تاریخ پونچھ کا درخشاں کردار
مذکورہ بالا عنوان کے تحت چھپنے والی کتاب سردار محمد صدیق خان چغتائی کی 392 صفات پر مشتمل ایک ایسی تازہ مستند تحقیقی تصنیف ہے جس میں انہوں نے 1832 ء کی جنگ کے انقلابی ہیرو سردار شمس خان ملدیال کے خاندانی پس منظر کے تنازعہ کو حل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔پچاس ملکی اور غیر ملکی کتابوں کے حوالہ جات سے شائع ہونے والی یہ کتاب تاریخ کے طالب علموں، محققین اور ہماری طویل غلامی کے اسباب کو سمجھنے اور اس غلامی کے خلاف جد وجہد کرنے والے تحریکی کارکنوں کے مقدس مشن کے لیے ایک اہم اضافہ ہے۔اس دنیا میں ایسے مصنفین کی کمی نہیں جو صرف مخصوص مقاصد کی خاطر کسی کی حد سے زیادہ تعریف یا غیر ضروری مخالفت کے لیے لکھتے ہیں لیکن لائق احترام و تحسین ہیں سردار محمد صدیق خان جیسے قلمکار جو صرف سچ کی تلاش میں قلم اٹھاتے ہیں اور کسی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اپنے قیمتی ماہ و سال صرف کردیتے ہیں۔
سردار محمد صدیق خان چغتائی کے ساتھ میری پہلی ملاقات 1979 ء میں اس وقت ہوئی جب میں ان سے یورپ جانے کے لیے راولپنڈی میں قائم امریکن ایکسپریس میں ائر ٹکٹ لینے گیا۔ وہ وہاں مینجر تھے اور میں ایک کسٹمر تھا جو مستقل سکونت کے لیے یورپ جا رہا تھا۔ ایسے میں جانے والے نئے ملنے والوں سے کم ہی رشتے ناطے قائم کیا کرتے ہیں۔ ان کی نظریں نئی منزل پر لگی ہوتی ہیں لیکن چغتائی صاحب کی طرف سے ملنے والی اپنائیت ، ہمدردی اور جذبہ خیر خواہی کے باعث ان کے ساتھ ہونے والی ملاقات ہمیشہ میرے حافظ میں محفوظ رہی۔ وہ اس وقت جوان تھے اور میں جوان ہو رہا تھا۔ ان کے ساتھ دوبارہ میری ملاقات پنتیس سال بعد ہوئی جب وہ بوڑھے ہو چکے تھے اور میں بوڑھا ہو رہا تھا۔ یہ دو سال قبل کی بات ہے۔ کشمیری صحافی و دانشور محمد صغیر قمر نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر پنڈی ایک میرج ہال میں سردار محمد صدیق خان چغتائی اور مجھے ایک میز پر بٹھا کر ہمارا ایک دوسرے سے تعارف کروایا ۔ یہ نام میرے زہن میں گھومنے لگا مگر چہرے کو پہچاننے میں کافی دشواری ہو رہی تھی۔ اتنے میں چغتائی صاحب نے پوچھا کیا میں وہی شخص ہوں جو ان سے یورپ جاتے وقت امریکن ایکسپریس میں ملا اور چند سال بعد بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں گرفتار ہو گیا تھا۔
نفسیات نے ہمیں بتایا ہے کہ طویل المدت حافظے میں جو چیزیں زیادہ روشن رہتی ہیں اس کی وجہ کسی ایک واقعہ کا کسی دوسرے واقعہ کے ساتھ نتھی ہونا ہے۔ اسی وجہ سے پرانی یادیں ایک دم تازہ ہو گئیں۔ ایک بار پھر مجھے احساس ہوا کہ 22 سال سزا کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ یعنی بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ چغتائی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد تحقیقی کام شروع کیاجس کے نتیجے میں ایک نئی کتاب منظر عام پر آنے والی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے مستندحوالوں کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ1832 ء کا انقلابی لیڈر سردار شمس خان جن کے ساتھی سبز علی خان اور ملی خان اپنی کھالیں اتروانے کے حوالے سے تاریخ جموں کشمیر میں مشہور ہیں، وہ سدھن نہیں بلکہ ملدیا ل تھا۔ ان حوالوں کو رد کرنا کافی مشکل نظر آتا ہے۔ قبائیلی سیاست پر یقین نہ رکھنے والوں کے لیے بھی یہ سوال انتہائی اہم ہو گا کہ اپنے دور کی اتنی بڑی شخصیت کا خاندانی پس منظر متنازعہ کیوں بنایا گیا؟ کسی کو کسی کی شناخت تبدیل کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ مجھے اس کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں صدیوں سے نظریاتی کرداروں کے مشن پر چلنے کے بجائے انہیں کیش کروانے کا رواج چلا آ رہا ہے، جس کی وجہ سے مقدس مشن ابن الوقت سیاسی سوداگروں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے سوداگروں سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے؟ یہ سوال کل کی نسبت آج زیادہ اہم ہے ۔ کل ایک متحدہ ریاست کے اندر ہمارے اباؤ اجداد انسانی حقوق کی جنگ لڑ رہے تھے لیکن آج ہم اسی ریاست کی جبری تقسیم کو ختم کر کے اسے دوبارہ متحد کرنے کی جد و جہد میں مصروف ہیں جو بہ نسبت زیادہ مشکل اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔
مذکورہ بالا کتاب پر کیے جانے والے تبصروں پر بھی موجودہ تاریخی حالات و واقعات کے مطابق تبصرہ ضروری ہے۔ اس کتاب میں سب سے پہلی تکلیف دہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ سردار شمس خان بھی اپنے وطن فروش ساتھیوں شیر باز خان وغیرہ کی سازش کا نشانہ بنے جنہوں نے مراعات کے عوض اس عظیم رہنما کے ساتھ غداری کی اور اس طرح کی غداریاں آج بھی جاری ہیں۔ لہذا سوال ہے کہ کشمیری قوم ایسے وطن اور ضمیر فروشوں سے کب نجات پائے گی؟ دوسرا سوال ہے کہ صدیوں سے اپنے بنیادی انسانی حقوق کی خاطر خون دینے والی کشمیری قوم کب حق خود ارادیت کا حقیقی مفہوم سمجھ پائے گی۔ کشمیری قوم کے کرایہ کے دانشورحق خود ارادیت کا جو مفہوم بیان کرتے ہیں وہ نہ تو دنیا کی کسی ڈکشنری میں ملتا ہے نہ اسکی کوئی حمایت کرتا ہے۔ حالیہ بھارتی بر بریت پر لکھتے ہوئے ایک خود ساختہ دانشور نے تو یہ تک کہہ دیا کہ بھارت نے پاکستان کے صوبہ کشمیر کے ایک حصہ پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ پتہ نہیں کشمیر کب پاکستان کا صوبہ بنا تھا حالانکہ وہ خود اپنے اسی مضمون میں دعوی کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ابھی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
فی الحال ان دعوؤں کو چھوڑ کر ہم تاریخ پونچھ کے درخشاں کردار پر ہونے والے تبصروں پر تبصرہ جاری رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں اقوام پونچھ کا بڑا ذکر ہے (مصنفین راجہ عبدالرحمن اور محمد الدین فوق)۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں بسنے والوں کو ایک قوم کہا جاتا ہے ۔ ملک کے اندر لوگ مختلف پس منظر کے مالک ہوتے ہیں۔ برادریوں اور قبیلوں کو جب قوم کا نام دے دیا جائے تو غاصب قوتوں کے لیے ایسے ملکوں کی مرکزیت ختم کرنے میں بڑی آسانی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرصہ دراز سے سامراجی قوتیں کہیں مختلف قبائل اور کہیں مذہبی فرقوں اور مسالک کو آپس میں لڑا کر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔ حاجی سردار محمد امین خان مذکورہ بالا تصنیف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1832 ء میں شروع ہونے والی جنگ آزادی کے شہداء درجنوں سے لے کر آج لاکھوں تک پہنچ چکے ہیں لیکن کشمیری اور پونچھ کی عوام کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کیا جا سکا۔
1832ء کی تحریک تو پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف تھی۔ اس لیے اسے آزادی کی تحریک کہنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن 1931 میں جموں کے ڈوگروں کے خلاف شروع کی جانے والی اندرونی تحریک آزادی نہیں جمہوری حقو ق کی جد و جہد تھی۔ اس لیے یہ ایک گمراہ کن دعوی ہے کہ سن سنتالیس میں جموں کشمیر کے ایک خطہ کو آزاد کرا لیا گیا تھا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے امریکہ کہتا ہے کہ عراق کو صدام حسین سے آزاد کرا یا گیا تھا۔ سن ستالیس کی جنگ میں بد قسمتی سے جموں کشمیر تقسیم ہوا تھا جس کی وحدت بحال کرنے کے لیے جد وجہد جاری ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر ی اور پونچھ کے عوام کو الگ الگ قوم کے طور پر دیکھنا اور لکھنا بھی غلط ہے۔
اس جد وجہد کو دو قومی نظریے کے ساتھ نتھی کرنا بھی خلاف حقیقت ہے۔ ہندوستان کے ہندو اور مسلمان اگر نفرت کی بنیاد پر تقسیم ہوئے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ دنیا ساری مذہبی اختلاف کے نام پر تقسیم ہو جائے گی۔ اسلام ایک ایسا ساتھ لے کر چلنے والا INCLUSIVE دین ہے جو روداری کے اصولوں کی بنیاد پر ہر ایک کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ زمین اپنے اوپر چلنے والوں سے کبھی نہیں پوچھتی وہ کون ہیں۔ وہ سب کو برداشت کرتی ہے۔ سچے مسلمانوں کا رویہ بھی تمام انسانوں کے ساتھ زمین کے رویے جیسا ہوتا ہے جو غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ اسلام کا عالمگیر نظریہ ہی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اگر اسلام کو ایک ملک کے اندر بند کر دیا جائے تو پھروہ بھی ہندوازم کی طرح ایک ملک کی سرحدوں تک محدود ہو جائے گا۔
یہ تو تھا سردار محمد صدیق خان چغتائی صاحب کی کتاب سردار شمس خان شہید کی کتاب پر تبصروں پر تبصرہ لیکن جہاں تک سردار شمس خان کی قبائیلی شناخت پر تحقیق کا تعلق ہے وہ اتنی ٹھوس ہے کہ اب یہ تنازعہ ختم ہو جانا چائیے۔ مصنف بلا شبہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کشمیری قوم کا المیہ ہے کہ جموں کشمیر کے تینوں حصوں کی ایک بھی حکومت جموں کشمیر کی تاریخ کو نصاب میں شامل کرانے کی جرات نہیں رکھتی۔ سردار محمد صدیق خان چغتائی جیسے محقیقن اگر اپنا قومی فرض ادا نہ کرتے تو شاید کشمیری قوم کا اپنے ماضی سے تعلق کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ تاریخ کے طالب علموں اور تحریکی کارکنوں کو اس ضنحیم تحقیقی کتاب کا لازمی مطالعہ کرنا چائیے۔ اس میں آزادی کے متوالوں کے لیے بے شمار سبق ہیں۔