روس ، نیٹو اور مشرقی یورپ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 30 / جولائی / 2016
- 5017
مرکزی یورپ میں حالیہ نیٹو فوجی مشقیں بتاتی ہیں کہ مغربی اتحادی کسی روسی حملے کے خلاف بالٹک ریاستوں کا دفاع نہیں کرسکتے۔ کئی ایسے پرانے گھر دیکھنے میں آتے ہیں جو اس قدر فرسودہ حال اور خستہ ہوچکے ہوتے ہیں کہ دیکھنے والے معمار سوچتے ہیں کہ انہیں تو عرصہ پہلے منہدم ہو جانا چاہیے تھا۔ اس حالت کو انگریزی میں Static Instability (ساکن عدم استحکام) کہتے ہیں۔ بعض اوقات ہمیں ایسا گھر صرف اس لیے ٹھیک دکھائی دیتا ہے کہ وال پیپر ابھی تک دیواروں سے چپکا ہوتا ہے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ پیچھے کیا ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ ایسا ہی معاملہ نیٹو کا بھی ہے جوکہ سرد جنگ کے خاتمے پر اپنی وسیع ترین فوجی نقل وحرکت کے خاتمے کے بعد مبینہ طور پر تاریخ میں سب سے طاقتور دفاعی اتحاد ہے۔ مشرقی یورپ میں کئی ہزار افواج کی تعیناتی کے تناظر میں جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹین میئر نے تنبیہ کی کہ روس کی سرحد پر ’’سیبر طیاروں کی پروازیں اور خوب جنگی شور شرابہ‘‘ ہوگا۔ لیکن اگر روسی ماہرین نے حالیہ ہفتوں کی جنگی مشقوں سے واقعی کوئی خدشہ محسوس کیا ہے تو یہ نیٹو کی جانب سے بڑا دریا دلی پر مبنی اندازہ ہے۔ پولینڈ میں نیٹو نے ایناکونڈا16 مشقوں کے دوران جو’’ جنگی شورشرابہ‘‘ کیا، وہ کچھ زیادہ نہ تھا۔ سیاسی اور فوجی دونوں اصطلاح میں نیٹو کا باہمی دفاع کا وعدہ انتہائی بودا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر نیٹو کے بنیادی وعدے کی ساکھ پر ہی شبہ ہے تو کیا نیٹو اب بھی کوئی وجود رکھتی ہے۔ یا بات وہی ہے کہ سیاسی وال پیپر کے پردے کے پیچھے نیٹو عرصہ ہوا مرچکی ہے۔
جہاز کی کھڑکی سے دیکھا جائے تو شمال مشرقی پولینڈ کا زمینی نظارہ بڑا دلکش ہے۔ فضا سے دیکھیں تو مسورین لیک ڈسٹرکٹ کے پانیوں میں کشتیاں تیرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ساحل کنارے ایسے گھروں کی قطاریں ہیں جہاں لوگ تعطیلات مناتے ہیں۔ لیکن بلیک ہاک ہیلی کاپٹر پر سوار نیٹو فوجی کچھ اور دیکھتے ہیں، یعنی مسائل ہی مسائل۔ ایک ایسا علاقہ جسے پار کرنا بہت دشوار ہے۔ دریا جنہیں عبور کرنا پڑے گا۔ دلدلیں جہاں فوجی گاڑیاں پھنس سکتی ہیں۔ امریکن آرمی یورپ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بین ہوجز کہتے ہیں کہ یہ جغرافیہ علاقے کا دفاع کرنے والوں کے لیے سازگار نہیں ہے۔ دوسری طرف پولینڈ کے عوام اپنے نیٹو ساتھیوں سے یہ تسلی بھی چاہتے ہیں کہ ایمرجینسی کی صورت میں وہ متحدہ افواج کے ساتھ ان کی مدد کو دوڑے چلے آئیں گے۔ لیکن ان فوجی مشقوں کی منصوبہ بندی کا مرحلہ دکھاتا ہے کہ یہ باہمی یک جہتی کس قدر محدود ہے۔ ایناکونڈا 16، ناٹو کی آفیشل فوجی مشقیں نہیں تھیں بلکہ سرکاری طور پر صرف پولینڈ کی قومی مشقیں تھیں، اگرچہ اس میں 22 نیٹو ممالک کے پچیس ہزار فوجیوں نے شرکت کی تھی۔
امریکن آرمی یورپ کے کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل بین ہوجز کا کہنا ہے کہ جرمنی اور فرانس جیسے کچھ ممالک کا خیال ہے کہ اگر انہیں نیٹو مشقیں کہا گیا تو یہ روس کے لیے خاصا اشتعال انگیز ثابت ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عجیب بات نہیں تو انہوں نے بے پرواہی سے جواب دیا کہ روسی ان مشقوں کا موازنہ آپریشن باربروسا سے کررہے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین پر 1941ء کے اچانک حملے کا حوالہ دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل بین ہوجز کا غالباً کہنا یہ تھا کہ سیاست دان ماسکو کے پروپیگنڈا سے زیادہ ہی متاثر ہیں۔
دوسری طرف پولش حکومت چاہتی ہے کہ مشقوں کو روسی فوج کی نقل وحرکت کا ردِعمل سمجھا جائے۔ اسی طرح نیٹو کا بھی کہنا ہے کہ روس نے پچھلے برس فوجی الائنس کی سرحدوں پر جارحانہ انداز میں 95ہزار فوجی تعینات کیے تھے۔ اس سے قبل وارسا پر نیوکلیئر راکٹ حملے کو تین بالٹک ریاستوں کے خلاف Zapad(روسی زبان میں ’’مغرب‘‘) نامی فوجی نقل وحرکت کے تحت حملے سے مہمیز ملی تھی۔ یاد رہے کہ جی ڈی پی کے 4.5 فیصد کے برابر فوجی بجٹ والی روسی حکومت، یورپی نیٹو کے مقابلے میں دگنا ٹیکس ریونیو اپنی افواج پر استعمال کرتی ہے۔
بحیرہ بالٹک میں لتھوینیا اور پولینڈ کے درمیان ایک روسی سرزمین Kaliningrad کے جنوب میں تقریباً 20کلومیٹر پر ایک چھوٹے سے قصبے Wegorzewo میں ناٹو نے فوجی پڑاؤ لگا رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولش بیرکوں کے اندرونی احاطے میں کولاریڈو کی چوتھی انفنٹری ڈویژن نے جدید خیموں والا کیمپ لگا رکھا ہے۔ زرد خیمے اس لینڈ سکیپ میں کیموفلاج کے بغیر آسانی سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ پریس آفیسر نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر بجلی بند ہوجائے یا ہمارے کمپیوٹر ہیک کرلیے جائیں تو بھی ہمارے پاس نقشے ہیں۔ وہ تدبیراتی صورتِ حال بتاتے ہیں کہ Bothnians (جیساکہ روسی افواج کو یہاں کہا جاتا ہے) نے پولینڈ پر شمال سے حملہ کیا ہے اور ان کا ارادہ ملکی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔ ان افواج کو جنوب کے بے قاعدہ فوجی دستوں کی مدد حاصل ہے (جسے بیلاروس سمجھا جاسکتا ہے) اور انفرمیشن وار کی مدد بھی (روسی پراپیگنڈا)، یہ بھی کہ پھر لوگ جنوبی سمت میں فرار ہوں گے اور انہی سڑکوں پر جنہیں نیٹو افواج شمال کی جانب فرار کے لیے استعمال کریں گی۔
لیکن یہ ساری صورتِ حال خیالی ہے۔ درحقیقت یہ وہ علاقہ ہے جو اتحادی سرزمین کا سب سے زیادہ زد پذیر حصہ ہے۔ یعنی شمال میں Kaliningrad سے جنوب میں بیلاروس تک پولش لتھوینیا سرحد کے ساتھ 120کلومیٹر چوڑی پٹی۔ یہ کوریڈور جسے نیٹو Suwalki Gap کہتا ہے، اس کے ذریعے بالٹک ریاستوں کے دفاع کے لیے ضروری سازوسامان اور رسد پہنچائی جاتی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک RAND کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، روسی افواج کے ایسیٹونیا اور لیٹویا کے دارالحکومتوں ٹالین اور ریگا پر ممکنہ قبضے کے بعد اتحادی افواج کو وہاں پہنچنے میں 36سے 60گھنٹے لگیں گے۔ دوبارہ قبضے کی کوشش کرنا نیٹو کے پاس واحد آپشن ہوگا۔ لیکن RAND کا کہنا ہے کہ ایسے کسی اقدام کا انجام صرف تباہی ہوگا۔ نیٹو کی بٹالین، روسی مسلح افواج سے کہیں کمتر ہوں گی اور حتیٰ کہ جنگی ٹینکوں کا بھی مقابلہ نہیں کرپائیں گی۔ Kaliningrad کے انتہائی مسلح گیریژن سے روسی فوج، جنگی بحری جہازوں کو بحیرہ بالٹک میں داخلے سے روک سکے گی اور Suwalki Gap کوریڈور میں شدید بمباری کی صلاحیت بھی رکھے گی۔
امریکی تھنک ٹینک RAND کی تحقیق سے نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ نیٹو فوج پسپائی کے قابل بھی نہیں ہوں گی۔ یہ موقع پر ہی تباہ وبرباد ہوجائے گی۔ اس تجزیے کو امریکن آرمی یورپ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بین ہوجز نہ ہی کسی اور نیٹو نمائندے نے مسترد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ روس ہمارے بالٹک ریاستوں کے دفاع میں پہنچنے سے کہیں زیادہ سرعت سے وہاں تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اسی لیے کمانڈر بین ہوجز جس کسی خامی کی نشاندہی کرتے ہیں، اسے فوراً ای میل کی صورت میں ذمہ دار لوگوں کو ترسیل کردیتے ہیں۔ وہ فوجی مشقوں میں شریک افواج کو ’’سرعت‘‘ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں کیوں کہ دوسری صورت میں یقیناً روسی افواج کا پلڑا اس علاقے میں واضح طور پر بھاری ہے۔