کشمیر بھارت کی جاگیر نہیں
بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پورا بھارت ایک آواز کے ساتھ پاکستان اور اس کے وزیراعظم نواز شریف کو یہ بتا دینا چاہتا ہے کہ کشمیر تا قیامت پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے یہ بات نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔ نواز شریف کے اس بیان کے جواب میں کہی ہے کہ ’ہمیں اس دن کا انتظار ہے جب کشمیر پاکستان بنے گا‘۔ اصولی طور پر یہ دونوں موقف غلط اور اپنے اپنے ملک کی انتہا پسند لابی کو خوش کرنے کےلئے دیئے گئے ہیں لیکن بھارتی حکومت کی نمائندہ کو پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ نعرے بازی کا اسکور برابر کرنے کی بجائے، معصوم اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کے اس خون کا حساب دینے کی ضرورت ہے جو بھارتی سکیورٹی فورسز کے ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ کرنے کی بجائے کہ پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا کہ نہیں، اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیری نوجوانوں کی ایک نئی نسل خود مختاری سے کم پر مفاہمت کےلئے تیار نہیں ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست ان آوازوں کو گولیوں سے دبا کر بھارت کی شہرت و عزت کو خاک میں ملا رہی ہے اور یہ رویہ بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے کے دعوؤں کی قلعی بھی کھول رہا ہے۔
بھارت کی موجودہ حکومت ملک میں انتہا پسند رجحانات کے فروغ کا سبب بن رہی ہے۔ کشمیر کے علاوہ ملک بھر میں اقلیتوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے۔ کل ہی ہریانہ سے آنے والی ایک خبر کے مطابق ایک مقامی پنچایت نے عید کے تہوار پر سماجی تقریب منعقد کرنے کی پاداش میں ایک اسکول کا گھیراؤ کیا اور وہاں کام کرنے والی واحد مسلمان خاتون استاد کو نوکری اور علاقہ چھوڑ کر نئی دہلی میں پناہ لینا پڑی۔ اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے بین المذہبی افہام و تفہیم کے نقطہ نظر سے عید کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس سے ہندو دھرم یا ثقافت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا لیکن مقامی پنچایت کے لئے یہ باتیں بے معنی ہیں۔ وہ مسلمان دشمنی میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ نئی دہلی کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں پنچایت کا نظام نہیں چلتا۔ اس لئے کوئی پنچایت کسی اسکول کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ اس قسم کے دعوے کرنے والے وزیر اور سیاسی لیڈر معاشرے میں پلنے والی نفرتوں کو چھپانے اور عالمی سطح پر بھارت کا سافٹ امیج SOFT IMAGE برقرار رکھنے کےلئے ایسے بیان دینے پر تو مجبور ہوتے ہیں لیکن زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کےلئے سیاسی اور سماجی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو انتہا پسندی کے نعرے بلند کرتے ہوئے ہی برسر اقتدار آئی ہے۔ اب وہ معاشرے میں بوئے گئے اس زہریلے بیج کو اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ بھارتی معاشرہ مسلسل اپنی سیکولر اور لبرل روایات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کے دانشوروں اور سیاسی لیڈروں کے ایک طبقے کو اس کا بخوبی احساس ہے لیکن وہ پاپولسٹ نعروں کی بنیاد پر بننے والی حکومت کی گوشمالی کرنے اور اس کا ہاتھ پکڑنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں یکم جولائی سے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے جو تحریک شروع ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ وہ اپنے طور پر ہی بھارتی حکومت اور وزیر خارجہ سشما سوراج کے اس دعویٰ کی نفی کرتی ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد ٹولے حالات کو خراب کر رہے ہیں۔ اس موقف کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی بھونڈی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے معاملات میں سفارتی اور سیاسی موقف اختیار کرنے کے سوا کوئی کارروائی نہیں کی ہے، اس کے باوجود بھارتی حکومت کشمیر کی تحریک آزادی کو پاکستان کا دہشت گردی کا منصوبہ بتا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن آزادی کےلئے بلند ہونے والی آوازیں اور اس مقصد کےلئے بہنے والا کشمیریوں کا لہو بھارتی عزائم کو خاک میں ملا رہا ہے۔ وہ اقوام متحدہ ہو یا اس کا نیا نویلا سرپرست امریکہ ۔۔۔۔۔۔۔ اب بھارت کو یہ بتانے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ عوامی خواہشات کا جواب گولیوں سے نہیں دیا جا سکتا۔ کشمیر پاکستان بن سکے یا نہ بن سکے لیکن ماہ رواں کے دوران مقبوضہ وادی کی گلی گلی میں کشمیریوں نے قربانیوں کی جو داستان رقم کی ہے، اس کا ایک ہی پیغام ہے کہ کشمیری کبھی بھی بھارت کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے۔ کشمیر کبھی ہندوستان نہیں بن سکتا۔
کشمیر کے بارے میں پاکستان کا موقف ایک قدیم اصول کی بنیاد پر استوار ہے۔ اقوام متحدہ 1949 میں استصواب رائے کے ذریعے جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق کشمیری عوام کو دینے پر متفق ہو چکی ہے۔ اس وقت کے حالات میں یہ موقف فوجی قوت کے زور پر کشمیر کے بیشتر حصہ پر بھارتی قبضے کے خلاف ایک واضح فیصلہ تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ریاستوں کو یہی طے کرنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہوں گی یا بھارت کے ساتھ۔ کسی ریاست کے پاس خود مختاری کا آپشن یا حق موجود نہیں تھا۔ 70 برس میں حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔ بھارت کے علاوہ پاکستان کو بھی نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق کشمیر کے بارے میں حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری سطح پر پاکستان میں خود مختار کشمیر کےلئے آواز اٹھانا سیاسی طور سے خودکشی کے مترادف ہے۔ اس لئے ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ ملک کی بعض جہادی تنظیمیں اس نعرہ کو بنیاد بنا کر بھارت کے خلاف نفرت اور جنگی حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ ماضی میں کچھ مدت کےلئے پاکستان نے ان تنظیموں کے ذریعے کشمیر میں آزادی کی تحریک پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔ اس پالیسی کے مہلک اثرات کے سبب یہ طریقہ تو ترک ہو چکا لیکن اس پالیسی کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی مذہبی جہادی تنظیمیں بدستور متحرک ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے ماحول میں جماعت الدعوة (یا لشکر طیبہ) اور جیش محمد جیسی تنظیمیں پاکستان کےلئے کارآمد ہونے کی بجائے تہمت کا سبب بن رہی ہیں۔ پاکستانی حکومت کو ان تنظیموں کے خلاف بھی اسی شدت سے اقدام کرنے کی ضرورت ہے جس قوت سے پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس طرح بھارت کو کشمیریوں کی تحریک آزادی پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگانے کا موقع نہیں ملے گا۔
برہان وانی اور اس کی موت پر احتجاج کرتے ہوئے جان وارنے والے کشمیری نوجوانوں کا پاکستان یا اس کی جہادی تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گزشتہ 25 برس کے دوران پروان چڑھنے والی یہ نسل پاک بھارت تعلقات کی نزاکتوں سے آگاہ نہیں ہے۔ وہ تو صرف یہ جانتی ہے کہ بھارت نے 7 لاکھ فوج کی مدد سے ان کے وطن اور دھرتی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس قبضہ کے خلاف آواز اٹھانے پر بے پناہ ظلم سے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور عددی قوت کی بنیاد پر دنیا کے طاقتور ملکوں کی نظر کشمیریوں کی حالت زار پر جانے سے پہلے بھارتی منڈیوں اور ان مفادات کی طرف جاتی ہے ، جو نئی دہلی کو رام کر کے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ یہی بھارت کی طاقت ہے۔ اگر بھارتی حکومت اپنی عسکری اور سفارتی قوت کی بنا پر کشمیریوں کی آواز دبانے کا خواب دیکھ رہی ہے تو گزشتہ تین ہفتوں کے واقعات سے اس کی آنکھیں کھل جانے چاہئیں۔
سشما سوراج کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کہ کشمیر کے سوال پر بات کرتے ہوئے وہ پورے ہندوستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ وہ ایسا کرتے ہوئے صرف سخت گیر اور انتہا پسند ہندو لابی کا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کشمیر کے مسئلہ کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کےلئے اب بھارتی ریاست کے حلیف اور ملک کی سیاسی پارٹیاں بھی آواز بلند کر رہی ہیں۔ لوک سبھا میں مقبوضہ کشمیر میں استصواب یا رائے شماری کے حق میں تقریر بھی کی گئی ہے۔ بھارت کے لاکھوں کروڑوں شہری نئی دہلی کے زیر انتظام علاقے میں ہونے والی خوں ریزی پر شرمندہ ہوتے ہیں۔ سشما سوراج ان سب لوگوں کےلئے ندامت کا سبب ہیں۔ ان کی نمائندہ کے طور پر سشما سوراج کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں کہہ سکتیں۔
پاکستان اور بھارت دونوں کو سمجھنا چاہئے کہ کشمیر پر ان کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔ کشمیر کشمیری عوام کا ہے۔ اس سرزمین کے مستقبل کا فیصلہ بھی وہی کر سکتے ہیں۔ جب تک اس اصول کو مان کر دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے کوئی باعزت اور قابل قبول حل تلاش نہیں کریں گے، کشمیر میں خون بہتا رہے گا۔ کشمیریوں نے مسلسل جدوجہد اور قربانیوں سے اپنا عزم واضح کر دیا ہے۔ بھارت کی فوجی قوت اور جعلی اہنکار اس عزم کو کمزور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اب خود کو اور دنیا کو دھوکہ دینے کی بجائے سچائی اور حقیقت حال کو قبول کرنے کا وقت ہے۔ آج کے عہد کے انسان کو بارود اور گولی سے دبانا ممکن نہیں ہے۔
کشمیری اپنا حق مانگتے ہیں۔ ان کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہی ہو گا۔ بھارت یا پاکستان کو اس پر نقب لگانے کی کوشش کرنے کی بجائے، جلد اور مناسب سیاسی و سفارتی عمل کے ذریعے یہ مرحلہ آسان کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کشمیری سرخرو ہوئے تو اس خطے کے کروڑوں لوگ بھی امن و سکون کا سانس لے سکیں گے۔