عمران خان، ذرا سوچیں!

عمران خان ہماری سیاست کا انوکھا کردار ہیں۔ وہ سیاست میں کتنے خوش نصیب نکلے، اگر یہ جاننا چاہتے ہیں تو جائیں میر مرتضیٰ بھٹو کی قبر پر، یا پھر عمر اصغر خان کی آخری آرام گاہ پر، اور وہاں جا کر تخیل میں اُن سے سوال اور پھر جواب تلاش کریں۔ اگر وہاں نہیں تو اسلام آباد میں ایمان داری اور شفافیت کی شناخت رکھنے والے اصغر خان کے ہاں چلے جائیں جنہوں نے اپنے شعبے میں اس قدر  Contribute (خدمت سرانجام دی ہے) کیا ہے کہ اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔

جب حُروں کے روحانی رہنما کے پیروکاروں پر برطانوی افسر نے بم گرانے کا حکم دیا تو انہوں نے انکار کردیا۔ پھر بحیثیت سربراہ پاکستان ایئرفورس اُن کی کارکردگی پروفیشنل ازم، شفافیت اور دیگر کامیابیوں سے عبارت ہے۔ ایک نئی جماعت تحریک استقلال اور اس کا کردار بھی اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ عمران خان کی کرکٹ اور عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کے سامنے اِ ن کا کردار اور خدمت Contribution کہیں زیادہ ہے۔ میرا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو اصغر خان کے متعدد سیاسی فیصلوں اور اقدامات کے روزِ اوّل سے نقاد ہیں۔ لیکن اُن کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ اگر وہ اپنی خوش نصیبی جاننا چاہتے ہیں تو جائیں ہزاروں سیاسی کارکنوں سے جنہوں نے اپنے نظریات، افکار، اصولوں اور آدرش سے سیاست پر کمند ڈالنا چاہی لیکن ناکام رہے۔ جیلیں، قلعے، قیدیں، کوڑے اور معاشی بدحالی اس جدوجہد کا ثمر بنیں۔ میرے ایسے لاتعداد دوست ہیں جن سے میں انہیں ملوا سکتا ہوں۔ کچھ سزائے موت کے حق دار ٹھہرے اور کچھ سزائے موت کی کوٹھڑی کو چھو کر آئے۔ جائیں ایسے لوگوں سے معلوم کریں کہ سیاست کی کامیابی پر کمند ڈالنا کس قدر خوش نصیبی ہے۔ آپ کے پاس کوئی نیا محیر العقل  سیاست کا نسخہ نہیں اور نہ ہی آپ کی سیاست کے افکار اور مرحلے اس قدر عظیم ہیں کہ آپ سے پہلے کوئی گزرا ہی نہیں۔ ذرا اپنے سیاسی سفر پر خود نظر ڈالیں، آپ نے سیاسی مصلحت کے تحت کہاں کہاں  اپنے قدم نہیں روکے۔ لوگوں کے گریبانوں پرتو آپ کے ہاتھ اٹھتے ہیں،  ذرا اپنا گریبان بھی تو چاک کریں۔

عمران خان صاحب، آپ کتنے خوش نصیب ہیں میدانِ سیاست میں، آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں۔ لوگ زندگیاں تیاگ دیتے ہیں کسی اسمبلی کی ایک سیٹ حاصل کرنے کے لیے۔ قدرت نے آپ کو پچھلے انتخابات میں انتخابی سیاست کے بَل پر جو کامیابیاں دیں، لگتا ہے کہ آپ کو اس کا ادراک ہی نہیں۔ آپ کی طرزِ سیاست سے لگتا ہے آپ آشنا ہی نہیں جمہوریت، انتخابات اور انتخابی سیاست سے۔ اگر آپ انقلابی سیاست کے علمبردار ہیں تو پھر چھوڑیئے اس انتخابی دھندے کو۔ کبھی آپ نے سوچا اپنے تضادات کے بارے میں؟ جب نیٹو دستے افغانستان میں تھے، تب آپ کے بیانات آئے تھے کہ نیٹو افغانستان سے نکل جائے۔ جب نیٹو افغانستان سے نکلنے لگا، آپ نے کہا کہ ہم نیٹو کے ٹرکوں کے آگے لیٹ جائیں گے۔ ہمیں تو آج تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ آپ کس سیاسی فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔

آپ سے بالمشافہ ملاقات میں جاننا چاہا کہ خدارا ہمیں بتائیں کہ آپ ڈیموکریٹ ہیں، سوشل ڈیموکریٹ ہیں، بورژوا ڈیموکریسی پر یقین رکھتے ہیں کہ عوامی ڈیموکریسی پر، اسلامی بنیاد پرست ہیں یا کہ اسلامسٹ، ماڈریٹ اسلامسٹ ہیں کہ انتہاپسند، سوشلسٹ ہیں یا کہ کمیونسٹ۔ آپ برطانیہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اِن سیاسی اصطلاحات کے معانی کیا ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ کبھی جواب ملا ہو۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کا سیاسی فلسفہ کیا ہے جس کو آپ دل وجان سے مانتے ہیں تو مجھے جواب دینے میں چند سیکنڈ ہی درکار ہیں۔

عمران خان صاحب، آپ کتنے خوش نصیب ہیں کہ دراصل آپ پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ اور یہ اعزاز ان انتخابی نتائج سے آپ کو حاصل ہوا جو 2013ء میں برآمد ہوئے۔ اس کامیابی اور خوش نصیبی کو جاننے کے لیے ذرا جائیں اُن لوگوں کے پاس جنہوں نے اپنی زندگیاں اور مال ودولت اور سب کچھ قربان کردیا۔ آپ جس نرگسیت کا شکار ہیں، اس کا آپ کو اندازہ نہیں۔ ادارے افراد سے نہیں، اختیارات کی تقسیم اور تنظیم سے چلتے ہیں۔ قدرت نے آپ کو سیاسی کامیابی کی اس سیڑھی پر چڑھایا ہے جس پر صبر اور تدبر سے چلتے ہوئے آپ وہ مقام حاصل کرسکتے ہیں جس کا آپ کو اندازہ ہی نہیں۔ غصہ (Anger) تو ناکامی کی علامت ہے۔ ایک ناراض نوجوان (Angry Youngman) کے ہاتھ وقت کے ساتھ پچھتاوے کے سواکچھ نہیں آتا۔ اگر آپ اس ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہیں تو آپ کو دنیا کے اُن لوگوں کو پڑھنا ہوگا جنہوں نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنی قوموں کی تقدیر بدل دی۔ راقم کے مطالعے کے مطابق صرف اُن سیاسی لیڈروں نے اپنی قوموں کی قسمت بدلی جنہوں نے دعوے نہیں کیے، جنہوں نے غصہ نہیں کیا، جنہوں نے صبر اور تدبر کا حسین امتزاج اپنایا، جن میں سرفہرست ہیں نیلسن منڈیلا۔ اگر تقریریں قوموں کی قسمت بدل سکتیں توقائداعظم محمد علی جناح ؒ کے مقابلے میں جتنے بھی سیاست دان اور رہنما تھے، بڑے مقرر اور خطیب تھے، جن کو سننے کے لیے لوگ رات بھر پیروں پر لٹکے رہتے تھے۔ ان خطیبوں کے پاس الفاظ، بیان اور آواز کے صوتی آہنگ ایسے تھے کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، لیکن کامیابی اُس کو ملی جس نے تدبر سے کام لیا یعنی قائداعظم محمد علی جناحؒ ۔

آپ کتنے خوش نصیب ہیں، جائیں رسول بخش پلیجو سے پوچھیں یا جام ساقی سے کہ سیاست میں کامیابی کسے کہتے ہیں۔ آپ خوش نصیب ہیں، بس! اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ کے مقدر میں آصف علی زرداری کی نالائقی اور شہباز شریف کے کچھ غلط اقدامات آئے ہیں، وگرنہ کیسی جدوجہد۔ اگر جاننا چاہتے ہیں کہ جدوجہد سے کامیابیاں ملتی ہیں تو اپنے پرانے ساتھی  میاں ساجد پرویز سے پوچھیں۔ زندگیاں تیاگ دیں، وقت دولت سب کچھ لگا دیا لیکن سیاسی منزل نہ ملی۔ آپ کو شاید اپنی خوش نصیبی کا اندازہ نہیں ، اسی لیے تو آپ نے اپنے اردگرد اُن لوگوں کا حصار  قائم کرلیا ہے جو عوام کے لیے نہیں، راج کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر آپ کی یہ خوش نصیبی مزید بڑھتی ہے اور آپ 2018ء میں وہ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف حاصل کر چکے ہیں ، تو پھر آپ کے پاس ایک وقت آئے گا۔

اگر آپ کو یاد ہو، فروری1997ء کے انتخابات میں شکست کے بعد آپ میرے غریب خانے پر کئی احباب کے ساتھ کھانے میں شریک تھے جو آپ کے ہی اعزاز میں دیا گیا تھا۔ تب راقم نے کہا تھا، ’’عمران خان صاحب، آپ کامیابی حاصل کر لیں گے اور آپ کا طرزِ سیاست یہی رہا تو آپ ایک دن پھر اِدھر ہی بیٹھ کر کہیں گے کہ اقتدار میں میرے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔ میں بے بس تھا، میرے پاس وہ طاقت نہیں تھی جو نظام کو بدل دے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس وقت تک قوم دو نسلوں کو تبدیلی کے سراب میں دھکیل چکی ہو گی، اس کے ذمہ دار آپ ہی ہوں گے۔‘‘ کبھی ٹھنڈے دل سے اپنی خوش نصیبی اور کامیابی کو عوام کی حقیقی کامیابی میں بدلنے کے لیے غور کریں۔ چلے جائیں کسی ایسے مقام پر جہاں صرف آپ غور کریں اپنی سیاسی خوش قسمتی پر اور دوسروں کی جدوجہد پر، پھر آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ کہاں کھڑے ہیں ۔ آپ اپنے غصے کے تیر کو کسی تدبر کی کمان میں ڈالیں۔ وقت دوبارہ نہیں آنا۔ اور جو وقت آپ پر آیا ہے، اس وقت کے لیے آپ سے کہیں زیادہ زیرک، شفاف، ایماندار، جرأت مند، نظریاتی اور اصول پرست سیاسی لوگ اس دھرتی پر آئے اور چلے گئے۔