سیکولرازم اور اسلام پسندی میں تقسیم ترکی

ترکی میں عوام نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ اس سے نہ صرف منتخب حکومت کی لاج رکھ لی گئی بلکہ مشرق وسطیٰ کے ایک طاقتور مسلم ملک کو خانہ جنگی کا شکار ہونے سے بھی بچا لیا گیا۔ اس ”انقلاب“ کی ناکام کوشش سے تعلق رکھنے کے حوالے سے اب تک 6000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے ان افراد میں فوجی، جج اور اعلیٰ افسران شامل ہیں۔

اس ناکام بغاوت میں کام آنے والے فوجی اور سول افراد کی تعداد لگ بھگ تین سو بتائی جا رہی ہے جبکہ 2700 ججوں کو برطرف کیا گیا ہے (اس کی وجہ میری سمجھ سے بالاتر ہے) ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس فوجی بغاوت یا سازش یا کچھ بھی کہہ لیجئے کو ملک میں پائے جانے والے ایک متوازی نظام کو قرار دیا ہے جو کہ امریکی ریاست پنسلوانیا میں مقیم اردگان کے ایک پرانے ساتھی اور حلیف فتح اللہ گولن کی جانب اشارہ تھا۔ صدر کا الزام ہے کہ فتح اللہ گولن ترکی میں بے چینی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ادھر صدر رجب طیب اردگان کے بیان کے جواب میں گولن نے بھی ایک جوابی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس الزام سے انکار کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ترکی میں ہونے والا یہ ”بغاوت کا ڈرامہ“ اردگان کا اپنا پیدا کردہ ہے اور میں فوجی بغاوت کے ذریعے تختہ الٹنے کی کوشش کی سخت ترین الفاظ میں ”مذمت“ کرتا ہوں۔ یہاں یہ بات بتانا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ فتح اللہ گولن جو کہ رجب طیب اردگان کے بے حد قریبی حلیف رہ چکے ہیں، 2013 سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور یہ بھی اردگان کی طرح فوج اور کمال اتاترک کے نظریات کے خلاف ہیں۔

ترکی، عرب خطہ اور وسطی ایشیا میں ایک بڑی طاقت ہے اپنے اقتصادی اور جمہوری سیکولر نظام کا حامل ملک ہے/تھا (اور دوسرے بہت سے تجزیہ نگاروں کی طرح میرے خیال میں بھی وجہ تنازعہ یہی نظام حیات ہے) ترکی ایک ترقی پسند ریاست ہے جس کی مٹی اور روح میں سیکولرازم رچا بسا ہے۔ کمال اتاترک کی موت کے 80 سال بعد بھی سیکولرازم اور قوم پرستی کی بنیاد پر قائم ملک کو دوبارہ مذہب کے رنگ میں رنگنے کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہور ہی ہیں۔ سیکولرازم کے محافظین، مسلح افواج، دستور، سیاستدان، عدالتیں، آئین اور میڈیا ان تمام نے یکجا ہو کر سیکولرازم میں کسی قسم کی نقب لگانے کو روکنے کی کوشش ہمیشہ کی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اقتدار کی رسہ کشی میں موجودہ حکومت کو فوج پر بالادستی حاصل ہو رہی ہے۔

فوج خود کو اتاترک کے سیکولر ترکی کا محافظ تصور کرتی ہے جبکہ برسراقتدار پارٹی AKP سیکولرازم کے خلاف اقدامات اٹھا رہی ہے۔ خود کو ’سنٹررائٹ‘ قرار دینے والی یہ پارٹی ممنوعہ اسلامی تحریک سے نکلا ہوا ایک گروپ ہے جو کہ اسلام پسند قدامت پسند پارٹی ہے اور جس کا اکثر فوج سے تصادم ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ترکی کے آرمی چیف اور جرنیلوں نے صدر کی اہلیہ کے حجاب پہننے پر صدارتی محل میں ہونے والی ایک سرکاری تقریب 1923 میں جدید ترکی قیام کی سالگرہ کے موقع پر ایک عشایئے میں شرکت سے انکار کر دیا تھا جس پر مختلف قسم کے شک و شبہ کا اظہار کیا گیا۔ فوج نے عین اس وقت الگ سے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا تاکہ جرنیل صدر کے دعوت نامے کو قبول نہ کرنے کا جواز پیش کر سکیں۔ اس سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوتی ہے کہ سیکولر افواج موجودہ حکمرانوں کو ان کے اسلام پسند ،حجاب پسند اور مخالف اتاترک رجحانات کی وجہ سے پسند نہیں کرتی۔ ترکی کے سیکولر معاشرہ نے اردگان کی حکومت کو دل سے قبول نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ترک سیکولر افواج (اس بار ایئرفورس نے بغاوت کا ڈول ڈالا ہے) عدلیہ اور میڈیا سیکولرازم کےلئے ڈھال بنے ہوئے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ترک سیکولر میڈیا کا اہم اخبار ”ملت“ اس وقت کھل کر اردگان کی AKP (اسلامی پارٹی) کی مخالفت کر رہا ہے جبکہ اسلامی اخبار’ ’زمان“ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں موجودہ بغاوت کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ امریکہ نے ترکی کو وارننگ دی ہے کہ ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش میں امریکہ کے کردار کا دعویٰ سراسر غلط ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ ترکی کی موجودہ حکومت کا سیاسی نظام یہ بات نہیں جانتا کہ ترکی اپنے مفادات کس طرح حاصل کر سکتا ہے۔ یہ رول ان ملکوں میں معدوم ہے جن کی وابستگیاں قدامت پسند نظریات و رجحانات سے قائم ہیں مگر ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت اور رکنیت سے یورپ کے انکار کے باوجود اس کے تعلقات یورپ سے یکسر منقطع نہیں ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کا سیکولر معاشرہ ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ  ایک بار سیکولرازم کی حمایت میں ناکام ہونے والی بغاوت بار بار ناکام ہو۔ ترکی کے معاشرہ میں سیکولرازم کی مخالفت سے جو گرہ پڑ گئی ہے اسے کھولنے اور سلجھانے میں تاخیر ترکی کے حق میں اچھی خبر نہیں ہو گی۔

 ”بغاوت“ کے محرکات کا مشرق وسطیٰ اور یورپین یونین کے تناظر میں جائزہ لینا ہو گا۔ بیک وقت ایشیا اور یورپ میں پھیلے ہوئے مسلم ملک ترکی کی قدیم اور جدید تاریخ پر جن مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے نظر رکھی ہے انہیں یقینا ترکی کے تازہ حالات پر حیرت ہو رہی ہو گی کہ مو جودہ بغاوت یا انقلاب حکومت ترکی کے کسی چھوٹے سے پروجیکٹ کے خلاف نہیں تھا بلکہ ترکی کے اس سماجی، سیاسی اور اقتصادی ڈھانچہ کے خلاف تھا جو گزشتہ دو دہائیوں میں اسلام پسند حکمرانوں کی کوششوں سے تشکیل پا رہا ہے یا پا گیا ہے۔ ترکی کے عوام سمجھتے ہیں (جن میں افواج بھی شامل ہے) کہ اسلامی آہنگ والی ترقی اور اخلاقیات سے بھرپور دقیانوسی طرز حیات ان کی سیاسی و سماجی و اقتصادی موت کا پیغام ہے۔ ترکی کو جو جغرافیہ قدرت نے عطا کیا ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا وہ بیک وقت ایشیا میں بھی ہے اور یورپ میں بھی۔ یورپ کی آسمانوں کو چھونے والی ترقی سے وہ کیسے دامن چھڑا سکتا ہے۔ ایشیا اور یورپ کی اقتصادیات اور تجارتی راہداری کو ملانے کا وہ سب سے آسان اور سستا ذریعہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں سیکولر ترکی کے بغیر امریکہ، یورپ، مغرب اور یورپی یونین کے پاس بھی کوئی چارہ  نہیں ہے۔

موجودہ بغاوت یا انقلاب کی کوشش سے حکمرانوں کے پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہوں گے کہ افواج جدید ترکی کو کمال اتاترک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں۔