پاک آرمی اور سیاست
- تحریر ٹونی عثمان
- جمعہ 29 / جولائی / 2016
- 10784
’’سیاست سے کنارہ کشی کا انجام یہ ہو گا کہ تم سے کمتر لوگ اٹھ کر تم پر راج کرنے لگیں گے۔“ اگر پاکستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے افلاطون کے اس قول میں تھوڑا ردوبدل کیا جائے تو یوں کہا جائے گا ’’سیاستدانوں کو نااہل اور کرپٹ قرار دو، سیاست کو فحش ظاہر کرو اور خود راج کرو‘‘۔
پاکستان کے بدترین فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا کے دور میں کھانے پینے کی جگہوں پر اکثر دیواروں پر لکھا ہوتا تھا ’’یہاں فحش اور سیاسی گفتگو کرنا منع ہے‘‘۔ ضیا کے ہی دور میں 1985 میں غیر جماعتی الیکشن کروائے گئے اور ان انتخابات کے نتیجے میں ایک ’’غیر سیاسی‘‘ قومی اسمبلی وجود میں آئی اور جنرل ضیا نے محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنوایا۔ 10 اپریل 1988 کو اسلحہ کے ڈپو اوجڑی کیمپ میں دھماکے ہوئے اور 1300 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ’’غیر سیاسی‘‘ وزیراعظم جونیجو نے اس سانحہ کی آزاد انکوائری کروانے کی بات کی تو جنرل ضیا نے انہیں ’’نااہل‘‘ قرار دے کر واضح کیا کہ کوئی نہ تو انہیں ان کے منصب سے ہٹا سکتا ہے اور نہ ہی ان سے کوئی پوچھ گچھ کر سکتا ہے۔ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی سال 17 اگست کو جنرل ضیا ایک ہوائی حادثہ میں ہلاک ہو گئے مگر ان کی باقیات ان کے مذہبی جنونی نظریے کو آگے بڑھاتی رہیں۔ وہ انتخابات جو جنرل ضیا کے گیارہ سالہ دور میں ناممکن تھے ان کے مرنے کے چند مہینے بعد ہی ہو گئے۔ غیر سیاسی قوتیں پھر سیاست میں متحرک ہو گئیں۔ آئی ایس آئی اور جنرل حمید گل نے ’’اسلامی جمہوری اتحاد‘‘ کا ڈول ڈالا اور غلام مصطفیٰ جتوئی اور میاں نواز شریف کی پشت پناہی کی۔
1990کی دہائی میں دو مرتبہ بے نظیر بھٹو اور دو مرتبہ نواز شریف کی حکومتوں کو غیر قانونی ، غیر جمہوری اور غیر سیاسی طریقوں سے ختم کیا گیا۔ جنرل مشرف نے جب آئین توڑ کر فوجی بغاوت کی تو عمران خان جیسے سیاستدانوں نے ان کا ساتھ دیا۔ جنرل مشرف نے قومی اسمبلی کے الیکشن کےلئے بی اے کی شرط رکھ کر عوام کی اکثریت کو سیاست سے دور رکھنے کا فوجی عمل جاری رکھا۔ جب بی اے پاس قومی اسمبلی تیار ہو گئی تو جنرل مشرف کی پسند کا وزیراعظم بیرون ملک سے امپورٹ کیا گیا۔
پاکستان کے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ ’’دفاع‘‘ کے نام پر فوج ہڑپ کر جاتی ہے اور اسے جائز قرار دلوانے کےلئے انڈیا کے ساتھ جنگی ماحول تیار کرتی رہتی ہے۔ نواز شریف نے جب واجپائی کے ساتھ مل کر دوستانہ ماحول کےلئے کام شروع کیا تو جنرل مشرف نے نہ صرف کارگل کی جنگ شروع کر دی بلکہ نواز شریف کی حکومت کو بھی ختم کر دیا۔ شروع میں جنرل مشرف اپنے آپ کو ’’غیر سیاسی‘‘ ثابت کرنے کےلئے چیف ایگزیکٹو کہلواتے رہے مگر بعد میں خود ساختہ صدر بن گئے۔ اب تو خیر سے ان کی اپنی سیاسی جماعت بھی ہے مگر وہ زیادہ تر پاکستان سے باہر ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔
کسی بھی حکومت کی غلطیوں کا حل فوجی حکومت اور مارشل لاء نہیں ہے۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ حکومتیں توڑنا اور بنانا نہیں۔ پانچ برس پہلے جب ناروے میں ملک کی تاریخ کی بدترین دہشتگردی میں 77 افراد ہلاک ہوئے تو سکیورٹی کے متعلق بہت سارے سوالات اٹھائے گئے۔ پولیس کی نااہلی پر بھی بات ہوئی، اس وقت کی حکومت پر بھی تنقید ہوئی اور خفیہ پولیس کی کارکردگی پر بھی خوب بحث ہوئی۔ مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ حکومت چلانے کےلئے فوج بلائی جائے۔ جبکہ پاکستان میں بعض قوتیں ہر سول حکومت کی ہر غلطی اور کمزوری کا حل فوجی حکومت کی صورت میں دیکھتی ہیں۔ اور اپنی اس غیر جمہوری سوچ کو خوبصورت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پاکستان اب تک صرف فوج کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔
ان کا اگر بس چلے تو یہ بھی کہہ دیں کہ پاکستان کو بنایا بھی فوج نے تھا حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ فوج اس وقت برطانوی سامراج کی ملازمت کرتے ہوئے برطانیہ کے مفادات کےلئے کام کرتی تھی جبکہ سیاستدان دن رات آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے اور مولانا مودودی جیسے مذہبی رہنما پاکستان بننے کی مخالفت کر رہے تھے۔