاوہ رومیوں کا بنایا ہوا پل بھی بہت مشہور ہے ، جسے دسویوں صدی میں موروں کے خلیفہ نے  از سرنو ٹھیک کروایا تھا۔ سہ پہر تک یہاں رکنے اور دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر ہم لوگ دوبارہ مالاگا کی بس پکڑ کر لوٹ گئے۔ قرطبہ سے ایک انجانی سی کشش ساتھ لیتے گئے جو ایک بار پھر ہمیں وہاں بلاتی ہے۔

اگلے دن غرناطہ کا پروگرام تھا جس کے لیے ہوٹل سے ایک بس تیار کھڑی تھی۔ غرناطہ پروگرام کے مطابق تفصیل سے دیکھا۔ مالاگا سے غرناطہ قریب قریب 80 کلو میٹر دور واقع ہے۔ ہوٹل کی بس جس میں مختلف ممالک کے لوگ  اسپین اور مالاگا آئے ہوئے تھے اور غرناطہ دیکھنے کے شوق لیے ہوئے تھے۔ غرناطہ جنوبی اسپین کے صوبے اندلس کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر سن 711 میں ماموروں کے قبضے میں آیا ۔ پھرقرطبہ کی خلافت کے ختم ہو جانے کے بعد سن 1012 میں بربر قبیلے کے سردار زیری نے غرناطہ کو اپنا دارلحکومت بنایا اور زیرالدین نامی سلطنت کی بنیاد رکھی۔  اندلس میں80 سال تک اس قبیلے کی حکومت سن 1090 تک قائم رہی اور الموراویدن اور 1238 میں اس کے بعد سلطان نصیرالدین کی سلطنت کا دارلخلافہ بنا۔

الحمرا کے محلات اندلس میں واقع ایک اور شاندار اور دیکھنے کے قابل جگہ ہے۔ یہ ایک قلعہ ہے جو غرناطہ میں پہاڑی سابیکاہ پر قائم ہے۔ اور موروں کی فن تعمیر اسلامی کا نہایت خوبصورت مثال ہے۔ یہ بھی یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اس تمام قلعہ نما محلات کی لمبائی  740 میٹر اور چوڑائی 220 میٹر ہے۔ مشرق میں موسم گرما کا محل واقع ہے۔

الحمرا کے محلات قلعہ کی مانند ہیں ۔ ان کو ایک زمانے میں فوجی چھاؤنیوں کا بھی درجہ حاصل رہا ہے۔ اور اس میں نصیرالدین کے محلات ، اسلامی فن تعمیر کا بے مثال اور قابل  رشک نمونہ ہیں۔ عمارتوں سے  جاہ جلال ٹپکتا ہے۔  ان محلات کی اندرونی زیبائش ، نقش و نگاری حیران کن ہے ۔ یہاں اسلام کی تعلیمات جس میں تصویر کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے کو پیش نظر رکھ کر جس مہارت سے نقش و نگاری کی گئی ہے وہ قابل دید ہے۔ ان میں باشاہ کارل پنجم کا تعمیر کراویا ہوا محل بھی قابل دید ہے۔ قلعہ کے اطراف میں کھدی خندقیں اس کے گرد ایک حفاظتی حصار ہے۔  2 جنوری 1492 میں یہاں کے حاکم نصیر الدین محمد دوازدہم نے یہ شہر اور محلات ملکہ ازابیلااول کاسٹیلن اور بادشاہ فیرڈ ینینڈدوئم کے حوالے کئےتھے ۔