خوش آمدید تھریسا مے

13؍جولائی کو تھریسا مے برطانیہ کی دوسری خاتون اور اکیسویں وزیر اعظم بن گئیں۔ اس کے علاوہ تھر یسا مے ملک میں عام چناؤ کے بغیر یہ عہدہ سنبھالنے والی چودہوِیں وزیر اعظم بنی ہیں۔ ان کے وزیر اعظم بننے کی ایک وجہ ڈیوڈ کیمرون کا استعفیٰ ہے جو ریفرنڈم میں ہار کے بعد دینا پڑا تھا۔ ویسے تو ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اکتوبر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے لیکن تھریسا مے کے خلاف کھڑے ہونے والے کنزر ویٹو پارٹی کے ایک کے بعد ایک تمام امیدواروں نے اپنا نام واپس لینا شروع کر دیا ۔جس کے بعد یہ طے ہوگیا تھا کہ اب تھریسا مے بلا مقابلہ برطانیہ کی وزیر اعظم بننے کے لئے تیار ہیں۔یہی وجہ تھی کہ ڈیوڈ کیمرون نے 13؍ جولائی کو اپنا آخری پارلیمنٹ سیشن کر کے ملکہ برطانیہ کو استعفیٰ پیش کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈیوڈ کیمرون نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ ڈاؤ ننگ اسٹریٹ کو خدا حافظ کہا اور تھریسا مے کو نمبر ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں خوش آمدید کہا گیا ۔

دیکھا جائے تو 23؍ جون کے ریفرنڈم کے بعد ایسامعلوم ہو رہا تھا کہ برطانیہ کا اب کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ آئے دن سیاستدان استعفیٰ دے رہے تھے اور تمام سیاسی پارٹیاں اسی بحث میں الجھی ہوئی تھی کہ ریفرنڈم کی مہم میں تمام لیڈر ناکام ہوگئے ہیں اور ملک زوال پزیر ہے۔ ملکہ برطانیہ کو استعفیٰ دینے جانے سے پہلے وزیر اعظم کیمرون نے سرکاری رہائش گاہ نمبر ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ سے باہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ان کا وزیر اعظم بننا ان کے لئے ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا اعزاز تھا‘ حالانکہ میرا ہر فیصلہ صحیح ثابت نہیں ہوا لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے کہ برطانیہ ایک مضبوط ملک ہے‘۔جب وزیر اعظم یہ بات کہہ رہے تھے تو ان کے ہمراہ ان کی بیوی اور بچے بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم کاایسا کرنا دراصل دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ وہ اپنے خاندان پر فخر کرتے ہیں اور برطانیہ اب بھی ایک خاندان والا ملک ہے ، جہاں بیوی اور بچوں کی اہمیت حاصل ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ کے آخری سوال و جواب کے دوران ممبر ان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’میں پارلیمنٹ کی دہاڑکو بہت مس کرونگا‘۔ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ ’ سیاستدان اپنی پالیسی کو بیان کرنا پسند کرتا ہے لیکن آخر میں سب سے اہم لوگوں کی زندگی ہے‘۔ ڈیوڈ کیمرون نے نئی وزیر اعظم تھریسا مے کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ’ انہیں تھریسا مے پر پورا یقین ہے کہ وہ ایک کامیاب وزیر اعظم ثابت ہونگی اور ایک کامیاب لیڈر بھی جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔‘

13 ؍ جولائی کو ڈیوڈ کیمرون کا بطور وزیر اعظم پارلیمنٹ میں 182 واں سوال و جواب کا سیشن تھااور جو کہ آخری بھی تھا۔جس میں زیادہ تر ایم پی نے ان کی بھر پور تعریف کی اور ان کے وزیر اعظم کے دور کو سراہا۔ ایک ایم پی نے مذاق میں ڈیوڈ کیمرون کو اس بات کی صلاح دے دی کہ برطانیہ میں معروف ٹی وی پروگرام ’ٹوپ گئیر‘ میں ایک پریزنٹر کی جگہ خالی ہے اور انگلینڈ فٹ بال ٹیم کے منیجر کی بھی جگہ خالی ہے۔ایم پی کی بات سن کر پارلیمنٹ کا ہال قہقہوں سے گونگنے لگا۔ ڈیوڈ کیمرون نے بھی اس ایم پی کی بات کو مذاق ہی کے طور پر لیا۔ ڈیوڈ کیمرون نے لیری سے اپنی محبت کا اظہار کیا جو کہ ڈاؤننگ اسٹریٹ کی بلی ہے اور کہا کہ انہیں لیری سے بڑی قربت ہے اور وہ اسے بہت مس کرینگے۔

لیبر لیڈر جیرمی کوربین نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ حالانکہ میں اکثر ہا وزیر اعظم کی باتوں سے عدم اتفاق رکھتا تھا لیکن ڈیوڈ کیمرون نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی درجہ د لا کر اور شاکر عامر کو گنٹانامو بے سے رہا کر واکے ، اہم کام کئے ہیں جو کہ قابلِ ستائش ہیں‘۔اس کے بعد پارلیمنٹ سے فارغ ہو کر ڈیوڈ کیمرون ڈاؤننگ اسٹریٹ پہونچے اوراپنے اسٹاف کو الوداع کہا اور بکنگھم پیلیس پہنچ کر ملکہ کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ تھوڑی دیر بعد برطانیہ کی نئی وزیر اعظم تھریسا مے نے بکنگھم پیلس میں داخل ہو کر ملکہ کو وزیر اعظم بننے کا دعویٰ پیش کرتی ہیں۔اس وقت تھریسا مے کے ہمراہ ان کے شوہر بھی ساتھ تھے۔

تھریسا مے موجودہ ملکہ برطانیہ کے دور کی تیرھویں وزیر اعظم ہیں۔تھریسا مے 59سال کی ہیں اور جم کلاگھن کے بعد جو کہ 1976میں وزیر اعظم بنے تھے، اس عمر کی دوسری خاتون برطانیہ کی وزیر اعظم بنی ہیں۔ تھریسا مے مارگریٹ تھیچر کے بعد برطانیہ کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہوں گی۔ تھریسا مے کی پیدائش یکم اکتوبر 1956کو ہوئی تھی۔ ابتدئی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے آکسفورڈ کے سینٹ ہیو کالج میں داخلہ لیا تھا۔تھریسا مے نے جغرافیہ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد بینک آف انگلینڈ میں ملازمت حاصل کر لی۔ لیکن ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ تھریسا مے کو شروع سے ہی سیاست میں کافی دلچسپی تھی اور اسی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے کونسلر کا الیکشن لڑااور کامیابی بھی حاصل کی۔ لیکن بطور ایم پی تھریسا مے کو ابتدائی دور میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر 1997میں جب پورے برطانیہ میں لیبر پارٹی کو زبردست جیت حاصل ہوئی تو اس وقت تھریسا مے کو حیرت انگیز طور پر میڈن ہیڈ سے بطور ایم پی کامیابی نصیب ہوئی ۔اس کے بعد کنزر ویٹو پارٹی میں ان کی ترقی کا سفر شروع ہوگیا۔

2010 میں جب کنزرویٹو پارٹی نے لبرل ڈیموکریٹ کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی تو تھریسا مے کو ہوم سکریٹری بنایا گیا۔ اس عہدے پر تھریسا مے دوبارہ 2015 کے عام الیکشن کے بعد بھی برقراررہی تھیں۔
ان کے شوہر کا نام فلپ مے ہے۔ تھریسا مے کو کھانا بنانے کا شوق ہے، انہوں نے کھانا بنانے کی سو کتابیں خرید رکھی ہیں۔ تھریسا مے نے اپنی نجی زندگی کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 2013میں انہیں ذیابیطس ٹائپ ون کی تشخیص کی گئی تھی، جس کے بعد وہ روزانہ دو مرتبہ انسولین انجیکشن لیتی ہیں جو کہ انہیں تا حیات لینا پڑے گا۔ تھریسا مے کی اپنے شوہر سے ملاقات آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران ہوئی تھی ۔ اس وقت تھریسا مے کے شوہر فلپ آکسفورڈ یونین کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آکسفورڈ یونین کے ممبران ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ تھریسا مے اور فلپ کو ملانے میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو کا ہاتھ تھا ۔ کنزرویٹو ایسو سی ایشن کے ڈسکو پارٹی میں بے نظیر بھٹو نے ان دونوں کو ملوایا تھا ۔ اس کے بعد وزیر اعظم تھریسا مے اور فلپ نے 1980میں شادی کر لی۔

وزیر اعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ جب برطانیہ کے لوگوں نے یورپ سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ہمیں ان کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ آرٹیکل 50 جو کہ یورپین یونین چھوڑنے کے لئے ایک اہم آئینی شق ہے ، اس کے تحت اس سال کے آخر سے ان کی حکومت یورپین یونین سے الگ ہونے کا کام کرنا شروع کر دے گی۔تھریسا مے نے یہ بھی کہا کہ یورپ کے وہ لوگ جو بنا ویزا کے برطانیہ میں مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں، انہیں فوری طور واپس جانے کو نہیں کہا جائے گا بلکہ اس کے لئے ایک نیا قانون بنانے پر غور ہورہا ہے۔

تھریسا مے اتفاق سے برطانیہ کی وزیر اعظم اور کنزر ویٹو پارٹی کی لیڈر بن گئی ہیں لیکن ان کی لیڈر شپ کی آزمایش ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ تھریسا مے کو اپنی لیڈر شپ کی قابلیت کا مظاہرہ 2020میں کرنا ہوگا جب برطانیہ میں عام الیکشن ہوگا۔ تاہم فی الحال تھریسا مے کو کئی مشکل کام کو انجام دینے ہیں، جیسے برطانیہ کو یورپین یونین سے دو سال میں علیحدہ کرنا اور ملک کے معاشی حالات کو سدھارنا ۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ کی دوبارہ برطانیہ سے علیحدگی کے مطالبے پر سیاسی طور سے مناسب حل تلاش کرنا بھی ضروری ہوگا۔
تھریسا مے کے وزیر اعظم بننے سے ایک بات کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ برطانیہ میں ریفرنڈم کے بعد لوگوں میں جو مایوسی کی لہر دوڑ گئی تھی ، اس میں کچھ حد تک کمی ہوئی ہے۔ لیکن اب بھی لوگوں کا اعتماد بحال نہیں ہوا ہے اور تجارت کے فروغ میں بھی کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ پونڈ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کافی کم ہوگئی ہے جس سے برآمد میں بہتری کی امید ہے۔ لیکن وہ برطانوی شہری جو چھٹیوں کے لئے بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں، انہیں پونڈ کی قیمت میں کمی سے سخت مایوسی ہورہی ہے۔

23 ؍ جون کے ریفرنڈم کے بعد یونین مخالفین کو خوشی ہوئی کہ ان کا ملک یورپ سے آزاد ہوگیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں میں مایوسی اور پریشانی بھی حاوی ہوئی ہے۔ وہ ملک کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی معاشی صورتِ حال مزید بد تر ہوگی ۔ یہ قیاس بھی کیاجا رہا ہے کہ آنے والی نسلیں اس ریفرنڈم کا خمیازہ بھگتیں گی۔اب جو کچھ بھی ہو فی الحال برطانیہ کو ایک نیا وزیر اعظم مل گیا ہے اور وہ بھی ایک خاتون ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا برطانیہ واقع معاشی طور پر زوال پزیر ہو گا یا سیا ستدان کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کریں گے کہ آنے والے دنوں میں برطانیہ ایک بار پھر اپنی شان اور آن کا جھنڈا بلند کر کے دنیا میں اپنی ترقی، رواداری، مساوات، انسانی حقوق اور فلاح و بہبود کی منفرد پہچان بنائے رکھے ۔